کیا عورت کو غسل کے دوران سارے بال بھگونے پڑیں گے یا صرف ان پر پانی ڈالنے سے غسل ہو جائے گا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر عورت کے بال گندھے ہوے ہوں تو بالوں کی جڑ تک پانی پہچانا ضروری ہے پورے بال بھگونے کی ضرورت نہیں، اگر بال کھلے ہوں تو تمام بالوں کو بھگونا ضروری ہے ۔

لما فی الھندیة: (1/13 ،رشیدیہ )
” وليس على المرأة أن تنقض ضفائرها في الغسل إذا بلغ الماء أصول الشعر وليس عليها بل ذوائبها هو الصحيح. كذا في الهداية.ولو كان شعر المرأة منقوضا يجب إيصال الماء إلى أثنائه
و فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (1/143 ،رشیدیہ )
وھل یجب نقض ضفائر الشعر ؟للعلماء آراء متقاربۃ: قال الحنفیۃ :یکفی بل اصل الضفیرۃ ای شعرالمرأۃ المضفور دفعا للحرج اما المنقوض فیفرض غسلہ کلہ اتفاقا
وکذافی الشامیة: (1/315 ،رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: (1/143 ،رشیدیہ )
وفی البحر الرائق : (1/98،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی : (1/107 ،الطارق )
وکذافی خلاصة الفتاوی: (1/114 ،رشیدیہ )
وکذافی المحیط البرھانی : (1/223 ،دار احیاء )
وکذافی التاتارخانیة: (1/274 ،فاروقیہ )
وکذافی کتاب الفقہ: (1/103 ،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7-8-1440،2019-04-13
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :24

مسواک کرتے وقت کونسی دعا پڑہنی چاہیے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

علماء کرام نے مسواک کی مختلف دعائیں لکھی ہیں(1) أَللّٰھُمَّ طَھِّرْ فَمِیْ وَنَوِّرْ قَلْبِیْ وَطَھِّرْ بَدَنِیْ وَحَرِّمْ جَسَدِیْ عَلَی النَّارِ وَاَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِکَ فِیْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْن (2)أَللّٰھُمَّ طَھِّرْ قَلْبِیْ وَمَحِّصْ ذُنُوْبِیْ (3) أ للَّهُمَّ بَيِّضْ بِهِ أَسْنَانِيْ وَشُدَّ بِهِ لِثَاتِيْ، وَثَبِّتْ بِهِ لَهَاتِي، وَبَارِكْ لِيْْْْْْْْْْْْْْْ فِيهِ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.،لیکن یہ دعائیں مسنون نہیں ،اس لیے وضو کی مسنون دعا”أَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ وَوَسِّعْ لِيْ فِيْ دَارِيْ وَبَارِكْ لِيْ فِيْ رِزْقِيْ أَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنْ التَّوَّابِیْنَ واجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ “پر اکتفاء کرنا چاہیے۔

لما فی عمل الیوم واللیلة: (1/17 ،دار الکتاب )
قال ابو موسی رضی اللہ تعالی عنہ:اتیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتوضا فسمعتہ یقول: “أللھم اغفر لی ذنبی ،ووسع لی فی داری وبارک لی فی رزقی قال قلت یا نبی اللہ لقد سمعتک تدعو بکذا وکذا قال :وھل ترکن من شیئ
وفی الاذکار:(1/56،دارالبشائر)
عن ابی موسی الاشعری رضی اللہ تعالی عنہ قال :اتیت رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم بوضوء فتوضا فسمعتہ یدعوو یقول: “أللھم اغفر لی ذنبی ،ووسع لی فی داری وبارک لی فی رزقی
وکذا فی البنایة: (1/150،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی:1(/459،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ: (1/147،حقانیہ )
وکذا فی مغنی المحتاج: (1/185، شاملہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7-8-1440،2019-04-13
جلد نمبر :19 فتوی نمبر:33

نابالغ بچہ اور بچی کی نمازہ جنازہ میں جو دعا پڑھی جاتی ہے کیا وہ حدیث سے ثابت ہے ؟اور جو حدیث ہے ثابت ہے وہ بتلا دیں ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

