کہ نماز ظہر سے پہلے والی چار سنتوں کا صحیح حدیث سےثبوت ہے یا نہیں؟؟ اگر ہے تو حوالہ درکار ہے۔

الجواب باسم ملھم الصواب

نماز ظہر سے پہلے والی چارسنتیں احادیث صحیحہ اور عبارات فقہ سے ثابت ہیں۔

لما فی الصحیح لمسلم :(1 /252 ،قدیمی )
عن عبد اللہ بن شقیق قال : سئالت عائشۃ عن صلوۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن تطوعہ فقالت کان یصلی فی بیتی قبل الظہر اربعا ثم یخرج فیصلی بالناس ۔۔۔الخ
وفی جامع التر مذی :(1 /208 ،رحمانیہ )
“عن علی قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یصلی قبل الظہر اربعا وبعدھا رکعتین ۔۔۔۔۔۔۔ قال ابو عیسی: حدیث علی، حدیث حسن “
وکذا فی سنن ابی داؤد: ( 1 / 188 ، رحمانیہ )
وکذا فی سنن النسائی: ( 1 / 278 ، رحمانیہ
وکذا فی سنن ابن ماجہ: ( 188 ، رحمانیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 2 / 83 ،رشیدیہ )
وکذا فی مجمع الانھر: ( 1 / 194 ، المنار )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ: ( 2 / 299 ،فاروقیہ کوئٹہ)
وکذا فی الدرالمختار: ( 2 / 545 ، دارالمعرفہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 2 /1057 ، رشیدیہ)

 

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14-1-2019،1440-5-7
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:102

کہ اگر زمین پر کچھ پانی بغیر خرچے والا یعنی چھپڑوں اور چشموں والا پانی وغیرہ لگا ہو اور کچھ پانی خرچے والا لگا ہو تو اس صورت میں عشر لازم ہو گا یا نصف عشر ؟

الجواب با سم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں دیکھا جا ئے گا ،خرچ والا پانی زیادہ لگا ہےیا بغیر خرچ والا یا دونوں برابر ہیں، پہلی اور تیسری صورت میں نصف عشرلازم ہو گا اور دوسری صورت میں عشر لازم ہو گا۔

لما فی فتاویٰ عالمکیریہ:(1 /186، رشیدیہ)
وما سقی بالدولاب والدالية ففيه نصف العشر، وإن سقي سيحا وبدالية يعتبر أكثر السنة فإن استويا يجب نصف العشر
وکذا فی البحر الرائق: ( 2/416، رشیدیہ)
ونصفہ فی مسقی غرب او دالیۃ ای یجب نصف العشر فیما سقی بآلۃ للحدیث ۔۔۔۔۔۔۔ وان سقی بعض السنۃ بآلۃ والبعض بغیرھا فالمعتبر ا کثرھما۔۔۔۔۔۔۔۔وان استویا یجب نصف العشر نظرا للفقراء کما فی السائمۃ
وکذا فی المحیط البرھانی :(3/274،احیاء تراث العربی)
وکذا فی الدرالمختار: (2 /316، دارالمعرفہ)
وکذا فی المبسوط : (3 /4،دارالمعرفہ)
وکذا فی بدائع الصنائع: (2/185، رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:1 (/320، المنار)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (3/1892، رشیدیہ)
وکذا فی جامع الترمذی:(1/ 256، رحمانیہ)
وکذا فی العنایہ: ( 3/ 501، رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظھر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1440،2019، 2، 4
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:139

مسبوق نما ز پڑھ رہا تھا جب آخر میں امام نے سلام پھرا تو اس مسبوق نے بھی امام کے ساتھ سلام پھیردیا ،اب اس مسبوق کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اگر اما م نے وہ سلا سجدہ سہو کے لیے پھیر ا ہو تو پھر کیا حکم ہے ؟ آیا اس مسبوق کی نماز ٹوٹ جائے گی یا آخر میں سجدہ سہو کرے گا یا کچھ بھی نہیں کرے گا ؟

