ایک عورت كوقرآن پڑھنا نہیں آتا، وہ قرآن کھول کر اس پر انگلی رکھ کر صرف دیکھتی رہے تو کیا اس عورت کو ثواب ملے گا؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اس عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن مجید ناظرہ کی تعلیم حاصل کرے ،ہاں جب تک پڑھنا نہ آئےاس وقت تک اگر وہ قرآن مجید کھول کر اس کو دیکھتی رہےتو اس کو زیارت قرآن کا ثواب ان شاء اللہ ملے گا۔

لما فی شرح الطیبی : (4/318، دارالکتب العلمیہ)
“وانما فضلت القراءۃفی المصحف ،لحظ النظر فی المصحف وحملہ ،ومسہ ،وتمکنہ من التفکر فیہ واستنباط معانیہ .”
وکذا فی المعجم الکبیر:(4/486، دارالکتب العلمیہ)
“عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال :ادیمو االنظر فی المصحف.”
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(4/ 274، التجاریہ)
قولہ (وقراءتہ فی المصحف یضعف)۔۔۔۔۔۔ قال الطیبی:لحظ النظر فی المصحف ،وحملہ ،ومسہ وتمکنہ من التفکرفیہ ۔۔۔۔۔۔ وقال ابن حجر (الی) غایۃ لانتھاء التضعف الفی درجۃ لانہ ضم الی عبادۃ القراءۃ عبادۃ النظر فی المصحف
وکذا فی مجمع الزوائد:(7/247،التجاریہ )
“عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال :ادیمو ا النظر فی المصحف.”
وکذا فی مشکاةالمصابیح):1/191،رحمانیہ)
وکذا فی المصنف عبدالرزاق:(3/362،الکتب الاسلامی)
وکذا فی تحفةالاحوذی:(4/228،قدیمی)
وکذا فی المصنف لابن ابی شیبة:(6/143،کتب العلمییہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17، 7، 1440،2019، 3، 25
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:83

جب امام قرأت شروع کر چکا ہو تو مقتدی ثناء نہیں پڑھے گا ۔ لیکن اگر مقتدی کے ثناء شروع کرنے کے بعد امام نےقرأت شروع کی تو کیا مقتدی اسے مكمل کرے یا خاموش ہو جائے ؟

الجواب باسم ملھم بالصواب

مقتدی کو خاموش ہو کر قرأت سننا چاہیے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (2/ 876،رشیدیہ )
واذا شرع الامام فی القراءۃ الجہریہ او غیرھا ،لم یکن للمقتدی عند الحنابلۃ والحنفیۃ علی المعتمد ان یقرء الثناء ،سواء کان مسبوقا ام مدرکا ،ای لاحقا الامام بعد الابتداء بصلاتہ ،او مدرکا الامام بعد مااشتغل بالقراءۃ ،لان الاستماع للقرآن فی الجہریۃ فرض ،وفی السریۃ یسن تعظیما للقراءۃ
وكذا فی الدر المختار :(1/488، سعید )
وقرء کما کبر سبحانک اللھم ۔۔۔۔۔۔۔ الااذا شرع الامام فی القراءۃ سواء کان مسبوقا او مدرکا وسواء کان امامہ یجھر بالقراءۃ اولا ،فانہ لا یا تی بہ لما فی النھر عن الصغری ادرک الامام فی القیام یثنی مالم یبدا بالقراءۃ
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/218، الطارق )
وکذا فی المحیط البرھانی :(2/133، احیاء تراث العربی )
وکذا فی فتح القدیر :(1/35، رشیدیہ )
وکذا فی کتاب الفقہ :(1/220، الحقانیہ )
وکذا فی الموسوعةالفقھیہ:(4/ 53،علوم الاسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28، 6، 1440، 2019، 3،5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:69

امام رکوع میں ہو تو مقتدی کے لیے کتنا قیام ضروری ہے؟(2) اگر رکوع میں جاتے وقت تکبیر تحریمہ کہہ لے تو نماز کا کیا حکم ہے؟ (3)اگر چلتے ہوئے تکبیر کہی ،تکبیر کے بعد ایک قدم چلا ،پھر رکوع میں چلا گیا ،کیا یہ درست ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

