ہمارے دفتر کے امام صاحب قرأت کے دوران ” ث“ اور” س “میں” ز“ اور” ذ “میں اور” ہ “اور” ح “میں فرق نہیں کرتے،بوڑھے ہیں اور سادہ پڑھتے ہیں،جبکہ میں نے الحمدللہ اچھے قاری صاحب سے قرآن پڑھا ہے اور اللہ کے فضل سے تلفظ بھی ٹھیک ہیں،تو کیا ان امام صاحب کے پیچھے میری نماز ہو جاتی ہے؟انتظامی امور کی مجبوری کی وجہ سے میں خود جماعت نہیں کرا سکتااور کسی دوسری مسجد میں نہیں جا سکتا۔

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ میں آپ کی نماز ہو جاتی ہے ،البتہ امام صاحب کو چاہیے کہ حروف کی صحیح ادائیگی کی کوشش کریں ۔

لما فی الدر المختار مع حاشیہ الطحطاوی:(1/243،رشیدیہ)
و)اعلم ان(صاحب البیت)ومثلہ امام المسجد الراتب(اولی بالامامۃ من غیرہ)مطلقا.وقال الطحطاوی:(قولہ مطلقا)ای وان اتصف غیرہ بالصفات السابقۃ،وھل الاولویۃھناعلی سبیل الوجوب(قولہ الا ان یکون معہ)ای مع من ذکر من صاحب البیت والراتب
وفی الدر المختار علی ردالمحتار:(2/476،477،رشیدیہ)
ولو زاد کلمۃ أو نقص کلمۃ أو نقص حرفا،أو قدمہ أو بدلہ بآخرنحو:(من ثمرہ اذا أثمر)واستحصد(تعالی جد ربنا)انفرجت بدل (انفجرت)ایاب بدل(اواب)لم تفسد مالم یتغیرالمعنی الا ما یشق تمییزہ کالضاد والظاء فأکثرھم لم یفسدھا
وکذا فی ردالمحتار:(2/478،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ:(2/82،83،فاروقیہ)
وکذا فی الھندیہ:(1/79،رشیدیہ)
وکذا فی فتاوی قاضی خان علی ھامش الھندیہ:(1/141،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17/7/1440-2019/3/25
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:121

میری ایک کریانہ کی دکان ہے اس میں ،میں گولیاں جس سے بچے کھیلتے ہیں لا کربیچتا ہوں ،کیا یہ گولیاں بیچنا درست ہے ؟اور ان گولیوں سے کھیلنے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

گولیاں کھیلنے میں چونکہ عموماً دونوں جانب سے شرط ہوتی ہے،اس لیے یہ قمار (جوا)ہونے کی وجہ سے حرام ہے ،اور چونکہ ان گولیوں کا اکثر استعمال جوے کے لیے ہی ہوتا ہے اس لیے ان کی خرید و فروخت بھی جائز نہیں ہے ،اگر جانبین سے شرط نہ ہو تو بھی بے فائدہ اور بے مقصد کھیل ہونے کی وجہ سے یہ کھیل کراہت سے خالی نہیں ۔

لما فی المحیط البرھانی :(8/14،داراحیاءتراث)
فان شرطوا الجعل من الجانبین فھو حرام ۔۔۔وھذا ھو القمار بعینہ۔۔۔فاذا کان المال مشروطامن الجانبین کان قمارا والقمار حرام، ولان فیہ تعلیق تملیک المال بالخطر،وانہ لا یجوز
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(18/73،فاروقیہ)
“فان شرطواالجعل من الجانبین فھوحرام،وصورۃ ذالک ……..ھذا ھوالقمار بعینہ والقمار حرام.”
وکذا فی مصنف لابن ابی شیبہ:(5/290،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(9/645،رشیدیہ)
وکذا فی المعجم الکبیرللطبرانی:(2/14،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی کنزالعمال:(15/98،رحمانیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(35/269،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(5/442،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
26/6/1440،2019/3/3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:45

جماعت کے ساتھی بیانوں میں عموما مشہور چار فرشتوں کا حلیہ ،مثلاسر،بازو اور پر وغیرہ بیان کرتے ہیں،اس سے اللہ تعالی کی قدرت اورکاریگری سمجھانا ،مقصود ہوتاہے،آیاان فرشتوں کا حلیہ مستند طریقہ سے ثابت ہے یا نہیں؟اگر ثابت ہے تو اس کی کچھ تفصیل بیان فرما دیں ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

حضرت جبرئیل علیہ السلام کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ ان کے چھ سو بازو ہیں اور ہر بازو اس قدر بڑا ہےکہ مشرق و مغرب کو ڈھانپ دے،ایک دوسری روایت میں ہے کہ دو بازؤں سے مشرق و مغرب کو ڈھانپ دے ،اور ان کی آنکھوں کے درمیان کا فاصلہ اس قدر ہے کہ آسمان کے کناروں کو چھپا دے ،اور ان کے کندھوں کے درمیان اس قدر فاصلہ ہے کہ پرندہ سات سو سال اڑتا رہے تو وہ فاصلہ طے کر پائے ۔

لما فی الصحیح للبخاری: (1 /572 ،رحمانیہ)
قال ابو اسحاق الشیبانی :سالت زربن حبیش عن قول اللہ تعالی{فکان قاب قوسین او ادنی فاوحی الی عبدہ ما اوحی }[النجم:10 ]قال :حدثنا ابن مسعود:انہ صلی اللہ علیہ وسلم رای جبرئیل ،لہ ستمائۃجناح
وکذا فی الصحیح لمسلم: (1 /128 ،رحمانیہ )
وکذافی العظمہ للاصبھانی : ( 2/ 771،779،780،800 ،دارالعاصمہ۔شاملہ)
وکذافی شعب الایمان : (3 /335،336 ،دارالکتب العلمیہ)

