پرانی اینٹیں دے کر نئی اینٹیں خریدنا ، برابر سرابر یا کمی زیادتی کے ساتھ کیسا ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

جائز ہے بشرطیکہ نقد معاملہ ہو یعنی دونوں طرف سے اسی وقت قبضہ ہو جائے ،ادھار نہ ہو ۔

لما فی الھدایہ لبرھان الدین المرغینانی رحمہ اللہ : (3/73،رحمانیہ )
قال واذاعدم الوصفان الجنس والمعنی المضموم الیہ حل التفاضل والنسالعدم العلۃ المحرمۃ ، والاصل فیہ الاباحۃ، واذا وجدا حرم التفاضل والنسا لوجودالعلۃ واذا وجد احدھما وعدم الاخر حل التفاضل وحرم النسا ،مثل ان یسلم ھرویا فی ھروی او حنطۃ فی شعیر فحرمۃ ربا الفضل بالو صفین وحرمۃ النسا باحدھما
وفی الموسوعہ الفقھیہ:(22/68،علوم اسلامیہ)
قال الحنفیۃ :ان علۃ تحریم الربا القدر مع الجنس فان وجدا حرم الفضل والنسا ، فلا یجوز بیع قفیز بر بقفیزین منہ ،ولا بیع قفیزبر بقفیز منہ واحدھما نسا،وان عدما ۔ای القدر والجنس ۔حل البیع،وان وجد احدھما ای القدر وحدہ کالحنطۃ بالشعیر اولجنس وحدہ کالثوب الھروی بھروی مثلہ حل الفضل وحر م النسا
(کذا فی تنویر الابصار وشرحہ:(ردالمحتار 7/416،417،418،رشیدیہ
کذا فی رد المحتار:(7/418،رشیدیہ) (کذا فی فقہ البیوع :2/1174،معارف القرآن)
(کذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار:(3/107،رشیدیہ
(کذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3700،3701،رشیدیہ
(کذا فی الفقہ الحنفی:(4/233،الطارق
(کذافی بدائع الصنائع :4/404،رشیدیہ
کذا فی المبسوط للسرخسی:(11/114،دار المعرفہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:25