حضور ﷺ سے نابالغ کے جنازے کی کوئی خاص دعا منقول نہیں ہے ،اور حضرات سلف صالحین سے بھی مختلف الفاظ مروی ہیں ۔مثلا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دعا پڑھتے تھے ،اَلّٰلہُمَّ اجْعَلْہُ لَنَا سَلَفَا وَفَرَطا وَ ذُخْرا ،اور حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی اسی سے ملتے جلتے الفاظ منقول ہیں ،اس لیے فقہاء کرام نے تمام روایات کے پیش نظر ایک جامع دعا ذکر فرمائی ہے ۔اَلّٰلہُمَّ اجْعَلْہُ لَنَا فَرَطا وَاجْعَلْہُ لَنَا اَجْرا وَذُخْراوَاجْعَلْہُ لَنَا شَافَعا وَ مُشَفَّعا.
اگر نابالغ بچی کا جنازہ ہو تو اِجْعَلْہُ کی بجائے اِجْعَلْھَا اور شَافِعا وَمُشَفَّعا کے بجائے شَافِعۃ وَمُشَفَّعَۃ پڑھا جائے ۔

لمافی صحیح البخاری :(1/178،قدیمی )
“وقال الحسن یقرا علی الطفل بفاتحۃ الکتاب ویقول اللہم اجعلہ لنا فرطا و سلفا و اجرا.”
وفی مصنف ابن ابی شیبۃ :(6/107،دار الکتب)
“عن الحسن انہ کان یقول :اللہم اجعلہ لنا فرطا وذخرا واجرا.”
وفی السنن الکبری :(4/15،دارالکتب)
“عن ھمام بن منبہ عن ابی ھریرۃ انہ کان یصلی علی المنفوس الذی لم یعمل خطیئۃ فقط ویقول :اللہم اجعلہ لنا سلفا وفرطا و ذخرا.”
وفی عون المعبود شرح سنن ابی داؤد :(8/275،قدیمی ) وفی مراقی الفلاح مع نور الایضاح :(1/587،قدیمی )
وفی عمدۃ القاری:(8/139،دار احیاء ) وفی فتح الباری :(3/262،قدیمی)
وفی الھدایة :(1/192،میزان) وفی بدائع الصنائع:(2/51،رشیدیہ )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام کان اللہ لہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
22/9/1440،2019/5/28
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :85

شوہر نے بیوی کو طلاق دی بیوی نے عدت پوری نہیں کی ،بیس دن کے بعد دوسری جگہ نکاح کر لیا ،کیا عدت کے دوران دوسرا نکاح درست ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

عدت کے دوران دوسرا نکاح جائز نہیں لہذا اس عورت پر فورا ًدوسرے خاوند سے علیحدہ ہو جانااور توبہ کرنا ضروری ہے۔اگر مرد اس صورت حال سے واقف ہو تووہ بھی توبہ کرے۔

لما فی بدائع الصنائع: (3/323 ،رشیدیہ )
العدة فمنها أنه لا يجوز للأجنبي نكاح المعتدة لقوله تعالى {ولا تعزموا عقدة النكاح حتى يبلغ الكتاب أجله} [البقرة: 235] قيل: أي لا تعزموا على عقدة النكاح، وقيل: أي لا تعقدوا عقد النكاح حتى ينقضي ما كتب الله عليها من العدة ولأن النكاح بعد الطلاق الرجعي قائم من كل وجه، وبعد الثلاث والبائن قائم من وجه حال قيام العدة لقيام بعض الآثار، والثابت من وجه كالثابت من كل وجه في باب الحرمات احتياطا
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (9 /6613 ،رشیدیہ )
والانکحۃالباطلۃللنھی عنھا کثیرۃ اھمھا تسعۃ —نکاح المعتدۃ والمستبرأۃ من غیرہ ولو من وطئی شبھۃ ،فان دخل بھا حد حد الزنا، الا ان ادعی الجھل بحرمۃ النکاح فی العدۃ والاستبراء من غیرہ فلا حد علیہ
وکذافی الھندیة: (1/280،رشیدیہ )وکذافی بدائع الصنائع: (2/549،رشیدیہ )
وفیہ ایضا: (3/302،رشیدیہ )وکذا فی التاتارخانیة: (5/226 ،فاروقیہ)
وفیہ ایضا: (4/66،رشیدیہ )وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (2/205 ،الطارق)
وفیہ ایضا: (2/76،رشیدیہ )وکذا فی الشامیة: (5/182،دار المعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7-8-1440،2019-04-13
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :22

