ایک آدمی نے اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے سالی سے زنا کر لیا تو اب اس کا نکاح باقی رہے گا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نکاح تو باقی ہے البتہ یہ ایک انتہائی گھٹیا حرکت اور گناہ کبیرہ ہے اس سے سچی پکی توبہ کرے۔

لما فی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(4/116،رشیدیہ)
“وفی الخلاصۃ:وطئ أخت امرأتہ لا تحرم علیہ امرأتہ.”
وفی مجمع الانھر:(1/479،المنار)
“وفی الدرایۃ:لو زنی باحدی الأختین لایقرب الأخری حتی تحیض الأخری بحیضۃ .”
وکذا فی القرآن المجید:(النساء:23)
وکذافی بدائع الصنائع: (2 /450،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(4 /116،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ السلامی:(9/6650،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(4/61،فاروقیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(3/170،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیہ:(1/359،الحرمین شریفین)
وکذا فی الھامش علی کنزالدقائق:(98،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440-2019/3/5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:43

ایک ڈرائیور کی مزدوری متعین ہے اور اس متعین مزدوری کے علاوہ 150،100،رکھ لے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جو مزدوری اورتنخواہ مالک کی طرف سےمتعین ہے وہ لینا جائز ہے،اور جو پیسے مالک کی اجازت کے بغیر دھوکہ دے کر اور چوری رکھ لے تو وہ پیسے اس کے لیے حرام ہیں،انہیں واپس کرنا ضروری ہے۔

لما فی السنن الکبری:(6/130،دارالکتب)
عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:یقول اللہ عزوجل: انا ثالث الشریکین ما لم یخن احدھما صاحبہ فاذا خان خرجت من بینھما
وفیہ ایضا:(6/152،دارالکتب)
قال عبداللہ ھوابن عمر:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی حجۃ الوداع……… قال:فان اللہ حرم علیکم دمائکم واموالکم واعراضکم الا بحقھا کحرمۃ یومی ھذا فی بلدکم ھذا
وکذافی الھدایہ:(3/295،296،رحمانیہ)
وکذا فی تنویر الابصار :(9/103،117،رحمانیہ)
وکذا فی السنن الکبری:(6/198،دارالکتب)
وکذا فی المحیط البرھانی:(11/217،داراحیاءتراث)
وکذا فی القدوری:(2/28،قدیمی)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(15/302،فاروقیہ)
وکذا فی کنزالدقائق علی البحر:(8/4،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/47،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440-2019/3/5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:46

ہماری سیالکوٹ کی جماعت کی 16دن کے لیے اسلام آباد تشکیل ہوئی ہے اور ہم ہر شب جمعہ کے لیے راولپنڈی مرکز جائیں گے،اب ہم وہاں مقیم شمار ہوں گے یا مسافر؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر آپ کی یہ نیت ہے کہ ہر شب جمعہ کےلیےمرکز جائیں گے اور رات بھی وہیں گزاریں گے صبح کو واپس آئیں گےتو آپ مسلسل 16دن مسافر شمار ہوں گےورنہ نہیں۔