(2)

حضرت میکائیل علیہ السلام کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ وہ بارش کے ہر قطرے پر ،ہر اگنے والے پتے پر اورہر گرنے والے پتے پر مقرر ہیں،اور ان کے بارے میں حضرت حزقیل علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ مخلوق میں ان سے بڑا میں نے نہیں دیکھا اوروہ آسمان کے فرشتوں کے نگران ہیں ۔

لمافی العظمہ للاصبھانی: (3 /811 ،دارالعاصمہ ۔شاملہ )
عن عکرمۃ بن خالد ،ان رجلا قال :یا رسول اللہ ،ای الخلق اکرم علی اللہ؟قال:لا ادری، فجاءہ جبریل فقال:یا جبریل:ای الخلق اکرم علی اللہ؟قال:لا ادری، فعرج جبریل ثم ھبط فقال:اکرم الخلق علی اللہ جبریل و میکائیل و اسرافیل و ملک الموت علیھم السلام ، فاما جبریل فصاحب الحرب وصاحب المرسلین ،وامامیکائیل فصاحب کل قطرۃتسقط وکل ورقۃ تنبت وکل ورقۃ تسقط، واما ملک الموت فھو مؤکل بقبض کل روح عبد فی بر او بحر ، واما اسرافیل فامین اللہ بینہ وبینھم.
وکذافیہ : ( 2/605 ،دارالعاصمہ )

(3)

حضرت اسرافیل علیہ السلام کے متعلق روایات میں آتاہےکہ عرش کو اٹھانے والے فرشتوں میں ایک وہ بھی ہیں ،ان کے چار بازو ہیں ایک دوسری روایت میں ہے کہ بارہ ہزار بازو ہیں ایک مشرق میں اور ایک مغرب میں اور ان کے پاؤں زمین کی تہ میں اور سر ساتویں آسمان سے اوپر اور لوح محفوظ ان کی آنکھوں کے درمیان ہے فرشتوں میں سب سے زیادہ اللہ کے قریب ہیں ،اللہ تعالی نے جو صور پیدا کیا اس کے چار کنارے ہیں ،ایک عرش کے نیچے دوسرا زمین کی تہ میں تیسرا مشرق میں اور چوتھا مغرب میں ،اس میں تمام مخلوقات کی روحوں کے بقدر سوراخ ہیں ،صور کے درمیان کی گولائی آسمان وزمین کی گولائی کے بقدر ہے اور اس کا ایک سوراخ ساتوں آسمان اور زمین سے بڑا ہے ،اور حضرت اسرافیل علیہ السلام اس صور کو منہ میں لیے ہوئے اللہ کے حکم کے انتظار میں عرش کی طرف نظر اٹھائے ہوئے کھڑے ہیں ۔

لما فی العظمہ للاصبھانی:(3/820 ،دارالعاصمہ۔شاملہ)
“عن عائشۃ رضی اللہ عنھاان کعبا رحمہ اللہ تعالی قال لھا :ھل سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول فی اسرافیل شیئا؟قالت :نعم ،سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول:لہ اربعۃ اجنحۃ ،منھا جناحان احدھما بالمشرق والآخربالمغرب،واللوح بین عینیہ ،فاذا اراداللہ عز وجل ان یکتب الوحی ینقر بین جبھتہ
وفیہ ایضا:(3/841،دارالعاصمہ)
عن وهب بن منبه رحمه الله تعالى قال: ثم قال: ” كن فيكون، فكون الصور وهو من لؤلؤة بيضاء في صفاء الزجاجة وله أربع شعب: شعبة تحت العرش، وشعبة في ثراء الثراء، وشعبة في مشرق المشرق، وشعبة في مغرب المغرب، ثم قال للعرش: خذ الصور، فتعلق بالعرش، ثم قال: كن، فكون إسرافيل وهو من أقرب الملائكة إلى الله تبارك وتعالى، فأمره أن يأخذ الصور فأخذه وفيه ثقب بعدد كل روح مبدوة، وكل نفس منفوسة، لا يخرج روحان من ثقب واحد، ولا جسمان يدخلان في ثقب، بل كل ثقب لصغير الصغير الذي لا يعرف، ولخليل الخليل الذي لا يوصف وفي وسط الصور كوة كاستدارة السماء والأرض، وإسرافيل واضع فمه على تلك الكوة، ثم قال له الرب عز وجل: قد وكلتك بالصور فأنت للنفخة والصيحة، فدخل إسرافيل في مقدم العرش فأدخل رجله اليمنى تحت العرش، وقدم اليسرى ولم يطرف مذ خلقه الله عز وجل ينتظر ما يؤمر به [ص:842] والعرش على كاهله، واللوح يقرع جبهته
وکذافی حلیہ الاولیاءللاصفھانی:(6/65،دارالکتب العلمیہ)
وفی العظمہ :(3/842،دارالعاصمہ۔شاملہ)
وفی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:(14/319،320،داراحیاءتراث)

(4)

حضرت عزرائیل علیہ السلام کے متعلق روایات میں آتا ہےکہ ان کے چار بڑے بازو ہیں ایک عرش کے نیچے دوسرا تحت الثری میں تیسرا مشرق میں اور چوتھا مغرب میں ،پھرہر بڑے بازو میں ستر ہزار چھوٹے بازو ہیں ،پھر ان چھوٹے بازؤں میں سے ہرایک بازو کے ستر ہزار پر ہیں ،پھر ہر پر کے ستر ہزار کنارے ہیں ،تمام زمین کو ان کے سامنے پلیٹ کی طرح بنا دیا گیا ہے اس میں سے جس کی روح قبض کرنی ہوتو آرام سے کر لیتے ہیں ،ایک اور روایت میں ہے کہ فرشتوں کی ایک جماعت ان کے سامنے ہوتی ہے جب کسی کی روح قبض کرنی ہوتی ہےتو ان کو حکم کرتے ہیں کہ فلاں کی روح قبض کر لو ۔ایک اور روایت میں ہے کہ جس رجسٹر میں لوگوں کی زندگی لکھی ہوئی ہے ملک الموت روزانہ تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ اسےدیکھتے ہیں ۔

