کہ نواب بیگم کا نکاح محمد یار سے ہوا لیکن رخصتی نہیں ہوئی ،محمد یار نے خاندانی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے ایک طلاق پھر دوسری طلاق ،تیسری طلاق کے بارے میں کہا کہ دوسری طلاق کی مدت ختم ہونے کے بعد ارسال کر دوں گا،دوسری طلاق کو دیے ہوئے 13 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے ابھی تک نوٹس موصول نہیں ہوا ۔کیااب تیسری طلاق واقع ہو چکی ہے ؟کیانواب بیگم محمد یار کے علاوہ کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے ؟قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ بالا صورت میں پہلی طلاق سے ہی اس عورت کا نکاح ختم ہو گیا تھا لہذا دوسری طلاق واقع نہیں ہوئی اور اس پر عدت بھی نہیں تھی ۔لہذا اب اس عورت کا دوسری جگہ نکاح ہو سکتا ہے ،اور اگرپہلے خاوند سے نکاح کرنا چاہے تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ بھی نکاح ہو سکتا ہے ۔

لما فی القرآن المجید :
یآیھاالذین آمنوا ذا نکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فمالکم علیھن من عدۃ تعتدونھا ۔
 (الاحزاب :49)
وفی القدوری :
واذا طلق الرجل امراتہ قبل الدخول بھا ثلثا وقعن علیھا ،وان فرق الطلاق بانت بالاولی ولم تقع الثانیۃ والثالثۃ ۔
القدوری:(175،م:الخلیل)
وفی الھندیۃ:
“اذا طلق الرجل امراتہ ثلاثا قبل الدخول بھا وقعن علیھا ،فان فرق الطلاق بانت بالاولی ولم تقع الثانیۃ والثالثۃ ۔”
(الھندیہ:(1/373،م:رشیدیہ
(وکذا فی الفتاوی الولوالجیۃ:(2/23،م:الحرمین شریفین
(وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ:(4/428،429،م:فاروقیہ
(وکذا فیہ:(5/232،م:فاروقیہ
(وکذا فی کنز الدقائق:(120،م:حقانیہ
(وکذا فی تنویر الابصار:ردالمحتار:(4/496،م:رشیدیہ
(وکذا فی الھدایۃ:(2/350،م:رشیدیہ
(وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6950،م:رشیدیہ
واللہ تعالی اعلم بالصواب

سلیم اللہ
7/5/1440،2019/1/14
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:86

ایک شخص سہراب کمپنی کے سائیکلو ں کا ڈیلر ہے،نئی سائیکل پر کمپنی کلیم کی سہولت دیتی ہے ،اگر کوئی خریدار کلیم لے کر آئے تو ڈیلر اسے کمپنی کی طے کردہ اجرت بتاتا ہے ،اور طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ یہ چیزکمپنی سے منگوائی جاتی ہے جس میں عموما 5 دن لگ جاتے ہیں ۔یہ ڈیلر اپنے خریدار سے کہتا ہے کہ تم کمپنی سے کلیم کروانا چاہتے ہو تو مثلا ًاس کام کے 200روپے لگیں گے اور 5دن بعد یہ کام ہو گا اور اگر تم ابھی یہ کام کروانا چاہتے ہو تو میں اپنے پاس موجود سامان سے یہ کام کر دیتا ہوں اور نئی چیز ڈال دیتا ہوں لیکن 400 روپے لگیں گے۔اگر خریدار راضی ہو جائے تو یہ کام درست ہے یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ بالا معاملہ درست ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی : (5 /3765،رشیدیہ)
بیع المساومۃ:ھوالبیع بای ثمن کان من غیر نظر الی الثمن الاول الذی اشتری بہ الشیئ،وھو البیع المعتاد
وفی بدائع الصنائع: ( 4/320،رشیدیہ)
بیع المساومۃ وھو مبادلۃ المبیع بای ثمن اتفق،وبیع المرابحۃ وھو مبادلۃ المبیع بمثل الثمن الاول وزیادۃ ربح
وکذافی الفقہ الاسلامی: (5 /3371،3305،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ: (37 /159،علوم اسلامیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/407،رشیدیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/542،معارف القرآن)
وکذافی الفقہ الحنفی:(4/22،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/2/2019-20/6/1440
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:28