لما فی الھدایہ:(1 /50،رشیدیہ)
واذا نوی المسافر ان یقیم بمکۃومنی خمسۃ عشر یوما لم یتم الصلاۃ لان اعتبار النیۃ فی موضعین یقتضی اعتبارھا فی مواضع وھوممتنع لان السفر لا یعری عنہ الا اذا نوی ان یقیم باللیل فی احدھما فیصیر مقیما بدخولہ لان اقامۃ المرء مضافۃ الی مبیتہ
وفی بدائع الصنائع:(1/270،رشیدیہ)
واما اتحادالمکان ،فالشرط نیۃ مدۃ الاقامۃ فی مکان واحد،لان الاقامۃ قراروالانتقال یضادہ ولابد من الانتقال فی مکانین،واذا عرف ھذا فنقول اذا نوی المسافر الاقامۃ خمسۃعشر یوما فی موضعین،فان کانامصرا واحدا او قریۃواحدۃصارمقیما لانھما متحدان حکما،……وان کانا مصرین،نحو مکۃ ومنی اوالکوفۃ والحیرۃ او قریتین او احدھما مصروالآخر قریۃ لایصیرمقیما،لانھمامکانان متباینان حقیقۃ وحکما
وکذافی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(2 /729،730،رشیدیہ) وکذا فی تبیین الحقائق:(1/212،امدادیہ)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیہ:(1/134،الحرمین شریفین) وکذا فی البحرالرائق:(2/232،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(27/285،علوم اسلامیہ) وکذا فی مجمع الانھر:(1/240،المنار)
وکذا فی ملتقی الابحرعلی مجمع الانھر:(1/240،المنار) وکذا فی الفتوی التاتارخانیہ:(2/499،فاروقیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/22-2019/2/28
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:34

بعض سپر سٹورز پر صرف عورتیں ہی ہوتیں ہیں ان سے خریدوفروخت کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اللہ تعالی کا ارشاد ہے :{قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكی لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ۞ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ …..}[النور:30،31]ان آیات میں تمام مردوں اور عورتوں کو یہ حکم دیا گیا کہ اپنی نظروں کی حفاظت کریں نگاہیں نیچی رکھیں ،اور دوسری جگہ ارشاد ہے:{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا……} [الإسراء: 32]زنا کے قریب مت جاؤ۔نا محرم کو دیکھنا ،ان سے معاملات کرنا اور بات چیت کرنا توزنا کے قریب لے جانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں،اور متعدد احادیث میں بھی غیر محرم کی طرف دیکھنے سے منع کیا گیا ہے اور اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں اورسے آنکھوں کا زنا شمار کیا گیا ہےاوربد نظری کرنےکرانے والے اللہ کی لعنت کے مستحق قرار دیئے گئے ہیں۔اور عورت کا بازار میں دکان لگانے اور لوگوں کےساتھ خریدوفروخت کرنے میں اس بات کا پایا جانا لازمی اوریقینی بات ہے جوکہ ناجائز اورحرام ہے۔
البتہ اگر کوئی سخت مجبوری ہوکہ والدین بوڑھے ہیں یابیوہ ہے اور کمانے والا کوئی نہیں تو اس سخت مجبوری کے تحت اگر مردوں کے ساتھ اختلاط سے بچتے ہوئے مکمل پردے کا لحاظ رکھ کر کوئی آسان سا کسب معاش کیا جائے تو جائز ہے،ورنہ جائز نہیں۔

لما فی القرآن المجید
“قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ۞ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ “.
[النور: 30، 31]
” وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا.” [الإسراء: 32]
“وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَالِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ.”
[الأحزاب: 53]
وکذافی ردالمحتار: (5 /228،رشیدیہ)
قال فی الھدایۃ:واما المتوفی عنھا زوجھا فلانہ لا نفقۃ لھا فتحتاج الی الخروج نھارا لطلب المعاش وقدیمتد الی ان یھجم اللیل،ولا کذالک المطلقۃ،لان النفقۃ دارۃعلیھا من مال زوجھا.قال فی الفتح:والحاصل ان مدار حل خروجھابسبب قیام شغل المعیشۃ فیتقدر بقدرہ،فمتی انقضت حاجتھا لایحل لھا بعدذالک صرف الزمان خارج بیتھا
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(40/355،علوم اسلامیہ)
ذھب الحنفیۃ فی الصحیح والمالکیۃ والشافعیۃالی ان نظر المراۃ الی ای عضو من اعضاء الرجل الاجنبی یکون حراما اذاقصدت بہ التلذذ او علمت او غلبت علی ظنھا وقوع الشھوۃ او شکت فی ذالک،بان کان احتمال حدوث الشھوۃ وعدم حدوثھا متساویین لان النظر بشھوۃ الی من لا یحل بزوجیۃ او ملک یمین نوع زنا،وھو حرام عند جمیع الفقھاء.
وکذا فی الصحیح للبخاری:(2/450،رحمانیہ)
وکذا فی السنن الکبری:(7/159،دارالکتب)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(40/343،344،علوم اسلامیہ)
وکذا فی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(9/610،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(4/185،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(5/327،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(10/152،دارلمعرفہ)
وکذا فی ردالمحتار:(9/610،رشیدیہ)
وکذا فی تنویرالابصاروشرحہ:(5/228،229،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(2/230،رشیدیہ)
وکذا فی کنزالعمال:(16/163،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/6/1440-2019/2/28
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:42