ايسی حالت ميں اتنا قیام کافی ہو گا کہ جس میں وہ تکبیر تحریمہ کہہ سکے۔(2)اگر تکبیر تحریمہ کہتے وقت قیام کے زیا دہ قریب تھا یعنی ہاتھ گھٹنوں تک نہیں پہنچے تھے تو نماز درست ہے ورنہ نہیں۔(3) درست نہیں ہے ۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/68،رشیدیہ)
“ولا یصیر شارعا بالتکبیر الا فی حالۃ القیام او فیما ھو اقرب الیہ من الرکوع۔۔۔۔ حتی لو کبر قاعدا ثم قام لا یصیر شارعا فی الصلوۃ “
وکذا فی الفقہ الحنفی :(1/ 20 3،الطارق)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/337، رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعةالفقھیہ:(37/336، علوم الاسلامیہ)
وکذا فی کتاب التجنیس:(1/432،علوم الاسلامیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/118، احیاء تراث العربی)
وکذا فی البحر الرائق:(1/509،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/195،حقانیہ)
وکذا فی الدر المختار:(1/628،سعید کراچی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
9،8، 1440، 2019، 4، 15
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:27

حكومت كی طرف سے ايك اسكيم جاری ہوئی ہےکہ بینکوں میں چھوٹے پیمانے پر زمینداروں کے لیے ان کی فصل کے اعتبار سے (مثلا :گندم کی صورت میں فی ایکڑ 30000ہزار اور گنے کے اعتبار سے فی ایکڑ 50000 ہزار روپے )قرض دیا جائے گا، اور وہ قرض 6 ماہ کے اندر اندر ادا کر دیا تو سود بھی نہیں لگے گا ،اگر تاخیر کی تو كچھ سود بھی دینا پڑے گا ، تو اس صورت کا کیا حکم ہے ؟ جبکہ قرض خواہ کو پورا یقین ہے کہ میں چھ ماہ کے اندر اندر ادا ء کر دوں گا، اور مجھے سود نہیں دینا پڑے گا ۔اور چھ ما کے اندر اندر ادا کرنے والا گناہ گا ہو گا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر آدمی ضرورت مند ہو ،کہیں اور سے سود کی شرط کے بغير قرض ملنے کی امید بھی نہ ہواور قرض دار کو سود کی مدت سے پہلے پہلے قرض ادا کرنے کا پورا یقین ہو تو اس کے لیے ایسا قرض لینے کی گنجائش ہے ورنہ نہیں۔

لما فی الفقہ البیوع : ( 1/462، معارف القرآن)
حکم التعاقد مع مصدر البطاقۃ فی حین ان العقد یصرح بان حامل البطاقۃ ان لم یسدد الفاتورۃ خلال فترۃ السماح التی ھی شھر عادۃ فان المصدر یتقاضی علیہ زیادۃ فان مثل ھذا الاشتراط محرم شرعا لکونہ ربا، ولکن یمکن لحامل البطاقۃ التحرز منہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فالمجو ان حاملہ یعتبر معذورا فی الدخول فی ھذا العقد ان شاء اللہ تعالی بعد اخذ الجمیع الاحتیاط اللازمۃ لان لا یلجاء الی دفع الفائدۃ الربویۃ
وکذافی تنویر الابصار: ( 5/165،سعید کراچی )
وکذا فی الموسوعةالفقهيه: (33 /130،علوم الاسلاميه )
وکذا فی الفقه الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 4/ 220،الطارق )
وکذا فی البحر الرائق : (6/ 208، رشیدیہ )
وکذا فی منحةالخالق :(6/208،رشیدیہ )
وکذا فی البناية:( 7/338،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (5/3698،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع : (4/400،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہراقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24-2-2019،18-6-1440
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:174

بعض لوگ کسی ادارے مثلا دفتر ،فیکٹری اور مدرسے وغیرہ میں اپنے اوقات کار کے دوران جن نمازوں کا وقت آجائے وہ ادا کرتے ہیں ، اس کے لیے انہوں نے کوئی جگہ مختص نہیں کی ہوئی، بلکہ کبھی کہیں جماعت کروالتے ہیں اور کبھی کہیں ، تو ان لوگوں کے لیے ایسی جگہ پر با جماعت نماز پڑھنے سے مسجد کی فضیلت حاصل ہوگی ؟ اور اسی طرح اگر کوئی شخص ایسی جگہ تحیۃ المسجد پڑھنا چاہے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کا ثواب زیادہ ہے بنسبت کہیں اور باجماعت نمازپڑھنے سے، لہذا مذکوره صورت میں مسجد کا ثواب نہیں ملے گا، اور تحیۃ المسجد بھی مسجد کے ساتھ خاص ہے۔

