بیمہ پالیسی لینا کیسا ہے؟ اور جس نے لی ہوئی ہو تو وہ اب کیا کرے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

بیمہ پالیسی لینا جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں سود ،دھوکہ اور جوا پائے جاتے ہیں، اگر یہ پالیسی لی ہوئی ہوتو اس کو ختم کرنا ضروری ہے، اصل رقم واپس لے اور اس پرملنے والا نفع سود ہے، لہذا اس کو بلانیت ثواب صدقہ کردے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3423،رشیدیہ)
أما التأمین التجاری اوالتأمین ذوالقسط الثابت فھو غیر جائز ، وھو رأياکثر الفقہاء العصر وھو ماقررہ المؤتمر العالمی الاولی للاقتصاد الاسلامی فی مکۃ المکرمۃ،وسبب عدم الجواز یکاد ینحصر فی امرین :ھما الغرر والربا ۔۔۔۔۔۔۔والربا واضح بین العاقدین : المؤمن والمستامن ،لانہ لاتعادل ولا مساواۃ بین الأقساط التأمین وعوض التأمین فما تدفعہ الشرکۃ قد یکون أقل او أکثر ،او مساویا للأقساط وھذا نادر
وکذ افی الفقہ البیوع:(2/1067، معارف القرآن)
أماالأقساط التأمین : فانھا حصلت علیھا الشرکۃ بعقد محظور ،فان کان العقد یلتزم ان توفر الشرکۃ للمؤمن لہ نقد ا یعوضہ عن الضرر المؤمن علیہ ۔۔۔۔۔۔۔فان ھذا العقد فیہ ربا ،لانہ لاتماثل بین الأقساط وبین مبلغ التأمین ،وعلی ھذا ،فانہ عقد باطل مثل الربا ،واقساط التأمین التی أخذت من اصحابھا کلھا حرام.
وکذا فی الدرالمختار:(4/17، سعید )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/63،الطارق)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4387، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
26، 7، 1440، 2019،4، 3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:133

ایک شخص کی وفات ہوئی ہے اور اس کی تین بیویاں ہیں،ان میں سے دو کی اولاد نہیں اور ایک بیوی کا صرف ایک بیٹا ہے،جس بیوی کا ایک بیٹاہے اس نے ساری جائیداد مثلاً :گھر ،ٹریکٹر اورقریبی زمین سب پر قبضہ کیا ہوا ہے اور کہتی ہے کہ جو باہر کی زمین ہے اس میں سےآٹھواں حصہ صرف ہم تین بیویوں میں تقسیم ہوگا، باقی سب میری اور میرے بیٹے کی ہو گی،دوسری بیویوں کا اس میں کوئی حق نہیں۔ ایسی صورت میں شرعی حکم واضح فرما کر ممنون فرمائیں۔

الجواب باسم ملھم الصواب

مرحوم کی تمام جائیداد یعنی گھر، ٹریکٹر ،زمین اور نقدی وغیرہ کا آٹھواں حصہ تینوں بیویوں میں برابر تقسیم ہوگا،باقی سب لڑکے کو ملے گا، ایک بیوی کا دوسروں کا حق دبانا جائز نہیں بلکہ حرام اور سخت گناہ ہے۔

لما فی الصحیح لمسلم:(1/42،رحمانیہ)
عن سعید بن زید بن عمروبن نفیل ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:من اقتطع شبرا من الارض ظلما طوقہ اللہ ایاہ یوم القیامۃ من سبع ارضین.
وکذا فی القرآن المجید:(النساء،12)
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ:(6/450،رشیدیہ)
“واما الثمن ففرض الزوجۃ اوالزوجات اذا کان للمیت ولد او ولدابن.
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(20/242،فاروقیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(9/374، رشیدیہ)
وکذا فی الدر المختار:(10/544،دارالمعرفہ)
وکذا فی المحیط البرھانی: (23/298، احیاء تراث العربی)
وکذا فی کنز الدقائق:(500،الحقانیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(6/233،امدادیہ)
وکذا فی السراجی:(7، شرکت العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
9،8، 1440،2019، 4، 15
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:198

ایک شخص کے کھیت میں خنزیر مرگیااور سیلاب کا پانی آیا تو پورے کھیت میں گندم کی فصل پر اس پانی کا مکمل اثر پہنچا،کیا یہ فصل استعمال کے لیے حلال ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