ایک مسئلہ دریافت کرنا تھا وہ یہ کہ میاں بیوی کا جھگڑا ہوا جس کے نتیجے میں غصہ میں آ کر شوہر “محمد سجاد ”نے اپنی بیوی کو بذریعہ اسٹام تحریری طلاق دی ہے ،اور یہ واقعہ 2016/11/7 کا ہے ،اسٹام کی نقل استفتاء کے ساتھ بھیج دی ہے ۔واضح فرما دیں کہ کتنی طلاق ہوئیں اور دوبارہ اکٹھے رہنے کی صورت ہو سکتی ہے یا نہیں ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ میں بعض علماء کرام کے نزدیک تحریر کے الفاظ“مسمات مذکوریہ کوطلاق دے کر ”سے ایک طلاق اور “آزاد کر دیا ”سے دوسری طلاق واقع ہو گئی اس طرح ان کے نزدیک دو طلاقیں ہو گئیں ۔
اوربعض علماء کرام کے نزدیک“مسمات مذکوریہ کوطلاق دے کر”سے ایک طلاق واقع ہو گئی اور “آزاد کر دیا ”اور“وہ مجھ پر حرام ہے”سے کوئی طلاق واقع نہ ہو گی کیونکہ یہ الفاظ گویا کہ طلاق کا ثمرہ اورنتیجہ بیان کرنےکےلیےیا طلاق کے حکم میں مزید سختی اور شدت پیدا کرنے کے لیے بولے گئے ہیں ۔
ہمارا رجحان بھی اسی طرف ہے کہ صورت مسئولہ میں “آزاد کر دیا ”اور“وہ مجھ پر حرام ہے ”سے مزید طلاق تو واقع نہ ہو گی البتہ یہ الفاظ رجعی کوبائن سے بدل دیں گے کیونکہ عموما طلاق دینے والایہ الفاظ مزید طلاق دینے کے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ سابقہ الفاظ کی نئی تعبیریا ان کا حکم اور سختی کے بیان کے لیے استعمال کرتا ہے ۔
لہذا ہماری ناقص رائے کے مطابق صورت مسئولہ میں صرف ایک طلاق بائن ہو گی ۔اور باہمی رضا مندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیۃ للشیخ فرید الدین عالم بن العلاء
وان طلق امراتہ الحرۃواحدۃثم قال لھا “انت علی حرام ”ینوی ثنتین لا تصح ھذہ النیۃ ،لان الحرمۃ الغلیظۃ لا تحصل بھا بل بھما وبما تقدم ،ففی ھذا مجرد نیۃالعدد ، ولو قال لھا بعد ما طلقھا واحدۃ “انت علی حرام ”ونوی الثلاث تصح النیۃ و تقع تطلیقتان اخریان ،نص علی ھذا محمد رحمہ اللہ ، وان نوی الطلاق فی قولہ “انت علی حرام ”ولم ینوالعدد فھی واحدۃ،وان لم ینو الطلاق فھو یمین نوی الیمین او لم ینو ،لان تحریم الحلال یمین غیر ان الیمین فی الزوجات ایلاء،فان قربھا کان علی علیہ الکفارۃ ،وان لم یقربھا حتی مضت اربعۃ اشھر بانت بالایلاء،فی الواقعات :وان لم ینو شیئا فایلاء ،وقیل ھو الطلاق للعرف وبہ یفتی ، وفی تجنیس خواہر زادہ : والفتوی علی انہ یقع الطلاق البائن ،وان لم ینو لغلبۃ استعمال ھذہ اللفظۃ فی ھذہ البلاد ۔”
(الفتاوی التاتار خانیۃ :4/448،م:فاروقیۃ)
(کذا فی البحر الرائق:3/500/501،م:رشیدیہ)
(کذا فی تنویر الابصارمع شرحہ :4/485/486/487،م:رشیدیہ)
(کذا فی الھدایۃ:2/348،م:رشیدیہ)
(کذا فی رد المحتار :4/519،م:رشیدیہ)
(کذا فی الفقہ الحنفی:2/170،م:الطارق )
(کذا فی تبیین الحقائق :2/212،م:امدادیہ)
کذا فی الفتاوی الولوالجیۃ:(2/14،الحرمین الشریفین)

واللّٰہ تعالٰی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللّٰہ عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/3/1440،2018/12/1
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:55

جانورذبح کرنے کے لیے ایسی چھری ہونی چاہیے جس میں تین کیل لگے ہوئے ہوں ،ورنہ جانور مکروہ ہو جاتا ہے ،اس کی شرعی طور پر کیا حیثیت ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اس کی کوئی اصل و حیثیت نہیں ہے ،احادیث میں تو ذبح کرنے کے لیے دھاری دار چیز کا ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

لما فی بدائع الصنائع :(4/158،رشیدیہ)
وعلی ھذا یخرج ما اذا ذبح بالمروۃ اوبلیطۃ القصب او بشقۃ العصا او غیرھا من الآلات التی تقطع انہ یحل لوجود معنی الذبح وھو فری الاوداج
وکذا فی تنویر الابصار:(رد المحتار:9/494،رشیدیہ)
وکذافی الصحیح للبخاری :(2/341،342،رحمانیہ)
وکذافی جامع الترمذی :(1/404،رحمانیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی :(12/2،دارالمعرفہ)
وکذا فی الھندیہ:(5/287،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر :(4/158،المنار)
وکذا فی البحر الرائق:(8/308،310،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(17/396،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:26

بعض لوگوں سے سنا ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالی لوگوں پر پردہ ڈالنے کے لیے انہیں ان کی ماؤں کے ناموں سے پکاریں گے قرآن وسنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرما دیں ۔(2)عربی کتابوں میں جس”حمار الوحش“کا ذکر ہے تو بعض حضرات اس سے زیبرا مراد لیتے ہیں ،کیا واقعی ایسا ہی ہے ؟اگر نہیں تو پھر اس سے کونسا جانور مراد ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

