وتر کا مستحب وقت کب ہے ؟ اوروتر کی قضا ہے یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

وتر ، تہجد کےوقت پڑھنا مستحب ہے اور وتر کی قضا بھی ہے ۔

لمافی الفقہ الحنفی :(1/295،الطارق)
اذا فا تہ الوتر بطلوع الفجر قضاہ لما روی عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ ان رسو ل اللہ صلی علیہ وسلم قال:من نام عن وتره اونسيه فليصله اذاذكر،والافضل ان یجعل صلا ۃالوتر آخر صلاۃ یصلیھافی اللیل،لما تقد م من حدث ابن عمر مرفوعا،اجعلو اآخر صلاتکم باللیل وترا وعن جابر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال :من خاف ان لا یقوم آخر اللیل فلیوتر اولہ ، ومن طمع ان یقوم آخر اللیل فلیوتر آخر اللیل ،فان صلاۃ آخراللیل مشھودۃوذلک افضل
وفی المحیط البرھانی : (2 /267 ،دار احیاء التراث العربی )
” ولو ترك الوتر حتى يطلع الفجر، فعليه قضاؤها في ظاهر رواية عن أصحابنا رحمهم الله.
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلته :(2 /1015 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتار خانية : (2 /12، فاروقیہ)
وکذافی اعلاء السنن : (6 /61 ،ادارۃ القرآن والعلوم )
وکذا فی تبیین الحقائق : (1 /69 1 ،امدادیہ )
وکذافی الھداية : (1 /148 ، المیزان )
وکذافی الشامية: (2 / 532 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
7-5-2019،1440-9-1
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:55

کہ فر عون کے دور میں جو جا دو گر حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان لائےتھے ،فرعون نے انہیں کہا تھاکہ میں تمہیں سولی پر لٹکادو گا کیا بعد میں ان کو سولیوں پر لٹکا یا بھی گیا تھا یا یہ محض دھمکی تھی ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس بات میں مفسرین کا اختلاف ہے ،لیکن حافظ ابن کثیر رحمة الله علیہ کا رجحان یہ ہے کہ اس نے انہیں سو لی پر لٹکا دیا تھا،جیساکہ بعض صحابہ رضی اللہ عنھم اور دیگر بزر گوں سے بھی یہی مر وی ہے کہ وہ لوگ صبح کو جادو گر تھےاور شام کو شہید تھے ۔

 

لمافی تفسیر القرآن العظیم:(2/248،دار المعرفة)
بقوله لأقطعن أيديكم وأرجلكم من خلاف يعني يقطع يد الرجل اليمنى ورجله اليسرى أو بالعكس ثم لأصلبنكم أجمعين وقال في الآية الأخرى في جذوع النخل [طه: 71] أي على الجذوع. قال ابن عباس وكان أول من صلب وأول من قطع الأيدي والأرجل من خلاف……. فكانوا في أول النهار سحرة، فصاروا في آخره شهداء بررة، قال ابن عباس وعبيد بن عمير وقتادة وابن جريج كانوا في أول النهار سحرة وفي آخره شهداء
وفی روح المعانی : ( 9/28 ،داراحیاءالتراث العربی )
توفنا مسلمین ) اي ثابتين علي مارزقتنامن الا سلام غير مفتونين من الو عيد ،عن ابن عباس رضي الله عنهما.والكلبي.والسدي انه فعل بهم ما او عد ھم بہ ،وقیل: لم یقدر علیہ لقولہ تعالی لایصلون الیکمابآیتنا انتما ومن اتبعکماالغالبون
وکذافی التفسیر الکبیر : (8/80 ،علوم اسلا میہ ) وکذا فی تفسیرالمظھری : (3 / 68 ،رشیدیہ )
وکذافی نظم الدرر : ( 3/86 ،دارالکتب العلمیہ ) وکذا فی تفسیر البغوی : (2 /189 ،دار المعر فة )
وکذافی الکشاف : (2 /141 ،من مشورات البلاغة ) وکذا فی تفسیرالخازن: (2 /128 ،رشیدیہ )
وکذافی تفسیرالبحر المحیط : (4 /365 ،دار الکتب العلمية ) وکذا فی تفسیرالقر آن العظیم : (3 / 167،دار المعرفة )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
1-4-2019،1440-7-24
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:17

ناپا ک بستر کے اوپر بیٹھ کر ذکر وتلاوت کرنےکاکیا حکم ہے ؟ اوراگر اس کے اوپر کوئی چادر بچھائی گئی ہو تو پھر کیا حکم ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیا

ناپا ک بستر پر تلاوت کر نا خلاف ادب ہے البتہ اگر اس پر کوئی پاک کپڑا بچھا لیا جا ئے تو پھر کو ئی حرج نہیں ۔

لمافی الموسو عة الفقہية:(13/252،علوم اسلاميه)
” وتسن القراءۃ فی مکان نظیف وافضلہ المسجد ،وکرہ قوم القراءۃ فی الحمام والطریق.
وفی المحیط البرھانی : (7 / 508،داراحیاءالتراث العربی )
ورأيت في «فوائد الفقيه أبي جعفر» : أن قراءة القرآن في الحمام، أو في المغتسل، أو في موضع ينصب فيه الماء الذي غسل به النجاسة مكروه؛ سواء كان خفية أو جهراً؛ لأن هذا يؤدي إلى الاستخفاف بالقرآن؛ أما إذا قرأ القرآن خارج الحمام في موضع ليس فيه غسالة الناس؛ نحو مجلس صاحب الحمام أو الثيابي فقد اختلف علماؤنا فيه قال أبو حنيفة: لا يكره ذلك، وقال محمد: يكره، وليس عن أبي يوسف رواية (82ب2) منصوصة.
وکذافی الھندیہ : ( 5/ 316،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (1 / 736، رشیدیہ)
وکذافی حاشية الطحطاوی علي الدر المختار: ( / ، )
وکذا فی الفقہ الحنفی : (1 / 176 ،الطارق )
وکذافی حاشية الطحطاوی علي مراقي الفلاح : ( 1/ 150، رشیدیہ)
وکذا فی خلاصة الفتا وی : (1 / 130 ، رشیدیہ)
وکذافی الشامية: (2 /194، ایچ ایم سعید)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 2/ 1101،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
1-4-2019،1440-7-24
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:14

کہ محمود ولد محمد بشیروفات پاگئےہیں ان کی وراثت تقریبا 7 کنال 8 مرلےہیں جس میں بیوہ ساجدہ اورمحمود کی تین بہنیں اور ایک چچا یعقو ب دعویدارہیں کہ ہم کو یہ وراثت مل جائے،توآپ یہ تحریر فرما دیں کہ ان کوشرعی طور پروراثت کیسے تقسیم ہو گی اور کون وراثت کے حق دارہیں ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا ،چاندی ،زیور اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ ( جیسے مکان ،دکان اور فصل وغیرہ ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو ، نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا ۔
اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتا ہے ۔1: سب سے پہلے میت کے دفن تک کے تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے بطور احسان اپنی طرف سے اس کا نظم کردیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ۔2:اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کاقرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیاجائے گا ۔خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے ۔واضح رہے کہ اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا اوربیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیاتھا تو وہ بھی قرض شمار ہوگا ۔3:اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی ۔4:ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا زیوریا فصل وغیرہ اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیاجائے گا۔
کل ترکے کے 36 برابر حصے کیےجائیں گے ، جن میں سے 9حصے (٪25)بیوی کو ، 8 حصے (٪22․22 )ہر بہن کو ، 3حصے (٪33․8) چچا کو دیے جائیں گے ۔
سوال میں مذکور زمین میں سے بیوی کو 37 مرلے، ہر بہن کو89․32 مرلے اور چچا کو 33․12 مرلے ملیں گے۔

نمبرشمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ ترکہ سے ملنے والا حصہ
1 بیوی 9 ٪25 37 مرلے
2 بہن 8 ٪22.22 32.89 مرلے
3 بہن 8 ٪22.22 32.89 مرلے
4 بہن 8 ٪22.22 32.89 مرلے
5 چچا 3 ٪8.33 12.33 مرلے
میزان 5 36 ٪99.99 148 مرلے

