نابالغ خطبہ جمعہ دے سکتاہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

سمجھدارنابالغ کا خطبہ جمعہ دیناجائزہے،مگرنماز کسی بالغ ہی کوپڑھانا چاہیئے۔

لما فی الشامیة :(2/147 ، ایچ ایم سعید)
” بانہ خطب صبی باذن السلطان وصلی الجمعۃ رجل بالغ یجوز”
وفی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح :(343 ، رشیدیہ)
“عن الخلاصۃ انہ لوخطب صبی باذن السلطان وصلی الجمعۃ رجل بالغ یجوز”
وکذافی البحر الرائق :(2/458 ، رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التا تار خانیة :(2/562 ، فاروقیة)
وکذافی الجو ہرةالنیرة :(1/225 ، قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی :(2/451 ، داراحیاء)
وکذافی التجنیس والمزید :(2/224 ، ادارۃالقرآن والعلوم)
وکذافی الشباہ والنظائر:(3/22 ، ادارۃ القرآن والعلوم)
وکذافی مجع النھر:(1/254 ، المنار)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(1/25 ، رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد علیم اللہ عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
30 / 04 / 1440
ء2019 / 4 / 7
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:73

ايك شخص کی روزہ رکھنے کی نیت نہ تھی طلوع آفتاب کےبعد تک اس نے کچھ کھایا پیا نہیں، اب اس نے روزہ رکھنے کی نیت کر لی، پھر اس شخص نے کچھ کھا کر روزہ توڑ دیا تو اس پر کفارہ اور قضاء دونوں ہیں یا صرف قضاء ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

مذکورہ شخص پر صرف قضا واجب ہے۔

لما فی مجمع الانھر:(1/355،359،المنار)
“ویجب القضاء فقط بلا کفارۃ……(وکذا لو اصبح غیرنا وللصوم فاکل) فیجب القضاء ولا کفارۃ علیہ عند الامام سواء اکل قبل الزوال او بعدہ.”
وفی تنویر الابصار مع شرحہ:(3/478،رشیدیہ)
“(ولو نوی مسافر الفطراو لم ینو(فاقام ونوی الصوم فی وقتھا) قبل الزوال(صح)مطلقا(ویجب علیہ) الصوم(لو) کان (فی رمضان سافر فیہ)ای فی ذلک الیوم(و)ولکن(لاکفارۃ علیہ) لو افطر فیھما”
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/366،بیروت)
وکذا فی التاترخانية:(3/424،فاروقیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/483،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/417،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اكرام کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22-9-1440،2019-05-28
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:84

اگر بھول کرنیت چاررکعت سنت کی کرلی جائے،حالانکہ پڑھنی دورکعت ہی ہوں اور دو رکعت پڑھ کر سلام پھیردیا جائے تو یہ نماز درست ہے یا نہیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

جی درست ہے۔

لمافی الھندیة: (1/65 ،رشیدیہ )
“ویکفیہ مطلق النیۃ للنفل والسنۃ والتراویح ھو الصحیح…. ولایشترط نیۃ عدد الرکعات ھکذافی شرح الوقایۃ حتی لو نواھا خمس رکعات وقعد علی راس الرابعۃاجزاہ وتلغونیۃ الخمس.”
و فی فقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (1/201،رشیدیہ)
” ولایشترط نیۃ عدد الرکعات فلو نوی الظھر خمس رکعات وقعد علی راس الرابعۃاجزاہ وتلغونیۃ الخمس.”
وکذا فی التاتارخانیة: (2/44 ،فاروقیہ)
وفیہ ایضا:(2/297،فاروقیہ)
وکذا فی خلاصةالفتاوی: (1/80 ،رشیدیہ )
وکذافی الھندیة: (1/113 ،رشیدیہ )
وکذافی مجمع الانھر : (1/197،المنار)
وکذافی بدائع الصنائع: (2/7 ،رشیدیہ )
وکذافی البحر الرائق: (2/99 ،رشیدیہ )
وفیہ الضا:(2/104،رشیدیہ)
وکذا فی الخانیة: (/ ،رشیدیہ )
وکذا فی النھرالفائق: (/،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22-9-1440،2019-05-28
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:83

