جنازہ اٹھاتے وقت بلندآوازمیں کلمہ شہادت کہنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسے موقع پربلند آواز میں کلمہ وغیرہ پڑھنے کاکوئی شرعی حکم تو نہیں،لیکن ایسے موقع پر ہرشخص کو اپنے طور پرآہستہ آہستہ ذکر کرنا چاہیےاوراللہ تعالی کی طرف متوجہ رہنا چاہیے۔

لما فی الھندیة : (1 /162 ،رشیدیہ )
وعلی متبعی الجنازۃالصمت ویکرہ لھم رفع الصوت بالذکر وقراۃالقرآن ۔۔۔۔فان اراد ان یذکراللہ یذکرہ فی نفسہ
وفی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح : ( 606،قدیمی )
ویکرہ رفع الصوت )قیل :یکرہ تحریما۔۔۔۔۔ فان اراد ان یذکراللہ تعالی ففی نفسی ای سرا بحیث یسمع نفسہ ویستحب لمن تبع الجنازۃ ان یکون مشغولا بذکراللہ تعالی،والتفکر فیما یلقاہ المیت،وان ھذا عاقبۃ اھل الدنیا،ولیحذر عما لا فائدۃ فیہ من الکلام،فان ھذا وقت ذکر وموعظۃ فتقبح فیہ الغفلۃ،فان لم یذکراللہ تعالی فلیلزم الصمت ولا یرفع صوتہ بالقراۃ ،ولابالذکر ولا یعتبربکثرۃمن یفعل ذلک،واما ما یفعلہ الجھال فی القراۃ علی الجنازۃمن رفع الصوت،والتمطیط فیہ فلا یجوزبالاجماع،ولایسع احداعلی انکارہ ان یسکت عنہ،ولا ینکر علیہ،قولہ :(علیھم الصمت )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قولہ :(ونحوذلک )کالاذکار المتعارفۃ،قولہ :(بدعۃ )ای قبیحۃ کالمسمی بالکفارۃ
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر: ( 1/ 381 ،رشیدیہ )
وکذافی تنویرالابصارمع الدرالمختار: (3/163 ،رشیدیہ )
وکذا فی فتاوی قاضی خان: (1 /190 ،رشیدیہ )
وکذافی البحرالرائق: ( 2/ 336 ،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (2 /47 ،رشیدیہ )
وکذافی مراقی الفلاح: (606، قدیمی)
وکذا فی الشامیة: ( 3/163 ،رشیدیہ )

 

واللہ اعلم بالصواب
احتشام مجیدغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:81

ہمارے شہروں میں کسی کے انتقال کے وقت جب تک میت کا جنازہ نہیں ہوتا تب تک ہاتھ اٹھا کر دعا نہیں کرتے، میت دفنانے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں۔اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

تدفین کے بعد قبر پر قبلہ رو کھڑے ہوکر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا جائز ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے، لیکن تدفین سےقبل اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا اور اسے لازمی سمجھنا بدعت ہے، اس سے احتراز لازم ہے اور لوگوں کو اس سے روکنا بالکل درست ہے۔
تاہم اگر کوئی شخص انفرادی طور پر میت کےلیے دعاءمغفرت کرے تو جائز بلکہ مستحسن ہے اور اس کےلیے ہاتھ اٹھا لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

لما فی فتح الباری:(11/173،قدیمی)
وفي حديث بن مسعود رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في قبر عبد الله ذي البجادين الحديث وفيه فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعا يديه
وفی مرقاة المفاتیح:(4/187،المکتبة التجاریة)
عن ابن مسعود قال: والله فكأني أرى رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك وهو في قبر عبد الله ذي البجادين، وأبو بكر وعمر، يقول: أدنيا مني أخاكما، وأخذه من قبل القبلة، حتى أسنده في لحده، ثم خرج رسول صلى الله عليه وسلم وولاهما العمل، فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعا يديه يقول: اللهم إني أمسيت عنه راضيا فارض عنه
وفی الفتاوی الھندیة:(5/319،رشیدیہ)
کرہ ان یقوم رجل بعد ما اجتمع القوم للصلاۃ و یدعو للمیت و یرفع صوتہ
وفی خلاصة الفتاوی:(1/225،رشیدیہ)
و لا یقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ
وکذافی الصحیح لمسلم:(2/303،قدیمی)
وکذافی فتح الباری:(8/51،قدیمی)
وکذافی الشامیة:(1/507،سعید)
وکذافی اعلاء السنن:(3/183،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/6/1442/2021/1/16
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:159