باپ اپنی زندگی میں اپنے مال کو تقسیم کرتا ہے کسی بیٹی کو زیادہ دیتا ہے ایک بیٹے کوکم دیتا ہے اور اپنے عالم بیٹے کو ان کے برابر دیتاہے اور ایک حصہ بیچ دیتا ہے کیا اس طرح کرنا درست ہے ؟باپ کو اختیار ہے یا نہیں

الجواب حامداً ومصلیاً

زندگی میں ہر شخص کو اپنے مال میں ہر طرح کے تصرف کا حق حاصل ہےباپ کے لیےبہترتو یہ ہے کہ اپنی تمام اولاد کو برابر حصہ دے اور کسی کو کسی عذر کی وجہ سےزیادہ بھی دیا جا سکتاہے مثلا اولاد میں سے کوئی تحصیل علم میں مشغول ہویامالی اعتبار سے کمزور ہویا کمانے سے عاجز ہواور کوئی حصہ بیچنا چاہےتو بیچ بھی سکتاہے ۔

لما فی الصحیح للبخاری: ( 1/ 352 ،قدیمی )
حدثنا حامد بن عمر، حدثنا أبو عوانة، عن حصين، عن عامر، قال: سمعت النعمان بن بشير رضي الله عنهما، وهو على المنبر يقول: أعطاني أبي عطية، فقالت عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية، فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله، قال: «أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟»، قال: لا، قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»، قال: فرجع فرد عطيته
وفی الھندیة: (4 /391 ،رشیدیہ )
” ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف – رحمه الله تعالى – أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية
وفی الشامیة: (8/454،سعید)
وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز واثم
وکذا فی التاتارخانیة : (14 /462 ،فاروقیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی: (5/4012،رشیدیہ)
وکذا فی الصحیح لمسلم: (2/47،رحمانیہ)
وکذا فی تکملة فتح الملھم: (2/68،دار العلوم)
وکذا فی خلاصةالفتاوی: (4/400،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع: (5/182،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24-07-1440،2019-04-01
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :110

اگر کوئی امام یا منفرد سری نماز میں جہری اور جہری نماز میں سری قراءت شروع کردے تو کتنی مقدار قراءت کرنے سے اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا اور کیا یہ شخص یاد آنے پر وہیں سے آگے پڑھے گا یا دوبارہ صحیح طریقے (یعنی سری میں سری اور جہری میں جہری ) سے قراءت شروع کرے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر امام ہو تو تین چھوٹی آیتیں یا ایک لمبی آیت کے بقدر سری نماز میں جہری اور جہری نماز میں سری قراءت کرنے سے سجدہ سہو واجب ہوگا اور اگر منفرد ہوتو دونوں صورتوں میں سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا اور یاد آنے پرآگے صحیح طریقے سے پڑھے گا۔

