معلوم کرنا ہے کہ جاز کیش ایپ سے کمپنی کی طرف سے میسج آتا ہے کہ آپ فلاں نمبر پر 10 روپے بھیجیں اس 10 روپے کے بدلے میں آپ کو اگلے دن 100 روپے ملیں گے تو آیا یہ استعمال کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کمپنی کی طرف سے یہ رقم بطور تبرع اور انعام کے دی جاتی ہے ،لہذا اس کا استعمال جائز ہے۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(10/65،علوم اسلامیہ)
التبرع بذل المکلف مالا او منفعۃ لغیرہ فی الحال او المآل بلا عوض بقصد البر و المعروف غالباً
وفیہ ایضاً:(10/66،علوم اسلامیہ)
و اما الاجماع فقد اتفقت الامۃ علی مشروعیۃ التبرع و لم ینکر ذٰلک احد
وفی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(2/155،معارف القرآن)
و ان مثل ھذہ الجوائز التی تمنح علی اساس عمل عملہ احد لا تخرج عن کونھا تبرعا و ھبۃ لانھا لیس لھا مقابل ، و ان العمل الذی عملہ الموھوب لھ لم یکن علی اساس الاجارۃ او الجعالۃ حتی یقال ان الجائزہ اجرۃ لعملہ ، و انما کان علی اساس الھبۃ للتشجیع
وکذافی البحر الرائق:(7/483،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/387،الطارق)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(15/76،77،علوم اسلامیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(8/567،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(4/3261،رشیدیہ)
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(2/155،معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفر لہ و الوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 74

چھوٹی مسجد تھی ،اس کو شہید کرکے بڑا کیا جارہا ہے۔ چھوٹی مسجد والی جگہ اب موجودہ مسجد کے درمیان میں آرہی ہے اور اس وقت مسجد کا تہہ خانہ تیار ہورہا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ جو مسجد ابھی تیار ہورہی ہے اس میں شامل کی گئی نئی جگہ کے تہہ خانہ میں غیر مسجد کی نیت کرنا درست ہے یا نہیں؟ جبکہ متولی مسجد نے سارے حصے کےلیے مسجد کی نیت کی ہوئی ہو۔(2) جو آدمی اس پر رقم خرچ کررہا ہے وہ مسجد ہی سمجھ کر کر رہا ہے،کیا اس کو بتانا ضروری ہے کہ ہم تہہ خانہ کی گیلریوں میں مسجد کی نیت نہیں کررہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

تعمیر کے وقت اس نئی جگہ کے تہہ خانہ میں غیر مسجد کی نیت کرنا درست ہے،لیکن اسے مصالح مسجد کےلیے استعمال کیا جانا چاہیے۔(2)خرچ کرنے والے کو اطلاع کرنا ضروری ہے کہ یہ حصہ مسجد میں داخل نہیں۔

لما فی الفتاوی الھندیة:(2/455،رشیدیة)
و لو کان السرداب لمصالح المسجد جاز کما فی مسجد بیت المقدس
وفی التنویر مع الدر المختار:(6/548،دارالمعرفة)
و اذا جعل تحتہ سردابا لمصالحہ ) أی المسجد(جاز) کمسجد المقدس
وکذافی الشامیة:(2/517،رشیدیة)
وکذافی تقریرات الرافعی :(6/549،دارالمعرفة)
وکذافی البحر الرائق:(5/421،رشیدیة)
وکذافی الھدایة:(2/620،رشیدیة)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(348،البشری)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/137،بیروت)
وکذافی ردالمحتار:(6/553،554،دارالمعرفة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1442/2021/2/10
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:148

ہمارے شہروں میں کسی کے انتقال کے وقت جب تک میت کا جنازہ نہیں ہوتا تب تک ہاتھ اٹھا کر دعا نہیں کرتے، میت دفنانے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں۔اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

تدفین کے بعد قبر پر قبلہ رو کھڑے ہوکر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا جائز ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے، لیکن تدفین سےقبل اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا اور اسے لازمی سمجھنا بدعت ہے، اس سے احتراز لازم ہے اور لوگوں کو اس سے روکنا بالکل درست ہے۔
تاہم اگر کوئی شخص انفرادی طور پر میت کےلیے دعاءمغفرت کرے تو جائز بلکہ مستحسن ہے اور اس کےلیے ہاتھ اٹھا لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