کیا عورتیں قرآن پاک یاد رکھنے کی نیت سے تراویح پڑھاسکتی ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حافظات کو قرآن پاک یاد رکھنے کے لیےتلاوت کا مستقل معمول بنانا چاہیے ،اگر کسی کو اس طرح یاد نہ ہو تو گھر کی خواتین کو تراویح پڑھانے کی گنجائش ہے،لیکن اس کے لیے محلہ کی خواتین کو دعوت و ترغیب نہ دی جائےکہ یہ متعدد خرابیوں کا ذریعہ بنتی ہے۔

لما فی کتاب الآثار: (1/258،دارالسلام)
“قال محمد :اخبرناابوحنیفۃ :حدثنا حماد…عن عائشۃ ام المومنین رضی اللہ تعالی عنھا انھا توم النساء فی شھر رمضان فتقوم وسطا .”
و فی فتح القدیر: (1/365 ،رشیدیہ )
“وبتقدیر التسلیم فانما یفید نسخ السنیۃ وھو لا یستلزم ثبوت کراھۃ التحریم فی النفل بل التنزیہ ومر جعھا خلاف الاولی .”
وکذافی الھدایة : (1/25،المیزان)
وکذافی الھندیة: (1/85 ،رشیدیہ )
وکذافی البحرالرائق: (1/614 ،رشیدیہ )
وکذافی الشامیة: (1/565 ،سعید)
وکذافی النھر الفائق: (1/244 ،قدیمی )
وکذافی التاتارخانیة(2/257 ،فاروقیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح: (1/304 ،قدیمی)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (1/265 ،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22-9-1440،2019 -05-28
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :82

ایک عورت نے میکے جانے کی ضد کی ،شوہر نے کہا میں پکا پکا چھوڑ آتاہوں، شوہر کا کہنا ہےکہ میری نیت یہ تھی کہ میں جاکر اس عورت کو نہیں لاؤں گا خود آگئی تو ٹھیک ہے ،اس صورت حال میں طلاق ہوجائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں طلاق نہیں ہوئی۔

لمافی الھندیة: (1/375 ،رشیدیہ )
الفصل الخامس فی الکنایات)لایقع بھا الطلاق الا بالنیۃاو بدلالۃ الحال ….والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق . … (وحالة) الغضب…. يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية وألحق أبو يوسف رحمه الله تعالى – بخلية وبرية وبتة وبائن وحرام أربعة أخرى …وهي لا سبيل لي عليك لا ملك لي عليك خليت سبيلك
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (9/6900،رشیدیہ)
“وفصل الحنفیۃ فی وقوع الطلاق قضاء بالفاظ الکنایات …واما فی حالۃالغضب فیقع الطلاق بلفظ (اعتدی)من غیر نیۃ واماالالفاظ الاخری فتحتاج الی نیۃ.
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/428،دار احیاء)
وکذافی الھدایة : (2/335،رشیدیہ )
وکذافی اللباب : (2/172،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع: (3/168 ،رشیدیہ )
وکذا فی فتح القدیر: (4/58 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22-9-1440،2019-05-28
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :86