لمافی الموسوعةالفقھیہ : (37/ 201،علوم الاسلامیہ )
یری الجمھور الفقھاء انہ یسن بکل من یدخل مسجدا غیر المسجد الحرام یرید الجلوس بہ وکان متوضئا ،ان یصلی رکعتین او اکثر قبل الجلوس
وکذا فی مرقاة المفاتيح : (2/ 402، التجاریہ )
وکذا فی الدر المختار : (1/554،سعید )
وکذا فی ردالمحتار : (2/18، سعید )
وکذا فی المحیط البرھانی : (2/ 211، احیاء تراث العربی )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : (1/ 259،الطارق )
وکذا فی کتاب الفقہ : ( 1/ 286، حقانیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ : (2/ 280، فاروقیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19، 6، 1440،2019، 2، 25
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:200

اگر مسبوق نے رکوع ہی میں تکبیر تحریمہ کہی تو کیا نماز درست ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

نماز نہیں ہو گی۔

لما فی المحیط البرھانی : (3/118، احیاء تراث العربی )
واذا جاء المسبوق الی الامام وھو راکع ،وفی ید ھذا المسبوق شئ فوضعہ ،حتی صار منحطا ،فکبر تکبیر تین ،ودخل فی الصلوۃ ،قال ھشام : قال ابو حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی: لو وقع تکبیر ۃ الافتتاح قائما ،وھو مستو ایضا صح الشروع وان وقع وھو منحط غیر مستو لا یجوز
وکذا فی الفتاوی الولواجیہ :(1/89،الحرمین )
اذا ادرک الامام وھو راکع فکبر وھو یرید تکبیر ۃ الرکوع ینظر ان کبر وھو قائم جازت صلاتہ ۔۔۔۔۔۔وان کبر وھو راکع لم تجز صلاتہ بفوات القیام
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/ 91،رشیدیہ )
وکذا فی کتاب التجنیس :(1/432،علوم الاسلامیہ )
وکذا فی فتاوی النوازل :(82،الحقانیہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(1/ 261، الطارق )
وکذا فی الموسوعة الفقھیہ : (37/161،علوم الاسلامیہ )
وکذا فی کتاب الفقہ :(1/195،حقانیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہراقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3، 7، 1440 ،2019، 3،11
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:68

اگر امام نے “وَأَنْتُمْ عَنْهُ غَافِلُونَ”کی جگہ “وَأَنْتُمْ لهُ غَافِلُونَ”پڑھ دیا تو نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

درست ہے۔

لما فی غنيةالمستملی:(476،رشیدیہ)
عن ابی منصور العراقی یعتبر عسر الفصل بین الحرفین وعدمہ وعنہ کل کلمۃ فیھا عین او حاء،او قاف، او تاء، وفیھا سین او صاد فقرء احدھما مکان الآخر لاتفسد
وکذا فی کتاب التجنیس:(1/488، علوم الاسلامیہ)
ابدال حرف بحرف اذا کان لایغیر المعنیٰ لاتفسد الصلوۃ ۔۔۔۔۔۔۔ نحو ما اذا قراء فاماالیتیم فلا تکھر واماالسائل فلا تنھرلان المعنی قریب
وکذا فی الفتاوی الولوالجية:(1/73، حرمين)
وکذا فی الدر المختار:(1/231، سعید)
وکذا فی المحیط البرھانی: (2/ 61، احیاء تراث العربی)
وکذا فی الموسوعة الفقھیہ:( 35/ 216،علوم الاسلامیہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/ 79، رشیدیہ)
وکذا في الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1037، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ:(2/81، فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17، 7، 1440،2019، 3، 25
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:82

کیا موبائل پر بات ختم کرنے کے بعد آخر میں سلام کا جواب دینا ضروری ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