میں زوہیب ملک ولد سخاوت ملک قوم حسینی اہل سنت ،میری شادی اقصی نذیر ولد محمد نذیر قوم بھٹی سے عرصہ پانچ سال قبل ہوئی تھی ہمارے دو بچے ہیں جو تا حال میرے پس ہیں میری بیوی عرصہ پانچ ماہ قبل ناراض ہو کر میکے چلی گئی ،میں نے راضی نامہ کرنے کے لیے متعدد کوششیں کی ہیں اور اب بھی کر رہا ہوں میرے سسر نے بذریعہ فون مجھے کہا کہ زوہیب تم نے مجھے کہا تھا کہ “میں نی وسیندا ،میں نی وسیندا ،میں نی وسیندا “اس سے طلاق ہو گئی ہیں ۔اورمیں نے ان سے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ میں نے یہ الفاظ فون پر کہے یا نہیں ،میں غصہ میں تھا ۔میں اپنی بیوی کو آباد کرنا چاہتا ہوں لیکن میرے سسر مجھ سے فتوی مانگتے ہیں تا کہ میری بیوی کو واپس بھیج سکیں ،اس سے قبل میری بیوی کا بہنوئی ،بہن اور بھائی آئے تھے اور مجھ سے کہتے رہے کہ اپنی بیوی کو ابھی ہمارے سامنے طلاق دو جو میں نے ابھی تک نہیں دی ہے ۔ وہ میری بیوی کوا س دن ساتھ لے گئے جو اب تک وہیں ہے،میں اپنا گھر آباد رکھنا چاہتا ہوں راہنمائی فرمائی جائے ۔جزاک اللہ خیرا

الجواب باسم ملہم الصواب

شوہر نے غصہ کی حالت میں اگر واقعی سوال میں مندرجہ الفاظ استعمال کیے ہیں تو ان سے ایک طلاق بائن واقع ہوگی،لہذا باہمی رضا مندی سے میاں بیوی نئے مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں ۔اور اگر شوہر قسم دیدے کہ میں نے یہ الفاظ استعمال نہیں کیے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی ۔نکاح بدستور باقی ہے ۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:
قال الحنفیۃ والحنابلۃ:لا یقع قضاء الطلاق بالکنایۃ الا بالنیۃ،او دلالۃ الحال علی ارادۃ الطلاق ،کان یقول الطلاق فی حالۃ الغضب ،او فی حالۃ المذاکرۃبالطلاق
(الفقہ الاسلامی:(9/6900،م:رشیدیہ
وفی تنویر الابصار للتمرتاشی :
الصریح یلحق الصریح و)۔۔(البائن)۔۔(والبائن یلحق الصریح )۔۔۔(لا)۔۔(البائن)۔
(رد الحتار:(4/528،م:رشیدیہ
وفی الفقہ الحنفی :
فان اختلفا فی وجود الشرط اصلا او تحققا،ای اختلفا فی وجود اصل التعلیق بالشرط او فی تحقق الشرط بعد التعلیق ،فالقول قولہ مع الیمین لانکارہ الطلاق ۔۔۔۔وان ادعی تعلیق الطلاق بالشرط وادعت الارسال فالقول قولہ ولو ادعت انہ طلقھا من غیر شرط، والزوج یقول طلقتھا بالشرط ولم یوجد،فالبینۃ فیہ للمراۃ۔
(الفقہ الحنفی:(2/185،م:الطارق
(وکذا فی تنویر الابصار وشرحہ:(ردالمحتار:4/514تا522،م:رشیدیہ
(وکذا فی ردالمحتار:(4/521،م:رشیدیہ
(وکذا فی کنزالدقائق:(120،121،م:حقانیہ
(وکذا فی الھندیہ:(1/375،م:رشیدیہ
(وکذا فی الفتاوی الولوالجیۃ:(2/21،م:الحرمین شریفین
(وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ:(4/459،م:فاروقیہ
(وکذا فی القدوری:(172،173،م:الخلیل
(وکذا فی المحیط البرھانی:(4/427،م:دار احیاء تراث