میرا نام شاہد اقبال ہے میں بیوپاری اور مل (فیکٹری)کے درمیان مڈل مین کا کردار اداکرتاہوں مثلا مکئ،گندم،کمادوغیرہ ۔ بیوپاری مال مل میں بھیج دیتا ہے۔ مل میں میرے نام سے کھاتہ کھلا ہوا ہے۔ مال فیل ہو یا پاس وہ بیوپاری کا ہوتا ہے ،کٹوتی وٹہ بھی بیوپاری کو لگتا ہے، جو صافی وزن ہوتا ہے وہ ہم بیوپاری کو دے دیتے ہیں۔ فی من بیس سے پچاس روپے تک ہم نفع رکھتے ہیں ۔مل میں مال اترنے کے بعد دوسرے دن بیو پاری کو ہم رقم کی ادائیگی کر دیتے ہیں، مل ہمیں رقم قسطوں میں ادا کرتی ہے۔ ہمارےلیے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور بیوپاری جو ہمارے کھاتے میں مال ڈال کر دوسرے دن ہم سے رقم لے جاتا ہے اس کے لئے ایسا کرنا جائز ہے یانہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مذکورہ میں آپ کا یہ معاملہ درست نہیں، اس کی درست صورت یہ ہو سکتی ہےکہ آپ خودیا آپ کا وکیل بیو پاری سے خریدکر قبضہ کرلے پھر فیکٹری کو نفع کے ساتھ بیچ دے اور بیو پاری کو دوسرے دن رقم دے دےاور خود فیکٹری سے قسطوں میں وصول کرتا رہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (5/3380 ،رشیدیہ)
“قال الحنفیۃ :لا یجوز التصرف فی المبیع قبل القبض بلا خلاف لان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن بیع ما لم یقبض.”
وفی الصحیح لمسلم : (2/5،قدیمی)
“عن عبداللہ بن عمر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:من اشتری طعاما فلا یبیعہ حتی یستوفیہ ویقبضہ.”
وکذافی الھدایة : (3/78،رحمانیہ )
وکذافی جامع الترمذی: (1/364،رحمانیہ )
وکذافی صحیح البخاری: (1/286،قدیمی)
وکذافی اللباب : (1/219،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10-8-1440،2019-04-16
جلد نمبر :19 فتوی نمبر:30

گھر میں والدہ کو قرآن سنانے کے لیے نفل کی جماعت کروانا کیسا ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

گھر میں والدہ کو قرآن سنانے کے لیے نفل کی جماعت کی گنجائش تو ہے ،لیکن اگر یہ خدشہ ہوکہ دوسرے لوگ اس کو دیکھ کر نوافل کی عمومی جماعت شروع کر دیں گےتو ناجائز ہے ۔

لما فی الشامیة: (2/49،سعید)
“(قولہ اربعة بواحد ة)اما اقتداء واحد بواحد او اثنین بواحد فلا یکرہ وثلاثة بواحدۃ فیہ خلاف.”
وفیہ ایضا:(2/48،سعید)
وفی المحیط البرھانی: (2/264،دار احیاء)
وحكي من الشيخ الإمام الأجل شمس الأئمة السرخسي رحمه الله أن التطوع بالجماعة إذا صلوا التطوع…… سبيل التداعي أما إذا اقتدى واحد بواحد لا يكره، وإذا اقتدى ثلاثة بواحدة، ذكر هو رحمه الله: أن فيه اختلاف المشايخ، قال بعضهم: يكره وقال بعضهم: لا يكره. وإذا اقتدى أربعة بواحد يكره بلا خلاف
وکذافی التاتارخانیة: ( 2/292،فاروقیہ )
وکذافی اللباب: (1/124،قدیمی)
وکذافی البنایة: (2/401،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر: (1/365 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیةالطحطاوی: (1/412 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9-9-1440،2019-05-15
جلد نمبر :19 فتوی نمبر:61

ایک عورت نے اپنا پانچ مرلے کا پلاٹ مسجد کے نام پر وقف کیااور جگہ کا تعین بھی ہو گیا اور دعا خیر بھی کردی اب محلے والوں کی رائے ہے کہ اس پلاٹ کو فروخت کر کے اس کے قریب ایک آٹھ مرلے کا پلاٹ ہے اس کو خرید کر وہاں مسجد تعمیر کی جائےاس پر وہ عورت بھی راضی ہے اور اس جگہ کی لوکیشن بھی اچھی ہے اب ان پانچ مرلوں کو بیچ کر دوسری جگہ خرید کر وہاں مسجد بنانا یا وقف شدہ زمین کا تبادلہ کر کے وہاں مسجد بنانا کیسا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر آٹھ مرلے میں مسجد بننااہل محلہ کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتو چند سمجھ دار اور دین دار افراد کے مشورے سے پانچ مرلے بیچ کر ،آٹھ مرلے خریدے جاسکتے ہیں۔