الجواب بعون الملک الوھاب

اگر مسبوق نے اما م کے “السلام “کے” میم “کے بعد سلام پھیرا (اور عموماایسا ہی ہوتا ہے ) تو اگر مسبوق کو اپنا مسبوق ہونا یا د نہ ہو تو سجدہ سہو واجب ہو گا، چا ہے سلام اختتام یا سلام سہوہو اور اگر مسبوق کو اپنا مسبوق ہونا یادہو تو نما فاسد ہو جا ئےگی،اوراگر مسبوق نے امام کے ساتھ یا امام سے پہلے سلام پھیراچا ہےسلام اختتام ہو یا سلام سہو ہو تو سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا۔

لما فی المحیط البر ھانی:(3/113،داراحیاءتراث العربی)
وفي «نوادر أبي سليمان» : عن محمد رجل فاتته ركعة مع الإمام، ثم سلم الإمام فسهى الرجل، ولا يدري أفاتته الركعة، أو لا، ثم علم، فقام فقضاها فعليه السهو، وإن كان ذلك قبل سلام الإمام، فلا سهو عليه؛ لأن قبل سلام الإمام هو على المتابعة، فلا يعتبر سهوه، بخلاف ما بعد سلام الإمام
لمافی البدا ئع الصنائع :(1/422،رشید یہ)
ثم المسبوق إنما يتابع الإمام في السهو دون السلام، بل ينتظر الإمام حتى يسلم فيسجد فيتابعه في سجود السهو لا في سلامه. وإن سلم فإن كان عامدا تفسد صلاته، وإن كان ساهيا لا تفسد، ولا سهو عليه؛ لأنه مقتد، وسهو المقتدي باطل، فإذا سجد الإمام للسهو يتابعه في السجود ويتابعه في التشهد، ولا يسلم إذا سلم الإمام؛ لأن هذا السلام للخروج عن الصلاة وقد بقي عليه أركان الصلاة فإذا سلم مع الإمام فإن كان ذاكرا لما عليه من القضاء فسدت صلاته؛ لأنه سلام عمد، وإن لم يكن ذاكرا له لا تفسد؛ لأنه سلام سهو فلم يخرجه عن الصلاة.وهل يلزمه سجود السهو لأجل سلامه؟ ينظر إن سلم قبل تسليم الإمام أو سلما معا لا يلزمه؛ لأن سهوه سهو المقتدي، وسهو المقتدي متعطل، وإن سلم بعد تسليم الإمام لزمه؛ لأن سهوه سهو المنفرد فيقضي ما فاته ثم يسجد للسهو في آخرصلاته.
وکذافی البحر الرا ئق: ( 2 /176، رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التا تا ر خا نیة : (2 / 426 ، فاروقیة )
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (2 / 1106، رشید یہ )
وکذافی الفتاوی العا لمگیریة : ( 1/ 91،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط : ( 1/ 225 ،دارالمعرفة )
وکذافی مجمع الا نھر: ( 1/ 222 ،المنار )
وکذافی خلا صة الفتاوی : ( 1/ 174،رشیدیہ )
وکذافی فتح القدیر : ( 1/ 522، رشیدیہ )

وا للہ اعلم بالصواب
علیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/5/28,2/4/2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:137

کہ زید نےعمر وکو3 تو لےسوناادھاردیا کہ ایک ماہ بعد یاتو3 تو لے سونا ہی واپس کر دینا یا پھر اس دن کی قیمت کےحساب سے 3 تولہ کے پیسے واپس دے دینا ۔یہ معاملہ کیسا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شرعا یہ معاملہ درست ہے۔

لما فی احسن الفتاوی:(7/173،ایچ ایم سعید )

زیور کی بجائے اس کی قیمت لینے میں شبہ رباکی کوئی وجہ نہیں ۔

قال العلا ئی رحمہ اللہ تعالی :(و)صح(بیع من علیہ عشرۃ دراہم)دین )ممن ھی لہ )ای من دائنہ فصح بیعہ منہ (دینارابھا )اتفاقا وتقع المقاصۃ بنفس العقد اذلا ربوٰا فی دین سقط
وقال ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی(قوله: وتقع المقاصة بنفس العقد) أي بلا توقف على إرادتهما لها، بخلاف المسألة الآتية، ووجه الجواز أنه جعل ثمنه دراهم لا يجب قبضها ولا تعيينها بالقبض وذلك جائز إجماعا؛ لأن التعيين للاحتراز عن الربا أي ربا النسيئة ولا ربا في دين سقط إنما الربا في دين يقع الخطر في عاقبته؛ ولذا لو تصارفان دراهم دينا بدنانير دينا صح لفوات الخطر.(ردالمحتارص266 ج4)

البتہ اگر زیورکی بجائےزیور ہی لیےجاتے تو مبادلۃ الجنس با لجنس ہو نے کی وجہ سے رباہو نے کامغالطہ ہو سکتا تھا ،مگر درحقیقت اس صورت میں بھی ربوٰا نہیں ، بلکہ یہ قرض ہے ۔
ربانسیئۃ جب ہو تا ہے کہ مبادلۃ الجنس بغیر الجنس ہو یا مبادلۃ الجنس با لجنس ہو اور اس میں لفظ بیع یامبادلہ یا معاوضہ استعمال کیاگیاہواگر جنس دیکر وہی جنس واپس لینے کا معاملہ کیا ہو مگر بیع یا مبادلہ یا معاوضہ کےالفاظ نہیں کہے تو یہ قرض ہے خواہ قرض کا لفظ کہے یا نہ کہے اور یہ بلا شبہ جائز ہے۔ واللہ سحانہ وتعالی اعلم

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-5-2019،9-9-1440
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:63

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل و مکارم اخلاق کے تذکرے میں متعدد کتابوں میں جہاں آپ صلی اللہ وسلم کے کھانوں کا ذکر ہے وہاں عموما یہ جملہ ملتا ہے “ولَمْ يَكُنْ يَذُمُّ ذَوَاقا۔ َمَا يُطْعِمُ۔ وَلَا يَمْدَحُہُ”جس كا مطلب بظا ہر یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو ذائقو ں کی مذ مت کر تے تھے اور نہ ہی تعریف کر تے تھے ۔اب سوال یہ ہےکہ بعض اوقات کسی پکا نے والے کی تعریف نا گزیر ہو تی۔ اور ظاہری بات ہے کہ جب اس کی تعریف کرنی ہو تو کھانے کی بھی تعریف کرنی پڑے گی تو کیا یہ تعریف کرنا اور جس خصلت کا ذکر ہے اس میں تعارض ہے۔ اور اس جملہ ” لَمْ يَكُنْ يَذُمُّ ذَوَاقا وَلَا يَمْدَحُہُ ” کا صحیح مطلب بھی واضح فر مادیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شمائل ترمذی (ص 203،ادارہ نشریات اسلام)میں اس کا مطلب یہ لکھا ہے
”البتہ کھانے کی اشیاء کی نہ مذمت فرماتے نہ تعریف فرماتے، مذمت نہ فرمانا تو ظاہر ہے کہ حق تعالی شانہ کی نعمت ہے، زیادہ تعریف نہ فرمانا اس لیے تھا کہ اس سے حرص کا شبہ ہوتا ہے البتہ اظہار رغبت یا کسی کی دلداری کی وجہ سے کبھی کبھی خاص خاص چیزوں کی تعریف بھی فرمائی ہے۔

لمافی تحفة الاحوذی :(10/523،قدیمی )
” يعظم النعمة وان دقت ،لا يذم منھا شیئا غیر انہ لم یکن یذم ذواقا ولا یمدحہ . “
وکذا فی دلیل الفا لحین : (3 /200 ،دارالحدیث )
وکذافی ھا مش علی التر مذی : (2 / 38 ،رحمانیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
11-5-2019،1440،9،5
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:53

جسے التحیات نہ آتی ہو وہ نماز میں کیا پڑھے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

التحیات کو جلد ازجلد یاد کرنے کی کو شش کرے ،جب تک یاد نہ ہو تو تسبیح (سبحان اللہ ،الحمد للہ ،اللہ اکبر وغیرہ )پڑھتا رہے۔

لمافی سنن ابی داود :(1/129،رحمانیہ)
عن عبد الله بن أبي أوفى، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني لا أستطيع أن آخذ من القرآن شيئا فعلمني ما يجزئني منه، قال: ” قل: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر
وفی مرقاۃالمفاتیح : (2 / 582 ، التجارية)
(وعن عبد الله بن أبي أوفى قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: (إني لا أستطيع أن آخذ) ، أي: وردا أو أتعلم وأحفظ (من القرآن شيئا فعلمني ما يجزئني) ، أي: عن ورد القرآن، أو عن القراءة في الصلاة (قال) : وفي نسخة: فقال: ( «قل: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله . “
وکذافی غنية المستملي : (519 ، رشیدیہ)
“وذکرالتمر تاشی یجب ان لا یترک الا می اجتھادہ اناء لیلہ ونھارہ لیتعلم قد رما تجوز بہ الصلوۃ فان قصر لم یعذر عند اللہ .
وکذا فی حاشيةالطحطاوی : ( 279 ،قدیمی ) وکذافی مجمع الانھر : (1/138،المنار )
وکذا فی البحر الر ائق : (1 /508 ،رشیدیہ ) وکذافی ردالمحتار : (1/481 ،ایچ ایم سعید )
وکذا فی الفتاوی التار خانية : (2 /255 ، فاروقیہ) وکذافی المحیط البرھانی : (2 /187 ، دار احیاء التراث العربی )
وکذا فی خلاصة الفتاوی : (1 /98 ، رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
7-5-2019،1440-9-1
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:64

کہ فرض نمازوں میں سجدہ کی حالت میں”تسبیحات” کے علاوہ کوئی دعاء پڑھنا جا ئز ہے یا نہیں

الجواب حامداً ومصلیاً

فر ض نمازوں کے سجدہ میں مسنون دعائیں منفرد پڑھ سکتا ہے البتہ امام کو مقتدیوں کی رعایت کی وجہ سے ” تسبیحات ” پر اکتفاء کر نا چا ہیے ۔

لمافی فتح الباری:(2/251،252،253،254،قدیمی)
حدثنا إسماعيل، قال: سمعت قيسا، قال: أخبرني أبو مسعود، أن رجلا، قال: والله يا رسول الله إني لأتأخر عن صلاة الغداة من أجل فلان مما يطيل بنا، فما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في موعظة أشد غضبا منه يومئذ، ثم قال: «إن منكم منفرين، فأيكم ما صلى بالناس فليتجوز، فإن فيهم الضعيف والكبير وذا الحاجة»…. قال وقول الفقهاء لا يزيد الإمام في الركوع والسجود على ثلاث تسبيحات لا يخالف ما ورد عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان يزيد على ذلك لأن رغبة الصحابة في الخير تقتضي أن لا يكون ذلك تطويلا قلت وأولى ما أخذ حد التخفيف من الحديث الذي أخرجه أبو داود والنسائي عن عثمان بن أبي العاص أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له أنت إمام قومك واقدر القوم بأضعفهم إسناده حسن وأصله في مسلم…عن ابی ھریرۃرضی اللہ عنہ ان رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال :اذا صلی احدکم للناس فلیخفف فان منھم الضعیف والسقیم والکبیر واذاصلی احدکم لنفسہ فلیطول ماشاء
وفی:تنویر الابصار (1 /505 ،ایچ ایم سعید )
“وکذا)لیس(بعد رفعہ من الرکوع )دعاء، وکذا لا یاتی فی رکوع وسجودہ بغیر التسبیح (علی المذھب) وما ورد محمول علی النفل . “
وفی الشامية: ( 1/ 505 ،ایچ ایم سعید )
قولہ وماوردالخ)فمن الوارد فی الرکوع والسجود مافی صحیح مسلم انہ صلی اللہ علیہ وسلم کان اذا رکع قال:اللہم لک رکعت …واذاسجد قال :اللہم لک سجدت …(قولہ محمول علی النفل )ای تھجدااو غیر ہ خزائن…وقال علی انہ ان ثبت فی المکتوبۃفلیکن فی حا لۃالانفراد ، او الجماعۃ والمامون محصورون لا یتثقلون بذالک کما نص علیہ الشافعیۃ . “
وکذا فی اعلاءالسنن:(3 / 14 ،ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامية)
وکذافی تبیین الحقائق : (1 /118، امدادیہ)
وکذا فی حاشيةالطحطاوی علی الدرالمختار: ( 1/ 226 ،رشیدیہ )
وکذافی البحر الرائق : ( 1/ 552 ، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 2/ 896 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
14-5-2019،1440-9-8
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:59

میں ایک شخص بینک میں سونا رکھواکر قر ض لیتا، جب قرض واپس کرےگا،سونا واپس مل جا ئے گا ، لیکن اس سونے کی حفاظت کر نے وجہ سے بینک کچھ پیسے لیتا ہے ،کیا یہ درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بینک کا سونے کی حفاظت کی اجرت لینا درست نہیں ،کیو نکہ سونا بینک کے پاس رہن کے طور پر رکھا گیا ہے اور اس کی حفاظت بینک کے ذمہ ہے ۔

لمافی الفقہ الحنفی :(4/460،الطارق)
و اجرة بيت الرهن و حافظه و مأوي الغنم علي المرتهن ….فلو شرط للمرتھن اجرۃ علی حفظ الرھن لا یستحق شیئا لان الحفظ واجب علیہ
وفی البحر الرائق: ( 8/44 ، رشیدیہ)
و اجرۃ بیت الحفظ و حافظہ علی المرتھن.
وکذافی الھندیة: ( 5/455 ، رشیدیہ)
وکذا فی تبيين الحقائق: ( 6/68 ، امدادیہ)
وکذافی التاتارخانية: ( 18/546 ، فاروقیہ)
وکذا فی مجمع الانھر: ( 4/276، المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1440،2019/5/27
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:73

ایک بستی کے اندرچا لیس کے قریب گھر ہیں اور کچھ ضروریات کا سامان بھی مل جاتا ہے اب پو چھنایہ ہے کہ وہاں جمعہ ہو سکتا ہے یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکو رہ صورت میں ایسی بستی میں جمعہ جا ئز نہیں کیو نکہ صحت جمعہ کے لیے شہر یا بڑا قصبہ ہو نا شرط ہے ۔

لمافی الہندية:(1/174،رشیدیہ )
الجمعۃ فریضۃ علی الرجال الاحرار العاقلین المقیمین فی الامصار ولا یکون الموضع مصرا فی ظاہر الر وایۃ الا ان یکون فیہ مفت وقاض یقیم الحدود وینفذ الاحکام وبلغت ابنیتہ ابنیۃ منیٰ وكما يجوز أداء الجمعة في المصر يجوز أداؤها في فناء المصر وهو الموضع المعد لمصالح المصر متصلا بالمصر
وفی البحرالرائق: (1 /583 ،رشیدیہ )
اما المصر الجامع :فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة ادائھاعنداصحابنا حتی لا تجب بالجمعۃ الا علی اھل المصر ومن کا ن سا کنا فی توابعہ .وکذالا یصح اداءالجمعۃ الا فی ا لمصروتوابعہ فلا تجب علی اھل القری التی لیست من توابع المصر ،ولا یصح اداء الجمعۃ فیھا
وکذافی الفقہ الحنفی : (1 /318 ، الطارق)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2 /1294 ، رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتا ر خانية: ( 2/ 459،فاروقیہ )
وکذا فی خلاصةالفتاوی : ( 1/ 207 ،رشیدیہ )
وکذافی مجمع الا نھر : ( 1/ 245،المنار )
وکذا فی تبیین الحقائق : (1 /217 ،امدادیہ )
وکذافی بدائع الصنائع : (1 / 585،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
13-5-2019،1440-9-7
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:54

! پارک میں دوران واک دیکھ کر قرآن پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے۔

لما فی الفتاوی التاتارخانية: (18/48، فاروقیہ)
“و سئل ابو الفضل عمن قرا القرآن ماشیا ھل تجوز؟ فقال: نعم.”
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (2/1099، رشیدیہ)
و لا باس بقراءۃ القرآن و ھو مش فی الطریق، و الانسان مضطجع او جالس او راکب، بدلیل ما ثبت عن جماعۃ من السلف قراءۃ الکھف و غیرھا فی الطریق.
وکذافی احیاء علوم الدین: (1/275، دار المعرفہ)
وکذا فی الموسوعة الفقهية: (13/252، علوم اسلامیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1440، 2019/5/27
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:74