ایک شخص نے دو رکعت نفل میں مثلا” صلاۃ الحاجۃ “کی نیت کی،نماز کے دوران اس کا وضو ٹوٹ گیا ۔اب وہ شخص جب ان نفلوں کی قضاکرے گا تو واجب کی نیت کرے گایا نفل کی؟اور اگر نفل کی کرے گا تو کیا اس میں جملہ نیتیں مثلا ”صلاۃ التوبۃ“”صلاۃالحاجۃ “وغیرہ کر سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نفل کی قضا کی نیت کرے گااور جملہ نوافل کی نیتیں بھی کرسکتاہے۔

لما فی الاشباہ والنظائر:(45 ،قدیمی)
” وﺃما اذا نوی نافلتین کما اذا نوی برکعتی الفجر التحیۃوالسنۃﺃجزﺃت عنھما .”
وفی الھدایہ:(1/131،رشیدیہ)
“ومن شرع فی نافلۃ ثم افسدھا قضاھا ،وقال الشافی رحمہ اللہ لاقضاء علیہ لانہ متبرع فیہ ولا لزوم علی المتبرع ،ولنا ان المؤدی وقع قربۃ فیلزم الاتمام ضرورۃ صیانۃ عن البطلان .”
وکذافی ردالمحتار :(2/563،574،555،رشیدیہ)
وکذا فی تنویر الابصار وشرحہ علی ردالمحتار:( 2/574،555،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(2/100،101،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/5،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/220،داراحیاءتراث)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/288،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/6/1440-2019/2/28
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:36

ایک طالب علم نے اپنے داخلہ فارم پر لگانے کے لیے تصویریں بنوانی ہیں ،دو تصویریں مطلوب ہیں جبکہ دکاندار چار سے کم نہیں بناتا ،اگر بناتا ہے تو پیسے پورے لیتا ہے ،مذکورہ صورت میں تصویریں بنوانا کیسا ہے؟نیز احتیاط کی وجہ سے زائد تصویریں بنوا کر اپنے پاس رکھنا جائز ہے یا نہیں؟تاکہ ضرورت کے وقت دوبارہ نہ بنوانی پڑیں ،کیونکہ آج کے دور میں اکثر جگہ پر تصویروں کی ضرورت پڑتی ہے بعض دفعہ جلدی ہوتی ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

بامر مجبوری ضرورت کی حد تک بنوانا جائز ہے اگر آئندہ بھی ان تصاویر کی ضرورت کے واضح امکانات ہیں تو زیادہ تصاویر بنوانے کی بھی گنجائش ہےورنہ نہیں۔

لما فی الاشباہ والنظائر:(87 ،قدیمی)
الضرورات تبیح المحظورات ،ومن ثم جاز اکل المیتۃ عندالمخمصمۃ،واساعۃ اللقمۃ بالخمر،……ما ابیح للضرورۃ یقدر بقدرھا
وفی تکملہ فتح الملہم:(4 /164،دارالعلوم کراتشی)
الصورۃعندالحاجۃ: ھذاھوحکم الصورۃفی الاصل. اما اتخاذالصورۃالشمسیۃ للضرورۃ اوالحاجۃ کحاجتھا فی جوازالسفر،وفی التاشیرۃ وفی البطاقات الشخصیۃ،او فی مواضع یحتاج فیھا الی معرفۃ ھویۃ المرء،فینبغی ان یکون مرخصا فیہ .فان الفقھاء رحمھم اللہ تعالی استثنوا مواضع الضرورۃمن الحرمۃ