لما فی تبیین الحقائق : ( 6 / 236 ، امدادیہ )
والأخوات لأب وأم كبنات الصلب عند عدمهن) أي عند عدم البنات وبنات الابن حتى يكون للواحدة النصف، وللثنتين الثلثان، ومع الإخوة لأب وأم للذكر مثل حظ الأنثيين لقوله تعالى {قل الله يفتيكم في الكلالة إن امرؤ هلك ليس له ولد وله أخت فلها نصف ما ترك وهو يرثها إن لم يكن لها ولد فإن كانتا اثنتين فلهما الثلثان مما ترك.
لما فی البحر الرائق : ( 9 / 381 ، رشیدیہ )
وعصبة أي من يأخذ الكل) أي إذا انفرد وما أبقته أصحاب الفروض… فنقول العصبة نوعان : عصبة بالنسب وعصبة بالسبب فالعصبة بالنسبة ثلاثة أنواع عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى
فیہ ایضا : ( 9 / 383 ، رشیدیہ )
والأحق الابن، ثم ابنه، وإن سفل ثم الأب، ثم أب الأب، وإن علا ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب، ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب ثم الأعمام، ثم أعمام الأب، ثم أعمام الجد على الترتيب
وکذا فی الھندیة :(6 / 447 ، 450،451،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی : ( 23/284،298،308،داراحیاءترات العربی)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة : ( 20/218،242،224،فاروقیة)
وکذافی مجمع الانھر : (4 /493،503،المنار)
وکذافی الشامیة : (10/528،550،دارالمعرفة)
وکذافی المبسوط :(29/155،147،دارالمعرفة)
وکذافی السراجی :(2،14،7،شرکت علمیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7727،7773،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد علیم اللہ عفی عنہ
متخصص جامعة الحسن ساہیوال
14/5/1440 ،2019/1/21
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:100

ایک آدمی مسبوق ہےایک رکعت اس کی جماعت سے رہ گئی ہےجب امام نے نماز مکمل کرنے پر سلام پھیرا تو اس مسبوق کو اپنی رکعت کا رہنا یاد نہ رہااور امام کے ساتھ سلام پھیر دیا بعد میں دعاکرتے ہوئےیاد آیاپھر وہ اسی طرح کھڑا ہوااور وہ رکعت پور ی کی اور سجدہ سہو بھی کرلیا اب اس شخص کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

دونوں ہاتھ اٹھا کردعاکرنا ”عمل کثیر“ہے ،لہذاس کی نماز نہیں ہو ئی،دبارہ پڑھے۔

لمافی المحیط البرھانی :(3/112/دار احیاءتراث العربی)
المسبوق إذا سلم مع الإمام ساهياً، ومسح يديه على وجهه بعد السلام كما يفعل في العادة، ثم تذكر ليس الكثير، فيصير خارجاً من الصلاة، ويؤيده رواية مكحول النسفي عن أبي حنيفة أن من رفع يديه عند الركوع، أو عند رفع الرأس من الركوع تفسد صلاته،
وکذافی الفتاوی التاتارخانية):(2/426،فاروقية) وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1040،رشید یہ)
وکذافی الشامیة:(2/422،رشیدیہ) وکذافی مجمع الانھر:1/222،المنار)
وکذافی غنيةالمستملی:425،رشیدیہ) وکذافی خلاصة الفتاوی:1/174،رشیدیہ)
وکذافی حاشية الطحطاوی:(465،قدیمی) وکذافی البحر الرائق:(2/176،رشیدیہ)

واللہ اعلم با لصواب
محمد علیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارلافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
18/6/1440،2019/2/24
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:20

عبداللطیف اور عبد الصمد دو بھائی تھے ، اور ان کی ایک بہن ہے ، عبد اللطیف کی اولاد یا بیوی وغیرہ نہیں ہے۔ جبکہ عبد الصمد کی ایک بیٹی ہے، دونوں بھائیوں میں سے عبد الصمد کا پہلے انتقال ہو گیا، بعد میں عبد اللطیف بھی اپنی آخرت سدھار گئے۔ عبداللطیف جب تک زندہ رہے انہوں نے اپنے بھائی کی جائیداد میں سے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کیا۔ عبداللطیف کے انتقال کے بعد ان کے بھانجے ( مذکورہ بہن کے بیٹے ) نے ان کے مکان پر قبضہ کر لیا اور عبدالصمد کے مکان، جس میں ان کی بیوہ اور یتیم بیٹی رہائش پذیر ہیں، اس میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کر رہا ہے اور عدالت میں اس کا دعوی بھی کیا ہوا ہے۔ عبدالصمد مرحوم کا ملکیتی مکان ( جس میں ان کی بیوہ اور بیٹی ہیں ) 6 مرلے کا ہے، جس میں سے 4 مرلے بیوہ کے حق مہر کے ہیں۔ اب ان دونوں مکانوں کی ان کے مستحق ورثاء میں تقسیم فرما دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