ہمیں جماعت میں غیر مقلدین تنگ کرتے ہیں کہتے ہیں تم نماز جنازہ میں سورت فاتحہ کیوں نہیں پڑھتے حالانکہ حدیث میں ہے “لاصلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب”تو ہم اس حدیث کا جواب انہیں کیا دیں؟وہ بار بار ہم سے پوچھتے ہیں براہ کرم ہمیں اس حدیث کے جواب سے مطلع فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیا

یہاں چند باتیں قابل توجہ ہیں،پہلی بات:نماز جنازہ اصل میں میت کے حق میں دعا و استغفار ہے،نماز اس کو مجازاً کہا جاتا ہے،حقیقتانماز میں رکوع سجدہ ہوتا ہے جبکہ نماز جنازہ میں ایسا نہیں،چنانچہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اس کو میت کے حق میں دعا کہا ہے۔

لما فی زاد المعاد:(1/207،علمیہ)
ومقصود الصلاۃ علی الجنازۃ ہو الدعاء للمیت لذلک حفظ عن النبی ﷺ ،ونقل عنہ مالم ینقل من قراءۃ الفاتحۃوالصلاۃ علیہ ﷺ
وفی فیض الباری:(3/52،رشیدیہ)
وصرَّح ابنُ تيميةَ رحِمه اللَّهُ أن جُمهورَ السَّلف كانوا يكتفون بالدعاء ولا يقرؤون الفاتحةَ، نعم، ثبت عن بعضهم

دوسری بات:آپﷺ سے کسی صحیح حدیث سے نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے کا حکم دینا ثابت نہیں،چنانچہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نےفرمایا:نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے کے حکم والی احادیث کی اسناد صحیح نہیں۔

لمافی زاد المعاد:(1/207،علمیہ)
ویذکر عن النبیﷺانہ امر ان یقرا علی الجنازۃبفاتحۃ الکتاب ولا یصح اسنادہ،قال شیخنا لا تجب قراءۃ الفاتحۃ فی صلاۃ الجنازۃبل ہی سنۃ

تیسری بات:کبار صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین،تابعین وتبع تابعین،فقہاءسبعہ اور امام مالک رحمہ اللہ علیھم نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے کے قائل نہ تھے۔چند روایات وآثار نقل کیے جاتے ہیں

و فی المستدرک علی الصحیحین:(1/470،قدیمی)
، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، وَكَانَ مِنْ كُبَرَاءِ الْأَنْصَارِ وَعُلَمَائِهِمْ، وَأَبْنَاءِ الَّذِينَ شَهِدُوا بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ، «أَنْ يُكَبِّرَ الْإِمَامُ، ثُمَّ يُصَلِّيَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُخْلِصَ الصَّلَاةَ فِي التَّكْبِيرَاتِ الثَّلَاثِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا خَفِيًّا حِينَ يَنْصَرِفُ، وَالسُّنَّةُ أَنْ يَفْعَلَ مِنْ وَرَائِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ أَمَامَهُ
وکذا فی موطاا لامام مالک:(1/179،رحمانیہ)
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ تُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «أَنَا، لَعَمْرُ اللَّهِ أُخْبِرُكَ. أَتَّبِعُهَا مِنْ أَهْلِهَا. فَإِذَا وُضِعَتْ كَبَّرْتُ، وَحَمِدْتُ اللَّهَ. وَصَلَّيْتُ عَلَى نَبِيِّهِ». ثُمَّ أَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنَّهُ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ. وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ. وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ. اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ مُحْسِنًا، فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ. وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا، فَتَجَاوَزْ عَنْ سَيِّئَاتِهِ. اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ

 