واللہ تعالی اعلم بالصواب

سلیم اللہ عفی عنہ

متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
1/5/1440،2019/1/9
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:80

ایک مسجد کی جگہ لوگوں کے اعتبار سے چھوٹی پڑ گئی ہے ،اور محلے لوگ دوسری جگہ مسجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں،تو پہلی مسجد کا کیا حکم ہو گا ؟اور اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

پہلی مسجد کو آباد رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے ،مثلا کچھ لوگ اس میں نماز پڑھ لیا کریں یا اس کے اڑوس پڑوس سے مزید جگہ خرید کر توسیع کر لی جائے ،اگر ایسا ممکن نہ ہو تو وہاں مدرسہ یا لائبریری وغیرہ بنا دی جائے،اور وہاں واضح کر کے لکھ دیا جائے کہ”یہ مسجد ہے“لہذا مسجد کے تمام آداب واحکام کا لحاظ رکھا جائے ۔

لما فی لما ردالمحتار : (6 /550 ،رشیدیہ )
قولہ:(ولو خرب ما حولہ الخ)ای :ولو مع بقائہ عامرا،وکذا لو خرب ولیس لہ ما یعمر بہ وقد استغنی الناس عنہ لبناء آخر .قولہ:(عند الامام والثانی )فلا یعود میراثا .ولا یجوز نقلہ ونقل مالہ الی مسجد آخر ،سواء کانوا یصلون فیہ او لا،وھو الفتوی .حاوی القدسی .واکثر المشایخ علیہ:مجتبی.وھوالاوجح فتح.
وفی الھندیہ: (2 /457،458 ،رشیدیہ )
ولو کان مسجد فی محلۃ ضاق علی اھلہ ولا یسعھم ان یزیدو فیہ فسالھم بعض الجیران ان یجعلوا ذالک المسجد لہ لیدخلہ فی دارہ ویعطیھم مکانہ عوضا ما ھو خیرلہ فیسع فیہ اھل المحلۃ ،قال محمد رحمہ اللہ تعالی لا یسعھم ذالک ……..فی فتاوی الحجۃ لو صار احد المسجدین قدیما وتداعی الی الخراب فاراد اھل السکۃ بیع القدیم وصرفہ فی المسجد الجدید فانہ لا یجوز ،اما علی قول ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی فلان المسجد وان خرب واستغنی عنہ اھلہ لا یعود الی ملک البانی ،واما علی قول محمد رحمہ اللی تعالی وان عاد بعدالاستغناء ولکن الی البانی وورثتہ فلا یکون لاھل المسجد علی کلاالقولین ولایۃ البیع ،والفتوی علی قول ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی انہ لا یعود الی ملک مالک ابدا کذا فی المضمرات
وکذافی تنویر الابصار وشرحہ : (6 /550 ،رشیدیہ )
وکذا فی البحرالرائق: (5 /421 ،رشیدیہ )
وکذا فی الھدایہ:(2/621،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(6/219،رشیدیہ)
وکذا فی اعلاءالسنن :(13/209،ادارۃ القرآن)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(10/7673،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیہ:(3/87،88،الحرمین شریفین )

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/14،2019/01/20
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:41

