قبر ستان میں داخل ہونے کا مسنون طریقہ کیا ہے۔

الجواب باسم ملھم الصواب

قبرستان میں جب جائیں تو سب سے پہلے “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ يَغْفِرُ اللَّہُ لَنَا وَلَكُمْ أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ”کہے یا پھر “السلامُ عليكم دَارَ قوم مُؤمنينَ، وإنَّا إن شاء اللهُ بكُم لاحِقُون” کہے، پھر میت کے پاوں والی طرف سے میت کے چہرے کی جانب کھڑا ہو،پھر میت کے لیے دعائے مغفرت کرے۔

لما فی سنن ابی داود : (2/ 107، رحمانیة )
“عن أبي هريرة: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- خرج إلى المقبرة، فقال: “السلام عليكم دار قوم مؤمنين، وإنا إن شاء الله بكم لاحقون”
وکذا فی جامع الترمذی : (1/329، رحمانیة)
عن ابن عباس، قال: مر النبي صلى الله عليه وسلم بقبور بالمدينة، فأقبل عليهم بوجهه، فقال: السلام عليكم يا أهل القبور! يغفر الله لنا ولكم، أنتم سلفنا، ونحن بالأثر
وکذا فی الصحیح لمسلم : ( 1/370، رحمانیة )
وکذا فی الدر المختار : (3/179،دارالمعرفہ )
وکذا فی سنن ابن ماجہ : ( 222، رحمانیة )
وکذا فی تحفة الاحوذی :(4/149،قدیمی )
وکذا فی شرح الطیبی : (3/433،الکتب العلمیة )
وکذا فی مشکاۃ المصابیح : (1/156،رحمانیة )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (2/1571،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : (1/348،الطارق )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
27، 5، 1440/ 2019، 2، 3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:137

سود کی تعریف بحوالہ بتا دیں۔

الجواب باسم ملھم الصواب

کسی شخص کو دی ہوئی رقم پر طے کرکے کسی بھی قسم کی زیادتی کا مطالبہ کرنا ،یا دو ہم جنس اشیاء کے تبادلے کے وقت مشروط اضافے کا مطالبہ “سود” کہلاتا ہے۔

لما فی المعجم الوسیط:(326،دارالدعوہ)
الربا فی الشرع فضل خال عن عوض شرط لاحد المتعاقدین وفی علم الاقتصاد المبلغ یؤدیہ المقترض زیادۃ علی ما اقترض تبعا لشروط خاصۃ
وکذافی القاموس الفقھی :(143، ادارۃ القرآن )
الربا : الفضل والزیادۃ ۔۔۔۔۔۔۔ شرعا ، ھو فضل خال عن عوض بمعیار شرعی مشروط لاحد المتعاقدین فی معاوضۃ
وکذا فی معجم لغة الفقہاء:(218،علوم الاسلامیہ )
“الربا بکسر الراء من ربا الشیئ یربو ربوا : اذازاد کل زیادۃ مشروطۃ فی العقد خالیۃ عن عوض مشروع “
وکذا فی رد المختار: (7/417، دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ: (3/ 117، رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق: (6/207، رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة: (22/50، علوم الاسلامیہ)
وکذا فی کنز الدقائق : (248،حقانیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (5/ 3698، رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/ 400، رشیدیہ)
وکذا فی فقہ البیوع: (2/661،معارف القرآن )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15، 5، 1440/ 2019، 1، 22
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:144

شوربے والے سالن میں کوا چونچ مار کر گیا تو سالن کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مکروہ ہے ۔

لما فی المحیط البرھانی:(1/285،احیاء تراث العربی)
“وکذلک سؤر سباع الطیرکالصقر والبازی والشاھین مکروہ ،وھذا استحسان”
وکذا فی مجمع الانھر :(1/55،المنار)
“وسؤر الھر ۃ والدجاجۃ المخلاۃ وسباع الطیر وسواکن البیت کالحیۃ والفارۃ مکروہ”
وکذا فی الفتاوی التا تا ر خانیہ :(1/351،فاروقیہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ: (1/24،رشیدیہ)
وکذا فی الدر المختار:(1/426،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق: (1/232،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر القدوری:(9،الخلیل)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/282،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(1/116،رشیدیہ)
وکذا فی الجو ھر ۃ النیرۃ:(1/61،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعہ الحسن ساہیوال
13، 5 ،1440/2019، 1،20
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:143