لما فی العظمہ للاصبھانی :(3/890،دارالعاصمہ۔شاملہ)
عن عكرمة رحمه الله تعالى في قوله عز وجل: {وهو الذي يتوفاكم بالليل ويعلم ما جرحتم بالنهار} [الأنعام: 60] قال: «يتوفى الأنفس عند موتها» . قال: ” وما من ليلة إلا والله عز وجل يقبض الأرواح كلها فيسأل كل نفس ما عمل صاحبها من النهار، ثم يدعو بملك الموت عليه السلام، فيقول: اقبض هذا وهذا، وما من يوم إلا وملك الموت ينظر في كتاب حياة الناس قائل يقول ثلاثا وقائل يقول خمسا
وفیہ ایضا:(3/899،دارالعاصمہ۔شاملہ)
عن وهب بن منبه رحمه الله تعالى قال: ثم قال: ” كن فكون عزرائيل عليه السلام، ثم قال: كن فكون كبشا أملح مستترا بسواد وبياض له أربعة أجنحة: جناح تحت العرش، وجناح في ثرى الثرى، وجناح في مشرق المشرق، وجناح في مغرب المغرب، له في كل جناح سبعون ألف جناح، وفي كل جناح سبعون ألف ريشة، في كل ريشة سبعون ألف شعبة
وفیہ ایضا :(3/286،895،دارالعاصمہ۔شاملہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1440-2019/3/3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:44

 

کیا بغیر خطبہ کے جمعہ ہو جائے گا ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

خطبہ ،نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے شرط ہے ،لہذا خطبہ کے بغیر نماز جمعہ ادا نہ ہو گی ۔

لما فی المحیط البرھانی : (2/449،450،داراحیاء تراث)
والشرط الخامس :الخطبۃ،حتی لو صلوا من غیر الخطبۃ ،او خطب الامام قبل الوقت لا یجوز ، والاصل فیہ قول اللہ تعالی:{فاسعوا الی ذکر اللہ }،والمراد منہ الخطبۃ ،وقد امر بالسعی الی خطبۃ ،والامر بالسعی الیھا دلیل علی وجوبھا ،ولان اقامۃ الجمعۃ مقام الظہر عرفت شرعا بخلاف القیاس ،والشرع ما جاء بہ الا مقیدا بالخطبۃ،فان النبی علیہ الصلاۃو السلام ما اقامھا فی عمرہ من غیر خطبۃ۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (2/1291،1303،رشیدیہ)
یشترط لصحۃ الجمعۃ زیادۃ علی شروط صحۃ الصلاۃ الاحدی عشرۃ المتقدمۃ سبعۃ شرائط عند الحنفیۃ والشافعیۃ،۔۔۔۔۔۔۔۔الخطبۃ قبل الصلاۃ :اتفق الفقھاء علی ان الخطبۃ شرط فی الجمعۃ ،لا تصح بدونھا،لقولہ تعالی :{فاسعوا الی ذکراللہ}[الجمعۃ:9] ھو الخطبۃ ،ولان النبی صلی اللہ علیہ وسلم لم یصل بدون الخطبۃ ۔
کذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(19/177،علوم اسلامیہ) کذا فی الھندیہ:(1/145،146،رشیدیہ)
کذا فی الفتاوی التاتار خانیہ:(2/561،فاروقیہ) کذا فی المحیط البرھانی:(2/455،داراحیاءتراث)
کذافی مجمع الانھر :(1/245،246،المنار ) کذا فی الدر المنتقی:(مجمع الانھر ،1/245،المنار)
کذافی بدائع الصنائع:(1/589،رشیدیہ ) کذا فی الفقہ الحنفی:(1/320،الطارق)

 

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
14/6/1440،2019/2/20
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:141

انٹر نیٹ پر ایک گیم ہے وہ گیم جیتنے پر آدمی کو کچھ ڈالر انعام کی صورت میں ملتا ہے ،جبکہ گیم کھیلنے والا کوئی رقم نہیں دیتا ،تو کیا یہ گیم کھیلنا اور انعام وغیرہ لینا جائز ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

آج کل متعدد آن لائن گیمیں چل رہی ہیں اورہرایک کی صورت حال دوسری سے عموما ًمختلف ہوتی ہے ،جبکہ سوال میں کوئی تفصیل مذکور نہیں اس لیے ایک اصولی جواب دیا جا رہا ہے کہ صورت مسئولہ میں اگر کھیلنے والے سے کسی قسم کی رقم وصول نہیں کی جاتی (عموما ً ایسی چیزوں میں اکاؤنٹ بنانے یا رجسٹریشن وغیرہ کے نام پر رقم وصول کی جاتی ہے)تو اس گیم پر ملنے والا انعام جائز ہے،کیونکہ اس میں ایک طرف سے شرط ہے،لہذا یہ سود اورقمار میں داخل نہیں۔لیکن اگر ایسی گیم میں کوئی خلاف شرع کام ہو ،مثلاً فحاشی و عریانی ،میوزک اورنا محرمو ں کو دیکھنا وغیرہ ،یا اس میں مشغولیت اور انہماک کی وجہ سے نمازوں میں غفلت وغیرہ، تو یہ گیم کھیلنا جائز نہ ہو گا ۔اگر ایسی کوئی بات نہ ہو تو بھی عموماً ایسی گیمیں وقت اور اچھی صلاحیتوں کے ضیاع کا سبب بنتی ہیں ،اس لیےان سے احتراز کرنا چاہیے۔اور ایسے کھیلوں کی طرف توجہ کرنی چاہیے جو جسمانی اور دماغی صحت میں معاون ثابت ہوں ۔