حلال ہے۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:( 1/45،الطارق)
الجفاف آلۃ مطہرۃ للارض المتنجسۃفقط ،فاذا جفت الارض المتنجسۃ،ولم یظھر اثر للنجاسۃ طھرت بالجفاف، وکل ما کان ثابتا فی الارض ثبات استقرار، کالشجر والکلأَ والحصی والرمل، یاخذحکم الارض
وفی المحیط البرھانی:(1/382،احیاء تراث العربی)
وعن الحسن بن ابی مطیع رحمہ اللہ تعالی قال :لو ان ارضا اصابتھا نجاسۃ ،فصب علیھا الماء ، فجری علیھا الی ان اخذت قد رذراع من الارض ،طھرت الارض والماء طاھر ،ویکون ذلک بمنزلۃ الماء الجاری
وکذا فی الجوھرة النیرة:(1/104،قدیمی)
وکذا فی البنایہ:(1/727،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/44، رشیدیہ)
وکذا فی الدر المختار: 1/311،سعید )
وکذا فی فتاوی النوازل:(35،الحقانیہ)
وکذا فی فتاوی الولوالجیہ:(1/44،الحرمین)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
9،8، 1440، 2019، 4، 15
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:26

ایک مسئلہ کے بارے میں دریافت کرنا تھا کہ ایک امام صاحب نے مغرب کی نماز پڑھاتے ہوئے تیسری رکعت میں سورت فاتحہ بلند آواز سے پڑھی اور سجدہ سہو نہیں کیا ،تو آیا نماز ہو گئی یا اس کا اعادہ کرنا ہو گا؟ جب امام صاحب کو کہا گیا کہ آپ نے سجدہ سہو نہیں کیا تو امام صاحب نے کہا کہ اگر ظہر یا عصر میں جہرا قرأت ہو جائے توسجدہ سہو ہوتا ہے،مغرب میں نہیں،آیا یہ بات درست ہے جو امام صاحب نے کہی ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

نماز کا اعادہ ضروری ہے،امام صاحب کی بات درست نہیں۔

لما فی الدرالمختار:(2/200، رشیدیہ)
وقولہ (فیما یجھر ویسر) لف ونشریعنی ان الجھر یجب علی الامام فیمایجھر فیہ وھو صلاۃ الصبح والاولیان من المغرب والعشاء وصلاۃ العیدین ۔۔۔۔۔ والاسرار یجب علی الامام والمنفرد فیما یسر فیہ وھو صلاۃ الظھر والعصر والثالثۃ من المغرب
وكذا فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/128، رشیدیہ)
وكذا فی فتاوی النوازل :(100، الحقانیہ)
وكذا فی المحیط البرھانی:(2/311، احیاء تراث العربی)
وكذا فی الدر المختار:(2/251،دارالمعرفہ)
وكذا فی البنایہ:(2/737، رشیدیہ)
وكذا فی الجوھرة النیرة:(1/200،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
18، 7، 1440،2019، 3، 26
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:71

! میرے چچا كافیصل آباد میں گھرتعمیر ہو رہا ہے، انہوں نے اپنی رہائش مستقل طور پر فیصل آباد میں رکھنے کا ارادہ کر لیا ہے، گھر کی تعمیرمکمل ہونے تک وہ دوسرے چچا کے ساتھ فیصل آباد میں ہی رہ رہے رہیں ،جبکہ ہمارا ایک مشترکہ گھر شورکوٹ میں بھی ہےتو کیا اب وہ وہاں نماز مکمل پڑھیں گے یا قصر کریں ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

فیصل آباد میں مکمل نماز پڑھیں گے۔

لما فی کتاب الفقہ:(1/408،حقانیہ)
ثم ان الوطن الاصلی لا یبطل الا بمثلہ ،فاذا ولد شخص باسیوط مثلا کانت لہ وطنا اصلیا ،فان خرج منھا الی القاھرۃ وتزوج بھا او مکث فیھا بقصد الاستقرار والتعیش کانت لہ وطنا اصلیا کذالک ،فاذا سافر من القاھرۃ الی اسیوط التی ولد بھا وجب علیہ قصر الصلاۃ فیھا مالم ینو المدۃ التی تقطع القصر
وکذا فی الدر المختار:(2/739،رشیدیہ)
وکذا فی النھر الفائق :(1/ 349، قدیمی )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(1/313،الطارق)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1364،رشیدیہ)
وکذا فی الجوھرةالنیرة:(1/219،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
26، 7، 1440،2019 ،4، 3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:139

فجر کی نماز میں ایک رکعت میں کم از کم کتنی آیات کی تلاوت ہونی چاہیے مسنون کیا ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

نماز فجر میں مسنون قرات کے مختلف آثار موجود ہیں ،نمازیوں کی حالت کا اعتبار کرتے ہوئے دونوں رکعتوں میں چالیس سے سو آیات تک تلاوت کی جاسکتی ہیں۔