وکذا فی موطا الامام محمدبعد ذکر ھذا الحدیث:(/157،رحمانیہ)
“قال محمد وبھذا ناخذ لا قراءۃ علی الجنازۃ وھو قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ.”
وکذا فی المصنف لابن ابی شیبہ:(2/492،دارالکتب)
حدثنا أبو بكر قال: ثنا إسماعيل بن علية، عن أيوب، عن نافع، أن ابن عمر كان «لا يقرأ في الصلاة على الميت».حدثنا عبد الأعلى، وغندر، عن عوف، عن أبي المنهال، قال: سألت أبا العالية عن القراءة في الصلاة على الجنازة بفاتحة الكتاب فقال: «ما كنت أحسب أن فاتحة الكتاب تقرأ إلا في صلاة فيها ركوع وسجود
وکذا فی المدونة الکبری:(1/251،دارالکتب العلمیہ)
قُلْت لِعَبْدِ الر َّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ: أَيُّ شَيْءٍ يُقَالُ عَلَى الْمَيِّتِ فِي قَوْلِ مَالِكٍ؟ قَالَ: الدُّعَاءُ لِلْمَيِّتِ قُلْتُ: فَهَلْ يُقْرَأُ عَلَى الْجِنَازَةِ فِي قَوْلِ مَالِكٍ؟ قَالَ: لَا قُلْتُ: فَهَلْ وَقَّتَ لَكُمْ مَالِكٌ ثَنَاءً عَلَى النَّبِيِّ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ قَالَ إلَّا الدُّعَاءَ لِلْمَيِّتِ فَقَطْ. قَالَ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ دَاوُد بْنِ قَيْسٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ حَدَّثَهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ: أَخْلِصُوهُ بِالدُّعَاءِ» قَالَ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَابْنِ الْمُسَيِّبِ وَرَبِيعَةَ وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: أَنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ. قَالَ ابْنُ وَهْبٍ وَقَالَ مَالِكٌ: لَيْسَ ذَلِكَ بِمَعْمُولٍ بِهِ بِبَلَدِنَا إنَّمَا هُوَ الدُّعَاءُ، أَدْرَكْتُ أَهْلَ بَلَدِنَا عَلَى ذَلِكَ

ان روایات و آثار سے یہ بات واضح ہو گئی کہ نماز جنازہ میں سورت فاتحہ نہ پڑھنے کا معمول صرف احناف کا نہیں بلکہ جمہور صحابہ و تابعین نماز جنازہ میں سورت فاتحہ نہ پڑھنے کے قائل تھے،البتہ چند روایات سے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا سورت فاتحہ پڑھنا بھی مذکور ہےلہذا احناف کا موقف یہ ہے کہ نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنا فرض و واجب تو نہیں ،البتہ اگر کوئی بطور حمدو ثناءپڑھتا ہے تو اجازت ہے،کیونکہ یہ محل ہی دعا و استغفار کا ہے۔

لما فی الھندیہ :(1/164،رشیدیہ)
ولو قرأ الفاتحة بنية الدعاء فلا بأس به وإن قرأها بنية القراءة لا يجوز؛ لأنها محل الدعاء دون القراءة، كذا في محيط السرخسي
و فی اعلاءالسنن:(8/254،ادارة القرآن)
وقولہ:حمدت اللہ یدل علی ان المقصود ھو الثناء سواء کان بالحمد للہ او بغیرہ وبہ نقول….وفی الجوھر النقی ومذھب الحنفیۃ ان القراءۃ فی صلاۃ الجنازۃ لا تجب ولا تکرہ،…وقال الطحاوی من قرأھا من الصحابۃ یحتمل ان یکون علی وجہ الدعاء لا التلاوۃ

چوتھی بات:حدیث “لا صلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب”کے جوابات:۔

1

۔اس حدیث مبارکہ سے نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے پر استدلال درست نہیں،کیونکہ یہ رکوع سجدے والی نماز کے بارے میں ہے،پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ نماز جنازہ اصل میں میت کے لیے دعاو استغفار ہے لہذا یہ قراءۃ کا محل نہیں۔

2

۔امام احمد بن حنبل اور مشہور محدث وفقیہ سفیان بن عیینہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث مبارکہ منفرد نمازی کے بارے میں ہےکہ وہ سورت فاتحہ پڑھے گا ،جبکہ نماز جنازہ تو جماعت کے ساتھ ہوتی ہے۔