واضح اور صریح صحیح احادیث میں وارد ہے کہ قیامت کے دن باپ کے نام سے پکارا جائے گا ،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح حکم فرمایا کہ تم اپنا نام اچھا رکھو کیونکہ قیامت کے دن تمہیں اپنے نام اور باپ کے نام سے پکارا جائے گا۔

لما فی الصحیح للبخاری:(2/439، رحمانیہ)
“عن ابن عمر رضی اللہ عنھما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال :ان الغادر یرفع لہ لواء یوم القیامۃ یقال :ھذہ غدرۃ فلان بن فلان .”
وفی سنن ابی داؤد:(2/334،رحمانیہ)
” عن ابن عمر رضی اللہ عنھما قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :انکم تدعون یوم القیامۃ باسمائکم واسماء آبائکم فاحسنوا اسمائکم. “
(وکذا فی الصحیح لمسلمم :(2/93،رحمانیہ)
(وکذا فی اشعہ اللمعات :(4/53،54،رشیدیہ)
(وکذا فی حاشیہ سنن ابی داؤد لشیخ الھند :(2/334،رحمانیہ)
(کذا فی الکشاف للزمخشری :(2/682،من منشورات البلاغہ )
(وکذا فی الجامع لاحکام القرآن للامام القرطبی:(10/296،بیروت)
وکذافی الھامش علی الصحیح للبخاری:(2/439،رحمانیہ)

احادیث میں اور فقہاء کرام سے جس”حمار الوحش“ کی حلت کا ذکر ہے اس سے مراد زیبرا ہی ہے ۔اور شبہ شاید اس بنا ءپر ہوتا ہے کہ بعض عربی لغات میں ”حمارالوحش “سے عام گدھے کی طرح کا ایک جنگلی گدھا مراد لیا گیا ہے ،لیکن بعض معتبر لغات میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ حمار الوحش سے زیبرا ہی مراد ہے اور اسی کے دو نام ہیں :حمارالزرد اور حمار الوحش ۔

المعجم الوسیط :(196،دار الدعوۃ)
“و(حمارالزرد)او الوحش :جنس حیوان من ذوات الحوافر وفصیلۃ الخیل ،معروف بالوانہ المخطۃ.”

وفی المورد (قاموس انکلیزی،عربی): (1380)بحوالہ فتاوی دارالعلوم زکریا:(6/240،زمزم)

“العتابی:حمار الزردحمار وحشی ۔”.(zebra)
(کذا فی الصحیح للبخاری :1/516،رحمانیہ)
(کذا فی تنویر الابصار وشرحہ مع الرد:9/507،508،رشیدیہ)
(کذا فی الفتاوی الولوالجیہ:3/56،الحرمین شریفین)
(کذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:4/157،رشیدیہ)
(کذا فی تکملہ فتح الملہم: 3/517، دار العلوم کراتشی)
(کذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:18/445،فاروقیہ)
(کذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2798،رشیدیہ

واللہ اعلم بالصواب

سلیم اللہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:195

 

ایک خاتون حاملہ ہے اور اس کے شوہر نے اسےطلاق دے دی ہے ،دوران عدت اس کے چیک اپ وغیرہ اور زچگی کے اخراجات کس کے ذمہ ہوں گے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

راجح قول کے مطابق مطلقہ حاملہ کے چیک اپ اور زچگی کے تمام اخراجات بذمہ شوہر ہوں گے ۔

لما فی القرآن المجید(الطلاق6)
“{ وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ}.”
و فی الموسوعہ الفقھیہ:41/57(علوم اسلامیہ)
ولانھا حامل بولدہ وھو یجب ان ینفق علیہ ،ولا یمکن الانفاق علی الحمل الااذا انفق علی امہ،فیجب علی الزوج ان ینفق علی تلک الام،کمایجب علیہ اجرۃ الارضاع
کذا فی رد المحتار:5/340(رشیدیہ)
کذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ(10/7381،7385،وایضا:1/7405،رشیدیہ)
کذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(41/41،43،علوم اسلامیہ)
کذافی رد المحتار:(5/294،رشیدیہ)
کذا فی التاتارخانیہ:(5/399،وایضا:5/369،فاروقیہ)
کذافی المحیط البرھانی:(4/319،بیروت)
کذا فی الھندیہ:( 1/549،رشیدیہ)
کذا فی البحر الرائق(4/299،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:191