لما فی المحیط البرھانی :(2/43، احیاء تراث العربی)
ذکر فی الجامع الصغیر انہ یقرء فی الفجر فی الرکعتین باربعین او خمسین او ستین سوی الفاتحۃ الکتاب ۔۔۔۔۔۔۔ وذکر فی الاصل انہ یقرء باربعین سوی الفاتحۃ الکتاب ۔۔۔۔ والآثار قد اختلفت عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فعنہ انہ کان یقرء فی الفجر من ستین آیۃ الی مئۃ
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/474،رشیدیہ)
واما القدر المستحب من القراءۃ فقد اختلف الروایات فیہ عن ابی حنیفۃ ذکر فی الاصل ویقرء الامام فی الفجر فی الرکعتین جمیعا باربعین آیۃ مع فاتحۃ الکتاب ،ای سواھا ،وذکر فی الجامع الصغیر باربعین ،خمسین ،ستین سوی الفاتحۃ الکتاب ،وروی الحسن فی المجرد عن ابی حنیفۃ مابین ستین الی مائۃ ،وانما اختلف الروایات لاختلاف الاخبار
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/62، فاروقیہ)
وکذا فی الجوھرةالنیرة:(1/156، قدیمی)
وکذا فی الفتاوی النوازل:(77،الحقانیہ )
وکذا فی البحر الرائق:(1/595،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/226،البشری)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
2،8، 1440،2019، 4، 8
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:191

ہماری مسجد کے ساتھ پانی کا نالہ ہے جس سے مینڈک مسجد میں آجاتے ہیں، اور پیشاب بھی کردیتے ہیں، تو کیا جس جگہ مینڈک کاپیشاب لگا ہوا ہو وہاں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اصولا تو مینڈک کا پیشاب نجس ہے لیکن چونکہ اس سے پچنا ممکن نہیں ہے، اس لیے ضرورت کے پیش نظر ان کے پیشاب کا معاف ہونا معلوم ہوتا ہے،لیکن اگر کسی جگہ پیشاب کے واضح نشانات ہوں تو اس کو دھو لیا جائے، ورنہ شک و شبہ میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔

لما فی الدر المختار:(1/574،دارالمعرفہ)
وبول غیر ماکول ولومن صغیر لم یطعم )الا بول الخفاش وخرأہ فطاھر،وکذا بول الفارۃ لتعذر التحرز عنہ ،وعلیہ الفتوی کما فی التاتر خانیۃ وسیجئ آخر الکتاب ان خرأھا لا یفسد مالم یظھر اثرہ وفی الاشباہ :بول السنور فی غیر اوانی الماء عفو
وکذا فی المحیط البرھانی :(1/367،احیاء تراث العربی)
وبول الخفاش وخرأہ لیس بشئ ،لانہ لایستطاع الامتناع عنہ ،وکذا دم البق والبراغیث لیس بشئ وان کثر لانہ لیس بدم مسفوح
وکذا فی البنایہ:(1/747،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقھیہ:(40/113،علوم الاسلامیہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/46،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/45،الطارق)
وکذا فی فتاوی النوازل:(29،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
26، 7، 1440،2019، 4، 3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:148

ایک آدمی نے کولڈ سٹور میں آلو کی بوریاں رکھی ہیں اور فی بو ری کرایہ 430 روپے طے ہوا ہے ،اس شرط پر کہ یہ کرایہ اس وقت تک ہے جب تک بوریاں سٹور میں ہیں ،یعنی ایک ماہ بعد نکلواؤں یا چھ ماہ بعد یا دس دن کے بعد ،کرایہ یہی ہو گا۔کیا یہ معاملہ درست ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

کولڈ سٹور میں آلو رکھنے کی مدت متعین ہونا ضروری ہے، ورنہ معاملہ درست نہیں ہو گا، مقررہ مدت سے پہلے اگر نکالنا چاہے تو کوئی حرج نہیں۔

لما فی المحیط البرھانی :(11/217،احیاء تراث العربی)
واما بیان شرطھا : فنقول یجب ان تکون الاجرۃ معلومۃ ،والعمل ان وردت الاجارۃعلی العمل والمنفعۃ ان وردت الاجارۃ علی المنفعۃ ،وھذ الان الاجرۃ معقود بہ والعمل او المنفعۃ معقودعلیہ واعلام المعقود علیہ شرط تحرزا عن المنازعۃ کما فی الباب البیع واعلام المنفعۃ ببیان الوقت ،وھو الاجل
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/ 24، رشیدیہ)
منھا ان یکون المعقود علیہ وھو المنفعۃ معلوما علما یمنع من المنازعۃ ،فان کان مجھولا لاینظر ان کانت تلک الجہالۃ مفضیۃ الی المنازعۃ تمنع صحۃ العقد والا فلا ،لان الجہالۃ المفضیۃ الی المنازعۃ تمنع من التسلیم والتسلم فلا یحصل المقصود
وکذا فی البحر الرائق:(4/24،رشیدیہ) وکذا فی الدر المختار :(9/9،دارا المعرفہ)
وکذا فی کتاب الفقہ :(3/78،الحقانیہ) وکذا فی فتاوی المنازل:(375،الحقانیہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ:(4/411،رشیدیہ) وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3812،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
2، 8، 1440،2019، 4، 8
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:192

کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے دن کا روزہ اس لیے رکھا کرتے تھے کہ اس دن آپ کی ولادت ہوئی تھی، یا کوئی اور وجہ بھی تھی؟

الجواب باسم ملھم الصواب

حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیرکے دن کا روزہ کئی وجوہات سے رکھا کرتے تھے،(1) پیر کے دن اللہ کے ہاں اعمال پیش کیے جاتے ہیں،(2) اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی (3) اسی دن آپ مدینہ میں داخل ہوئے، (4) اسی دن آپ کو نبوت ملی، (5) اسی دن آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔

لما فی الصحیح لمسلم:(1/430،رحمانیہ)
عن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سئل عن صوم الاثنین فقال فیہ ولدت وفیہ انزل علی.”
وکذا فی جامع الترمذی :(1/276،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال :تعرض الاعمال یوم الاثنین والخمیس فاحب ان یعرض عملی واناصائم.”
وکذا فی معارف السنن :(5/426،سعید )
واما وجہ تخصیص صلی اللہ علیہ وسلم یوم الاثنین والخمیس فلرفع الاعمال فیھما الی اللہ تعالی ، وایضا ان الاثنین فیہ ولد صلی اللہ علیہ وسلم وفیہ دخل المدینہ ای قباء
وکذا فی مشکاة المصابیح:(1/181،رحمانیہ)
وکذا فی مرقاةالمفاتیح:(4/543، التجاریہ)
وکذا فی فتح المھم :(5/323،دارالعلوم کراچی)
وکذا فی شرح الطیبی:(4/219،کتب العلمیہ)
وکذا فی تحفة الاحوذی:(3/515،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
26، 7، 1440،2019،4، 3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:138

ایک محلے والوں نے آپس میں پیسے جمع کر کے زمین خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دی، اس كے بعض حصہ پر مسجد بنی ہوئی ہے،اور بعض حصہ مسجد کا صحن ہے، اب جو حصہ صحن یعنی خالی جگہ ہے، شرکاء (محلے والوں)کا اس کے بارے میں اختلاف ہو گیا ہے، بعض کہتے ہیں کہ اس میں مدرسہ بناتے ہیں،اور بعض کہتے ہیں اس جگہ کو مسجد کے لیے ہی چھوڑ دیتے ہیں، اس میں مدرسہ نہیں بناتے، تو آیا اس حصہ میں مدرسہ بنانا شرعا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مذکورہ صورت میں اگر یہ صحن والی جگہ مسجد کی ضرورت سے زائد ہےاور مدرسہ بنانے میں مسجد و اہل محلہ کا فائدہ ہے تو مدرسہ بنانے کی گنجائش ہے۔

لما فی معارف السنن:(3/301،سعید )
قال الراقم: ومماتبین لی بعد فحص وبحث کثیر انہ اذا اجتمعت اموال کثیرۃ تزید علی اعادۃ بناء المسجد ان احتیج الیہ فیجوز صرف الزائد الی انشاء مدرسۃ ونشر علم وان لم یکن من شرط الواقف وعبارۃ الخانیہ فیہ صریحۃ وان کان قیدھاصاحب المھدیۃبغیر وقف المسجد ویکاد یجب لو کان ھناک وظیفۃ لضیاع مال المسجد المجتمع بغصب المتولی او غیرہ، وبالجملۃ اذا جوزو االتزخرف بہ من مال الوقف عند خوف الضیاع وجعلوا الدفع الی الفقراء اولی، وذکر فی المضمرات ان علیہ الفتوی
وکذا فی البحر الرئق: (5/418، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ:(2/ 430، رشیدیہ)
وکذا فی الدر المختار:(6/548، رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(9/136،احیاء تراث العربی)
وکذا فی فتاوی قاضی خان علی الھندیة:(3/291، رشیدیہ)
وکذا فی فتاوی النوازل:(339،الحقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3، 7، 1440،2019، 3، 11
فتوی نمبر:18 جلد نمبر:67