لما فی جامع الترمذی : (2/506 ،رحمانیہ)
عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :من حسن اسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ
و فی تنویر الابصار وشرحہ علی رد المحتار :(9/664،665،رشیدیہ)
حل الجعل )وطاب ،لا انہ یصیر مستحقا .ذکرہ البرجندی وغیرہ،وعللہ البزازی بانہ لا یستحق بالشرط شیئ لعدم العقد والقبض ومفادہ :لزومہ بالعقد کما یقول الشافعیۃ،فتبصر (ان شرط المال )فی المسابقۃ (من جانب واحد وحرم لو شرط)فیھا (من الجانبین )لانہ یصیر قمارا (الا اذا ادخلا ثالثا)محللا (بینھما )
وفی کنز الدقائق : (9/359،360،رشیدیہ)
“وحرم شرط الجعل من الجانبین لا من احد الجانبین
وکذا فی الھندیہ:(6/545،رشیدیہ)
وکذا فی کنز العما ل:(15/12،رحمانیہ)
وکذا فی المعجم الکبیر للطبرانی:(2/14،دارالکتب )
وکذا فی المحیط البرھانی:( 8/14،دار احیاء تراث)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(18/73،فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:( 5/442،الطارق)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(24/128،علوم اسلامیہ)
وکذا فی المجمع الانھر:(4/216،المنار )
وکذا فی تبیین الحقائق:(6/227،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:176

کہ اگر ایک گاؤں جس کی آبادی 5000 ہو ،لڑکیوں اور لڑکوں کا ہائی سکول،میڈیکل سٹور ،کپڑے کی دکان ،درزی کی دکان ،کریانہ وجنرل سٹور ،آٹے کی چکی وہاں موجود ہیں ۔نیز گاؤں میں ڈاکٹر ،نمبر دار اور پرائیویٹ کالج وغیرہ ہیں،اس گاؤں میں عرصہ دراز سے جمعہ کی نماز ادا کی جا رہی ہے ،جبکہ اسی گاؤں کا کچھ حصہ جو تقریبا اس سے آدھا کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور تقریبا 30سے35 گھروں پر مشتمل ہے ،اس ملحقہ آبادی میں چند ہفتوں سے نماز جمعہ کی ادائیگی شروع ہوئی ہے ،جبکہ یہ آبادی ہر لحاظ سے اسی بڑے گاؤں کا حصہ شمار ہوتی ہے ۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس چھوٹی بستی میں نماز جمعہ کی ادائیگی درست ہے یا نہیں ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئو لہ میں مذکورہ چھوٹی بستی بظاہر اس بڑے گاؤں کی فناء اور اس سے ملحقہ شمار ہوتی ہے اس لیے اس بستی میں نماز جمعہ درست ہے ۔

لما فی رد المحتار لابن عابدین : (3/31،رشیدیہ)
اقول :وینبغی تقیید ما فی الخانیۃ والتاتار خانیۃ بما اذا لم یکن فی فناء المصر لما مر انھا تصح اقامتھافی الفناء ولو منفصلا بمزارع ،فاذا صحت فی الفناء لانہ ملحق بالمصر یجب علی من کان فیہ ان یصلیھا لانہ من اھل المصر کما یعلم من تعلیل البرھان ،واللہ الموفق
وفی الھندیہ: (1/145،رشیدیہ)
وکما یجوز اداء الجمعۃ فی المصر یجوز اداؤھا فی فناء المصر وھو الموضع المعد لمصالح المصر متصلا بالمصر ومن کان مقیما بموضع بینہ وبین المصر فرجۃ من المزارع والمراعی نحو القلع ببخارا لا جمعۃ علی اہل ذالک الموضع وان کان النداء یبلغھم والغلوۃ والمیل والأمیال لیس بشیئ ھکذا فی الخلاصۃ
کذا فی المحیط البرھانی:(2/440 ،دار احیاء تراث) (کذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:2/550،فاروقیہ)
کذا فی ملتقی الابحرعلی مجمع الانھر:(1/244،246،247،المنار) کذا فی اللباب فی شرح الکتاب:(1/113،قدیمی)
کذا فی المبسوط للسرخسی:(2/121،122،دارالمعرفہ بیروت) کذا فی الفقہ الحنفی:(1/318،الطارق)
(کذا فی بدائع الصنائع:(1/583،رشیدیہ

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/14،2019/2/20
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:117

میں نے ملتان کے ایک دکاندار ،مثلا :اکرم سے کوئی چیز خریدی ،جب کہ میں خود ڈیرہ غازی خان میں ہوں۔میں یہی چیز کسی دوسرے شخص مثلا ناصر کو فروخت کرناچاہتا ہوں،اورناصر ملتان والے دکاندار یعنی اکرم سے یہ چیز وصول کر لے گا ۔اگر میں اکرم کو اپنا وکیل بنادوں کہ وہ میری طرف سے اس چیز پر قبضہ کر لے اورپھر مجھے اطلاع کر دے کہ اس نے میری طرف سے اس چیز پر قبضہ کر لیا ہے ،پھر میری اجازت سے وہ چیز ناصر کو فروخت کر دے ۔تو یہ جائز ہے یانہیں ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

یہ طریقہ نا جائز ہے ۔کیونکہ بیچنے والا ،خریدار کی طرف سے قبضہ کا وکیل نہیں بن سکتا ،اس کے جواز کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ دوسرے خریدار یعنی ناصر کو پہلے اپنا وکیل بنا لیں کہ وہ آپ کی طرف سے اس چیز پر قبضہ کرلے ،اورپھر آپ کو اطلاع کر ے اب آپ وہ چیز ناصر کو فروخت کریں اور اس وقت ناصر اس چیز پر اپنے لیے قبضہ کر لے ۔