3
۔نسائی شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھماکا نماز جنازہ میں سورت فاتحہ کے ساتھ ،کوئی سورت پڑھنے کا بھی ذکر ہے ،جبکہ نماز جنازہ میں سورت فاتحہ کےساتھ دوسری کوئی سورت پڑھنے کا کوئی بھی قائل نہیں۔

4
۔سورت فاتحہ نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے،اسی طرح نماز جنازہ کی ہر تکبیر بھی ایک رکعت شمار کی جاتی ہے تو پھر تو نماز جنازہ کیہر تکبیر کے بعد بھی سورہ فاتحہ پڑھنی چاہیے، اس کا بھی کوئی قائل نہیں۔

5
۔اس حدیث مبارکہ کے ساتھ دیگر کتب حدیث مثلا ابوداؤد شریف میں “وما تیسر”فما زاد”فصاعدا”کے الفاظ کی صراحت ہے جو سورت فاتحہ کے ساتھ دوسری کوئی سورت پڑھنے کے بارے میں ہے،اور یہ رکوع سجود والی نماز میں تو ہے نماز جنازہ میں نہیں ۔

الحاصل:نماز جنازہ میں سورت فاتحہ کا بطور قراءت پڑھنا جمہور سے ثابت نہیں ،البتہ بطور حمدوثناء پڑھنے کی گنجائش ہےاور جن روایات وآثار میں صحابہ کرام کا پڑھنا ثابت ہے وہ بھی بطور حمدو ثناء کے ہے نہ کہ بطور قراءت۔

وکذا فی سنن ابی داؤد:(1/126،127،رحمانیہ)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ: «أَنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ» فَمَا زَاد.(وفی روایۃ )عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَصَاعِدًا»، قَالَ سُفْيَانُ: لِمَنْ يُصَلِّي وَحْدَهُ
وکذا فی الترمذی:(1/180،رحمانیہ)
وَأَمَّا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فَقَالَ: مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ»، إِذَا كَانَ وَحْدَهُ
وکذا فی کشف المغطا عن وجہ الموطا:(/179،رحمانیہ)
وقولہ علیہ السلام لاصلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب لا یتناول صلوۃ الجنازۃ لانھا لیست بصلوۃ حقیقۃ،وانما ہی دعاء واستغفار للمیت الا تری انہ لیس فیھا الارکان التی تترکب منھا الصلوۃ من الرکوع والسجود الا انھا تسمی صلوۃ لما فیھا من الدعاء ،وحدیث ابن عباس معارض بحدیث ابن عمر وابن عوف وتاویل ما روی جابر من القراءۃ انہ کان قرأ علی سبیل الثناء لا علی سبیل القراءۃ وذلک لیس بمکروہ عندنا
وکذا فی فیض الباری:(3/52،رشیدیہ)
ثم هي عند الشافعية بعدَ التكبيرةِ الأُولى ففات عنهم الاستفتاح. فقلت لهم أن اقرؤوا بها أربعَ مرات لأن كلَّ تكبيرة في صلاةِ الجنازة تقوم مقامَ ركعةٍ. فأَوْلى لكم أن تقرؤا بها أربع مرّات، فإِنَّه لا صلاةَ لمن يقرأُ بها
وکذا فی سنن النسائی:(1/306،رحمانیہ)
عن طلحة بن عبد الله بن عوف، قال: صليت خلف ابن عباس على جنازة، فقرأ بفاتحة الكتاب، وسورة وجهر حتى أسمعنا، فلما فرغ أخذت بيده، فسألته فقال: «سنة وحق».(وفی حاشیۃ زھر الربی)قال علماؤنا لا یقرأ الفاتحہ الا ان یقرأھا بنیۃ الثناء ،ولم یثبت القراءۃ عن رسول اللہ ﷺ……وینکر عمر بن الخطاب وعلی بن ابی طالب وابن عمر وابو ھریرۃ ومن التابعین عطاء وطاؤس ….وقال الطحاوی :ولعل قراءۃ الفاتحۃ من الصحابۃ کان علی وجہ الدعاء لا علی وجہ التلاوۃ قالہ شیخ الاسلام العلامہ العینی