والد کا نام نور محمد چک نمبر 104فتح ،تحصیل چشتیاں ضلع بہاولنگر،والدکی وراثت½ 12ایکڑ زرعی زمین۔½ 7ایکڑ چک کےایک طرف ہے اور 5ایکڑ چک کی دوسری طرف ہے،ٹھیکہ ساری زمین کا برابر ہی ملتا ہے۔ اولاد 4عدد بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں،والدہ کی وفات کے تقریبا 5سال بعد والد صاحب کا بھی انتقال ہو گیا ،اس کے بعد بھائیوں نے اکٹھے ہو کر بہنوں کو بلایا جو اپنے گھروں میں آباد تھیں کہ آپ والدکی وراثت سے حصہ لینا چاہتی ہیں؟تو بہنوں نے اپنا حصہ بھائیوں کو ہی دینا چاہا،اور عدالت میں تحصیلدار یا مجسٹریٹ تھا،اس کو بیان دے دیا،افسر نے پوچھا کہ کہ آپ نے پیسے لے لیے ہیں؟تو بہنوں نے مسکرا کر کہا ہاں!لے لیے ہیں ،اس طرح زرعی زمین چار بھائیوں کے نام ہو گئی ۔اوروالد صاحب کے نام جو بینک میں رقم تھی عدالت میں شرعی لحاظ سےتقسیم ہو گئی اور بہنوں نےوصول بھی کر لی۔ آج تقریبا 15یا16سال ہو گئے ہیں ،میں شادی،غمی اور خوشیوں کے ایام میں بہنوں کی خدمت کا خیال رکھتا ہوں ،لیکن پھر بھی شرعی لحاظ سے اگر کوئی کمی کوتاہی ہو گئی ہو تو میں بہنوں کو حصہ تک دینے کو تیار ہوں ۔میری راہنمائی فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت حال میں بہنوں کا اپنا حصہ اس طرح بھائیوں کو دے دینا شرعا معتبر نہیں ہے،اس سے ان کا حق ختم نہ ہو گا،لہذا درج شدہ شرعی حصہ ان کو دے دیا جائےیا فریقین کی رضا مندی سے جو قیمت طے ہو وہ دے دی جائے۔
لہذا مذکورہ صورت میں مرحوم والد کی کل جائیداد کے 12حصے کر کے ہر بیٹے کو 2 حصے(٪16.666)اور ہر بیٹی کو 1 حصہ (٪8.333)دیا جائے۔
سوال میں مذکور½ 12 ایکڑ زمین میں سے ہر بیٹے کو 16 کنال 13.33مرلے اور ہر بیٹی کو 8کنال 6.66مرلے دیے جائیں۔لہذا مقررہ حصہ سے جو زائد حصہ بھائیوں کے پاس ہے وہ بہنوں کا حق ہے وہ انہیں دینا ضروری ہے۔

مزید تفصیل کے لئے نقشہ ملاحظہ فرمائیں ۔

نمبرشمار، ورثاء عددی حصہ، فیصدی حصہ، زمین سے ملنے والا حصہ
1 بیٹی 1 ٪8.3333 8کنال6.66 مرلے
2 بیٹی 1 ٪8.3333 8کنال6.66 مرلے
3 بیٹی 1 ٪3333.8 8کنال6.66 مرلے
4 بیٹی 1 ٪3333.8 8کنال6.66 مرلے
5 بیٹا 2 ٪6666.16 16کنال13.33مرلے
6 بیٹا 2 ٪6666.16 16کنال13.33مرلے
7 بیٹا 2 ٪6666.16 16کنال13.33مرلے
8 بیٹا 2 ٪6666.16 16کنال13.33مرلے
میزان 8 12 ٪9996.99 99کنال19.96مرلے