کہ ایسا کالج بنانا جائز ہے یا نہیں ،جس میں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ بیٹھ کر پڑھیں؟اور اگربنا لیا ہو تو ایسے کالج کی آمدنی کا کیا حکم ہے؟حلال ہے یا حرام ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

اللہ تعالی کا ارشاد ہے : { قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30) وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ } [النور: 30، 31]ان آیات میں تمام مردوں اور عورتوں کو حکم دیا گیا کہ اپنی نظروں کی حفاظت کریں ۔اوردوسری جگہ ارشادہے : { وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً } [الإسراء: 32]زنا کے قریب مت جاؤ۔نا محرم کو دیکھنا زنا کے قریب لے جانے کا ذریعہ ہے،اورمتعدداحادیث میں بھی غیر محرم کی طرف دیکھنے سے منع کیا گیا ہے اور اس کو آنکھوں کا زنا قرار دیا گیا ہے اور اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں اورایسے لوگ جوبدنظری کرتے یاکراتے ہیں ان پر اللہ کی لعنت کے الفاظ بولے گئے ہیں،مزید یہ کہ بے پردگی اورفیشن کی وباءعام ہے،لہذا مخلوط نظام تعلیم میں بد نظری کا ہونا لازمی اوریقینی بات ہے جو کہ حرام اور نا جائز ہے،لہذا انتظامیہ کوچاہیے کہ لڑکوں اورلڑکیوں کے لیے الگ الگ انتظامات کریں،حصول علم کے لیے مخلوط نظام کی تو کوئی ضرورت ہی نہیں ہے ،یہ تو ”جدت پسندی“ اور”جدیدترقی“کانتیجہ ہےاس لیےمخلوط نظام تعلیم والا کالج وغیرہ نہیں بنانا چاہیے ،اوراگر کسی نے بنالیا ہو تواگرچہ اس کی آمدنی تو حلال ہے لیکن انتظامیہ کو چاہیے کہ جلد از جلد مخلوط تعلیم کو ختم کریں ۔

لما فی القرآن المجید (سورۃالنور:30،31)
قل المؤمنین یغضو ا من أبصارھم ویحفضوا فروجھم ذالک أزکی لھم ان اللہ خبیر بما یصنعون وقل للمؤمنات یغضضن من أبصارھن ویحفضن فروجھن ولایبدین زینتھن
وفیہ ایضا: (الاحزاب :53)
“واذاسالتموھن متاعافسألوھن من وراءحجاب ذالکم أطھرلقلوبکم وقلوبھن۔۔۔۔.”
وفیہ ایضا: (بنی اسرائیل :32)
“ولاتقربواالزنی انہ کان فاحشۃوساءسبیلا.”
وفی السنن الکبری للبیھقی (7/159،التجاریہ)
“وعن الحسن رضی اللہ عنہ مرسلا قال :بلغنی ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال :لعن اللہ الناظروالمنظور الیہ .”
وفی الموسوعہ الفقھیہ (الموسوعہ الفقھیہ:40/343،علوم اسلامیہ)
“یحرم نظرالرجل بغیرعذرشرعی الی وجہ المرأۃ الحرۃ الأجنبیۃ وکفیھا کسائر أعضائھا سواءاخاف الفتنۃمن النظر باتفاق الشافعیۃ أولم یخف ذالک
کذا فی الصحیح للبخاری: (2/450،295،رحمانیہ)
کذا فی الموسوعہ الفقھیہ :(40/343،355،علوم اسلامیہ)
کذا فی تنویرالابصارمع الدر المختار: (9/610،رشیدیہ)
کذا فی حاشیہ الطحطاوی: (4/185،رشیدیہ)
کذافی الھندیہ: (5/327،رشیدیہ)
کذا فی المبسوط للسرخسی: (10/152، دارالمعرفہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:194