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر:63

آج کل جو رواج ہے جنازہ اٹھا کر چلتے وقت چارپائی کے ہر پائے کو پکڑ کر دس،دس قدم چلتے ہیں ،کیا یہ سنت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

اکثر کتب فقہ میں جنازہ اٹھا کر چالیس قدم چلنے کی فضیلت مذکور ہے ،البتہ احادیث میں بغیر کسی تعداد کے صرف چاروں پائے اٹھا کر چلنے سے گناہوں کی معافی کا ذکر ملتا ہے۔فقہاء نے اس عمل کو مستحب قرار دیا ہے۔

لما فی الشامیة:(3/158،رشیدیہ)
وفي شرح المنية: ويستحب أن يحملها من كل جانب أربعين خطوة للحديث المذكور رواه أبو بكر النجار
وفی مراقی الفلاح:(604،قدیمی)
وينبغي” لكل واحد “حملها أربعين خطوة يبدأ” الحامل “بمقدمها الأيمن” فيضعه “على يمينه” أي على عاتقه الأيمن ويمينها أي الجنازة ما كانجهة يسار الحامل لأن الميت يلقى على ظهره ثم يوضع مؤخرها الأيمن عليه أي على عاتقه الأيمن “ثم” يضع “مقدمها الأيسر على يساره” أي على عاتقه الأيسر “ثم يختم ب” الجانب “الأيسر” بحملها “عليه” أي على عاتقه الأيسر فيكون من كل جانب عشر خطوات لقوله صلى الله عليه وسلم: “من حمل الجنازة أربعين خطوة كفرت عنه أربعين كبيرة” ولقول أبي هريرة رضي الله عنه “من حمل الجنازة بجوانبها الأربع فقد قضى الذي عليه
وکذافی السنن لابن ماجہ:(217،رحمانیہ)
قال عبد الله بن مسعود: من اتبع جنازة فليحمل بجوانب السرير كلها، فإنه من السنة، ثم إن شاء فليتطوع، وإن شاء فليدع
وکذا فی البدائع:(2/43،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(1/162،رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(3/34،فاروقیہ)
وکذا فی مجمع الزوائد:(3/95،دارالکتب)
وکذا فی الاوسط للطبرانی:(6/428،المعارف)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:174

حضرت مفتی صاحب!(1) کیا عورتیں نمازِ جنازہ پڑھ سکتی ہیں؟ (2)عور توں کو قبر ستان جانےکی اجازت ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

موجودہ پر فتن دور میں عورتوں کا جنازہ میں باقاعدہ شریک ہونا درست نہیں البتہ اگر مکمل پردے میں رہتے ہوئے کبھی کوئی صورت پیدا ہو جائے جیسے حرمین میں ہوتا ہے تو شرکت کی اجازت ہو گی (2) اس مسئلہ میں فقہاءِ کرام کا اختلاف ہے ا کثر فقہاء عورتوں کو قبرستان جانے سے مطلقا منع کرتے ہیں جبکہ بعض اس کی اجازت بھی دیتے ہیں۔
ہماری رائے اس مسئلہ میں یہ ہے کہ عورتوں کو مطلقا تو جانے کی اجازت نہیں البتہ کبھی کبھار محرم کے ساتھ یا ایک دو عورتیں مل کر کسی محرم یا قریبی رشتہ دار کی زیارت کے لئے جائیں تو اس کی گنجائش معلوم ہو تی ہے ،اس میں یہ احتیاط بھی ضروری ہے کہ عورتیں گروہ بنا کر ،ٹولیوں کی شکل میں نہ جائیں۔

لما فی الھندیة:(1/162،رشیدیة)
ولا ينبغي للنساء أن يخرجن في الجنازة وإذا كان مع الجنازة نائحة أو صائحة زجرت فإن لم تنزجر فلا بأس بأن يمشي معها؛ لأن اتباع الجنازة سنة فلا يتركه لبدعة من غيره ولا يقوم للجنازة إلا أن يريد أن يشهدها
وفیہ ایضا:(5/350، رشیدیة)
واختلف المشايخ رحمهم الله تعالى في زيارة القبور للنساء قال شمس الأئمة السرخسي – رحمه الله تعالى – الأصح أنه لا بأس بها
وکذافی البحر الرائق:(2/342، رشیدیة)
قال في البدائع، ولا بأس بزيارة القبور …..وقيل تحرم على النساء والأصح أن الرخصة ثابتة لهما
وکذا فی اعلاء السنن:(8/348،ادارة القرآن)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/45،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/348،الطارق)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1570، رشیدیة)
وکذا فی رد المحتار:(2/242،سعید)
وکذا فی الولوالجیة:(1/167،الحرمین)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(24/88،علومِ اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب بن قاسم خان
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1442/2020/2/10
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:163