مرحوم عبدالصمد نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا ،چاندی ،زیور اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ ( جیسے مکان، دکان اور فصل وغیرہ ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو، نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہوں یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا ۔
اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتا ہے ۔1: سب سے پہلے میت کے دفن تک کے تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے بطور احسان اپنی طرف سے اس کا نظم کردیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ۔2:اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کاقرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیاجائے گا۔ خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے۔3:اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔4:ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا زیوریا فصل وغیرہ اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیاجائے گا۔
مرحوم عبدالصمد کے کل ترکہ کے 8 برابر حصے کر دیےجائیں،ان میں سے1 حصہ (%12.5) مرحوم کی بیوہ کو، 4 حصے (%50) مرحوم کی بیٹی کو، 1 حصہ (%12.5) مرحوم کی بہن کو اور 2 حصے (%25) مرحوم کے بھائی عبداللطیف کو دے دیے جائیں۔
سوال میں مذکور مرحوم کے 6 مرلہ مکان میں سے مرحوم کی بیوہ کے 4 مرلے حق مہر نکالنے کے بعد باقی ماندہ 2 مرلہ (18 سرسائی) مکان میں سے 0.25 مرلہ ( 2.25 سرسائی) مرحوم کی بیوہ کو، 1 مرلہ ( 9 سرسائی ) مرحوم کی بیٹی کو، 0.25 مرلہ (2.25سرسائی) مرحوم کی بہن کو اور 0.5 مرلہ ( 4.5 سرسائی ) مرحوم کے بھائی عبداللطیف کو ملیں گے۔

اور مرحوم عبداللطیف کو اپنے بھائی عبدالصمد مرحوم کی طرف سے ملنے والے حصے ( 0.5 مرلہ ) اور اس کے اپنے ذاتی ترکے (مکان وغیرہ ) کو جمع کر کے کل ترکہ مرحوم کی بہن کو دے دیا جائے۔
لہذا مذکورہ صورت میں بھانجا، عبدالصمد مرحوم کے مکان میں سے شریعت کی رو سے اپنی والدہ کے حصے 0.25 مرلے (2.25 سرسائی ) کا اور اس کی والدہ کو اپنے مرحوم بھائی عبداللطیف کی طرف سے ملنے والے حصے 0.50 مرلے ( 4.5 سرسائی ) کا اپنی والدہ کے حکم پر مطالبہ کر سکتا ہے، جو کہ دونوں ملا کر 0.75 مرلہ ( 6.75 سرسائی ) بنتا ہے۔ جبکہ مرحوم عبدالصمد کی بیوہ اور بیٹی کو عبداللطیف مرحوم کی جائیداد میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا

عبدالصمد مرحوم کے تقسیمِ ترکہ کا نقشہ۔

نمبرشمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ ترکہ سے ملنے والا حصہ
1 بیوی 1 ٪12.5 0.25 مرلہ ( 2.25 سرسائی )
2 بیٹی 4 ٪50 1 مرلہ ( 9 سرسائی )
3 بہن 1 ٪12.5 0.25 مرلہ ( 2.25 سرسائی )
4 بھائی 2 ٪25 0.5 مرلہ ( 4.5 سرسائی )
میزان 4 4 ٪100 2 مرلہ ( 18 سرسائی )

عبداللطیف مرحوم کے تقسیمِ ترکہ کا نقشہ

نمبرشمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ ترکہ سے ملنے والا حصہ
1 بہن 1 ٪100 مکان اور 0.5 مرلہ ( 4.5 سرسائی )
میزان 1 1 ٪100 = = = = =

لما فی القرآن المجید: (النساء ،11 )
“یوصیکم اللہ فی أولادکم ……و ان کانت واحدۃ فلھا النصف.( الآیۃ)”
وفیہ أیضاً: (النساء، 12 )
“فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ. ( الآیۃ)”
وفی السراجی فی المیراث: ( 10، مکتبہ شرکت علمیہ )
“أما للأخوات لأب وأم فاحوال خمس النصف للواحدۃ و الثلثان للاثنتین فصاعدۃ و مع الأخ لأب و أم للذکر مثل حظ الانثیین یصرن بہ عصبۃ لاستواءھم فی القرابۃ الی المیت.”
وفیہ أیضاً: ( 27 ، مکتبہ شرکت علمیہ )
ما فضل عن فرض ذوی الفروض و لا مستحق لہ یرد علی ذوی الفروض بقدر حقوقھم ثم مسائل الباب علی اقسام اربعۃ احدھا ان یکون فی المسألۃ جنس واحد ممن یرد علیہ عند عدم من لا یرد علیہ فاجعل المسئلۃ من رؤسھم
وکذافی اعلاء السنن: ( 18/394، ادارة القرآن )
وکذا فی الھندیة: ( 6/447، رشیدیہ )
وکذافی التنویر و الدر مع الشامیة: ( 10/532، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: ( 20/224،216، فاروقیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:109