قربانی کے بڑے جانور میں زیادہ سے زیادہ سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں ،اس سے زیادہ شریک نہیں ہو سکتے اور اگر سات سے کم آدمی شریک ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں ۔جبکہ ہمارے یہاں ایک مولانا صاحب کا کہنا ہے کہ سات حصے بنانا لازمی ہے اس سے کم شرکاء اگرہوں گے تو بھی قربانی نہ ہو گی ۔برائے مہربانی کتاب وسنت کی روشنی میں ہماری راہنمائی فرمائیں ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

قربانی کے بڑے جانور میں زیادہ سے زیادہ سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں اور اگر سات سے کم آدمی شریک ہوں تو بھی کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ کسی کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو ۔

لما فی الصحیح لمسلم رحمہ اللہ
“عن جابر رضی اللہ عنہ قال :خرجنا مع رسول اللہ ﷺ مھلین بالحج فامرنا رسول اللہﷺ ان نشترک فی الابل والبقر کل سبعۃمنا فی بدنۃ۔”
“وعن جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ قال: نحرنا مع رسول اللہ ﷺعام الحدیبیۃ البدنۃ عن سبعۃ والبقرۃ عن سبعۃ۔”
(الصحیح لمسلم:1/491،م:رحمانیہ)
وکذا فی الموطالامام مالک رحمہ اللہ تعالی:۔(395،م:رحمانیہ)
وفی بدائع الصنائع
ولا یجوز بعیر واحد ولابقرۃ واحدۃ عن اکثرمن سبعۃ ۔ویجوز ذالک عن سبعۃ او اقل من ذالک ،وھذا قول عامۃ العلماء۔۔۔والصحیح قول العامۃ لما روی عن رسول اللہ ﷺ:(البدنۃ تجزئ عن سبعۃ والبقرۃ تجزی عن سبعۃ
(بدائع الصنائع :4/206،207،م:رشیدیہ)
وفی الھدایۃ
وتجوز عن خمسۃ او ستۃاو ثلاثۃ ذکرہ محمد رحمہ اللہ تعالی فی الاصل لانہ لما جاز عن سبعۃ
فعمن دونھم اولی ،ولا تجوز عن ثمانیۃاخذا بالقیاس فیما لا نص فیہ ۔

 

(الھدایۃ:4/444،445،م:رحمانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:۔(8/319،م:رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی رحمہ اللہ تعالی :۔(12/12،م:دارالمعرفہ)
وکذا فی تنویر الابصار مع شرحہ والشامیۃ:۔(9/524،525،م:رشیدیہ)
وکذا فی الھندیۃ:۔(5/304،م:رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی :۔(5/202،203،م:الطارق )
وکذا فی خلاصۃ الفتاوی:۔(4/315،م:رشیدیہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
3/2/1440، 2018/10/13
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:56

ظہر کی پہلی چار سنتیں پڑھنے کے دوران اگر جماعت کھڑی ہو جائے تو حکم یہ کہ دو رکعارت پر سلام پھیر کر جماعت میں شریک ہو جائے تو سوال یہ کہ فرض نماز کے بعد اب پوری چار سنتیں دوبارہ پڑھے گا یا جو دورکعات بقیہ رہ گئیں ہیں، ان کو پو را کرے گا، وضاحت مطلوب ہے۔

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں راجح قول کے مطابق فرض کے بعد چار رکعات پوری ادا کرنا ہوں گی ۔