اگر کوئی آدمی مرنے سے پہلے یہ وصیت کرجائے کہ میرا جنازہ فلاں بزرگ سے پڑھوانا، تو کیا اس پر عمل کرنا ضروری ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کتب فقہ میں اس طرح کی وصیت کوچونکہ باطل قراردیا گیاہے ، لھذا اسے پورا کرنا لازم تو نہیں ، البتہ لازمی سمجھے بغیر اگر آسانی سے ہوسکے تو اس وصیت کو پورا کرنے کی بھی گنجائش ہے ۔

لما فی المختصر فی فقہ الحنفی:(1/428،بشریٰ)
لو اوصی رجل بان یصلی علیہ فلان فقد ذکر فی العیون ان الوصیۃ باطلۃ وفی الفتاوی الخلاصۃ
وفی ردالمحتار:(2/221،سعید)
لو اوصی بان یصلی علیہ غیر من لہ حق التقدم او بان یغسلہ فلان لایلزم تنفیذ وصیتہ ولایبطل حق الولی بذالک
وفی الھندیة:(1/163،رشیدیہ)
وفی الکبری المیت اذا اوصی بان یصلی علیہ فلان فالوصیۃ باطلۃ وعلیہ الفتوی کذا فی المضمرات
وکذافی الدر المختار:(2/221،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(9/301،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/237،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(4/321،رشیدیہ)
وکذافی الدر المختار:(6/666،سعید)
وکذافی الھندیة:(6/95،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/6/1442/2021/2/4
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:55

جنازہ میں زیادہ سے زیادہ کتنی دیر کر سکتے ہیں ۔ اور کون سے عوارض کی وجہ سے جنازہ میں تاخیر جائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

غسل اور تکفین کے بعد نماز جنازہ میں تاخیر مکروہ ہے ، اس لیے جتنی جلدی ہو سکے جنازہ اور تدفین ہونی چاہیے ، البتہ اگر کوئی معقول عذر ( مثلا بارش وغیرہ ) ہو تو بقدر ضرورت تاخیر کی گنجائش ہے۔

لما فی السنن ابی داؤد:(2/97،رحمانیہ)
ان طلحۃ بن البراء مرض فاتاہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعودہ فقال انی لااری طلحۃ الا قد حدث فیہ الموت فاذنونی بہ وعجلوا فانہ لاینبغی لجیفۃ مسلم ان تحبس بین ظھرانی اھلہ
وفی البحرالرائق:(2/335،رشیدیہ)
وفی القنیۃ ولوجھز المیت صبیحۃ یوم الجمعۃ یکرہ تاخیرالصلاۃ ودفنہ لیصلی علیہ الجمع العظیم بعد صلاۃ الجمعۃ
وفی التبیین الحقائق:(1/244،امدادیہ)
ای یسرع بالمیت….. لحدیث ابن عمر انہ علیہ الصلاۃ والسلام قال اسرعوا بالجنازۃ فانکانت صالحۃ قربتموھا الی الخیر وانکانت غیر ذالک فشر تضعونہ عن اعناقکم
وکذافی النھر الفائق:(1/400،امدادیہ)
وکذافی ردالمحتار:(2/193،سعید)
وکذافی عون المعبود:(8/243،قدیمی)
وکذافی بذل المجھود:(14/86،قدیمی)
وکذافی التبیین الحقائق:(1/244،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:87