 

ایک شخص اپنے ملازم کو کہتا ہے، کہ یہ چیز ہزار روپے میں فروخت کرو، لیکن ملازم چرب لسانی کے استعمال سے اسے ہزار سے زیادہ میں فروخت کرتا ہے تو کیا یہ زائد رقم اس کے لیے حلال ہے ؟

الجوا ب باسم ملھم الصواب

یہ زائد رقم بھی مالک کی ہے اس لیے مالک کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں ۔

لما فی الفتاوی التاتار خانیہ: (12 /377، فاروقیہ )
“ولو وکلہ بالبیع بالف ثم زاد المشتری فی الثمن خمسمائۃ فالزیادۃ للآمر”
وکذا فی الموسوعةالفقھیة: (45/46، علوم الاسلامیہ )
“اذا باع الوکیل باکثر من الثمن المحدد لہ وکانت الزیادۃ من جنس الثمن فان البیع یکون صحیحا عند الجمہور الفقہاء “
وکذافی مجمع الانھر : 3/324،مکتبةالمنار )
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:4/ 328، الحرمین )
وکذافی البحر الرائق : (7/282،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریة:(3/ 592، رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی :15/ 101،احیاء تراث العربی)
وکذافی الموسوعة الفقھیة: (45/ 42، علوم الاسلامیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ : 5/ 4019، رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع : (5/26، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16، 5، 1440/ 2019، 1، 23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:142

ایک آدمی نے دوسال کی قسطوں پرایک پلاٹ 24 لاکھ روپے میں خریدا اس پر قبضہ بھی کرلیا ، اورہر مہینہ ایک لاکھ روپے ادا کرتا رہا ، اس طرح اس نے 6 اقساط ادا کردیں ، لیکن مذکور ہ پلاٹ اس کے نام پر نہیں اصل مالک کے نام ہے، اب اس پلاٹ کی قیمت 30 لاکھ ہے ، کیا وہ آدمی اس پلاٹ کو آگے 30لاکھ میں فروخت کرسکتا ہے کہ خرید ار بقیہ قسطیں مالک کو ادا کرے گا اور 12 لاکھ روپے اس آدمی کو دے گا، اور اصل مالک اس پہ راضی ہے کہ جب بقیہ 18 قسطیں مکمل ہوں گی تو میں پلاٹ اس دوسرے آدمی کے نام لگوادوں گا۔

الجواب باسم ملھم الصواب

مذکورہ صورت میں یہ آدمی اصل مالک کی رضامندی سے پلاٹ آگے فروخت کرسکتا ہے۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ : ( 3/ 20 ، رشیدیہ)
“واذا امر المشتری البائع بطحن الحنطۃ فطحن صار قابضا والدقیق للمشتری کذا فی البحر الرائق “
وکذا فی الدر المختار : ( 8/ 19، دارالمعرفہ )
ولو باع بشرط ان یحتال بالثمن صح شرط ملائم کشرط الجودۃ ۔۔۔۔۔لانہ یؤکد موجب العقد ، اذا لحوالۃ فی العادۃ تکون علی الاملاء والاحسن قضاء فصار کشرط الجودۃ
وکذا فی الھدایہ : ( 5/328، البشری)
وتصح الحوالۃ برضا المحیل ،والمحتال ،والمحتال علیہ ، اما المحتال ، فلان الدین حقہ ، وھو الذی ینتقل بھا، والذمم متفاوتۃ فلا بد من رضاہ
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (5/ 3377، رشیدیہ) وکذا فی المحیط البرھانی15 ) : /398،احیاء تراث العربی )
وکذا فی بدائع الصنائع : ( 5/ 10 ، رشیدیہ) وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ : ( 10/ 263،فاروقیہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : ( 2/ 425، الطارق ) وکذا فی البنایہ : ( 7/30، رشیدیہ)
وکذا فی شرح المجلہ : (2/191، رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقھیہ : (9/ 36،علوم الاسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
26، 5، 1440/ 2019، 2، 2
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:141

