مردہ کو دفن کرنے کے بعدقبر پر قرآن پڑھا جاتا ہے،اس کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی جاتی ہے ،یہ دعا انفرادی ہے یا اجتماعی ؟ یعنی سب لوگ اپنی پنی دعا مانگیں یا ایک آواز سے دعا مانگے اور دوسرے اس پر آمین کہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

اس موقع پر صرف دعا کا ذکر ملتا ہے، انفرادی یا اجتماعی کی تخصیص نہیں، لہذا سنت اور لازم سمجھے بغیر اجتماعی دعا ہو یا اجتماعی دعا والی صورت بن جائے تو اس کی گنجائش ہو گی۔

لمافی سنن ابی داود:(2 /105 ،رحمانیہ)
عن عثمان بن عفان قال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا فرغ من دفن المیت وقف علیہ فقال استغفروا لاخیکم واسئلوا لہ بالتثبیت فانہ الان یسئل
وفی تنویر الابصار مع رد المحتار:(1/601،دار احیاءالتراث)
ویستحب حیثہ من قبل راسہ ثلاثا و جلوس ساعۃ بعد دفنہ لدعاء وقراءۃ بقدر ما ینحر الجزور و یفرق لحمہ کان النبیﷺ اذا فرغ من دفن المیت وقف علی قبرہ وقال استغفروا لاخیکم واسئلوا اللہ لہ التثبیت فانہ الان یسئل۔
وکذافی السنن الکبری :(4/93،دارالکتب العلمیة)
وکذافی الموسوعة الفقہیة :(21/20،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(1/345،طارق)
وکذافی مجمع الزوائد:(3/124،دار الکتب العلمیة)
وکذافی الہندیة:(1/166،رشیدیہ)
وکذافی فتح الباری :(11/173،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/4/1443،2021/11/19
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:114

فرانس میں ایک آدمی نے جنازہ کی نماز پڑھائی، جنازہ کا طریقہ یاد نہ ہونے کی وجہ سے موبائل ٹوپی میں رکھا اور پاکستان سے ایک شخص اس کو فون پر بتاتا رہا اور وہ نماز جنازہ پڑھاتا رہا، کیا نماز جنازہ ہو گیا؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسؤلہ میں نماز جنازہ ہو گئی کیونکہ نماز جنازہ مکمل طور پر نماز کی طرح نہیں، بلکہ بعض امو ر میں نماز کی طرح ہے، لھذا غیر نمازی کی بات پر عمل کرنے سے صحت نماز پر اثر نہیں پڑے گا، البتہ اس سلسلہ میں دیگر اہل علم سے بھی رجوع کر لینا چاہیے۔

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/5/1443,2021/12/22
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:47

امام نے نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہنے کے بعد سلام پھیرنے کی بجائے پانچویں تکبیر کہہ دی، اب مقتدیوں کو کیا کرنا چاہیے اور نماز جنازہ کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

مقتدی امام کے ساتھ پانچویں تکبیر نہ کہیں، بلکہ خاموش رہیں اور امام کے ساتھ سلام پھیریں، اور نماز جنازہ درست ہو گا۔

لمافی الھندیة:(1/164،رشیدیہ)
ولو کبر الامام خمسا فالمقتدی لایتابع ثم ما ذا یصنع فی روایۃ عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی یمکث حتی یسلم معہ وھو الاصح ھکذا فی محیط السرخسی
وفی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/192،رشیدیہ)
اذا کبر الامام فی صلوۃ الجنازۃ خمسا عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی فیہ روایتان والمختار ان لایتابع فی التبیرۃ الخامسۃ و ینتظر فاذا سلم سلم معہ
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(224،بشری)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1516،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر :(1/271،منار)
وکذافی الشامیة:(3/131،دارالمعرفة)
وکذافی المحیط البرہانی:(3/75،ادارةالقران)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/155،حرمین شریفین)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20،7،1443/2022،2،22
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:1

مسجد ميں نمازجنازه پڑهنا كيسا ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