لما فی فتح الباری:(11/173،قدیمی)
وفي حديث بن مسعود رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في قبر عبد الله ذي البجادين الحديث وفيه فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعا يديه
وفی مرقاة المفاتیح:(4/187،المکتبة التجاریة)
عن ابن مسعود قال: والله فكأني أرى رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك وهو في قبر عبد الله ذي البجادين، وأبو بكر وعمر، يقول: أدنيا مني أخاكما، وأخذه من قبل القبلة، حتى أسنده في لحده، ثم خرج رسول صلى الله عليه وسلم وولاهما العمل، فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعا يديه يقول: اللهم إني أمسيت عنه راضيا فارض عنه
وفی الفتاوی الھندیة:(5/319،رشیدیہ)
کرہ ان یقوم رجل بعد ما اجتمع القوم للصلاۃ و یدعو للمیت و یرفع صوتہ
وفی خلاصة الفتاوی:(1/225،رشیدیہ)
و لا یقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ
وکذافی الصحیح لمسلم:(2/303،قدیمی)
وکذافی فتح الباری:(8/51،قدیمی)
وکذافی الشامیة:(1/507،سعید)
وکذافی اعلاء السنن:(3/183،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/6/1442/2021/1/16
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:159

مرد بیرون ملک تھا۔ اس نے اپنی بیوی کےلیے پرچے پر طلاق لکھ کر رکھ لی۔ پرچے پر لکھا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں ۔ پھر وہ شخص تین ماہ بعد گھر آیا اور بیوی کے ہاتھ میں وہ پرچہ تھما دیا ۔اب بیوی کےلیے عدت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جس وقت سے مرد نے یہ تحریر لکھی اسی وقت سے طلاق واقع ہوگئی،لہذا عدت (3 حیض) بھی اسی وقت سے شمار ہوگی۔

لما فی الشامیة:(4/442،رشیدیہ)
ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
وفی فتاوی قاضیخان علی ھامش الھندیة:(1/471،رشیدیہ)
ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فلما كتب هذا وقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
وکذافی المحیط البرھانی:(4/484،بیروت)
وکذافی الھندیة:(1/368،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(4/528،فاروقیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/173،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(2/91،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:156

اگر پانی میں چرس مل جائے تو وہ پانی پاک ہو گا یا ناپاک؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نشہ آور ہونے کی وجہ سے چرس کا بلا ضرورت استعمال اگرچہ حرام و ناجائز ہے،مگر یہ چرس خودپاک ہے ،پانی میں گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوگا،البتہ اگر پانی کی قلیل مقدار میں چرس ملی ہو تو اس کا پینا اس لیے درست نہ ہو گا کہ وہ نشہ آور بن چکاہے۔

لما فی فقہ البیوع:(1/294،معارف القرآن)
وقد ثبت من مذھب الحنفیۃ المختار ان غیر الاشربۃ الاربعۃ(المصنوعۃ من التمر او من العنب)لیست نجسۃ
وفی الفقہ السلامی وادلتہ:(1/292،رشیدیہ)
انواع الاعیان الطاھرۃ. . . . . .وجمیع انواع النبات ولو کان ساما او مخدرا کالحشیش والافیون والبنج
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(10/46، رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(10/47،43، رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(8/218،علوم اسلامیہ)
وکذافی کتاب الفقہ للجزری:(1/13،حقانیہ)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(3/608،دارالعلوم کراتشی)
وکذافی المحیط البرھانی :(19/123،بیروت)
وکذافی الھدایة:(4/499،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:153

پانچ بھائی ہیں ، ان میں سے بڑے بھائی کی شادی ہوگئی ، پھر اس کے ہاں ایک بچی پیدا ہوئی ۔ بعد میں یہ بڑا بھائی فوت ہوگیا، جبکہ اس کے والدین حیات ہیں اور زمین وغیرہ ابھی انہیں کی ملکیت میں ہے، بھائیوں میں تقسیم نہیں ہوئی۔اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس بڑے بھائی کی بچی اس میراث کی حق دار ہوگی جو بڑے بھائی کو والدین کی طرف سے ملنی تھی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

والدین کی وفات کے وقت اگر ان کے حقیقی بیٹوں میں سے کوئی حیات ہوا تو یہ پوتی میراث کی حق دار نہ ہوگی۔

لما فی التاتارخانیة:(20/225،فاروقیہ)
ان کان للمیت ابن فلا شئ لبنت الابن
وفی الفتاوی الھندیة:(6/448،رشیدیہ)
فإن کان فی أولاد الصلب ذکر فلا شئ لأولاد الإبن ذکورا کانوا أو اناثا
وکذافی الفقہ الاسلامی و أدلتہ:(10/7777،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/212،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(9/375،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(23/289،بیروت)
وکذافی السراجی:(20،البشری)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(3/39،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/9/1442/2021/4/26
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:175

بخاری شریف میں ایسی کوئی حدیث ہے کہ اس امت میں بہتر وہ ہے جس کی بیویاں زیادہ ہوں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں! بخاری شریف میں اس مضمون کی روایت موجود ہے ،مگر یہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان مبارک نہیں ہے، بلکہ صحابی رسول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اثر مبارک ہے، چنانچہ بخاری شریف میں ہے

عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ تَزَوَّجْتَ؟ قُلْتُ: لاَ، قَالَ: “فَتَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الأُمَّةِ أَكْثَرُهَا نِسَاء(صحیح البخاری:2/264،رحمانیہ)

ترجمہ: حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ آپ نے شادی کی ہے ؟میں نے کہا نہیں تو انہوں نے فرمایا کہ شادی کر لو ، کیونکہ اس امت کا سب سے بہترین شخص وہ ہے جس کی بیویاں زیادہ ہوں۔“(کشف الباری : کتاب النکاح :142،فاروقیہ)
اس اثر مبارک کی تشریح کرتے ہوئے شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں
”خیر ھذہ الامۃ سے یا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم مراد ہیں اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس امت کا سب سے بہترین شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ہیں اور ان کی نو بیویاں تھیں، اس لیے تم بھی شادی کرلو اور یا اس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم مراد نہیں ، بلکہ عام امتی مراد ہے۔ اس صورت میں حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ جس کی عورتیں زیادہ ہوں گی وہ بہترین آدمی ہوگا (بشرطیکہ وہ عدل بین الازواج کرنے والا ہو) اس لیے کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی امت میں اضافے کا سبب بنے گا۔“
(کشف الباری: کتاب النکاح:142،فاروقیہ)
اور یہ اثر دیگر کتب احادیث میں بھی موجود ہے۔

لما فی المستدرک علی الصحیحین:(2/280،قدیمی)
عن سعيد بن جبير، قال: قال لي ابن عباس: يا سعيد، تزوج فإِن خير هذه الأمّة أكثرهم نساء
وفی المعجم الکبیر للطبرانی:(6/19،دارالکتب العلمیہ)
عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: تزوَج فإن خير هذه الأمة كان أكثرها نساء

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر:75

ربیع الاول میں لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سالگرہ کی نیت سے کیک کھلاتے ہیں ،کیا یہ کھانا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بارہ ربیع الاول کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کیک کاٹنا قرآن و سنت سے کہیں ثابت نہیں ، حضرات صحابہ و تابعین میں سے کسی کے عمل سے بھی اس کا ثبوت نہیں ملتا ۔ اس لیے یہ عمل بدعت ہے، اس سے اجتناب لازم ہے، لہذا اس موقع پر حاضر ہونے اور کاٹا جانے والا کیک کھانے سے بچنا چاہیے۔

لما فی الصحیح للبخاری:(1/371،قدیمی)
عن عائشة رضي الله عنهاقالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد
وفی فتح الباری:(5/379،قدیمی)
هذا الحديث معدود من أصول الإسلام وقاعدة من قواعده فإن معناه من اخترع في الدين ما لا يشهد له أصل من أصوله فلا يلتفت إليه ….وفيه رد المحدثات وأن النهي يقتضي الفساد لأن المنهيات كلها ليست من أمر الدين فيجب ردها
وکذافی تکملة فتح الملھم:(2/595،دارالعلوم کراتشی)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(8/40،علوم اسلامیة)
وکذافی التاتارخانیة:(18/175،فاروقیة)
وکذافی الشامیة:(9/574،رشیدیة)
وکذافی الھندیة:(5/343،رشیدیة)
وکذافی البحر الرائق:(8/345،رشیدیة)
وکذافی فتح القدیر:(10/14،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:159

میرا ایک چھوٹا بیٹا ہے جو کہ گونگا ہے۔ میں نے اپنے والد کی موجودگی میں اپنی بیٹی اپنے بھائی کے بیٹے کے نام کردی اور اپنے بھائی کی بیٹی اپنے گونگے بیٹے کے نام کردی۔ اس معاملے کا اس دوسرے بھائی کو اس وقت علم نہیں تھا۔ واضح رہے کہ ہمارے ہاں پختونوں میں یہ رواج ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اس طرح ایک دوسرے کے نام کردیتے ہیں اور پھر جو لڑکی جس لڑکے کے نام ہوتی ہے بعد میں اس کا نکاح اسی لڑکے سے ہوگا ،کسی دوسرے سے اس کا نکاح نہیں کیا جا سکتا۔ اب میرے بھائی کو علم ہوا تو اس نے اپنی بیٹی میرے اس گونگے بیٹے کے نکاح میں دینے سے انکار کردیا ۔ اب میرے والد نے میرے اس بھائی سے کہا ہے کہ تم کو اب ہر حال میں اپنی بیٹی کا نکاح اس گونگے لڑکے سے کرنا ہوگا، اگر تم ایسا نہ کرو گے تو میں تم کو عاق کردوںگا اور تمہیں کبھی اپنے گھر نہ آنے دونگا اور مرتے وقت وصیت کروں گاکہ اسے میرا منہ نہ دیکھنے دیا جائے ۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ: (1) کیا والد میرے اس بھائی کو مذکورہ معاملہ کرنے پر مجبور کرسکتا ہے یا نہیں؟(2)کیا باپ کا بیٹے کو اس طرح عاق کردینے اور ہمیشہ کےلیے تعلق ختم کردینے کی دھمکی دینا درست ہے؟(3)کیا کوئی باپ اپنی نابالغہ بچی کا نکاح کسی گونگے شخص سے کر سکتا ہے؟(4)کیا باپ کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر بھائی اپنی چھوٹی بہن کا نکاح کروا سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

والدین کا اپنی اولاد کو بچپن میں ہی کسی کے نام کردینا اور پھر بعد میں خواہ حالات کیسے ہی ہوں ،انکی مصلحت کی رعایت کیے بغیر انکا نکاح کروادینا ایک نہایت قبیح رسم ہے۔ یہ رسم گھروں کی بربادی اور معاشرے میں فساد کا ایک ذریعہ ہے ۔
مگر افسوس ہے کہ ہم آج خود ساختہ رسوم کے اس قدر پابند ہوچکے ہیں کہ ان رسوم کو بجالانے کی خاطر قرآن و سنت کی تعلیمات کو بھی پس پشت ڈال دیتے ہیں اور اپنی اولاد کو ان قبیح رسوم کی نذر کرکے ہمیشہ کےلیے انکے مستقبل کو تاریک کر دیتے ہیں۔
اولاد کے نکاح کے سلسلہ میں قرآن و سنت کی تعلیم یہ ہے کہ جب بچہ اور بچی نکاح کے قابل ہوجائیں تو والدین کا فریضہ ہے کہ ان کے لیے مناسب رشتہ تلاش کریں اور مناسب رشتہ ملنے پر اپنی اولاد سے مشورہ کریں ، اولاد کی رضامندی ظاہر ہونے پر انکا نکاح کروا دیں۔اگر اولاد نابالغ ہو اور کوئی مناسب رشتہ میسر آ جائے تو شریعت سب سے پہلے باپ کو اس بات کا حق دیتی ہےکہ اپنی اولاد کی مصلحت دیکھتے ہوئے اس کا نکاح کردے۔(1) صورت مسئولہ میں بھی نابالغہ بچی کا باپ چونکہ زندہ ہےاس لیے بچی کے نکاح کا مکمل اختیار باپ کو ہے، اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے کو اس بچی کا نکاح کرنے کا شرعا کوئی اختیار نہیں۔ جب باپ مذکورہ نکاح کو بچی کے حق میں مفید نہیں سمجھتا تو اس کا حق بنتا ہے کہ اس نکاح سے انکار کردے ،کسی کو اس پر جبر کرنے کا شرعا کوئی حق نہیں۔(2) اس خلاف شریعت حکم کی تعمیل نہ کرنے پر باپ کا بیٹے کو عاق کردینے اور ہمیشہ کےلیے تعلق ختم کردینے کی دھمکی دینا اور بھی بڑا جرم ہے ۔ شریعت باپ کو ہرگز یہ حق نہیں دیتی کہ وہ اپنی اولاد کو وراثت سے محروم کردے۔مزید یہ کہ عاق کردینے کا شرعا کوئی اعتبار ہی نہیں ۔ عاق کرنے کے باوجود بھی بیٹا وراثت کا مستحق رہتا ہے۔(3) اگر والد گونگے شخص سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنے میں بیٹی کےلیے مصلحت سمجھے تو اس نکاح میں کوئی حرج نہیں، البتہ اگر باپ کے پیش نظر کوئی مصلحت نہ ہو، بلکہ بیٹی کا مستقبل تاریک ہونے کا اندیشہ ہو ،اس کے باوجود محض ذاتی اغراض یا رسم و رواج سے مجبور ہوکر نکاح کرنا چاہے تو اس کی شرعا کوئی گنجائش نہیں۔(4)باپ کی موجودگی میں بھائی کو ولایت نکاح حاصل نہیں۔

لما فی مشکوة المصابیح:(2/278،رحمانیة)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: لاتنکح الأیم حتی تستأمر و لاتنکح البکر حتی تستأذن
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(282،البشری)
الولی فی نکاح الصغیر و الصغیرۃ ھو الأب فإن لم یکن فالولی ھو الجد
وفی الموسوعة الفقھیة:(45/172،علوم اسلامیة)
ذھب الفقھاء الی أن للأب ولایۃ تزویج ابنہ الصغیر و ابنتہ الصغیرۃ
وفی مشکوة المصابیح:(1/272،رحمانیة)
عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم من قطع میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ
وکذافی مشکوة المصابیح:(2/278،رحمانیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(41/260،علوم اسلامیة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/63،الطارق)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(4/166،رشیدیة)
وکذافی تکملة رد المحتار:(7/505،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/7/1442/2021/2/20
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر:90

باپ بیٹے کو اپنی زندگی میں مکان ہبہ کرے اور قبضہ بھی دے دے، لیکن باپ بیٹا دونوں اسی مکان میں رہتے ہوں تو یہاں باپ کو سامان سمیت کچھ وقت کےلیے باہر نکلنا ضروری ہوگا؟ جیسا کہ بعض فتاوی میں مذکور ہے یا گھر میں رہتے ہوئے بھی بیٹے کا قبضہ مکمل ہوجائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!مکان پر قبضہ مکمل ہونے کےلیے ضروری ہے کہ باپ سامان سمیت کچھ وقت کےلیے گھر سے باہر نکل آئے اور پھر مکان بیٹے کو سپرد کرے۔
البتہ اس مشکل کے حل کےلیے بعض فقہاء نے یہ حیلہ بتلایا ہے کہ باپ پہلے گھر کا مکمل سامان بطور امانت بیٹے کے سپرد کر دےپھر کچھ وقت کےلیے خودگھر سے نکل آئے اور مکان بیٹے کو ہبہ کردے۔ اب بیٹا مکان پر قبضہ کرلے گا ،ہبہ تام ہوجائے گا۔گھر میں موجود سامان بیٹے کے پاس باپ کی امانت ہوگی ،باپ جب چاہے واپس لے لے۔

لما فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(392،البشری)
لو وھب دارا و ھو یسکن فیھا او لہ فیھا اثاث لا تتم الھبۃ الّا اذا خرج منھا و افرغھا من اثاثہ
وفی الفتاوی الھندیة:(4/380،رشیدیہ)
ولو وهب دارا فيها متاع الواهب وسلم الدار إليه أو سلمها مع المتاع لم تصح والحيلة فيه أن يودع المتاع أولا عند الموهوب له ويخلي بينه وبينه ثم يسلم الدار إليه فتصح الهبة فيها
وفی رد المحتار:(12/558،رشیدیہ)
والحيلة فيه أن يودع المتاع أولا عند الموهوب له ويخلي بينه وبينه ثم يسلم الدار إليه فتصح الهبة
وکذافی التاتارخانیہ:(14/430،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/174،بیروت)
وکذافی بدائع الصنائع:(5/178،رشیدیہ)
وکذافی منحة الخالق:(7/489،رشیدیہ)
وکذافی دررالحکام:(2/448،449،العربیہ)
وکذافی الدر المختار:(12/558،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/6/1442/2021/1/18
جلد نمبر:22 فتوی نمبر :188