عبد الرحمن کے انتقال کے وقت اس کی ملکیت میں 20 ایکڑ زمین ، ایک کنال کا گھر ، 25 لاکھ بینک بیلنس ، 5 دوکانیں ( فی دوکان ایک مرلہ ) ایک ٹریکٹر اور ایک گاڑی تھی ، جبکہ اس کے ورثا ءمیں 4 بیٹے،2 بیٹیاں، بیوی ، 3 پوتے، 2 بھائی اور 3 بہنیں ہیں۔

الجواب باسم ملھم الصواب

مر حوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ ( جیسے:سونا ،چاندی ، زیورات، اور کپڑے وغیرہ )اور غیر منقولہ (جیسے :مکان ،دکان اور فصل وغیرہ ) غرض چھوٹا ،بڑا جو بھی سا مان چھوڑا نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا تر کہ شمار ہو گا۔ اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے ،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔
اگر میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے ادا کیا جائے گا ، خواہ قر ض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے ، واضح رہے کہ اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا اور بیوی نےمعاف بھی نہیں کیا تھا تو وہ بھی قر ض شمار ہو گا۔
اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی ۔
(4) ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا زیور یا فصل وغیرہ اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا
کل ترکہ کے 80 برابر حصے بنائے جائیں ،10 حصے یعنی اڑھائی ایکڑ (12.5فیصد)بیوی کو، 14 حصے (17.5فیصد ) ہر بیٹے کو اور 7 حصے (8.75فیصد )ہر بیٹی کو دیا جائے گا ۔
سوال میں مذکور رقم 2500000 روپے میں سے بیوی کو 312500 روپے ،ہر بیٹے کو 437500 روپے اور ہر بیٹی کو 218750 روپے ملیں گے ۔ بقیہ اشیا ء کو بھی مذکورہ بالا فیصدی حصہ کے مطا بق تقسیم کر لیا جائے ،پوتے ،بھائی اور بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا۔

مزید وضاحت کے لیے نقشہ ملاحظہ فرمائیں

نمبر شمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ زمین میں حصہ نقدی میں حصہ
1 بیوی 10 %12.5 2.5 ایکڑ 312500 روپے
2 بیٹی 7 %8.75 1.75 ایکڑ 218750 روپے
3 بیٹی 7 %8.75 1.75 ایکڑ 218750 روپے
4 بیٹا 14 %17.5 3.5 ایکڑ 437500 روپے
5 بیٹا 14 %17.5 3.5 ایکڑ 437500 روپے
6 بیٹا 14 %17.5 3.5 ایکڑ 437500 روپے
7 بیٹا 14 %17.5 3.5 ایکڑ 437500 روپے
میزان 7 80 %100 20 ایکڑ 2500000 روپے

لما فی السراجی: (7،شرکت علمیہ)
“اماللزوجات فحالتان ۔۔۔۔۔والثمن مع الولد ۔۔۔۔۔واما لبنات الصلب فاحوال ثلث :النصف للوحدۃوالثلثان للاثنتین فصاعد اومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین وھو یعصبھن”
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (20/224،فاروقیہ)
“بنات الصلب لھن حالان سھم وتعصیب اذ لم یکن للمیت ابن فھو ۔۔۔۔ وان کان للمیت ابن تصیر عصبۃ وسقط اعتبار النصف والثلثین ویقسم المال بینھم للذکر مثل حظ الانثیین “
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(10/ 7773، رشیدیہ) وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ : (6/448، رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی : (23/ 288، تراث العربی ) وکذا فی مجمع الانھر : (4/511، المنار)
وکذا فی الدر المختار : (10/553، دارالمعرفہ ) وکذا فی البحر الرائق : (9/373، رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق : (6/ 233، امدایہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17، 7، 1440، 2019، 3، 25
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:79

ایک شحص نے 80 روپے من لکڑی خریدی ، پھر اس کی کٹائی وغیرہ کرائی تو وہ 100 روپے من پڑگئی، وہ دوسرے آ دمی سے کہتا ہے کہ میں فی من 20 روپے نفع لوں گا، یعنی 120 روپے من بیچتا ہوں، تم بیس دن بعد پیسے دے دینا، دوسراآدمی اس پر راضی ہو جاتاہے، تو یہ معاملہ جائز ہے یانہیں؟