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/20-2019/2/26
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:22

نماز جنازہ میں اگر صرف میت مسجد سے باہر ہو اور امام اور باقی سب لوگ مسجد کے اندر ہوں ،تو ایسا کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر کوئی عذر ہو مثلا بارش وغیرہ تو جائزہے ورنہ مکروہ ہے۔

لما فی الھندیہ: (1 /165، رشیدیہ)
وصلاۃ الجنازۃ فی المسجد الذی تقام فیہ الجماعۃ مکروھۃ سواء کان المیت والقوم فی المسجد او کان المیت خارج المسجد والقوم فی المسجد او کان الامام مع بعض القوم خارج المسجد والقوم الباقی فی المسجد او المیت فی المسجد والامام والقوم خارج المسجد ھو المختار کذا فی الخلاصۃ ،ولاتکرہ بعذر المطر ھکذا فی الکافی
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ: (16 /35،علوم اسلامیہ)
وکذافی تنویر الابصار وشرحہ علی ردالمحتار: (2 /148،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار: (2 /148،رشیدیہ)
وکذا فی غنیہ المتملی:(589،رشیدیہ)
وکذا فی شرح النووی علی الصحیح لمسلم:(1/368،رحمانیہ)
وکذا فی حاشیہ موطاالامام مالک:(180،رحمانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/327،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/20-2019/2/26
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:23

مسجد کی جماعت ہو جانے کے بعد محلے کے کچھ لوگوں نے دوسری جماعت کرائی تو ان کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مسجد محلہ میں اہل محلہ نے اگر بآواز بلند اذان و اقامت سے نماز اداکرلی ہو تو اس محلہ کے دوسرے لوگوں کے لیے اذان واقامت کے ساتھ دوسری جماعت کرانا جائز نہیں ۔البتہ اگر کوئی عذر مثلاسفر وغیرہ ہو تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کے مطابق بغیر اذان و اقامت کے ،پہلے امام کی جگہ سے ہٹ کر دوسری جماعت کرانے کی گنجائش ہے۔
اور چند صورتوں میں بالاتفاق دوسری جماعت جائز ہے :(1)مسجد محلہ میں غیر اہل محلہ نے جماعت سے نماز ادا کی تو اہل محلہ اذان و اقامت کے ساتھ دوسری جماعت کرا سکتے ہیں ۔(2)اگر اہل محلہ ہی نے بغیر اذان یا آہستہ اذان و اقامت کے ساتھ جماعت سے نماز ادا کی ہو تو اسی محلہ کے دوسرے لوگ بغیر اذان و اقامت کے دوسری جماعت کرا سکتے ہیں ۔(3)اگر اہل محلہ نے جماعت سے نماز ادا کر لی ہو تو غیر اہل محلہ بغیر اذان و اقامت کے دوسری جماعت کرا سکتے ہیں۔(4)راستہ کی مسجد ہو تو اس میں ہر آنے والے گروہ کے لیے دوسری جماعت کرانا جائز ہے۔(5)جس مسجدکاامام ومؤذن مقرر نہ ہوتواس میں اذان واقامت کے ساتھ نہ صرف یہ کہ دوسری جماعت جائزہےبلکہ افضل ہے۔