لما فی فقہ البیوع للشیخ محمد تقی العثمانی مد ظلہ: (1/182،معارف القرآن )
واشترط معظم الفقھاء لصحۃ البیع تعدد العاقدین ۔فلا یجوز ان یکون الشخص الواحد عاقدا من الجانبین۔وھذا انما یتصور ان کان اصیلافی جانب ،ونائبا عن الآخر فی جانب آخر ،فیتم الایجاب بصفتہ اصیلا،والقبول بصفتہ نائبا
ولما فی البدائع الصنائع : (2/489،رشیدیہ)
ولان حقوق البیع اذا کانت مقتصرۃ علی العاقد ،وللبیع احکام متضادۃ من التسلیم والقبض والمطالبۃ،فلو تولی طرفی العقد لصار الشخص الواحد مطالبا ومطلوبا ومسلما ومتسلما ،وھذا ممتنع.
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ:(12/268،269،فاروقیہ) وکذا فی الصحیح لمسلم :(2/16،رحمانیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:15/4،5،داراحیاء تراث) وکذافی مجلہ الاحکام العدلیہ:(59،قدیمی)
وکذافی فقہ البیوع :(2/1189،معارف القرآن ) وکذافی الھدایہ:(3/77،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/394،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:24

بعد از سلام گزارش ہے کہ میں ایک عام مسلمان ہوں دیو بند مسلک سے تعلق ہے دینی مجالس میں شرکت کی کوشش کرتا ہوں اور کچھ دینی کتب کا مطالعہ بھی کرتا ہوں۔علماء حضرات سے سنا ہے اور پڑھا بھی ہے کہ اہل بیت اور سادات کا رتبہ بہت اعلی ہے ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہل بیت میں سے کسی کی بھی شان نہیں گھٹانی چاہیے ۔چند سوال آپ کی خدمت میں عرض کر رہا ہوں تسلی بخش راہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع دیں ۔(1)سادات کے بارے میں بتائیں کہ کونسے خاندان اور کونسی شخصیات سادات میں شامل ہیں ،موجودہ دور میں سادات کی پہچان کیا ہے ؟ کیونکہ سید شیعہ بھی بہت ہیں ،بریلوی بھی اور اہل حدیث بھی ہیں ۔(2)کیا اہل بیت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا رتبہ برابر ہے یا کہ درجات ہیں ؟(3) شیعہ حضرات سورۃ احزاب کی آیت تطہیر کا بہت ذکر کرتے ہیں۔(4)تبلیغی بھائی اکثر کہتے ہیں کہ اب تصوف کی ضرورت نہیں ،تبلیغ کا کام ہی کافی ہے ۔میں بذات خود نقشبندی سلسلہ (پیر ذوالفقار صاحب دامت برکاتہم )سے منسلک ہوں ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

(1)

سادات :آل علی ،آل عباس ،آل جعفر ،آل عقیل ،آل حارث بن عبد المطلب ہیں ۔موجودہ دور میں بھی جن حضرات کا سلسلہ نسب حقیقتا ًان حضرات سے ملتا ہے تو وہ سادات ہیں ،اور انہیں بنو ہاشم بھی کہتے ہیں ۔

لما فی الموسوعۃالفقھیۃ
“ھم آل علی ،وآل عباس ،وآل جعفر ،وآل عقیل،وآل الحارث بن عبد المطلب ۔”
(الموسوعۃ الفقھیۃ:(1،100،م:علوم اسلامیۃ
ولما فی تفسیر المظہری للشیخ محمد ثناءاللہ العثمانی
“الذین یحرم علیھم الصدقۃ ھم بنو ھاشم خمسۃ بطون ،آل علی وعباس وجعفر وعقیل والحارث بن عبد المطلب۔”
(تفسیر مظہری :3،325،م:رشیدیہ)
(کذ افی الصحیح للبخاری:(3/325،م:رشیدیہ
(وکذا فی حاشیۃ مشکاۃ المصابیح:(1/162،م:رحمانیہ
(وکذا فی تفسیر انوار البیان:(2/607،م:العلم

(2)

اہل بیت اور دوسرے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شرف صحابیت میں تو برابر ہیں ،البتہ اہل بیت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت اورخاص تعلق کی وجہ سے ایک جزوی فضیلت حاصل ہے جو کسی اور کو حاصل نہیں ۔لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے رتبہ میں بھی اعلی ہوں ،اور رتبہ کے اعتبار سے اہل بیت، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درجات سے الگ مقام نہیں رکھتے،بلکہ اہل بیت اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں رتبہ کے اعتبار سے مشترکہ درجات ہیں ۔جیسے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے خلفائے راشدین کا مرتبہ سب سے زیادہ ہے پھر خلفائے راشدین میں ،باجماع امت انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے بلند مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہے ،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ،اب دیکھیے حضرت علی رضی اللہ عنہ اہل بیت میں سے ہیں مگر رتبےکے اعتبار سے آپ کا چوتھا نمبر ہے ۔اسی طرح خلفاء راشدین کے بعد عشرہ مبشرہ میں سے باقی چھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ،پھر بدی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ،پھر جنگ احد میں شریک ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ،پھر بیعت رضوان میں شریک ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وغیرہ وغیرہ ۔