میری والدہ میرے بچپن میں ہی وفات پا گئی تھیں، والد صاحب نے دوسری شادی کر لی، دوسری والدہ سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ والد صاحب بھی وفات پا گئے، والد صاحب نے 5 مرلہ کا مکان اور 6 مرلہ کا پلاٹ میری سوتیلی والدہ کے نام کروا دیا تھا۔ میری سوتیلی والدہ بھی وفات پا گئی ہیں، میری سوتیلی ماں کے 3سوتیلے بھائی اور 1سوتیلی بہن ہے، یعنی میری سوتیلی ماں کی والدہ ( میری سوتیلی نانی ) کے دوسرے شوہر سے 3 بیٹے اور 1 بیٹی ہے، جبکہ ہم ایک بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ جائیداد کی تقسیم کس ترتیب سے ہو گی؟ رہنمائی فرمادیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

مرحومہ نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا ،چاندی ،زیور اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ ( جیسے مکان، دکان اور فصل وغیرہ ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو، نیز مرحومہ کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا ۔
اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتا ہے ۔1: سب سے پہلے میت کے دفن تک کے تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے بطور احسان اپنی طرف سے اس کا نظم کردیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ۔2:اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کاقرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیاجائے گا۔ خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے۔3:اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔4:ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا زیوریا فصل وغیرہ اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیاجائے گا۔
کل ترکہ کے 4 برابر حصے کر دیےجائیں اور ہر ماں شریک بھائی اور بہن کو ایک ایک حصہ دے دیا جائے۔
سوال میں مذکور مرحومہ کے 5 مرلہ مکان میں سے ہر ماں شریک بھائی اور بہن کو 1.25 مرلہ دے دیے جائیں،اور 6 مرلہ کے پلاٹ میں سے ہر ایک کو 1.50 مرلہ دے دیے جائیں۔ مرحومہ کے سوتیلے بیٹے اور بیٹیوں کو جائیداد میں سے شریعت کی رو سے حصہ نہیں ملے گا۔

نمبرشمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ 5 مرلہ مکان 6 مرلہ پلاٹ
1 ماں شریک بھائی 1 ٪25 1.25 مرلہ 1.50 مرلہ
2 ماں شریک بھائی 1 ٪25 1.25 مرلہ 1.50 مرلہ
3 ماں شریک بھائی 1 ٪25 1.25 مرلہ 1.50 مرلہ
4 ماں شریک بہن 1 ٪25 1.25 مرلہ 1.50 مرلہ
میزان 4 4 ٪100 5 مرلہ 6 مرلہ

لما فی السراجی فی المیراث: ( 7، شرکت علمیہ )
“و أما لاولاد الأم فأحوال ثلث السدس للواحد و الثلث للاثنین فصاعدا ذکورھم و إناثھم فی القسمۃ و الاستحقاق سواء.”
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 10/7770، 7769، رشیدیہ )
“لأولاد الأم و یسمون بنی الأخیاف أحوال ثلاثۃ:… الثانیۃالثلث: للاثنین فصاعدا، ذکورا أو إناثا… ذکورھم و إناثھم فی القسمۃ و الاستحقاق سواء.”
وکذافی القرآن الکریم: (النسآء، الآیة: 12 )
وکذا فی الھندیة: ( 6/447،رشیدیہ )
وکذافی السراجی فی المیراث: ( 27، شرکت علمیہ )
وکذا فی الھندیة: ( 6/447، رشیدیہ )
وکذافی التنویر و شرحہ فی رد المحتار: ( 10/532، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: ( 20/216، فاروقیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440، 2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:62