لما فی المحیط البرھانی:(23/288،داراحیاءتراث)
وان کان للمیت ابن،فانھا تصیر عصبۃ بہ،ویسقط اعتبار النصف والثلثین،ویقسم المال بینھم للذکر مثل حظ الانثیین
وفی الاشباہ والنظائر:(309،قدیمی)
“لو قال الوارث:ترکت حقی،لم یبطل حقہ،اذالملک لایبطل بالترک.”
وفی شرح الحموی علی الاشباہ والنظائر:(2/388،ادارہ القرآن)
قولہ:لو قال الوارث:”ترکت حقی الخ “اعلم ان الاعراض عن الملک،او حق الملک،ضابطہ انہ ان کان ملکا لازما لم یبطل بذالک کما لو مات عن ابنین،فقال احدھما:ترکت نصیبی من المیراث لم یبطل لانہ لازم لایترک بالترک بل ان کان عینا فلا بد من التملیک،وان کان دینافلا بد من البراء
وکذا فی القرآن المجید:(سورہ النساء:11) وکذا فی السراجی:(8،شرکت علمیہ)
وکذا فی الھندیہ:(6/448،رشیدیہ) وکذا فی القدوری:(291،الخلیل)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/7/1440-2019/3/21
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:54

کیا بیوی اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لیے اپنی مرضی سے بال کٹوا سکتی ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حدیث پاک میں آتا ہے کہ ”لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق “اللہ تعالی کی نا فرمانی کر کے مخلوق کو خوش کرنا جائز نہیں ہے ،اور عورتوں کے بال کٹوانے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے اور حدیث پاک میں ایسوں کے لیے دنیا و آخرت میں لعنت کے الفاظ آئے ہیں ،لہذا خاوند کو خوش کرنے کے لیے بال کٹوانا جائز نہیں ہے ۔

لما فی جامع الترمذی: (1 /433،رحمانیہ )
عن ابن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :السمع والطاعۃ علی المرءالمسلم فیما احب وکرہ ما لم یؤمر بمعصیۃفان امر بمعصیۃ فلا سمع ولا طاعۃ
وفی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(9 /671،672 ،رشیدیہ)
وفیہ:قطعت شعر راسھا اثمت ولعنت :زاد فی النزازیۃ:وان باذن الزوج ،لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق،ولذا یحرم علی الرجل قطع لحیتہ،والمعنی المؤثر التشبہ بالرجال
وکذافی صحیح البخاری : (2 /402،403،رحمانیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی : (8 /87،داراحیاءتراث )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(18/212،فاروقیہ)
وکذا فی الھندیہ:(5/358،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(5/388،الطارق)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی:(4/203،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/14،2019/01/20
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:140

ہمیں ساہیوال سے مسافت سفرتک مثلا لاہور جانا ہے اور ٹرین کا وقت عصر کا وقت شروع ہونے سے پندرہ منٹ پہلے کا ہے ،تو کیا ہم ٹرین آنے سے پہلے ہی نماز عصر ادا کر سکتے ہیں ؟کیونکہ خطرہ ہے کہ ٹرین میں نماز نہ پڑھ سکیں ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

محض اندیشہ کی بنا ء پر نماز کا وقت شروع ہونے سے پہلے آپ نماز نہیں پڑھ سکتے ،البتہ جب دوران سفر ٹرین میں نماز کا وقت ہو جائے تو عموماً ٹرین میں نماز کے لیے الگ جگہ بنی ہوتی ہے وہاں کھڑے ہو کر نماز پڑھ لی جائے ،اوراگر رش زیادہ ہو اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ لیں ۔

لما فی القرآن المجید :(سورۃ النساء:103)
” {إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا}.”
وفی المبسوط للسرخسی:(1 /148 ،بیروت )
” فاداء الصلاۃ فی وقتھا او بعد ذھابہ یجوز ولا یجوز اداؤھا قبل دخول الوقت.”
وکذافی الفقہ الحنفی: (1 /181،الطارق)
وکذا فی الفقہ الاسلامی :(1 /728 ،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ:(7/170،علوم اسلامیہ)
وکذافی ردالمحتار:(1/370،سعید)
وکذافی الھدایہ:(1/81،المیزان)
وکذافی البنایہ:(2/57،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(1/432،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/14،2019/01/20
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:35