لمافی فتح الباری شرح صحیح البخاری لابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ :
قولہ (باب فضل ابی بکر بعد النبی صلی اللہ علیہ وسلم )ای فی رتبۃ الفضل ،۔۔۔قولہ (کنا نخیر بین الناس فی زمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )ای نقول :فلان خیر من فلان الخ،وفی روایۃ عبید اللہ بن عمر عن نافع الآتیۃ فی مناقب عثمان “کنا لا نعدل بابی بکر احدا ثم عمر ثم عثمان ،ثم نترک اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلا نفاضل بینھم ۔۔۔۔عن ابن عمر “کنا نقول ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حی “افضل امۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعدہ ابوبکر ثم عمر ثم عثمان “زاد الطبرانی فی روایۃ “فیسمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذالک فلا ینکرہ ۔
(فتح الباری :7/19،م:قدیمی)
ولمافی مقدمۃ ابن الصلاح :
الخامسۃ:افضلھم علی الاطلاق ابوبکر ،ثم عمر،۔۔۔۔واما افضل اصنافھم صنفا:فقد قال ابو منصور البغدادی التمیمی:اصحابنا مجممعون علی ان افضلھم الخلفاءالاربعۃ،ثم الستۃ الباقون الی تمام العشرۃ ثم البدریون ،ثم اصحاب احد،ثم اہل بیعۃ رضوان ۔
(مقدمۃ ابن الصلاح :1/298،299،م:دارالفکر بیروت)
ولمافی الصحیح للبخاری :
عن ابن عمر رضی اللہ عنھما قال:کنا نخیر بین الناس فی زمن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فنخیر ابا بکر ،ثم عمر بن الخطاب ،ثم عثمان بن عفان رضی اللہ عنھم
(صحیح البخاری :1/646،م:رحمانیہ)
(وکذا فی عمدۃالقاری:(16/180،م ،داراحیاءتراث
(وکذا فی قاموس الفقہ:(4/220،م:زمزم
(وکذا فی جامع الترمذی:(2/698،699،م:رحمانیہ
(وکذا فی الصحیح للبخاری:(1/658،م:رحمانیہ

(3)

آیت تطہیرکی تفسیر میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ رقم طراز ہیں
“یہاں اہل البیت میں ازواج مطہرات کے ساتھ ان کی اولاد و آباء بھی داخل ہیں ،اس لیے بصیغہ مذکر فرمایا “عنکم ،ویطہرکم “اور بعض ائمہ تفسیر نے اہل بیت سے مراد ازواج مطہرات کو قرار دیا ہے ،حضرت عکرمہ و مقاتل نے یہی فرمایا ہے اور سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے بھی یہی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے آیت میں اہل بیت سے مراد ازواج مطہرات کو قرار دیا ۔اور استدلال میں اگلی آیت پیش فرمائی،”واذکرن ما یتلی فی بیوتکن”(رواہ ابن ابی حاتم وابن جریر فی تفسیر ابن کثیر :3/391،م:دارالمعرفہ)اور سابقہ آیات میں “نساءالنبی “کے الفاظ سے خطاب بھی اس کا قرینہ ہے ۔حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ تو بازار میں منادی کرتے تھے ،کہ آیت میں اہل بیت سے مراد ازواج مطہرات ہیں ،کیونکہ یہ آیت انہی کی شان میں نازل ہوئی ہے ،اور فرماتے تھے کہ میں اس پر مبا ہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں (تفسیر ابن کثیر:3۔391،م:دارالمعرفہ)
لیکن حدیث کی متعدد روایات ،جن کو ابن کثیر نے اس جگہ نقل کیا ہے اس پر شاہد ہیں کہ اہل بیت میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی ا للہ عنہ اور حضرت حسن رضی ا للہ عنہ اور حضرت حسین رضی ا للہ عنہ بھی شامل ہیں ۔جیسے صحیح مسلم کی حدیث، حضرت عائشہ رضی ا للہ عنہا کی روایت سے ہے کہ ایک مرتبہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لے گئے اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سیاہ رومی چادر اوڑھے ہوئے تھے ،حسن رضی ا للہ عنہ آ گئے تو ان کو اس چادر میں لے لیا پھر حسین رضی ا للہ عنہ آگئے ان کو بھی اس چادر کے اندر داخل فرما لیا ،اس کے بعد حضرت فاطمہ رضی ا للہ عنہا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آ گئے ان کو بھی چادر کے اندر داخل فرما لیا ،پھر یہ آیت تلاوت فرمائی”انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیرا “اور بعض روات میں یہ بھی ہے کہ آیت پڑھنے کے بعد فرمایا:اللھم ھؤلاء اھل بیتی (رواہ ابن جریر )۔
ابن کثیر نے اس مضمون کی متعدد احادیث معتبرہ نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ در حقیقت ان دونوں اقوال میں جو ائمہ تفسیر سے منقول ہیں کوئی تضاد نہیں ،جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت ازواج مطہرات کی شان میں نازل ہوئی اور اہل بیت سے وہی مراد ہیں ،یہ اس کے منافی نہیں کہ دوسرے حضرات بھی اہل بیت میں شامل ہوں ،اس لیے صحیح یہی ہے کہ لفظ اہل بیت میں ازواج مطہرات بھی داخل ہیں کیونکہ شان نزول اس آیت کاوہی ہیں ،اورشان نزول کا مصداق آیت میں داخل ہونا کسی شبہ کا محتمل نہیں ،اور حضرت فاطمہ وعلی و حسن وحسین رضی اللہ عنہم بھی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اہل بیت میں شامل ہیں ،اور اس آیت سے پہلے اور بعد میں دونوں جگہ “نساءالنبی” کے عنوان سے خطاب اور ان کے لیے صیغے مؤنث کے استعمال فرمائے گئے ہیں ۔سابقہ آیات میں “فلا تخضعن بالقول “سے آخر تک سب صیغے مؤنث کے استعمال ہوئے ہیں ۔اور آگے پھر “واذکرن ما یتلی “میں بصیغہ تانیث خطاب ہوا ہے ۔اس درمیانی آیت کو سیاق و سباق سے کاٹ کر بصیغہ مذکر “عنکم اور یطہرکم “فرمانا بھی اس پر شاہد قوی ہے کہ اس میں صرف ازواج مطہرات ہی داخل نہیں کچھ رجال بھی ہیں ۔
آیت مذکورہ میں جو یہ فرمایا ہے کہ “لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطرکم تطہیرا “ظاہر ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان ہدایات کے ذریعے اغواءشیطانی اور معاصی اور قبائح سے حق تعالی اہل بیت کو محفوظ رکھے گا اور پاک کر دے گا ۔ خلاصہ یہ ہے کہ تطہیر تشریعی مراد ہے ،تکوینی تطہیر جو خاصئہ انبیاء ہے وہ مراد نہیں ۔اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ سب معصوم ہوں اور ان سے انبیاء علیھم السلام کی طرح کوئی گناہ سرزد ہونا ممکن نہ ہو جو تکوینی تطہیر کا خاصہ ہے ۔