لما فی الھندیہ:(1 /83،رشیدیہ)
المسجد اذا کان لہ امام معلوم وجماعۃ معلومۃ فی محلۃ فصلی اھلہ فیہ بالجماعۃ لا یباح تکرارھا فیہ باذان ثان،…..وفی الاصل للصدر الشھید اما اذا صلوا بجماعۃ بغیر اذا و اقامۃ فی ناحیۃ المسجد لایکرہ
وفی الفقہ الحنفی :(1/275،الطارق)
ویکرہ تکرار الجماعۃ فی مسجد لہ جماعۃ معلومون کمسجد محلۃ،اذاکانت الجماعۃ الثانیۃ علی ھیئۃ الجماعۃ الاولی،ولا کراھۃ فی تکرارھا اذا کانت فی مسجد علی طریق المسافرین
وفی ردالمحتار:(2 /344،رشیدیہ)
وقدمنا فی باب الاذان عن آخر شرح المنیۃ عن ابی یوسف انہ اذا لم تکن الجماعۃ علی ھیئۃ الاولی لا تکرہ،والا تکرہ،وھو الصحیح،وبالعدول عن المحراب تختلف الھیئۃ،کذا فی البزازیۃ انتھی،وفی التاتارخانیۃ عن الولوالجیۃ:وبہ ناخذ
وکذا فی الفقہ الاسلامی: (2 /1182،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع :(1/378،رشیدیہ)
وکذا فی الدر المختارعلی ردالمحتار:(2/342،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(2/342،رشیدیہ)
وکذا فی اعلاء السنن :(4/278،ادارۃالقرآن)
وکذا فی ھامش جامع الترمذی:(1/154،رحمانیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/240،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/20-2019/2/26
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:192

ایک مسجد میں کافی عرصہ سے نماز ہو رہی ہے،ایک دن ایک نمازی نے موبائل کے ذریعے قبلہ معلوم کیا تو ذرا ٹیڑھا معلوم ہوا جبکہ صف بالکل سیدھی بچھی ہوئی ہے۔ہم نے سنا ہے کہ 45درجے تک نماز ہو جاتی ہے۔پوچھنا یہ ہے کہ جب معلوم ہوگیا کہ قبلہ ذرا ٹیڑھا ہے تو اب بھی پہلے کی طرح سیدھی صف پر نماز پڑھنا کیسا ہے؟”45درجے تک نماز ہو جاتی ہے “یہ بات کہاں سے ثابت ہے؟

الجواب باسم ملہم الصوا ب

کتب فقہ میں ہے کہ اگر قبلہ سے انحراف 45درجے تک ہو تو نماز ہو جاتی ہے،البتہ علامہ شامی رحمہ اللہ اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ احتیاط اس میں ہے کہ دائیں بائیں 24درجے سے زیادہ انحراف نہ ہو۔
سوال میں مذکور مسجد کے رخ میں اگر تھوڑا سا فرق ہے تو اپنے حال پر باقی رکھا جائے اور نماز درست ہے اور اگر 24درجے سے زیادہ ہے تو جس قدر ممکن ہو صفوں کو سیدھا بچھا کر نماز پڑھی جائے اور جب مسجد کی نئی تعمیر یا توسیع کرنی ہو تو اس وقت قبلہ بھی درست کر لیا جائے۔
اصول و قواعد کو جانے بغیر صرف compasکے ذریعے قبلہ کا تعین کرنا ٹھیک نہیں ہے،لہذا کسی ماہر فن سے قبلہ کا تعین کرایا جائے،اور ”45 درجے تک نماز ہو جاتی ہے “یہ بات ایک حدیث”مابین المشرق والمغرب قبلۃ“سے سمجھ آتی ہے۔