درج ذیل مسئلہ(میراث ) میں رہنمائی فرمادیں۔1)مسمّی محمد امجد مرحوم کا 2005میں انتقال ہوا ،ان کے انتقال کے وقت ان کی ملکیت میں ایک کنا ل کا گھر ،4مرلہ کا پلاٹ (مشترکہ میں ان کا حصہ 4 مرلہ ہے)،ایک مشترکہ دکان جس میں ان کا حصہ تقریبا 2 سرسائی ہے اور 5۔3 ایکڑ زمین تھی۔ اور ان کے ورثاء میں 3بھائی (فقیر حسین،حامد اورخالد مسعود) ایک بہن ،ایک متبنی بیٹا ،بیوی ،بھائی حامد کے 2بیٹے اور 4 بیٹیاں ،دوسرے بھائی خالد مسعود کی 2 بیٹیاں اور 4 بیٹے ، ایک بھائی (طاہر جن کا 2004 میں انتقال ہو گیاتھا )کی 2 بیٹیاں موجود تھیں ۔ اور ایک بھائی فقیر حسین کا پچھلے سال (2017) میں انتقال ہوگیا ہے اور ان کی زوجہ و اولاد میں سے کوئی موجود نہیں ۔ان (امجد مرحوم ) کی وراثت کس طرح تقسیم ہو گی۔2)ان میں سے ایک وارث اپنے حق شرعی سے زیادہ کا مطالبہ کررہا ہے ، اس کا کیا حل کیا جائے۔3)جبکہ ہمارا قانون “متبنی “کی وراثت کو تقسیم کرتا ہے تو کیا شریعت بھی اسے وارث تسلیم کرتی ہے ۔کیونکہ مرحوم کی بعض جا ئیداد قانون کو مد نظر رکھتے ہوئے متبنی کے نام وراثتی طور ٹرانسفر ہو چکی ہے ، تو کیا اب اس جائیداد کو شریعت کے مطابق تقسیم کرنے کے لیے (متبنی کی) ولدیت تبدیل (یعنی کاغذات کے اندر حقیقی والد کا نا م درج) کرانا ضروری ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا ،چاندی ،زیور اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ ( جیسے مکان ،دکان اور فصل وغیرہ ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو ، نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا ۔
اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں ۔ جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتا ہے ۔1: سب سے پہلے میت کے دفن تک کے تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے بطور احسان اپنی طرف سے اس کا نظم کردیا تو ترکہ سے یہ اخراجات
نکالنے کی ضرورت نہیں ۔2:اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کاقرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیاجائے گا ۔خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے ۔واضح رہے کہ اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا اوربیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیاتھا تو وہ بھی قرض شمار ہوگا ۔3:اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی ۔4:ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا زیوریا فصل وغیرہ اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیاجائے گا۔
کل ترکے کے 140برابر حصے کیےجائیں گے ، جن میں سے 42 حصے (٪30)بھائی حامد کو ، 42 حصے (٪30)بھائی خالد کو ، 35حصے (٪25) بیوہ کو اور 21حصے (٪15)بہن کو دیے جائیں گے ۔
بھائی طاہر ، جن کا 2004میں انتقال ہوا ہے وہ یا ان کی اولاد اس وراثت کی حق دار نہیں ۔
اور مرحوم امجدکے ترکہ میں سے فقیر حسین (مرحوم)کو ملنے والا حصہ ان کے ورثاء کو دے کر مسئلہ بالا تحریر کیا گیا ہے۔
سوال میں مذکور ایک کنا ل کے گھر میں سے دونوں بھائیوں میں سےہر بھائی کو 6مرلے، بیوی کو 5 مرلے اور بہن کو 3 مرلے ملیں گے۔
ساڑھے تین(3.5)ایکڑ زمین میں سے دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک کو 8کنال 8مرلے ، بیوی کو 7کنال جبکہ بہن کو 4کنال 4مرلے ملیں گے ۔
اور مذکورہ مشترک پلاٹ (4مرلے)میں سے ہر بھائی کو 1.2مرلے ، بیوی کو 1 مرلہ اور بہن کو 0.6 مرلہ ملیں گے۔
اسی طرح دکان میں مرحوم کے حصہ (2سرسائی یا اس کی قیمت) کو اوپر ذکر کردہ فیصدی حصہ کے اعتبار سے تقسیم کرلیا جائے ۔الجواب باسم ملہم الصواب
مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا ،چاندی ،زیور اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ ( جیسے مکان ،دکان اور فصل وغیرہ ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو ، نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا ۔
اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں ۔ جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتا ہے ۔1: سب سے پہلے میت کے دفن تک کے تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے بطور احسان اپنی طرف سے اس کا نظم کردیا تو ترکہ سے یہ اخراجات
نکالنے کی ضرورت نہیں ۔2:اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کاقرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیاجائے گا ۔خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے ۔واضح رہے کہ اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا اوربیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیاتھا تو وہ بھی قرض شمار ہوگا ۔3:اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی ۔4:ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا زیوریا فصل وغیرہ اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیاجائے گا۔
کل ترکے کے 140برابر حصے کیےجائیں گے ، جن میں سے 42 حصے (٪30)بھائی حامد کو ، 42 حصے (٪30)بھائی خالد کو ، 35حصے (٪25) بیوہ کو اور 21حصے (٪15)بہن کو دیے جائیں گے ۔
بھائی طاہر ، جن کا 2004میں انتقال ہوا ہے وہ یا ان کی اولاد اس وراثت کی حق دار نہیں ۔
اور مرحوم امجدکے ترکہ میں سے فقیر حسین (مرحوم)کو ملنے والا حصہ ان کے ورثاء کو دے کر مسئلہ بالا تحریر کیا گیا ہے۔
سوال میں مذکور ایک کنا ل کے گھر میں سے دونوں بھائیوں میں سےہر بھائی کو 6مرلے، بیوی کو 5 مرلے اور بہن کو 3 مرلے ملیں گے۔
ساڑھے تین(3.5)ایکڑ زمین میں سے دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک کو 8کنال 8مرلے ، بیوی کو 7کنال جبکہ بہن کو 4کنال 4مرلے ملیں گے ۔
اور مذکورہ مشترک پلاٹ (4مرلے)میں سے ہر بھائی کو 1.2مرلے ، بیوی کو 1 مرلہ اور بہن کو 0.6 مرلہ ملیں گے۔
اسی طرح دکان میں مرحوم کے حصہ (2سرسائی یا اس کی قیمت) کو اوپر ذکر کردہ فیصدی حصہ کے اعتبار سے تقسیم کرلیا جائے ۔

نمبرشمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ ترکہ

28 کنال 4مرلے دکان مکان1کنال
1 بھائی 42 ٪30 8کنال8مرلے 1.2مرلہ ٪30 6مرلے
2 بھائی 42 ٪30 8کنال8مرلے 1.2مرلہ ٪30 6مرلے
3 بیوی 35 ٪25 7کنال 1مرلہ ٪25 5مرلے
4 بہن 21 ٪15 4کنال4مرلے 0.6مرلہ ٪15 3مرلے
میزان 4 140 ٪100 28کنال 4مرلے ٪100 20مرلے

2) ہرمسلمان کو شریعت کے مطابق ترکہ کی تقسیم پر راضی ہونا چاہے ۔کسی وارث کا اپنے حق سے زیادہ کا مطالبہ درست نہیں ۔ایسے وارث کو آپس میں سمجھا بجھا کر یا بااثر افراد کے ذریعے معاملے کو حل کرلیا جائے ۔کچھ دے دلا کر صلح بھی کی جا سکتی ہے ،ورنہ باقی ورثاء قانونی چارہ جوئی کا حق بھی رکھتے ہیں ۔3)متبنی پر لازم ہے کہ شرعی ورثاء کو ان کا حصہ دے دےاور جائیداد ان کے نام ٹرانسفر کر دے۔ شرعی طور پر اس کام کے لیے نام تبدیل کروانے کی ضرورت نہیں ، لیکن متبنی کا اپنے والد کی جگہ کسی اور کانام لکھنا سخت گناہ ہے ،اسے جلد از جلد تبدیل کرالے۔

لما فی التنویر وشرحہ مع رد المحتار :(10/ 550و552،دار المعرفہ)
“ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم)”
وبعد صفحتین:
“فقال :(ويصير عصبة بغيره البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) وإن سفلوا (والأخوات) لأبوين أو لأب (بأخيهن)”
وفی تفسیر الطبری:(10/ 75الجزء21،ط:دار المعرفہ)
“قوله: (وَما جَعَلَ أدعِياءَكُمْ أبْناءَكُمْ) يقول: ولم يجعل الله من ادّعيت أنه ابنك، وهو ابن غيرك ابنك بدعواك.”
وکذا فی تسہیل السراجی:(65،السعید)
وکذا فی روح المعانی):21/146،دار احیاء التراث العربی)
وکذا فی الشامیہ:(12/272،دار المعرفہ)
وکذا فی سنن الترمذی:(1/383،رحمانیہ)
وکذا فی المعجم الکبیر للطبرانی(7/205،دار الکتب العلمیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7248،رشیدیہ)
وکذا فی مشکاۃ المصابیح :(1/259،رحمانیہ)
وکذا فی الترغیب و الترھیب:(1/42، دار احیاء التراث العربی)

 

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/4/1440
6/1/2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:68

 