(معارف القرآن مفتی اعظم مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ:(7/139،م:ادارۃ المعارف
(وکذا فی تفسیر القرآن العظیم تفسیرابن کثیر:(3/491،492،493،494،م:دار المعرفہ
(وکذا فی تفسیر الخازن:(3/499،م:رشیدیہ
(وکذا فی تفسیر القرطبی الجامع لاحکام القرآن:(14/182،183،184،م:دار احیاء تراث
(وکذا فی معارف القرآن للشیخ مولانامحمد ادریس کاندھلوی:(6/228،229،230،231،م:رحمانیہ
وکذا فی گلدستہ اہل بیت للشیخ مولاناطارق جمیل:(9،10،11،م:جامعۃالحسنین باکستان)

(4)

تصوف اور بیعت بہت اہم چیزہےتصوف اور بیعت کا مقصد یہ ہے کہ کسی دیندار متقی ،متبع سنت شیخ کے ہاتھ پر گناہوں سے توبہ کی جائے پھر اس کی صحبت اختیارکر کے اس کی راہنمائی میں دین پر چلنے کا عہد کیا جائے۔اس سے شریعت مطہرہ پر چلنا بھی آسان ہو جاتاہے اور شیطانی وساوس سے حفاظت بھی رہتی ہے ۔اور قرآن کریم نے متعدد آیات میں اس عمل کی مستقل اہمیت بیان فرمائی ہے ۔چنانچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا } إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۔ الخ}[الفتح:10 ]اے پیغمبر جو لوگ تم سے بیعت کر رہے ہیں ،وہ در حقیقت اللہ سے بیعت کر رہے ہیں ،اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے ۔اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا :{ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ ۔۔۔۔الخ }[الممتحنۃ:12]اے نبی :جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لیے آ ئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں مانیں گی ،اور چوری نہیں کریں گی ،اور زنا نہیں کریں گی ،اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی،اور نہ کوئی ایسا بہتان باندھیں گی جو انہوں نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیا ہو ،اور نہ کسی بھلے کام میں تمہاری نافرمانی کریں گی ،تو تم ان کی بیعت کر لیا کرو ،اور ان کے حق میں اللہ سے مغفرت طلب کیا کرو،یقینا اللہ بہت بخشنے والا ،بہت مہربان ہے ۔اسی طرح متعدد روایات میں بیعت ہونے کا ذکر ہے ،یہ بیعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ کرام اور صحابیات رضی اللہ عنہم کی مستقل سنت بھی ہے ۔اور ایک سنت ادا کرنے سے دوسری سنت ادا نہیں ہو سکتی،جیسے کھانا کھانے کی سنتوں سے سونے یا اٹھنے کی سنتیں ادا نہیں ہو جاتیں اسی طرح تبلیغ کی سنت سے بظاہر بیعت کی سنت کا ادا ہونا مشکل معلوم ہوتا ہے ۔لہذا اس طرح کی گفتگو جس سے دین کے کسی دوسرے شعبے کی تنقیص یا انکار لازم آتا ہو اس سے سخت احتراز کرنا چاہیے کیونکہ بسا اوقات اس طرح کی لا پرواہی سے ایمان کے چلے جانے کا ڈر ہوتا ہے کہ لا علمی میں کسی سنت کو حقیر سمجھنے لگے یا انکار کرنے لگے ۔

لمافی صحيح البخاري :
أن عبادة بن الصامت رضي الله عنه وكان شهد بدرا وهو أحد النقباء ليلة العقبة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وحوله عصابة من أصحابه: «بايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئا، ولا تسرقوا، ولا تزنوا، ولا تقتلوا أولادكم [ص:13]، ولا تأتوا ببهتان تفترونه بين أيديكم وأرجلكم، ولا تعصوا في معروف، فمن وفى منكم فأجره على الله، ومن أصاب من ذلك شيئا فعوقب في الدنيا فهو كفارة له، ومن أصاب من ذلك شيئا ثم ستره الله فهو إلى الله، إن شاء عفا عنه وإن شاء عاقبه» فبايعناه على ذلك۔
(صحیح البخاری:1/63،م:رحمانیہ)
ولمافی اعلاء السنن :
ولا یتیسر ذالک الا با لمجاھدۃ علی ید شیخ کامل قد جاھد نفسہ ،وخالف ھواہ وتخلی عن الاخلاق الذمیمۃ ،وتحلی بالاخلاق الحمیدۃ ،ومن ظن من نفسہ انہ یظفر بذالک بمجرد العلم ودرس الکتب فقد ضل ضلالا بعیدا ،فکما ان العلم بالتعلم من العلماء کذالک الخلق بالتخلیق علی ید العرفاء۔
(اعلاء السنن:18/454،م:ادارۃالقرآن والعلوم الاسلامیہ)
(وکذا فیہ :18/449،م:ادارۃ القرآن)
(وکذافی القول الجمیل:ص18،مکتبہ تھانوی کراتشی۔بحوالہ کفایت المفتی:3/308 ،م:ادارۃالفاروق)