میری ساری آمدنی سال میں ایک دفعہ میرے پاس آتی ہے ،اور میرے کئی عزیزوں نے مجھے اپنے اپنے اکاؤنٹ استعمال کرنے کا اختیار دیا ہے ،سال کے دورانیے میں ،میں ان رشتہ داروں کی رقوم استعمال کرتا رہتا ہوں اور سال مکمل ہونے پر جب میری آمدنی آتی ہے تواس سے ان کی رقوم واپس کر دیتا ہوں اور کھاتے صاف کرلیتا ہوں ۔دریافت طلب بات یہ ہے کہ میں زکوۃ اپنی کل آمدنی سے ادا کروں گا یا رشتہ داروں کے قرضے ادا کرنے کے بعد باقی رقم کی زکوۃ ادا کروں گا ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

قرض ادا کرنے کےبعد جو آمدنی بچے، اگر وہ بقدر نصاب ہو تو اس کی زکوۃ دینا فرض ہے ۔

لما فی بدائع الصنائع :
“ومنھا :ان لا یکون علیہ دین مطالب بہ من جھۃ العباد عندنا فان کان فانہ یمنع وجوب الزکاۃ بقدرہ حالا کان او مؤجلا۔”
(بدائع الصنائع :2/83،م:رشیدیہ)
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:
“قال الحنفیۃ: الدین الذی لہ مطالب من جھۃ العباد یمنع وجوب الزکاۃ سواء اکان للہ کزکاۃ وخراج (ضریبۃ الارض )،ام کان لانسان ،ولو دین کفا لۃ ۔”
(الفقہ الاسلامی وادلتہ :3/1807،م:رشیدیہ)
(کذا فی تنویر الابصار وشرحہ:ردالمحتار ،3/208،209،210،م:رشیدیہ)
(کذا فی تبیین الحقائق :1/252،253،254،م:امدادیہ)
(کذا فی رد المحتار :3/210،م:رشیدیہ)
(کذافی المبسوط للسرخسی :2/160،م:دارالمعرفہ)
(کذافی القدوری :اللباب ،1،136،م:قدیمی)
(کذا فی اللباب :1/136،م:قدیمی)
(کذا فی المحیط البرھانی :3/228،م:دار احیاءتراث)
(کذا فی الفتاوی التاتار خانیہ:3/231،م:فاروقیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
1/5/1440،2019/1/8
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:70

ایک لڑکی کے والدین کا انتقال اس کے بچپن میں ہو گیا تھا،اور یہ اکیلی تھی اس کے چچا نے اسے اپنی کفالت میں لیا اور اپنے بیٹے سے اس کا نکاح کردیا،پھر اس کے چچاکا بھی انتقال ہو گیا تو ماموں نے اسے اپنی کفالت میں لے لیا اور بچی کو سمجھا دیا کہ جب تم بالغ ہو تو اسی وقت فورا اس نکاح سے ناراضی کا اظہار کر دینا اور اس نکاح کو ختم کر دینا ،لڑکی نے ایسا ہی کیا ،ماموں نے چند دن بعد اس کا نکاح اپنے بیٹے سے کر دیا اور رخصتی بھی ہو گئی ،آٹھ ماہ بعد چچا کے بیٹے کو علم ہوا تو اس نے واویلا مچا دیا ،پنچایت نے فتوی پر فیصلہ طے کیا ہے ،اس بارے میں شرعی حکم سے آگاہ کر دیں ۔

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں لڑکی کا بالغ ہوتے ہی نکاح سے ناراضی کا اظہار کرنے کے بعد عدالت کے ذریعے تنسیخ نکاح ضروری تھی۔اگرعدالت کے ذریعے پہلا نکاح فسخ کرایا گیا تھا تو دوسرا نکاح ٹھیک ہے ،ورنہ دوسرا نکاح درست نہیں ہے ،لڑکی اور ماموں کے بیٹے میں فوراً جدائی کروائی جائے اب تک اکٹھے رہنے پر توبہ استغفار بھی کریں ۔