لما فی الھندیة: (1 /128 ، رشیدیہ)
 ومنها الجهر والإخفاء) .حتى لو جهر فيما يخافت أو خافت فيما يجهر وجب عليه سجود السهو واختلفوا في مقدار ما يجب به السهو منهما قيل: يعتبر في الفصلين بقدر ما تجوز به الصلاة وهو الأصح ولا فرق بين الفاتحة وغيرها، والمنفرد لا يجب عليه السهو بالجهر والإخفاء؛ لأنهما من خصائص الجماعة
وفی المبسوط: (1 /222 ،دارالمعرفہ )
وإن جهر الإمام فيما يخافت فيه أو خافت فيما يجهر به يسجد للسهو؛ لأن مراعاة صفة القراءة في كل صلاة بالجهر والمخافتة واجب على الإمام، فإذا ترك فقد تمكن النقصان والتغير في صلاته فعليه السهو، وذكر في نوادر أبي سليمان – رحمه الله تعالى – إن جهر فيما يخافت فعليه السهو قل أو كثر ذلك، وإن خافت فيما يجهر، فإن كان في أكثر الفاتحة أو في ثلاث آيات من غير الفاتحة فعليه السهو وإلا فلا—قال: (وإن كان منفردا فليس عليه سجود السهو بهذا) أما في صلاة الجهر هو مخير بين الجهر والمخافتة فلا يتمكن النقصان في صلاته جهر أو خافت، وأما في صلاة المخافتة فجهر المنفرد بقدر إسماعه نفسه وهو غير منهي عن ذلك، فلهذا لا يلزمه السهو.
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (2 /396 ،فاروقیہ )
وفیہ ایضا:(2/396،فاروقیة )
وکذا فی الشامیة: ( 2/ 81 ،سعید )
وکذا فی بدائع الصنائع : (1 /405 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی: ( 1/283 ،الطارق )
وکذا فی خلاصة الفتاوی( 1/194 ،امدادیہ )
وکذا فی الشامیة : (1 /533 ،سعید )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-7-1440،2019-3-24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :77

ایک شخص تنہا فرض پڑھ رہا تھا چار رکعت ادا کرنی تھیں کہ اس نے دو رکعت پر بھول کر ایک طرف سلام پھیرا تواس کو یاد آگیا ،اس نے فورا کھڑے ہو کر تیسری رکعت اور چوتھی رکعت ادا کی اور آخر میں سجدہ سہو کر لیا تو اب کی نماز کا کیا حکم ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اس شخص کی نماز درست ہے۔

لما فی بدائع الصنائع : (1 /402 ،رشیدیہ )
“ولو سلم مصلی الظھر علی رأس الرکعتین علی ظن انہ قد أتمھا ثم علم انہ صلی رکعتین وھوعلی مکانہ فانہ یتمھاویسجد للسھو .
وفی المبسوط : (1 /232 ،دارالمعرفہ )
واذا توھم مصلی الظھر انہ قدأتمھا فسلم ثم علم انہ صلی رکعتین وھوعلی مکانہ فانہ یتمھا ثم یسجد للسھو لان سلامہ کان سھوافلم یصر بہ خارجا من الصلاۃ
وکذا فی الصحیح لمسلم : ( 1/ 257 ،رحمانیہ )
وکذافی المحیط البرھانی: ( 2/325 ،دار احیاء )
وکذا فی الشامیة : (2 /92 ،سعید )
وکذا فی البحر الرائق : (2 /196 ،رشیدیہ )
وکذا فی تبیین الحقائق : (1 /199 ،رشیدیہ )
وکذا فی النھرالفائق: (1 /333 ،قدیمی )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (2 /1109 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-7-1440،2019-3-24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :87

کیا خلع اور طلاق کی عدت میں کوئی فرق ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دونوں میں کوئی فرق نہیں۔

لما فی البحر الرائق: (4 /120 ،رشیدیہ )
” قولہ:(الواقع بہ وبالطلاق علی مال طلاق بائن )ای بالخلع الشرعی ،اما الخلع فلقولہ علیہ الصلاۃ والسلام الخلع تطلیقۃبائنۃولانہ یحتمل الطلاق حتی صارمن الکنایات والوقع بالکنایۃ بائن.
وفی المبسوط : (6 /171 ،دار المعرفہ )
“(قال ) واذا اختلعت المرءۃ من زوجھا فالخلع جائز والخلع تطلیقۃ بائنۃ عندنا . “
وکذافی الھندیة : (1 /488 ،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (3 /228 ،قدیمی )
وکذا فی الشامیة : (5 /93 ،رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی : (5 /59 ،دار احیاء )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 9/ 7007 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-7-1440ھ2019-3-24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :84