بلا عذر شرعی مکروہ ہے۔

لما فی الدرالمختار : (3/148،رشیدیہ )
“وکرھت تحریما وقیل تنزیھا فی جماعۃ ھو ای المیت فیہ وحدہ او مع القوم واختلف فی الخارجۃ عن المسجد وحدہ او مع بعض القوم والمختار الکراھۃ مطلقا”
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ : (1/165، رشیدیہ )
“وصلاۃ الجنازۃ فی المسجد الذی تقام فیہ الجماعۃ مکروھۃ سواء کان المیت والقوم فی المسجد او کان المیت خارج المسجد ۔۔۔۔۔۔ او المیت فی المسجد والامام والقوم خارج المسجد ھو المختار”
وکذا فی المحيط البرھانی : ( 3/108،احیاء تراث العربی )
وکذا فی غنیةالمستملی : ( 588، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق:(2/327، رشیدیہ )
وکذا فی الموسوعةالفقھیہ:(16/35، علوم الاسلامیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 2/ 1535، رشیدیہ )
وکذا فی مؤطا الامام مالک : ( 180، رحمانیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13، 6، 1440، 2019، 2، 19
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:186

نابالغ بچہ اور بچی کی نمازہ جنازہ میں جو دعا پڑھی جاتی ہے کیا وہ حدیث سے ثابت ہے ؟اور جو حدیث ہے ثابت ہے وہ بتلا دیں ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

حضور ﷺ سے نابالغ کے جنازے کی کوئی خاص دعا منقول نہیں ہے ،اور حضرات سلف صالحین سے بھی مختلف الفاظ مروی ہیں ۔مثلا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دعا پڑھتے تھے ،اَلّٰلہُمَّ اجْعَلْہُ لَنَا سَلَفَا وَفَرَطا وَ ذُخْرا ،اور حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی اسی سے ملتے جلتے الفاظ منقول ہیں ،اس لیے فقہاء کرام نے تمام روایات کے پیش نظر ایک جامع دعا ذکر فرمائی ہے ۔اَلّٰلہُمَّ اجْعَلْہُ لَنَا فَرَطا وَاجْعَلْہُ لَنَا اَجْرا وَذُخْراوَاجْعَلْہُ لَنَا شَافَعا وَ مُشَفَّعا.
اگر نابالغ بچی کا جنازہ ہو تو اِجْعَلْہُ کی بجائے اِجْعَلْھَا اور شَافِعا وَمُشَفَّعا کے بجائے شَافِعۃ وَمُشَفَّعَۃ پڑھا جائے ۔

لمافی صحیح البخاری :(1/178،قدیمی )
“وقال الحسن یقرا علی الطفل بفاتحۃ الکتاب ویقول اللہم اجعلہ لنا فرطا و سلفا و اجرا.”
وفی مصنف ابن ابی شیبۃ :(6/107،دار الکتب)
“عن الحسن انہ کان یقول :اللہم اجعلہ لنا فرطا وذخرا واجرا.”
وفی السنن الکبری :(4/15،دارالکتب)
“عن ھمام بن منبہ عن ابی ھریرۃ انہ کان یصلی علی المنفوس الذی لم یعمل خطیئۃ فقط ویقول :اللہم اجعلہ لنا سلفا وفرطا و ذخرا.”
وفی عون المعبود شرح سنن ابی داؤد :(8/275،قدیمی ) وفی مراقی الفلاح مع نور الایضاح :(1/587،قدیمی )
وفی عمدۃ القاری:(8/139،دار احیاء ) وفی فتح الباری :(3/262،قدیمی)
وفی الھدایة :(1/192،میزان) وفی بدائع الصنائع:(2/51،رشیدیہ )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام کان اللہ لہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
22/9/1440،2019/5/28
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :85

اگر نابالغ کی نماز جنازہ ہو اور معلوم نہ ہو کہ لڑكا ہے یا لڑکی تو کونسی دعا پڑھیں گے ؟ اور اگر نا بالغ لڑکے اور لڑکی کا نمازجنازہ ایک ساتھ ہو تو لڑکے اور لڑکی دونوں کی دعا پڑھیں گے یا صرف لڑكے کی؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر معلوم نہ ہو کہ یہ لڑکا ہے یا لڑکی تو لڑکے والی دعا پڑھ لی جائے۔اور اگر دونوں کی نماز جنازہ ایک ساتھ ہو تو پھر دونوں والی دعائیں پڑھی جائیں۔