لما فی کنزالدقائق :(100،101،حقانیہ)
“وللولی انکاح الصغیر والصغیرۃ،والولی العصبۃبترتیب الارث،ولھما خیارالفسخفی غیر الاب والجد بشرط القضاء.”
وفی ردالمحتار:(4/171،رشیدیہ)
وحاصلہ :انہ اذا کان المزوج للصغیر والصغیرۃ غیر الاب والجد ،فلھما الخیار بالبلوغ اوالعلم بہ ،فان اختارالفسخ لایثبت الفسخ الا بشرط القضاء
وکذا فی القدوری علی شرح اللباب:(2/146،قدیمی) وکذا فی الھدایہ:(2/296،297،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/57،داراحیاء تراث) وکذا فی الفتاوی البزازیہ:(4/125،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(4/94،95،97،فاروقیہ) وکذا فی تبیین الحقائق:(2/122،امدادیہ)
وکذا فی تنویر الابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(4/168الی170،رشیدیہ) وکذا فی الھندیہ:(1/185،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
22/6/1440،2019/2/28
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:47

واجبات نماز میں ایک واجب بیان کیا جاتا ہے کہ “فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں کو قرأت کے لیے مقرر کرنا “مفتی صاحب از راہ کرم اس واجب کی وضاحت فرما دیں

الجواب باسم ملہم الصواب

اس کی وضاحت یہ ہے کہ پہلی دو رکعتوں میں سورۃفاتحہ اور قرأت کرنا واجب ہے اگر پہلی دو رکعتوں میں سے کسی میں قرأت چھوٹ گئی توواجب چھوٹنے کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہو گا ۔لیکن واضح رہے اگر فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سے کسی ایک رکعت یا دونوں میں قرأت کرنا بھول جائے تو اگلی رکعتوں میں قرأت کر لے اور اس تاخیر واجب کی وجہ سے آخر میں سجدہ سہو کر لے ۔

لما فی المحیط البرھانی :
فنقول:القرأۃ وجبت فی الاولیین بصفۃ ان یفتتح بفاتحۃ الکتاب، ویرتب علیھا السورۃ،فاذاترک الفاتحۃ فی الاولیین لا یمکنہ ان یقضیھا کذالک ،لانہ لا یزاد علی الفاتحۃ فی الرکعتین الاخریین علی مرۃ واحدۃ،واذا ترک السورۃ فی الاولیین امکنہ القضاء ،لان الفاتحۃمشروع فی الاخریین فیقرأھا ویبنی السورۃ علیھا ،کما فی الرکعۃ الاولی ،فیمکنہ القضاء بمثلہ ۔
(المحیط البرھانی :2/53،54،م:دار احیاء تراث )
وفی بدائع الصنائع :
فصل :اما الواجبات الاصلیۃ فی الصلاۃ فستۃ:منھا قراءۃ الفاتحۃ والسورۃ فی صلاۃ ذات رکعتین ،وفی الاولیین من ذوات الاربع والثلاث حتی لو ترکھما او احدھما ،فان کان عامدا کان مسیئا،وان کان ساھیا یلزمہ سجود السہو وھذا عندنا۔
(بدائع الصنائع :1/394،م:رشیدیہ)
(کذا فی تنویر الابصار وشرحہ:رد المحتار :2/181تا188،م:رشیدیہ)
(کذا فی المحیط البرھانی :2/309،312،م:داراحیاءتراث)
(کذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:2/56،57،وایضا:387،388،م:فاروقیہ)
(کذا فی البحرالرائق:1/515،516،وایضا:162،163،م:رشیدیہ)
(کذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:2/808،809،وایضا:1109،م:رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1440،2019/1/20
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:95