لما فی المحیط البرھانی : ( 2/ 245 ،احیاء تراث العربی )
واما اذا شرع فی النفل ثم اقیمت الفرج ۔۔۔۔۔ وان کان فی الاربع قبل الظہر فقد اختلف المشائخ فیہ ۔۔۔۔ فکان الشیخ القاضی الامام ابو علی النسفی رحمہ اللہ یقول : کنت افتی زمانا انہ یتم الاربع ھھنا حتی وجدت روایۃ عن ابی یوسف رحمہ اللہ انہ یسلم علی راس الرکعتین ۔۔۔ وعلی قیاس ابی یوسف یقضیھا اربعا کما فی سائر التطوعات
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : ( 1/ 263، الطارق ) وکذا فی مجمع الانھر : ( 1/ 209، المنار )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیة: (2 /312، فاروقیہ) وکذا فی فتح القدیر : ( 1/ 488، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ : ( 1/ 120، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 2/1181، رشیدیہ )
وکذا فی الھدایہ :(1/ 158، المیزان )
وکذا فی الموسوعة الفقھیہ : (27/ 158 ، علوم الاسلامیہ )
وکذا فی البنایہ: (2/ 657، رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15، 9، 1440،2019 ،5،21
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:138

کہ جن جانوروں کو پورا سال جنگل میں چرایا جائے، اور رات کو کبھی کبھار تھوڑا بہت گھاس وغیرہ گھر میں ڈالا جاتا ہےتو ان جانوروں پر زکوۃ ہو گی یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں ان جانوروں پر زکوۃ فرض ہو گی۔

لما فی بدائع الصنائع:(2/126،رشیدیہ)
“ثم السائمة هي الراعية التي تكتفي بالرعي عن العلف ويمونها ذلك ولا تحتاج إلى أن تعلف، فإن كانت تسام في بعض السنة وتعلف وتمان في البعض يعتبر فيه الغالب؛ لأن للأكثر حكم الكل “
وکذا فی مجمع الانھر:(1/292،المنار)
“السائمة التی تکتفی بالرعی فی اکثر الحول ۔۔۔۔۔۔ فان علفھا نصف الحول او اکثر فلیست بسائمة”
وکذا فی البحرالرائق:(2/372، رشیدیہ)
وکذا فی المحط البرھانی :(3/171،دار احیاء تراث العربی )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (3/292،مکتبہ المنار )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1915 ،فاروقیہ)
وکذا فی الدر المختار:(3/232،دارالمعرفہ )
وکذا فی المبسوط :(2/150،دارالمعرفہ )
وکذا فی الفتاوی العالمگیریہ :(1/176،رشیدیہ )
وکذا فی خلاصة الفتاوی :(1 /235، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14-1-2019،1440-5-7
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:104

کہ ایک شخص نے کسی سے متعلق کہا کہ اگر میں نے فلاں بات کہی ہو تو میں مسلمان نہیں، حالانکہ اس نے وہ بات کہی تھی، تو اس کے لیے تجدید ایمان و نکاح ضروری ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

عام طور پر جہالت کی وجہ سے اس طرح کے الفاظ اپنی بات کو پختہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، نہ کہ کفر وارتداد کے لیے، اس لیے ان الفاظ سے یہ آدمی کافر نہیں ہو گا اور نا ہی تجدید ایمان و نکاح کی ضرورت ہے، البتہ عام حالات میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا گناہ کبیرہ اور بد ترین جرم ہے، اس لیے مذکورہ شخص پر کثرت سے توبہ و استغفار لازم ہے۔

لما فی الدرالمختار:(5/51،دارالمعرفہ)
والقسم ایضا بقولہ ان فعل کذا فھو یھودی او نصرانی او فاشھدوا علی بالنصرانیۃ او شریک للکفار او کافر فیکفربحنثہ لو فی المستقبل ، اماالماضی عالما بخلافہ فغموس، سواء علقہ بماض او آت ان کان عندہ اعتقادہ انہ یمین وان کان جاھلا، وعندہ انہ یکفر فی الحلف بالغموس وبماشرۃ الشرط فی المستقبل یکفر فیھا لرضاہ بالکفر
وکذا فی مجمع الانھر:(2/ 272، المنار) وکذا فی المبسوط :(8/134،دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(6/20، فاروقیہ) وکذا فی بدائع الصنائع:(3/16،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(6/71،احیاءتراث الاسلام) وکذا فی الھندیہ:(2/54،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(3/110،امدادیہ) وکذا فی خلاصة الفتاوی:(2/127،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/314،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7،5،1440/2019،1،14
جلدنمبر:17 فتوی نمبر:140