لما فی تحفةالاحوذی:(4/91،قدیمی)
وروی مثلہ فی جامعه عن الحسن ،قال: والظاھر انہ یدعو بھذہ الالفاظ الواردۃ فی ھذہ الاحادیث ،سواء کان المیت ذکر ااو انثی،ولا یحول الضمائر المذکرۃ الی صیغۃ التانیث اذا کانت المیت انثی لان مرجعھا المیت ، وھو یقال علی الذکر والانثی.
وفی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(586،قدیمی)
“وفی مجمع الانھر وان کان المیت مانثا انث الضمائر الراجعۃ الیہ.”
وکذا فی البحر الرائق:(2/323،رشیدیہ)
وکذا فی الھداية:(1/192،المیزان)
وکذا فی الھندیة:(1/164،رشیدیہ)
وکذا فی الدرالمختار مع ردالمحتار:(3/132،133،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیة:(3/45،فاروقیہ)
وکذا فی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح:(587،قدیمی)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1515،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/271،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
ايثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440، 2019/4/11
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :6

ہمارادرزی کا پیشہ ہے لوگ ہم سے کفن وغیرہ بھی سلواتے ہیں،تو براہ کرم مردوعورت کے کفن میں استعمال ہونے والے کپڑوں کی تعداداور ان کی لمبائی بھی بتا دیں ،نیز بعض لوگ عورتوں کے کفن میں پاجامہ بھی سلواتے ہیں ،اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مرد کا مسنون کفن تین کپڑے ہیں:(1)”ازار“بڑی چادر جو سر سے قدموں تک ہو(2)”لفافہ“ازار سے کچھ بڑی چادر(3)”قمیص“جو گردن سے قدموں تک ہو۔

عورت کا مسنون کفن پانچ کپڑے ہیں:عورت کے کفن میں تین کپڑے تو مرد والے ہیں)4)سینہ بند:بغل سے رانوں تک ہو تو زیادہ اچھا ہے،ورنہ ناف تک بھی درست ہے اور چوڑائی میں اتنا ہو کہ بند ھ جائے(5)سربند:یعنی دوپٹہ جو تقریبا تین ہاتھ لمبا ہو نا چاہیے۔اور کفن میں کوئی بھی چیز مثلا پاجامہ وغیرہ سلوانا درست نہیں۔

لما فی الھندیہ:(1/160،رشیدیہ)
“کفن الرجل سنۃ ازار وقمیص ولفافة….والازار من القرن الی القدم واللفافۃکذلک والقمیص من اصل العنق الی القدم کذا فی الھدایۃ،بلا جیب ودخریص وکمین…..وکفن المراۃ سنۃ درع وازار وخمار ولفافۃ وخرقۃ …..وعرض الخرقۃ مابین الثدی الی السرۃ ….والاولی ان تکون الخرقۃ من الثديين الی الفخذ.”
وفی التاتارخانیہ:(3/26،فاروقیہ)
“واما کفن السنۃ للرجال قیل:انہ ازار ورداءوقمیص،وللنساء خمسۃ:لفافۃ وازار ودرع وخمار وخرقۃ.”
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/66،داراحیاء)۔
وکذا فی الشامیہ:(3/112،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/36،رشیدیہ)۔

 

وکذا فی الصحیح البخاری:(1/247،رحمانیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/266،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
ایثار القاسمی عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
9/9/1440-2019/5/15
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :42

اگراس طرح جنازه پڑهاجائےكہ امام اورمیت دونوں مسجد سے باہرہوں اور مقتدی سارےمسجدکےاندرہوں توکیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرکوئی عذرہو(بارش یاجگہ کی تنگی وغیرہ)توجائزہےورنہ مکروہ ہے۔

لما فی الہندیہ : (1/160،رشیدیہ)
و صلاةالجنازة في المسجدالذي تقام فيه الجماعةمكروهةسواء كان الميت والقوم في المسجداوكان الميت خارج المسجدوالقوم في المسجداوكان الامام مع بعض القوم خارج المسجد والقوم الباقي في المسجد۔۔۔۔ولا تكربعذر المطرونحوه
وفی فتح القدير : ( 2/132،رشیدیہ)
(ولايصلي علي ميت في مسجدجماعت)في الخلاصة مكروه سواء كان الميت والقوم في المسجد،اوكان الميت خارج المسجد والقوم في المسجداوكان الامام مع بعض القوم خارج المسجد والقوم الباقون في المسجداوكان الميت في المسجد والامام والقوم خارج المسجد۔۔۔۔هوالمختار.
وکذافی سنن ابن ماجه : (221،رحمانيه)
وکذا فی شرح المعانی : (1 /286،رحمانیہ)
وکذا فی الشامية :(2/226،سعید)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/243،امدادیہ)
وکذا فی مجمع الانھر :(1/272،المنار)
وکذا فی المحيط:(3/108،داراحیاء)
وکذا فی البحر الرائق :(2/327،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ایثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440۔2019/4 /1
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :170

ساہیوال کا ایک شخص لاہور ہسپتال میں زیرعلاج تھا وہیں فوت ہوگیا اس کےساتھ اس کا بیٹا اور بھائی تھے ،باقی تمام رشتہ داراور متعلقین ساہیوال میں ہیں اس کی میت کو ساہیوال لانا جائز ہے یالاہور میں ہی دفن کیا جائے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

اگر مرحوم کی رہائش وہاں نہ ہو بلكہ علاج یا تجارت کی غرض سےیاکسی اور ضرورت سےوہاں گیاتھا اس صورت میں اگرچہ ساہیوال لانابھی جائزہےمگربہتریہی ہےکہ وہیں دفن کیاجائے لیکن اگرمرحوم کی عارضی رہائش بھی وہاں تھی پھر واپس لانا مکروہ ہوگا۔

لمافی خلاصة الفتاوی:(4/345،رشیدیہ)
نقل المیت من بلد ۃ الی بلدۃ لایکرہ فی العیون ۔۔۔وذکرالامام السر خسی انہ یکرہ الاقدر میل او میلین الکل فی الفتاوی قال الفقیہ فان حمل من بلدالی بلدلا یکون اثما۔۔۔وروی ان سعدبن وقاص رضی اللہ عنہ مات فی ضیعۃ علی اربعۃ فراسخ من المدینۃ فحمل علی اعناق الرجال الی المدینۃ
وکذافی الہندیة)1/195،رشیدية)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/66،داراحیاء)
وکذافی التاتا رخانية:(3/81،فاروقية)
وکذافی البحرالرئق:(2/342،رشیدية)
وکذافی مجمع الانھر:(1/276،المنار)

واللہ تعالی اعلم با لصواب
ایثارالقا سمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/7/1440 ، 2019/3/27
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :129

امام نےجوتا پہن کرنمازجنازہ پڑھادی تو اس کا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر جوتا پاک تھا تو نما ز جنازہ ہو گئی ورنہ نہیں ہوئی۔

لما فی البحر الرائق:(2/315،رشیدیہ)
“وقد قدمنا في باب شروط الصلاة أنه لو قام على النجاسة، وفي رجليه نعلان لم يجز، ولو افترش نعليه وقام عليهما جازت، وبهذا يعلم ما يفعل في زماننا من القيام على النعلين في صلاة الجنازة لكن لا بد من طهارة النعلين.”
وفی حاشية الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(582،قديمی)
“ولو افترش نعلیہ وقام علیھما جاز،فلا یضر نجاسة ما تحتھما لکن لابد من طھارۃ نعلیہ مما یلی الرجل لا مما یلی الارض.”
وكذا فی سنن ابی داود:(1/104،رحمانیہ)
وکذا فی فیض الباری:(2/35،الرشیدیہ)
وکذا فی عون المعبود:(2/212،قدیمی)
وکذا فی تنویر الابصار مع شرحہ:(1/402،سعید)
وکذا فی النھر الفائق:(1/182،قدیمی)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/54،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(2/1526،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440،2019/4/8
جلد نمبر 18 فتوی نمبر :177