لما فی الشامیة: ( 6/594 ،رشیدیہ )
” . قوله: إلا في أربعالأولى: لو شرطه الواقف. الثانية: إذا غصبه غاصب، وأجرى عليه الماء—الرابعة: أن يرغب إنسان فيه ببدل أكثر غلة، وأحسن صقعا فيجوز على قول أبي يوسف وعليه الفتوى
وفی البحر الرائق : (6 /212 ،رشیدیہ )
فالاستبدال في هذه الصورة قول أبي يوسف ومحمد وإن كان للوقف ريع ولكن يرغب شخص في استبداله إن أعطى مكانه بدلا أكثر ريعا منه في صقع أحسن من صقع الوقف جاز عند القاضي أبي يوسف والعمل عليه وإلا فلا يجوز اهـ
وکذافی الھندیة: (2 /401 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (10 /7676 ،رشیدیہ )
وکذا فی فتح القدیر: (6 /212 ،رشیدیہ )
وکذا فی الخانیة: (3 /306 ،رشیدیہ )
وکذا فی النھرالفائق: (3 /320 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24-07-1440،2019-04-01
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :98

اگر غسل کے دوران پیشاب کے دو ،تین قطرے آجائیں تو کیا غسل پھر دوبارہ سے کرنا ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں دوبارہ غسل کرنا ضروری نہیں البتہ استنجاء کرکے جسم پر قطرے لگنے والی جگہ کو دھولیا جائے۔

لما فی التاتارخانیة: (1/463 ،فاروقیہ )
وذا کانت النجاسۃ علی بدن الآدمی ذکر فی الاصل انھا لا تطھر لا بالغسل رطبۃ او یابسۃ لھا جرم او لا جرم لھا وفی القدوری :لا یطھر شیئ مما کا فیہ نجاسۃ من ثوب او بدن الا بالغسل .
وفی بدائع الصنائع: (1/241،رشیدیہ )
وأما سائر النجاسات إذا أصابت الثوب أو البدن ونحوهما فإنها لا تزول إلا بالغسل، سواء كانت رطبة أو يابسة، وسواء كانت سائلة أو لها جرم
وکذافی جامع الترمذی(1/114 ،رحمانیہ )
وکذافی الشامیة: (1/561 ،رشیدیہ )
وکذافی الھدایة: (1/74 ،میزان )
وکذافی الجوھرة النیرة: (1/46 ،حقانیہ)
وکذافی البنایة: (1/708 ،قدیمی )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (1/331،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7-8-1440،2019-04-13
جلد نمبر :19 فتوی :23

ایک آدمی کی دس ماہ کی بچی ہےمگر حمل دوسرا بھی ہے تقریبا ایک ماہ سے زائد کا اس وجہ عورت کی صحت بھی اور بچی کی صحت بھی خراب رہتی ہے تو کیا اس حالت میں وہ حمل گراسکتے ہیں یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں ماہر اور دین دار ڈاکٹرکے مشورے سے حمل گرایا جاسکتاہے، ورنہ نہیں۔

لما فی الشامیة: (3 /176 ،سعید )
وقالوا یباح أسقاط الولد قبل أربعۃ اشھر ولو بلا أذن الزوج (وعن أمتہ بغیر أذنھا)بلا کراھۃ فأن ظھر بھا حبل حل نفیہ ان لم یعد قبل بول
وفی: الھندیة (1 /335 ،رشیدیہ )
“وکذالک المرأۃ یسعھا أن تعالج لأسقاط الحبل ما لم یستبن شیئی من خلقہ وذالک ما لم یتم لہ مائۃ وعشرون یوما
وکذافی الشامیة : (3 /176 ،سعید )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 9/ 6601، رشیدیہ)
وکذا فی البنایة: (4 / 759 ،رشیدیہ )
وکذافی النھر الفائق: (2 /276 ،قدیمی )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (2 /76 ،رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق : ( 3/ 349 ،رشیدیہ )
وکذا فی تبیین الحقائق: ( 2/ 166 ،امدادیہ )
وکذا فی مجمع الانھر : (1 /538 ،المنار )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-7-1440،2019-3-24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :73