ہمیں جماعت میں غیر مقلدین تنگ کرتے ہیں کہتے ہیں تم نماز جنازہ میں سورت فاتحہ کیوں نہیں پڑھتے حالانکہ حدیث میں ہے “لاصلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب”تو ہم اس حدیث کا جواب انہیں کیا دیں؟وہ بار بار ہم سے پوچھتے ہیں براہ کرم ہمیں اس حدیث کے جواب سے مطلع فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیا

یہاں چند باتیں قابل توجہ ہیں،پہلی بات:نماز جنازہ اصل میں میت کے حق میں دعا و استغفار ہے،نماز اس کو مجازاً کہا جاتا ہے،حقیقتانماز میں رکوع سجدہ ہوتا ہے جبکہ نماز جنازہ میں ایسا نہیں،چنانچہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اس کو میت کے حق میں دعا کہا ہے۔

لما فی زاد المعاد:(1/207،علمیہ)
ومقصود الصلاۃ علی الجنازۃ ہو الدعاء للمیت لذلک حفظ عن النبی ﷺ ،ونقل عنہ مالم ینقل من قراءۃ الفاتحۃوالصلاۃ علیہ ﷺ
وفی فیض الباری:(3/52،رشیدیہ)
وصرَّح ابنُ تيميةَ رحِمه اللَّهُ أن جُمهورَ السَّلف كانوا يكتفون بالدعاء ولا يقرؤون الفاتحةَ، نعم، ثبت عن بعضهم

دوسری بات:آپﷺ سے کسی صحیح حدیث سے نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے کا حکم دینا ثابت نہیں،چنانچہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نےفرمایا:نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے کے حکم والی احادیث کی اسناد صحیح نہیں۔

لمافی زاد المعاد:(1/207،علمیہ)
ویذکر عن النبیﷺانہ امر ان یقرا علی الجنازۃبفاتحۃ الکتاب ولا یصح اسنادہ،قال شیخنا لا تجب قراءۃ الفاتحۃ فی صلاۃ الجنازۃبل ہی سنۃ

تیسری بات:کبار صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین،تابعین وتبع تابعین،فقہاءسبعہ اور امام مالک رحمہ اللہ علیھم نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے کے قائل نہ تھے۔چند روایات وآثار نقل کیے جاتے ہیں

و فی المستدرک علی الصحیحین:(1/470،قدیمی)
، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، وَكَانَ مِنْ كُبَرَاءِ الْأَنْصَارِ وَعُلَمَائِهِمْ، وَأَبْنَاءِ الَّذِينَ شَهِدُوا بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ، «أَنْ يُكَبِّرَ الْإِمَامُ، ثُمَّ يُصَلِّيَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُخْلِصَ الصَّلَاةَ فِي التَّكْبِيرَاتِ الثَّلَاثِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا خَفِيًّا حِينَ يَنْصَرِفُ، وَالسُّنَّةُ أَنْ يَفْعَلَ مِنْ وَرَائِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ أَمَامَهُ
وکذا فی موطاا لامام مالک:(1/179،رحمانیہ)
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ تُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «أَنَا، لَعَمْرُ اللَّهِ أُخْبِرُكَ. أَتَّبِعُهَا مِنْ أَهْلِهَا. فَإِذَا وُضِعَتْ كَبَّرْتُ، وَحَمِدْتُ اللَّهَ. وَصَلَّيْتُ عَلَى نَبِيِّهِ». ثُمَّ أَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنَّهُ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ. وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ. وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ. اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ مُحْسِنًا، فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ. وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا، فَتَجَاوَزْ عَنْ سَيِّئَاتِهِ. اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ

 

وکذا فی موطا الامام محمدبعد ذکر ھذا الحدیث:(/157،رحمانیہ)
“قال محمد وبھذا ناخذ لا قراءۃ علی الجنازۃ وھو قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ.”
وکذا فی المصنف لابن ابی شیبہ:(2/492،دارالکتب)
حدثنا أبو بكر قال: ثنا إسماعيل بن علية، عن أيوب، عن نافع، أن ابن عمر كان «لا يقرأ في الصلاة على الميت».حدثنا عبد الأعلى، وغندر، عن عوف، عن أبي المنهال، قال: سألت أبا العالية عن القراءة في الصلاة على الجنازة بفاتحة الكتاب فقال: «ما كنت أحسب أن فاتحة الكتاب تقرأ إلا في صلاة فيها ركوع وسجود
وکذا فی المدونة الکبری:(1/251،دارالکتب العلمیہ)
قُلْت لِعَبْدِ الر َّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ: أَيُّ شَيْءٍ يُقَالُ عَلَى الْمَيِّتِ فِي قَوْلِ مَالِكٍ؟ قَالَ: الدُّعَاءُ لِلْمَيِّتِ قُلْتُ: فَهَلْ يُقْرَأُ عَلَى الْجِنَازَةِ فِي قَوْلِ مَالِكٍ؟ قَالَ: لَا قُلْتُ: فَهَلْ وَقَّتَ لَكُمْ مَالِكٌ ثَنَاءً عَلَى النَّبِيِّ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ قَالَ إلَّا الدُّعَاءَ لِلْمَيِّتِ فَقَطْ. قَالَ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ دَاوُد بْنِ قَيْسٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ حَدَّثَهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ: أَخْلِصُوهُ بِالدُّعَاءِ» قَالَ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَابْنِ الْمُسَيِّبِ وَرَبِيعَةَ وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: أَنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ. قَالَ ابْنُ وَهْبٍ وَقَالَ مَالِكٌ: لَيْسَ ذَلِكَ بِمَعْمُولٍ بِهِ بِبَلَدِنَا إنَّمَا هُوَ الدُّعَاءُ، أَدْرَكْتُ أَهْلَ بَلَدِنَا عَلَى ذَلِكَ

ان روایات و آثار سے یہ بات واضح ہو گئی کہ نماز جنازہ میں سورت فاتحہ نہ پڑھنے کا معمول صرف احناف کا نہیں بلکہ جمہور صحابہ و تابعین نماز جنازہ میں سورت فاتحہ نہ پڑھنے کے قائل تھے،البتہ چند روایات سے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا سورت فاتحہ پڑھنا بھی مذکور ہےلہذا احناف کا موقف یہ ہے کہ نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنا فرض و واجب تو نہیں ،البتہ اگر کوئی بطور حمدو ثناءپڑھتا ہے تو اجازت ہے،کیونکہ یہ محل ہی دعا و استغفار کا ہے۔

لما فی الھندیہ :(1/164،رشیدیہ)
ولو قرأ الفاتحة بنية الدعاء فلا بأس به وإن قرأها بنية القراءة لا يجوز؛ لأنها محل الدعاء دون القراءة، كذا في محيط السرخسي
و فی اعلاءالسنن:(8/254،ادارة القرآن)
وقولہ:حمدت اللہ یدل علی ان المقصود ھو الثناء سواء کان بالحمد للہ او بغیرہ وبہ نقول….وفی الجوھر النقی ومذھب الحنفیۃ ان القراءۃ فی صلاۃ الجنازۃ لا تجب ولا تکرہ،…وقال الطحاوی من قرأھا من الصحابۃ یحتمل ان یکون علی وجہ الدعاء لا التلاوۃ

چوتھی بات:حدیث “لا صلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب”کے جوابات:۔

1

۔اس حدیث مبارکہ سے نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے پر استدلال درست نہیں،کیونکہ یہ رکوع سجدے والی نماز کے بارے میں ہے،پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ نماز جنازہ اصل میں میت کے لیے دعاو استغفار ہے لہذا یہ قراءۃ کا محل نہیں۔

2

۔امام احمد بن حنبل اور مشہور محدث وفقیہ سفیان بن عیینہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث مبارکہ منفرد نمازی کے بارے میں ہےکہ وہ سورت فاتحہ پڑھے گا ،جبکہ نماز جنازہ تو جماعت کے ساتھ ہوتی ہے۔

3
۔نسائی شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھماکا نماز جنازہ میں سورت فاتحہ کے ساتھ ،کوئی سورت پڑھنے کا بھی ذکر ہے ،جبکہ نماز جنازہ میں سورت فاتحہ کےساتھ دوسری کوئی سورت پڑھنے کا کوئی بھی قائل نہیں۔

4
۔سورت فاتحہ نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے،اسی طرح نماز جنازہ کی ہر تکبیر بھی ایک رکعت شمار کی جاتی ہے تو پھر تو نماز جنازہ کیہر تکبیر کے بعد بھی سورہ فاتحہ پڑھنی چاہیے، اس کا بھی کوئی قائل نہیں۔

5
۔اس حدیث مبارکہ کے ساتھ دیگر کتب حدیث مثلا ابوداؤد شریف میں “وما تیسر”فما زاد”فصاعدا”کے الفاظ کی صراحت ہے جو سورت فاتحہ کے ساتھ دوسری کوئی سورت پڑھنے کے بارے میں ہے،اور یہ رکوع سجود والی نماز میں تو ہے نماز جنازہ میں نہیں ۔

الحاصل:نماز جنازہ میں سورت فاتحہ کا بطور قراءت پڑھنا جمہور سے ثابت نہیں ،البتہ بطور حمدوثناء پڑھنے کی گنجائش ہےاور جن روایات وآثار میں صحابہ کرام کا پڑھنا ثابت ہے وہ بھی بطور حمدو ثناء کے ہے نہ کہ بطور قراءت۔

وکذا فی سنن ابی داؤد:(1/126،127،رحمانیہ)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ: «أَنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ» فَمَا زَاد.(وفی روایۃ )عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَصَاعِدًا»، قَالَ سُفْيَانُ: لِمَنْ يُصَلِّي وَحْدَهُ
وکذا فی الترمذی:(1/180،رحمانیہ)
وَأَمَّا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فَقَالَ: مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ»، إِذَا كَانَ وَحْدَهُ
وکذا فی کشف المغطا عن وجہ الموطا:(/179،رحمانیہ)
وقولہ علیہ السلام لاصلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب لا یتناول صلوۃ الجنازۃ لانھا لیست بصلوۃ حقیقۃ،وانما ہی دعاء واستغفار للمیت الا تری انہ لیس فیھا الارکان التی تترکب منھا الصلوۃ من الرکوع والسجود الا انھا تسمی صلوۃ لما فیھا من الدعاء ،وحدیث ابن عباس معارض بحدیث ابن عمر وابن عوف وتاویل ما روی جابر من القراءۃ انہ کان قرأ علی سبیل الثناء لا علی سبیل القراءۃ وذلک لیس بمکروہ عندنا
وکذا فی فیض الباری:(3/52،رشیدیہ)
ثم هي عند الشافعية بعدَ التكبيرةِ الأُولى ففات عنهم الاستفتاح. فقلت لهم أن اقرؤوا بها أربعَ مرات لأن كلَّ تكبيرة في صلاةِ الجنازة تقوم مقامَ ركعةٍ. فأَوْلى لكم أن تقرؤا بها أربع مرّات، فإِنَّه لا صلاةَ لمن يقرأُ بها
وکذا فی سنن النسائی:(1/306،رحمانیہ)
عن طلحة بن عبد الله بن عوف، قال: صليت خلف ابن عباس على جنازة، فقرأ بفاتحة الكتاب، وسورة وجهر حتى أسمعنا، فلما فرغ أخذت بيده، فسألته فقال: «سنة وحق».(وفی حاشیۃ زھر الربی)قال علماؤنا لا یقرأ الفاتحہ الا ان یقرأھا بنیۃ الثناء ،ولم یثبت القراءۃ عن رسول اللہ ﷺ……وینکر عمر بن الخطاب وعلی بن ابی طالب وابن عمر وابو ھریرۃ ومن التابعین عطاء وطاؤس ….وقال الطحاوی :ولعل قراءۃ الفاتحۃ من الصحابۃ کان علی وجہ الدعاء لا علی وجہ التلاوۃ قالہ شیخ الاسلام العلامہ العینی

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر:63

مومن مسجد میں ایسے خوش ہوتا ہےجیسےمچھلی پانی میں “کیا یہ حدیث سے ثابت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

یہ کلام اگرچہ بطور حدیث مشہور ہوگیا،مگر حقیقت میں یہ حدیث نہیں ہے،البتہ اس سے ملتا جلتا کلام حضرت مالک بن دیناررحمہ اللہ سے منقول ہےکہ:”منافق مسجد میں ایسے ہوتے ہیں جیسے پرندے پنجروں میں”لہذا اس کو بطور حدیث بیان کرنا جائز نہیں۔

لما فی کشف الخفاء:(2/294،غزالی)
المؤمن فی المسجد کالسمک فی الماء،والمنافق فی المسجد کالطیر فی القفص)لم أعرفہ حدیثا وان اشتھر بذلک ویشبہ ان یکون من کلام مالک بن دینارفقد نقل المناوی عنہ أنہ قال المنافقون فی المسجد کالعصافیر فی القفص
وفی مرقاة المفاتیح:(2/405،تجاریہ)
إذا خرج منه) أي: من المسجد (حتى يعود إليه) : لأن المؤمن في المسجد كالسمك في الماء، والمنافق في المسجد كالطير في القفص
وکذافی تحفة الاحوذی:(7/113،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/7/1442/2021/9/03
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 184

اگر سر پر مہندی لگی ہو تو اس پر مسح کر سکتے ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیا

گیلی یا خشک مہندی کی تہ اگر پانی بالوں تک پہنچنے کے لیے رکاوٹ ہو تو مسح جائز نہ ہو گا ۔اسی طرح اگر تری کے اوصاف تبدیل ہو جائیں تو ایسے مہندی ملے پانی سے بھی مسح جائز نہیں ،لہذا احتیاط اسی میں ہے کہ مہندی اتار کر مسح کر لیا جائے۔

لما فی الھندیہ:(1/6،رشیدیہ)
وان کان علی راسھا خضاب فمسحت علی الخضاب اذا اختلطت البلۃ بالخضاب وخرجت عن حکم الماء المطلق لا یجوز المسح کذا فی الخلاصۃ
وفی الطحطاوی علی الدر:(1/88،رشیدیہ)
قولہ ولو جرمہ) أی الحناء لکن لا بد أن یصل الماء تحتہ واما اذا لم یصل لاتصح الطھارۃ ولذا قال فی البحر ولو ألزقت المراۃ رأسھا بالطیب بحیث لا یصل الماء الی اصول الشعر وجب علیھا ازالتہ
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/55،حقانیہ)
وکذافی التتارخانیہ:(1/202،فاروقیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/26،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/165،داراحیاء)
وکذا فی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(4/15،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/17/03
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 69

احمد علی کا انتقال ہوا،جس کے ورثاءمیں ایک زوجہ(حمیدہ) ،تین بیٹے(راشد،قاسم،اختر) اور دو بھائی(اشرف،امجد) ہیں۔احمد علی کاترکہ دس ایکڑ زمین اور 2لاکھ نقدی ہے،ابھی ترکہ تقسیم نہ ہوا تھاکہ احمد علی کے بیٹےقاسم علی کا انتقال ہو گیا جسکےورثاء میں ایک بیوی (مجیدہ)دوبیٹے (آصف ،انور)والدہ اور دو بھائی (راشد،اختر)زندہ ہیں ترکہ کی تقسیم کس طرح ہو گی؟

الجواب حامداً ومصلیا

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(جیسے:سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے: دکان،مکان اور فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا،نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے:1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ واضح رہے اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیا تھا تو وہ بھی قرض شمار ہو گا۔3)اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی۔4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچےخواہ زمین ہو یا فصل وغیرہ، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا:
کل ترکہ کے 1152 برابر حصے کیے جائیں گے جن میں سے 200 حصے (٪17.4) حمیدہ کو،راشد اور اختر میں سے ہر ایک کو336حصے (٪29.16) ،قاسم (مرحوم) کی بیوی مجیدہ کو42 حصے (٪3.64) اور آصف انور میں سے ہر ایک کو 119 حصے (٪10.32)ملیں گے۔مرحوم احمد علی کے ترکہ میں سے قاسم علی (مرحوم) کو ملنے والا حصہ اس کے ورثاء کو دے کر مسئلہ تحریر کیا گیا ہے۔
سوال میں مذکور رقم میں سےحمیدہ کو 34722.22روپے،راشد،اختر میں سے ہر ایک کو 58333.33 روپے، مجیدہ کو 7291.67 روپے اورآصف ،انور میں سے ہر ایک کو 20659.72روپے ملیں گے۔
زمین میں سےحمیدہ کو 13.9کنال،راشد اور اختر میں سے ہر ایک کو 23.33کنال،مجیدہ کو 2.91کنال،اور آصف،انورمیں سے ہر ایک کو8.26کنال دی جائیں گی۔

 

لما فی القرآن المجید:( النساء:12)
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ
وفی التنویروشرحہ:(10/550،رشیدیہ)
ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) وأما أبو الأم ففاسد من ذوي الأرحام (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل) تأخير الإخوة عن الجد وإن علا قول أبي حنيفة وهو المختار للفتوى خلافا لهما وللشافعي
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7907،رشیدیہ)
والمراد بها هنا: انتقال نصيب بعض الورثة بموته قبل القسمة إلى من يرث منہ ،فهي أن يموت من ورثة الميت الأول واحد أو أكثر قبل قسمة التركة
وکذا فی التنویر وشرحہ:(10/547،رشیدیہ)
وللأم) ثلاثة أحوال (السدس مع أحدهما أو مع اثنين من الأخوة أو) من (الأخوات) فصاعدا
وکذا فی المبسوط:(29/148،دارالمعرفہ) وکذا فی البحر الرائق:(9/380،رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیة:(20/224،فاروقیہ) وکذا فی السراجی فی المیراث:(18،بشری)
وکذا فی المحیط البرھانی:(23/298،داراحیاء)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/5/1442/2021/1/3
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 113

ایک سیلزمین جو مرچ مصالحہ جات کا کام کرتا ہے،خالص مال بیچتا ہے،ایک دکاندار اسے کہتا ہےکہ آپ مجھے اس میں تیل رنگ وغیرہ ملا کر دو،یعنی ملاوٹ کر کے دو، آیا سیلزمین کے لیے ایسا کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسا کرنا شرعاجائزنہیں،کیونکہ یہ معصیت اور گناہ کے کام میں اس کی مدد کرنا ہے اور اس سے ہمیں روکا گیا ہے۔

لمافی القرآن الکریم:( المائدة:2)
وتعاونواعلی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان
وفی الصحیح المسلم:(1/70،قدیمی)
عن ابی ھریرۃان رسول اللہﷺ قال:من حمل علینا السلاح فلیس منا،ومن غشنا فلیس منا
وکذافی التنویر وشرحہ:(6/408،رشیدیہ)
ویکرہ)تحریما(بیع السلاح من اھل الفتنۃ ان علم)لانہ اعانۃ علی المعصیۃ .وفی الشامیۃ:قولہ:(لانہ اعانۃ علی المعصیۃ)لانہ یقاتل بعینہ،بخلاف مالایقاتل بہ الابصنعۃتحدث فیہ کالحدید ونظیرہ کراھۃ بیع المعازف لان المعصیۃ تقام بھا عینھا
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/481،رشیدیہ)
ومنھا بیع السلاح من اھل الفتنۃ وفی عساکرھم،لانہ بیعہ منھم من باب الاعانۃ علی الاثم والعدوان وانہ منھی
وکذا فی البحر الرائق:(8/371،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ البیوع:(1/192،معارف القرآن)
وکذا فی المبسوط:(24/26،دار المعرفہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(10/370،دار احیا)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2687،رشیدیہ)
وکذا فی النھر الفائق:(3/268،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/4/1442/2020/12/1
جلد نمبر:21 فتوی نمبر: 185

ایک کمپنی میں مختلف مذاہب کے لوگ کام کرتے ہیں مسلمان،ہندو،سکھ اور عیسائی وغیرہ ،ہفتے میں ایک دن سب کے کپڑے دھلنے کے لیے جاتے ہیں معلوم نہیں کپڑے کس طرح دھوئے جاتے ہیں (1)مسلمانوں کے کپڑے اس طرح دھلنے کے بعد پاک ہوں گے یا نہیں ؟(2)مسلمانوں اور غیر مسلموں کے کپڑے ایک ساتھ دھلے ہوں تو کیا مسلمانوں کے کپڑے ناپاک ہو جائیں گے؟(3)اگر غیر مسلم کا گیلا ہاتھ کپڑے پر لگ جائے تو اس سے کپڑا ناپاک ہوجائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیا

(1)

اگر تو مسلمانوں کے کپڑے علیحدہ دھوئے جاتے ہیں تو حکم یہ ہے کہ کپڑے اپنی حالت پر رہیں گے،یعنی پاک کپڑے دیے تھے تودھلنے کے بعد بھی پاک ہوں گے ،ناپاک دیے تھے تو بعد میں بھی ناپاک ہوں گے۔(2)اگر مسلم وغیر مسلم کے کپڑے اکٹھے دھلتے ہیں تب بھی حکم تو وہی ہے جو اوپر بیان ہوا،لیکن چونکہ غیر مسلموں کے کپڑوں سے متعلق پاکی یا ناپاکی کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ،لہذا اپنے دھوبی کو احتیاطا اس بات کا پابند کر دیا جائےکہ کپڑے دھلنے کے بعد ان کو تین مرتبہ الگ الگ پانی سے اچھا طرح نچوڑ دیا کرےیا بڑے تالاب یا بہتے ہوئے پانی مثلا ٹونٹی کے نیچےاچھی طرح دھو لیا کرے۔(3)غیر مسلم کے ہاتھ پر اگر ظاہری طور پر نجاست نہ لگی ہو تو ہاتھ لگانے سے کپڑا ناپاک نہ ہو گا۔

لما فی الشامیة:(1/310،رشیدیہ)
قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن، وكذا الآبار والحياض والجباب الموضوعة في الطرقات ويستقي منها الصغار والكبار والمسلمون والكفار؛ وكذا ما يتخذه أهل الشرك أو الجهلة من المسلمين كالسمن والخبز والأطعمة والثياب اهـ ملخصا
وفی الھندیہ:(1/41،رشیدیہ)
ثوب نجس غسل في ثلاث جفان أو في واحدة ثلاثا وعصر في كل مرة طهر لجريان العادة بالغسل. هكذا فلو لم يطهر لضاق على الناس
وکذافی التتارخانیہ:(1/269،فاروقیہ)
وکذلک الثیاب التی ینسجھا أھل الشرک أو الجھلۃ من أھل الاسلام ،وکذلک الحباب الموضوعۃ أو المرکبۃ فی الطرقات والسقایات التی یتوھم فیھا اصابۃ النجاسۃ کل ذلک محکوم بطہارتہ حتی یتیقن بنجاستھا
وکذا فی البدائع:(1/236،241،رشیدیہ) وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/73،78،بشری)
وکذا فی الاشباہ والنظائر:(/60،قدیمی) وکذا فی البحر الرائق:(1/412،رشیدیہ)
وکذا فی عمدة القاری:(4/69،داراحیاء)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر:173

ایک آدمی نے مسجد بنانے کی نیت سےزمین وقف کی،چند سال بعد واقف کا کہنا ہے کہ مسجد اور مدرسہ دونوں بناؤ،جبکہ تعمیر ابھی شروع نہیں ہوئی،تو واقف کی دوسری بات (دونوں بنانے کی) کرنا صحیح ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

مسجد کے لیےوقف جگہ میں جب تک لوگوں کو نماز کی اجازت دیکر اذان و اقامت کے ساتھ نماز نہ پڑھ لی جائےوہ شرعی مسجد نہیں بنتی،لہذا مالک کی ملک برقرار ہے اور اس کا مسجد و مدرسہ بنانے کے لیے کہنا صحیح ہے۔

لما فی الشامیة:(6/547،رشیدیہ)
وأنه لو قال وقفته مسجدا، ولم يأذن بالصلاة فيه ولم يصل فيه أحد أنه لا يصير مسجدا بلا حكم
وفی البحر:(5/416،رشیدیہ)
(ومن بنى مسجدا لم يزل ملكه حتى يفرزه عن ملكه بطريقه ويأذن بالصلاة فيه وإذا صلى فيه واحد زال ملكه)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/593،المنار)
وکذافی المبسوط:(12/34،دارالمعرفہ)
وکذا فی الاشباہ والنظائر:(194،قدیمی)
وکذا فی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(3/290،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 144

ایک مرغ فروش نے ڈرم رکھا ہوا ہےاس میں مرغیوں کے ذبح کے وقت کا خون اور پر وغیرہ جمع کرتاہے،کیا ان چیزوں کو بیچنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

جس چیز سے جائز نفع حاصل کیا جا سکتا ہےاس کی خریدوفروخت بھی جائز ہے،چونکہ مرغیوں کی آلائشیں وغیرہ قابل انتفاع ہیں،لہذا ان کی خریدوفروخت بھی جائز ہے۔

لما فی الھندیہ:(3/114،رشیدیہ)
والصحیح انہ یجوز بیع کل شئ ینتفع بہ کذا فی التتارخانیۃ
وفی فقہ البیوع:(1/311،معارف القرآن)
ولکن الغذا الذی یعد للدواجن یکون مخلوطاباشیاء کثیرۃ،مثل الحنطہ،والذرہ،والارز وغیرہا،ونسبۃ الطاھرات فیھا اکثر،فالظاھر ان حکم ھذا المرکب حکم المتنجسات
وکذافی تکملہ فتح الملھم:(1/559،دارالعلوم کراچی)
وکذا فی الدر المختار:(7/261،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3433،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(6/392،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/333،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/365،بشری)
وکذا فی التتارخانیہ:(8/342،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/5/1442/2020/12/20
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 44

کیا عورت اپنے مخصوص ایام (حیض و نفاس )میں ذکر کر سکتی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیا

ان ایام میں ذکر و اذکار اور دعائیں وغیرہ پڑھی جا سکتی ہیں۔

لما فی التنویر وشرحہ:(1/536،دارالمعرفہ)
ولا باس)لحائض وجنب (بقراءۃ ادعیۃ ومسھا وحملھا،وذکر اللہ تعالیٰ،وتسبیح)وزیارۃ قبور
وفی الموسوعة الفقھیة:(18/321،علوم اسلامیہ)
ولا یکرہ لھا قراۃ القنوت،ولاسائر الاذکار والدعوات
وکذافی الھندیہ:(1/38،رشیدیہ)
وکذا فی البحر:(1/347،رشیدیہ)
وکذا فی البرجندی:(1/59،حقانیہ)
وکذا فی الجوھرة النیرہ:(1/89،قدیمی)
وکذا فی الفتاوی السراجیہ:(/51،زمزم)
وکذا فی التتارخانیہ:(1/481،فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/121،الطارق)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/150،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(/142،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/6/1442/2021/1/19
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 179

ایک حدیث سننے میں آئی ہے کہ حضورﷺ کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ نےاپنی تین پسندیدہ چیزوں کا ذکر کیا :1)مہمان کا اکرام2)جہاد فی سبیل اللہ3)گرمی کے روزے،اس حدیث کی تحقیق مطلوب ہے،کیا اس میں دیگر حضرات کا بھی ذکر ملتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

محبوبات ثلاثہ کے نام سے یہ واقعہ چند کتب میں ملتا ہے،چنانچہ کشف الخفاء اور علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے “المنبھات”میں یہ واقعہ تفصیلاً ذکر کیا ہے،جس میں آپ ﷺ،خلفاء راشدین رضوان اللہ اجمعین ،جبرائیل علیہ السلام اور اللہ تعالی کی تین تین محبوب چیزوں بیان فرمائیں،لیکن ان کتب میں یہ بلا سند ذکر کیا گیا ہے،لہذا کسی صحیح حدیث سے صحیح سند کے ساتھ یہ تفصیلی واقعہ ثابت نہیں۔البتہ حضورپر نور ﷺکی محبوبات ثلاثہ کا ذکر صحیح احادیث میں موجود ہے کہ آپ ﷺ کو عورت،خوشبو اور نماز یہ تین چیزیں پسند تھی۔

لما فی المستدرک علی الصحیحین:(2/281،قدیمی)
عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:حبب الی النساء والطیب وجعلت قرۃ عینی فی الصلوۃ
ھذا حدیث صحیح علی شرط مسلم ولم یخرجاہ
وفی کشف الخفاء ومزیل الالباس :(1/340،الغزالی)
حبب الی من دنیاکم ثلاث النساء…..) ھکذا اشتھر علی الالسنۃ وترجم بہ النجم لکن ذکرہ فی المقاصد وکثیرون بدون من دنیاکم ثلاث …..وقال ابن القیم وغیرہ من رواہ” حبب الی من دنیاکم ثلاث”فقد وھم ولم یقل علیہ السلام ثلاث اذاالصلوۃ لیست من امور الدنیا التی تضاف الیھا بل ھی عبادۃ محضۃ ،نعم یصح أن تضاف الیھا لکونھا ظرفا لوقوعھا فیھا .
تنبیہ:قال فی المواھب وھنا لطیفۃ روی أنہ علیہ الصلاۃ والسلام لما قال حبب الی من دنیاکم ……قال ابو بکررضی اللہ عنہ وانا یارسول اللہ حبب الی من الدنیا النظر الی وجھک ،وجمع المال للانفاق علیک ،والتوسل بقرابتک الیک ،وقال عمر رضی اللہ عنہ وانا یارسول اللہ ……وقال علی رضی اللہ عنہ وانا یا رسول اللہ حبب الی من الدنیا الصوم فی الصیف،واقراء الضیف،والضرب بین یدیک بالسیف
قال الطبری خرجہ الجندی والعھدۃ علیہ انتھی،وفی بعضھا مخالفۃ لما فی المواھب انتھی،وفی المجالس للخفاجی بعض مخالفۃ وزیادۃ
وکذافی المقاصد الحسنة:(186،النوریہ)
وکذا فی الموضوعات الکبری:(107،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/17/03
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 67