امام جب رکوع کی حالت میں ہو اور مسبوق نماز میں شریک ہوا تو تکبیر تحریمہ کے لئے قیام ضروری ہے یا رکوع میں جاتے ہوئےتکبیر تحریمہ کہہ لے تو کافی ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

تکبیر تحریمہ کے لیےقیام شرط ہے لہذا رکوع میں جاتے ہوئے اس طرح تکبیر تحریمہ کہنا کہ لفظ”اللہ “قیام میں اورلفظ “اکبر” رکوع میں جا کر ادا ہو،یہ درست نہیں اور نہ آدمی اس طرح نماز میں شریک ہو سکتا ہے البتہ اگر تھوڑی سی کمر جھکائی کہ جس میں اس کے ہاتھ گھٹنوں نہ پہنچتے ہوں اس حالت میں تکبیر تحریمہ کہہ لی اور پھر رکوع میں چلا گیا تو یہ تکبیر تحریمہ کافی ہے ۔

لما فی الھندیة : ( 1/68 ،رشیدیہ )
” ولا يصير شارعا بالتكبير إلا في حالة القيام أو فيما هو أقرب إليه من الركوع هكذا في الزاهدي “
وفی بدائع الصنائع: ( 1/ 337 ،رشیدیہ )
ثم شرط صحة التكبير أن يوجد في حالة القيام في حق القادر على القيام، سواء كان إماما أو منفردا أو مقتديا، حتى لو كبر قاعدا ثم قام لا يصير شارعا، ولو وجد الإمام في الركوع أو السجود أو القعود ينبغي أن يكبر قائما ثم يتبعه في الركن الذي هو فيه، ولو كبر للافتتاح في الركن الذي هو فيه لا يصير شارعا لعدم التكبير قائما مع القدرة عليه
وکذافی المحیط البرھانی : (2 /37 ،دار احیاء )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (1 /202 ،الطارق )
وکذا فی البحر الرائق : (1 /508 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة : (2 /53 ،فاروقیہ )
وکذا فی النھر الفائق : (1 /194 ،قدیمی )
وکذا فی الشامیة: ( 2/158 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح : (1 /218 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-7-1440،2019-3-24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :85

احادیث میں جمعہ نہ پڑھنے پر بہت سی وعیدیں ہیں پوچھنا یہ ہے کہ ایک بستی شہر سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اس بستی کے لوگ شہر میں جمعہ پڑھنے جاتے ہیں بعض دفعہ وہ نہیں جاتے تو کیا وہ جو جمعہ نہیں پڑھنے جاتے وہ وعید میں داخل ہوں گے یا نہیں جبکہ بستی میں پچیس یا تیس گھر ہیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

بظاہر اس بستی میں جمعہ فرض نہیں ہے لہذا جو لوگ جمعہ پڑھنے نہیں جاتےوہ احادیث کی وعیدوں میں داخل نہیں ہیں ۔

لما فی بدائع الصنائع: (1 / 583 ، قدیمی)
أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها
وفی الھندیة: ( 1/ 145 ،رشیدیہ )
وكما يجوز أداء الجمعة في المصر يجوز أداؤها في فناء المصر وهو الموضع المعد لمصالح المصر متصلا بالمصر ومن كان مقيما بموضع بينه وبين المصر فرجة من المزارع والمراعي نحو القلع ببخارى لا جمعة على أهل ذلك الموضع وإن كان النداء يبلغهم والغلوة والميل والأميال ليس بشيء هكذا في الخلاصة.
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة : (1 /554 ،فاروقیہ )وکذا فی الشامیة : (2 /153 ،سعید )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 2/1286 ،رشیدیہ )وکذا فی المحیط البرھانی : (2 /442 ،داراحیاء )
وکذا فی النھرالفائق : (1 / 352 ،قدیمی )وکذا فی البحر الرائق : (2 /245 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی : (1 /504 ،قدیمی )وکذا فی فتح القدیر: (2 /49 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-7-1440،2019-3-24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:86