الجوب باسم ملھم الصواب

جائز ہے۔

لمافی الدرالمختار:(7/360 ، دارالمعرفہ)
المرابحۃ مصدر رابح وشرعابیع ماملکہ من العروض ولو ھبۃ او ارث او وصیۃ او غصب فانہ اذا ثمنہ بما قام علیہ وبفضل مؤنۃ ۔۔۔۔۔ ثم باعہ علی تلک القیمۃ جاز
وکذا فی البنایہ: (7/300، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (5/ 376 ،رشیدیہ )
وکذا فی مجمع الانھر: ( 3/106 ، المنار )
وکذا فی البحر الرائق: ( 6/177 ، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (9 /221 ، فاروقیہ )
وکذا فی البدائع الصنائع:(4 / 461 ، رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (10 / 183 ، احیاء تراث العربی )
وکذا فی الفتاوی العالمگیریہ: (3 / 16 ، رشیدیہ )
وکذا فی فتح القدیر:( 6 / 456 ، رشیدیہ )

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14-1-2019،1440-5-7
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:103

کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے کی مسنون تر تیب تو یہ کہ پہلے درمیان والی بڑی انگلی ، پھر شہادت والی انگلی اور آخر میں انگوٹھا چاٹا جائے لیکن اگرکبھی پانچوں انگلیاں کھانے میں استعمال ہوتی ہوں تو ان کو چاٹنے کا مسنون طریقہ کیا ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عام عادت شریفہ تینوں سے انگلیوں سے کھانا تناول فرمانے کی تھی،اگر چہ بعض روایات میں پانچ انگلیوں سے کھانا بھی معلوم ہوتا ہے، لیکن انگلیاں چاٹنے کا تذکرہ صرف تین انگلیوں کا ہی ملتا ہے، یعنی بڑی انگلی ،پھر شہادت والی ور پھر انگو ٹھا، البتہ بقیہ انگلیوں کو چاٹنے کا طریقہ نہ مل سکا، لہذاان کو کسی بھی طرح چاٹ سکتے ہیں کیوں کہ رویات میں ہاتھ چاٹنے کا ذکر بھی موجود ہے۔

لما فی تکملۃ فتح الملہم:(4/23،دارالعلوم کراچی)
عن کعب بن عجرۃرضی اللہ عنہ قال:رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کل باصابعہ الثلاث بالابھام، والتی تلیھا،ویلعق السطیٰ ثم تلیھا ثم الابھام
و فی الترغیب ولتر ہیب :(3/105،رشیدیہ)
“عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ قال : ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، اذا اکل احدکم فلیلعق اصابعہ، فانہ لا یدری فی ایتھن البرکۃ”
وکذا فی تحفۃ الاحوذی:(5/528،قدیمی)
وکذا فی مرقاۃ المفاتیح:(8/8،التجاریہ)
وکذا فی شر ح الطیبی: (8/146،الکتب العلمیہ)
وکذا فی بذل المجہود: ( 16/96،قدیمی)
وکذا فی مجمع الزوائد:(5/19،العلمیہ)
وکذا فی ابن ماجہ:(368،رحمانیہ)
وکذا فی المسند الجامع :(10/539،دارالجیل )

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
25-3-2019،1440-7-17
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:81

 

شریعت میں مقتول کے ورثاء کو اپنے مقتول کے قصاص کا جو حق حا صل ہے کہ وہ قاتل سے قصاص اور دیت کے لینے میں بااختیار ہیں، اگر چاہیں تو قصاص لیں، یا دیت لیں، یا معاف کر دیں۔ میر ا سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کے صدر مملکت کو یا پنچایت کے فیصل کو ورثاء کی رضامندی کے بغیر کسی ریاستی ذمہ داری اور مجبوری یا مصلحت کے پیش نظر قصاص معاف کرنے کا اختیار ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

شریعت میں قصاص معاف کرنے کا اختیار صرف اولیاء کو حاصل ہے، ہاں اگر فیصل یا قاضی تر غیب دے کر مقتول کے اولیاء کو قصاص کی معافی پر راضی کر لیں، توبھی درست ہے، لیکن اولیاء کی رضامندی کے بغیر بذات خود قاضی اور صدر وغیرہ کو معافی کا کوئی اختیار نہیں ، البتہ جس مقتول کا کوئی وارث نہ ہو تو قاضی کو قصاص لینےکا یا صلح کرنے کی صورت میں دیت لینے کا اختیار ہوگا۔

لما فی المحیط البرھانی :(20 / 109 ، احیا ء تراث العربی )
فمن لا ولی لہ فی دارالاسلام ……ولو ارادالامام ان یصالح فی ھٰذہ الصورۃ فلہ ذالک ، لان الصلح حصل ممن یملک الاستیفاء ، وھو انفع فی حق جماعۃ المسلمین من الاستیفاء ولو اراد ان یعفوعن القصاص لیس لہ ذٰلک ، لما فیہ من ابطال حق جماعۃ المسلمین بغیر عوض
وفی بدائع الصنائع :(6 / 291 ، رشیدیہ)
“وللامام ان یصالح علی الدیۃ الا انہ لایملک العفو لان القصاص حق المسلمین بدلیل ان میراثہ لھم وانما الامام نائب عنھم فی الاقامۃ وفی العفو اسقاط حقھم اصلا وراسا وھٰذالا یجوز”
وکذا فی البحر الرائق: (9 / 27 ، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(7 / 5691 ، رشیدیہ )
وکذا فی البنایہ ( 12 / 120 ، رشیدیہ )
وکذا فی فتح القدیر:(10 / 224 ، رشیدیہ )
وکذا فی الدرالمختار : ( 10 / 175 ، دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ :(6 / 7 ، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (3 / 327 ، الطارق )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی : ( 4 / 258 ، رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
27 /4/ 1440 ، 2019/1/5
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:64

نماز جمعہ سے پہلے چار سنتیں کسی صحیح حدیث سے ثابت ہیں یا نہیں ؟ اگر ثابت ہیں تو حوالہ درکار ہے۔

الجواب باسم ملھم الصواب

نماز جمعہ سے پہلے کی چار سنتیں متعدد روایات اور آثار سے ثا بت ہیں ، جن کا مجموعہ “حسن ” کے درجہ کو پہنچ جاتاہے ، اور جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے قول وعمل سے بھی ان چار سنتوں کا ثبوت ملتا ہے۔

لما فی سنن ابن ماجہ:( 79،قدیمی )
“عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یر کع قبل الجمعۃ اربعا لا یفصل فی شئ منھن “
وکذا فی مجمع الزوائد: (2/354،دارلکتب العلمیہ )
“عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یر کع قبل الجمعۃ اربعا و بعدھا اربعا لا یفصل بینھن”
وکذا فی المسند الجامع:( 8/449،دارالجیل بیروت)
“عن عطیۃ العوفی ، عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یر کع قبل الجمعۃ اربعا لا یفصل فی شئ منھن “
وکذا فی شرح معانی الآثار :(1/209،رحمانیہ)
عن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما انہ کان یصلی قبل الجمعۃ اربعا لایفصل بینھن بسلام ثم بعد الجمعۃ رکعتین ثم اربعا”
وکذا فی جامع الترمذی: (1/230،رحمانیہ)
وکذا فی المعجم الکبیرللطبرانی:(6/86،کتب العلمیہ)
وکذا فی نیل الاوطار:(3/318،دارالباز مکہ)
وکذا فی مصنف عبد الرزاق:(3/247،المکتب الاسلامی)
وکذا فی آثار السنن :(1/302،امدادیہ)
وکذا فی الدرایہ: (1/181،المیزان)
وکذا فی اعلاء السنن :(7/9،علوم الاسلامیہ)
وکذا فی نصب الرایہ: (2/215،قدیمی)
وکذا فی المصنف لابن ابی شیبہ: (1/463،کتب العلمیہ)
وکذا فی تحفةالاحوذی:(3/79،قدیمی)
وکذا فی معارف السنن :(4/414،ایچ ایم سعید )

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15-1-2019،1440-5-8
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:98