بعض لوگ جوتاپہن کرنمازجنازہ پڑھتے ہیں اوربعض اتارکر،بعض جوتااتارکراُس کےاوپرکھڑے ہوجاتےہیں اس میں کونساطریقہ درست ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگرزمین کےپاک ہونےکایقین ہےتوجوتےاتارکرپڑھنابہترہے،اگرزمین کےناپاک ہونےکا شک ہواورجوتےکے نیچےوالا حصہ بھی ناپاک ہویااس کی پاکی میں شک ہواوراوپروالاحصہ پاک ہوتوجوتےاتارکراُن کےاوپرکھڑےہوکرپڑھیں، اگرزمین اورجوتےمکمل پاک ہوں توپہن کریااتارکران کےاوپرکھڑےہوکرپڑھ سکتےہیں۔

لمافی التاتارخانیة:(2/31،فاروقیہ)
واذاصلی علی موضع نجس وفرش نعلیہ وقام علیہماجاز،وفی الخانیۃ:امااذاکان النعل ظاہرہ وباطنہ طاہرافطاہر،وان کان مایلی الارض منہ نجسافکذالک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولوکان لابسالہمالایجوز
وفی خلاصةالفتاوی:(176/،رشیدیہ)
“رجل فقام علی ا لنجاسۃوفی رجلیہ نعلان۔۔۔۔۔۔۔۔لایجوز،ولوافترش نعلیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وقام علیہماجازت صلاتہ۔”
وفی البحرالرائق:(2/315،رشیدیہ)
انہ لوقام علی النجاسۃوفی رجلیہ نعلان لم یجز،ولوافترش نعلیہ وقام علیہماجازت،وبھذایعلم مایفعل فی زماننامن القیام علی النعلین فی صلاۃ الجنازۃلٰکن لابدمن طہارۃالنعلین کمالایخفی۔
وکذافی المحیط البرہانی:(2/20،احیاءالتراث)
و کذافی الخانیةعلی ہامش الہندیة:(1 /30،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق: (1466/،رشیدیہ)
وکذافی الہندیة:62/1)، رشیدیہ)
وکذافی البزازیہ علی ہامش الہندیة(4/35،رشیدیہ)
وکذافی فقہ الحنفی:(1/175،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
20/3/1443/2021/10/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:72

شراب پینے کی وجہ سے کسی کی موت واقع ہوجائے تواس کے جنازے کا کیاحکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ایسے آدمی کاجنازہ پڑھا جائے گا۔

لمافی الھندیة:(1/163،رشیدیہ)
ویصلی علی کل مسلم مات بعدالولادۃ صغیراً کان او کبیراً ذکرا کان او انثی حراً کان اوعبداً الاالبغاۃ وقطاع الطریق ومن بمثل حالھم ۔ ۔ ۔ وبعداسطر۔ ۔ ۔ ومن قتل نفسہ عمداً یصلی علیہ عندابی حنیفۃ ومحمد رحمھمااللہ وھو الاصح کذا فی التبیین
وفی بدائع الصنائع:(2/47،رشیدیہ)
واما بیان من یصلی علیہ: فکل مسلم مات بعد الولادۃ یصلی علیہ صغیراً کان او کبیراً ذکرا کان او انثی حراً کان اوعبداً الاالبغاۃ وقطاع الطریق ومن بمثل حالھم لقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم (صلوا علی کل بر فاجر)
وکذافی التاتارخانیة:(3/53،فاروقیہ)
وکذافی خلاصة الفتاویٰ:(1/221،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/82،داراحیاءالتراث)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(16/18،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1508،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/186،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی(ترجمہ بہشتی زیور):(1/216،البشریٰ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/5/1443/2021/12/27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:74

عورتوں کو جنازہ میں شرکت کرنے کی اجازت ہےیانہیں؟نیز شرکت کرکے نماز جنازہ پڑھ لی تو اس نماز جنازہ کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اجازت تو نہیں ہے،اگر نماز جنازہ پڑھ لی تو ادا ہوجائیگی۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/163،رشیدیہ)
” ولا حق للنساء فی الصلاۃ علی المیت . “
وفی المحیط البرھانی:(3/73،داراحیاءتراث)
والامۃ اجتمعت علیھا،ومن صفتھا انھا فرض کفایۃ،اذا قام بھا البعض سقط عن الباقین۔۔واما کونہافرض کفایۃ،لانھا تقام حقا للمیت:فاذا قام بھا بعض صار حقہ مؤدی فسقط عن الباقین
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(1/162،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(3/40،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/9/1442/2022/4/4
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:101