گفتگو كے آغاز اور آخر ميں سلام كرنا سنت ہے۔

لما فی سنن ابی داود : ( 2/327،رحمانیہ )
عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا انتھی احدکم الی المجلس فلیسلم فاذا اراد ان یقوم فلیسلم فلیست الاولی باحق من الآخر
وکذا فی جامع الترمذی : ( 2/ 558،رحمانیہ )
عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا انتھی احدکم الی المجلس فلیسلم فان بدا لہ ان یجلس فلیجلس ثم اذا قام فلیسلم
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:( 5/ 405، الطارق)
ویسلم علی القوم حین یدخل علیھم ،وحین یفارقھم فمن فعل ذالک شارکھم فی کل خیر عملوہ بعدہ
وکذا فی الاذکار للنووی : (335، دارالبشائر الاسلامیہ )
وکذا فی تحفة الاحوذی :(7/ 517، قدیمی )
وکذا فی بذل المجھود : (20/ 77،قدیمی )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ :(18/ 84،فاروقیہ )
وکذا فی الدر المختار : (6/ 416،سعید )
وکذا فی الموسوعةالفقھیة :(25/ 172، علوم الاسلامیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(4/2686،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17، 6، 1440، 2019، 2، 23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:199

کہ اگر لڑکا اور لڑکی والدین کی مر ضی کے خلاف چوری چھپے نکاح کر لیں اور پتہ چلنے پر دونوں کے والدین اس نکاح پر راضی نہ ہوں تو کیا یہ نکاح درست ہو گا ؟ خاص طور پر اگر لڑکی ذات پات اور رتبے کے لحاظ سے لڑکے اور اس لڑکے کے خاندان کے رتبے اور حیثیت کے برابر نہ ہو، یعنی لڑ کی کا تعلق لڑکے کی بنسبت کم حیثیت اور کم درجے والے خاندان سے ہو ، اور لڑکے کے والدین کسی بھی صورت پر اس نکاح کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں تو اس نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہو گی ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

شرعاً یہ نکاح تو درست ہے ،لیکن سرپرستوں کی اجازت کے بغیر چھپ کر نکاح کر لینا بہت نا مناسب حرکت ہے، عورت کے خاندان کا مرد کے خاندان سے کم حیثیت ہونا نکاح کے صحیح ہونے میں مضر نہیں ۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ : (1/290، رشیدیہ )
فاذا تزوجت المر اۃ رجلا خیرا فلیس للولی ان یفرق بینھما ،فان الولی لا یتعیر بان یکون تحت الرجل من لا یکا فئوہ ،کذا فی شرح المبسوط للامام السرخی
وکذا فی الموسوعةالفقھیة : (34/267،علوم الاسلامیہ )
فذھب الحنفیۃ والحنابلۃ الی ۔۔۔۔۔ ان الکفاءۃ تعتبر فی جانب الرجال للنساء ، ولا تعتبر فی جانب النساء للرجال ،لان النصو ص وردت باعتبارھا فی جانب الرجال خاصۃ۔
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 9/6742، رشیدیہ )
وکذا فی النھر الفائق : (2/217،قدیمی )
وکذا فی البنایہ : ( 4/619، رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع : (2/ 629، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق : ( 3/225 ، رشیدیہ )
وکذا فی الدر المختار : ( 3/ 84 ،ایچ ایم سعید )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
27، 5، 1440/ 2019، 2، 3
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:111

ایک آدمی نے ایک طلاق دی پھر ایک ماہ کے بعد دوسری طلاق دی ، پهر ايك ماه كے بعد تيسری طلاق دی، تو اب وہ مطلقہ کتنی عدت گزارے گی۔

الجواب باسم ملھم الصواب

پہلی طلاق کے بعد تین حیض پورے ہونے پر عدت مکمل ہو جائے گی۔ اگر عورت کو حیض نہ آتا ہوتو پہلی طلاق کے بعد تین ماہ مکمل کرے۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ: (1/ 532، رشیدیہ )
رجل قال : لامراتہ المدخولۃ کلما حضت وطھرت فانت طالق فحاضت ثلاث حیض کانت العدۃ من وقت الطلاق الاول کذا فی قاضیخان
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ : (5/ 227، فاروقیہ )
وعدۃ الطلاق تارۃ تکون بالشھور وتارۃ تکون بوضع الحمل ،والشھور بدل فیمن لاتحیض بصغر او کبر او فقد حیض یعنی الآیسۃ فالحرۃ تعتد بثلاث حیض او ثلاثۃ اشھر
وکذا فی المحیط البرھانی : ( 5/231،احیاء تراث العربی )
وکذا فی کتاب الفقہ : (3/ 295،حقانیہ)
وکذا فی مجمع الانھر : (2/ 149، المنار )
وکذا فی بدائع الصنائع :3/ 142، رشیدیہ )
وکذا فی الدر المختار : (3/520، سعید )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14، 6، 1440، 2019، 2، 20
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:189