لما فی جامع الترمذی:(1/188،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:ما بین المشرق والمغرب قبلۃ،….وقال ابن عمر:اذا جعلت المغرب عن یمینک والمشرق عن یسارک فما بینھما قبلۃ اذا استقبلت القبلۃ.
وفی حاشیہ جواھر الفقہ للشیخ المفتی محمد شفیع رحمہ اللہ:(2/343،344،دارالعلوم کراتشی)
قلت:قد حصل من ھذہ العبارات ان ھھنا قولان مصححان،احدھما ان الانحراف المفسد ان یجاوز المشارق الی المغارب وقدرہ فی الخیریۃ بربع الدائرۃ اعنی خمساو اربعین درجۃ من کل جانب یمینا ویسارا،….والثانی ان المفسدمن الانحراف اذا خرج من المغربین،ومقدار المغربین علی قواعد الھندسۃ ثمان واربعون درجۃ،…..فعلی ھذاالقول یکون الانحراف الجائز من کل جانب من الیمین والیسار اربع وعشرون درجۃ ومجموع الجھۃ ثمان واربعون جھۃ،وعلی القول الاول القدر الجائز خمس واربعون درجۃ فی کل جانب ومجموع الجھۃ تسعون درجۃ،و ھو ربع الدائرۃ،واختار الشامی وغیرہ القول الثانی لما فیہ من الاحتیاط،وکلا الحاشیتین من المولوی محمد شفیع الدیوبندی سلمہ
وکذا فی ردالمحتار:(2/138،رشدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی :(1/758،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/22،داراحیاءتراث)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/308،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/495،496،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/196،الطارق)
وکذا فی حاشیہ جامع الترمذی:(1/188،رحمانیہ)
وکذا فی الکتاب المصنف لابن ابی شیبہ:(2/142،143،دارالکتب العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
1/9/1440-2019/5/23
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:71

نکاح کے وقت دلہن کو جو جوڑا پہنایا جاتا ہے،وہ کس کی طرف سے ہونا چاہیے،لڑکے کی طرف سے یا لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے ؟اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عام رواج تو یہ ہے کہ لڑکی والے لڑکے کو کپڑے دیتے ہیں اور لڑکے والے لڑکی کو دیتے ہیں یہ صرف مباح ہے کوئی ضروری نہیں ہے اس میں کوئی جائز اور نا جائز والی بات بھی نہیں ہے ،جو دینا چاہیں ٹھیک ہے ،البتہ ایک حدیث پاک میں آتا ہے کہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک جوڑا تھا تو مدینہ میں جب کسی لڑکی کی شادی ہوتی اور اسے دلہن بنانا ہوتا تھا تو وہ عاریتاًامی جان رضی اللہ عنہا سے جوڑا منگوا لیتی اور شادی کے بعد واپس کر دیتی ،اس حدیث سے تو بظاہر یہی سمجھ آتا ہے کہ جوڑا لڑکی والوں کی طرف سے ہو ،لیکن اگر لڑکی والے غریب ہیں اور لڑکے والے وسعت رکھتے ہیں تو لڑکے والوں کو چاہیے کہ لڑکی والوں کا خیال رکھیں اور مطالبات سے بھی گریز کریں تاکہ ان پر بوجھ نہ ہو ،اسی طرح اگر لڑکے والے غریب ہیں اور لڑکی والے وسعت رکھتے ہیں تو لڑکی والوں کو چاہیے کہ ان کا خیال رکھیں۔

لما فی الصحیح للبخاری: (1 /460،رحمانیہ)
عن ایمن الحبشی رضی اللہ عنہ قال دخلت علی عائشۃ وعلیھا درع قطر ثمن خمسۃ دراھم فقالت ارفع بصرک الی جاریتی انظر الیھا فانھی تزھی ان تلبسہ فی البیت وقد کان لی منھن درع علی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فما کانت امراۃ تقین بالمدینۃ الا ارسلت الی تستعیرہ.
وفی السنن اللکبری للبیھقی: (6 /146،دارالکتب العلمیہ)
عن ایمن قال:دخلت علی عائشۃ وعندھا جاریۃ لھاعلیھا درع قطر ثمنہ خمسۃ دراھم، فقالت:ارفع بصرک الی جاریتی انظر الیھا فانھی تزھی ان تلبسہ فی البیت وقد کان لی منھن درع علی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما کانت امراۃ تقین بالمدینۃ الا ارسلت الی تستعیرہ

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/20-2019/2/26
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:27