واللہ تعالی اعلم با لصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
1/5/1440،2019/1/8
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:79

ایک آدمی کسی کام کی غرض سے اپنے گھر سے نکلا اور اس کا ارادہ ہے کہ میں دو جگہ پر جاؤں گا ،ایک جگہ اس کے گھر کے قریب ہے اور دوسری جگہ اس کے گھر سے دور ہے ،مثلا وہ شخص بنگہ حیات سے 50 کلو میٹر کا سفر طے کر کے ساہیوال آیا پھر ساہیوال سے 45 کلو میٹر کا سفر طے کر کے پاکپتن گیا وہاں کام مکمل کرنے کے بعد وہ اپنے گھر بنگہ حیات آگیا جو پاکپتن سے 20 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے ،کیا وہ دوران سفر مسافر شمار ہو گا ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں وہ مسافر شمار ہو گا اور قصر کرے گا ۔

لما فی الھندیہ: (1/138،رشیدیہ)
فاذا قصد بلدۃ والی مقصدہ طریقان احدھما مسیرۃ ثلاثۃ ایام لیالیھا والآخر دونھا فسلک الطریق الابعد کان مسافرا عندنا ھکذا فی فتاوی قاضی خان وان سلک الاقصر یتم کذا فی البحر الرائق
وفی الدر المختار للحصکفی رحمہ اللہ : (2/726،رشیدیہ)
ولو لموضع طریقان احدھما مدۃ السفر ولآخر اقل ،قصر فی الاصل لا الثانی.
وکذا فی خلاصہ الفتاوی :(1/198،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق لابن نجیم :(2/228،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/492،فاروقیہ)
وکذا فی اللباب للشیخ عبد الغنی:(1/110،قدیمی)
وکذا فی المحیط البرھانی :(2/384،دار احیاء تراث)
وکذا فی الجوھرۃ النیرۃ:(1/216،قدیمی)
وکذا فی البنایہ فی شرح الھدایہ:(3/4،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:190

اہل علم کے ہاں خصوصا ایک اصطلاح چلتی ہے ”رسوخ فی العلم “کی ،براہ کرم قرآن وحدیث اور اقوال اکابر کی روشنی میں اس کی وضاحت فرما دیں ۔

الجواب باسم ملھم الصواب

رسوخ فی العلم “رسوخ مادہ رسخ سے ہے ،اور اسکا معنی ہے”گڑ جانا ،جم جانا “رسخ العلم فی قلبہ ،علم کا راسخ ہونا ،دل میں اتر جانا،شبہ باقی نہ رہنا ۔اور جس انسان میں یہ صفت ہو وہ راسخ فی العلم کہلائے گا ۔مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ ”معا رف القرآن“میں فرماتے ہیں کہ ”راسخین فی العلم سے مراد اہل السنت والجماعت ہیں ،جو قرآن وسنت کی اسی تعبیر و تشریح کو صحیح سمجھتے ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ،سلف صالحین ،اور اجماع امت سے منقول ہو ،اور قرآنی تعلیمات کا محور اور مرکز محکمات کو مانتے ہیں ،اورمشتبہات کے جو معانی ان کے فہم و ادراک سے باہر ہیں اپنی کوتاہ نظری اور قصور علمی کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو خدا کے سپرد کرتے ہیں ،وہ اپنے کمال علمی اور قوت ایمانی پر مغرور نہیں ہوتے ،بلکہ ہمیشہ حق تعالی سے استقامت اور مزید فضل وعنایت کے طلبگار رہتے ہیں ،ان کی طبیعتیں فتنہ پسند نہیں ہوتیں کہ متشابہات کے پیچھے لگی رہیں ،وہ محکمات اور متشابہات سب کو حق سمجھتے ہیں ۔

(معارف القرآن:2/21،22:ادارۃ المعارف )

وفی التفسیر الکبیر للامام الفخر الرازی رحمہ اللہ:( 3/146،علوم اسلامیہ)
ان اللہ مدح الراسخین فی العلم بانھم یقولون آمنا بہ ،وقال فی اول سورۃ البقرۃ {فاما الذین آمنوا فیعلمون انہ الحق من ربھم }فھولاءالراسخون لو کانوا عالمین بتاویل ذالک المتشابہ علی التفصیل لما کان لھم فی الایمان بہ مدح، ۔۔۔۔۔وانما الراسخون فی العلم ھم الذین علموا با لدلائل القطعیۃان اللہ تعالی عالم بالمعلومات التی لا نھایۃ لھا،وعلمواان القرآن کلام اللہ تعالی ،وعلمواانہ لایتکلم بالباطل والعبث ،فاذاسمعو اآیۃ ودلت الدلائل القطعیۃعلی انہ لا یجوز ان یکون ظاھرھا مراد اللہ تعالی ،بل مرادہ منہ غیرذالک الظاھر ،ثم فوضوا تعیین ذالک المراد الی علمہ ،وقطعوا بان ذالک المعنی ای شیئ کان فھو الحق والصواب،فھولاء الراسخون فی العلم باللہ حیث لم یزعزھم قطعھم بترک الظاھر ،ولا عدم علمھم بالمراد علی التعیین عن الایمان باللہ والجزم بصحۃ القرآن
(کذا فی تفسیر المظھری:(1/438،رشیدیہ
(کذا فی القاموس الوحید:(621،ادارہ اسلامیات
(کذا فی الجامع البیان فی تفسیر القرآن:(3/124،دارالمعرفہ
(کذا فی تفسیر البغوی:(1/280،دارالمعرفہ
(کذا فی تفسیر البحر المحیط:(2/200،201،دارالکتب العلمیہ
(کذا فی انوار البیان:(2/442،العلم
(کذا فی تفسیر ماجدی:(2/539،مجلس نشریات قرآن

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:196