روایات کے اندر صبح وشام کی دعاؤں کا ذکر ملتاہے ۔تو کیا اس میں وقت کی کو ئی تحدیدہے؟مثلا صبح کی دعاؤں کا وقت طلوع شمس یا طلوع آفتاب سے شروع ہو کر کس وقت تک ہے ؟ اور اسی طرح شام کی دعاؤں کا ابتدائی اور انتہا ئی وقت کیا ہے؟ اور اسی طرح بعض اعمال دن ،رات کے ہیں ان کے اوقات کار کیا ہیں؟ مثلا ایک شخص تہجد کے وقت دن کے اعمال (تسبیحات اور سورۃ یٰس وغیرہ کی تلاوت )کر لیتا ہے حا لانکہ ابھی تک طلوع فجر بھی نہیں ہوا ،اس کا کیا حکم ہے ؟ مندرجہ با لاسولات کا جواب دےکر عند اللہ ما جور ہو ں اور تا کہ ہم ان مسنون اعمال کو مسنون طریقے پر کر سکیں ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صبح کی دعاؤں کا افضل وقت آدھی رات کے بعد سے طلوع شمس تک ہے اگر چہ گنجائش زوال تک بھی ہے ،اورشام کی دعاؤں کا افضل وقت زوال کے بعد سے غروب تک ہے ،اگرچہ گنجائش آدھی رات تک بھی ہے ،دن کےاذکار کا وقت سورج کے طلوع سے غروب تک ہے اور رات کی دعاؤں کا وقت سورج کے غروب سے طلوع تک ہے ۔

لمافی الشامية:(6/354،دار المعرفة)
تدخل أوراد الصباح من نصف الليل الأخير والمساء من الزوال، هذا فيما عبر فيه بهما. وأما إذا عبر باليوم والليلة فيعتبران تحديدا من أولهما
وفی لسان العرب : ( 13/110 ،داراحیاء التراث العربی )
والمساء:بعد الظهر الي صلاة المغرب وقال بعضهم الي نصف الليل
وفی فقہ الاد عية والاذکار : (3/ 11 ،الکویت شاملہ)
ويقول تعالى: {فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ} 4، والآيات في هذا المعنى كثيرة.ومَحلُّ هذه الأوراد هو الصباحُ الباكرُ من بعد صلاة الصُّبحِ إلى قبل طلوع الشمس، والمساء ويقال العشي والآصال من بعد صلاة العصر إلى قبل الغروب، على أنَّ الأمر في ذلك واسعٌ إن شاء الله فيما لو نسي العبدُ ذلك في وقته أو عَرضَ له عارضٌ فلا بأس أن يأتي بأذكار الصباح بعد طلوع الشمس، وأذكار المساء بعد غروبها
وکذا فی الاذکار: ( 147 ، دار البشائر الاسلامية)
وکذا فی لسان العرب : (12 /378 ، داراحیاء التراث العربی)
وکذا فی المعجم الوسیط : (1067 ،دار الد عوۃ )
وکذافی لسان العرب : ( 15/ 466، ، داراحیاء التراث العربی)
وکذافی لسان العرب : (7/ 271 ، داراحیاء التراث العربی )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
9-5-2019،1440-9-3
جلد نمبر :19فتوی نمبر:58

ایک آدمی نے نذر مانی تھی کہ اگرمیرا بیٹاٹھیک ہوگیا تو میں500روپے اپنے علاقےکی مسجدمیں دوں گا اب وہ کسی دوسری مسجدمیں دے سکتا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ نذر شرعاًمنعقد نہیں ہوئی،اس لیے اس کو پورا کرنا آپ کے ذمہ لازم نہیں ۔

لما فی بدائع الصنائع: (5/573 ، رشیدیہ)
وأما) الذي يرجع إلى المنذور به فأنواع: (ومنها) أن يكون قربة مقصودة، فلا يصح النذر بعيادة المرضى وتشييع الجنائز والوضوء والاغتسال ودخول المسجد ومس المصحف والأذان وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك وإن كانت قربا؛ لأنها ليست بقرب مقصودة
وفی الشامية: (4 / 498 ،رشیدیہ )
وفي البدائع: ومن شروطه أن يكون قربة مقصودة فلا يصح النذر بعيادة المريض، وتشييع الجنازة، والوضوء، والاغتسال، ودخول المسجد، ومس المصحف، والأذان، وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك، وإن كانت قربا إلا أنها غير مقصودة
وکذافی الفتاوی التا تارخانية: (6 / 281 ، فاروقية)
وکذا فی تنویرالابصارعلی الدر المختار : ( 5/537 ، رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق : ( 4/498 ، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 4/ 2555، رشیدیہ)
وکذافی : الفتاوی السراجية:( 270 ، دارالعلوم زکریا)
وکذا فی اللباب: (3 / 110 ، قدیمی)
وکذافی مجمع الانھر : ( 2/ 274، المنار)
وکذا فی فتاوی النوازل: ( 242 ، الحقانية)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18-6-1440،2019-02-24
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:21