ایک شخص جوانی کی بالکل ابتداء میں ہے اور اس کی بھنووں کے بال اس قدر بڑھے ہوئےہیں کہ دونوں جانب سےلکیروں کی صورت میں سر(کنپٹی)سے جاملتے ہیں اسی طرح ناک کے سرے میں دونوں طرف کے بال اکٹھے ہوجاتے ہیں توان بالوں کو درست کیا جاسکتا ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں! ان بالوں کواس حد تک درست کیا جا سکتاہےکہ عام انسانوں جیسے ہو جائیں۔

لما فی الھندیة: (5 /358 ،رشیدیة )
” ولاباس باخذ الحاجبین وشعروجھہ ما لم یتشبہ بالمخنث کذا فی الینابیع . “
وفی الشامیة: ( 6/373 ،سعید )
” وفی التاتارخانیۃ عن المضمرات:ولا باس باخذ الحانبین وشعر وجھہ ما لم یشبہ المخنث . “
وکذافی الفتاوی التاتار خانیة : (18 /211 ،فاروقیہ)
وکذا فی المرقاۃ المفاتیح: (8 /209 ،التجاریہ )
وکذا فی الشامیة: (6 /407 ،سعید )
وکذا فی البحر الرائق : (8 /375 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح : (1 /526 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-6-1440،2019-2-23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :19

ایک کاریگر کے ساتھ یہ معاملہ طے ہوا کہ وہ سریہ کاٹنے کے لیے فی سریہ 10روپے لے گا جب کہ بازار میں 6تا7روپے فی سریہ دوسرے کاریگر لے رہے ہیں، اور یہ کام بھی مسجد کا ہے ،توکاریگر کو طےشدہ قیمت دی جائے گی یا جوبازار میں دوسرے کاریگر لے رہے ہیں وہ دی جائے گی ؟یادرہے کہ مسجد کی انتظامیہ کو بازاری اجرت کا پہلے سے علم نہیں تھا۔

الجواب حامداً ومصلیاً

فی سریہ کاٹنے کی 10روپے اجرت لینا بازار میں معروف نہیں ہے ،اس لیے انتظامیہ یہ معاملہ ختم کر سکتی ہے، اور اگر کام شروع کر لیا ہوتوبازار میں معروف اجرت دی جائے گی ،انتظامیہ کو چاہیے کہ اچھی طرح معلومات لے کر معاملہ کیا کریں۔

لما فی شرح المجلة: (2/335،رشیدیہ)
“اذا وجد غبن فاحش فی البیع ولم یوجد تغریر فلیس للمغبون ان یفسخ البیع الا انہ اذا وجد الغبن وحدہ فی مال الیتیم لا یصح البیع ومال الوقف وبیت المال حکمہ حکم مال الیتیم)الغبن الفاحش ھو مالا یدخل تحت تقویم المقومین ھو الصحیح.”
وکذافی الشامیة: (7/376،رشیدیہ)
وفیہ ایضا:(7/379،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (4/3070 ،رشیدیہ )
وکذا فی ا لتاتارخانیة: (8/181 ،فاروقیہ)
وکذافی الھندیة: (3/161 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22-9-1440،2019-05-28
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :81

جس عورت کاشوہر فوت ہوجائے وہ عدت،شمسی مہینوں کے اعتبار سے گزارے گی یا قمری مہینوں کے اعتبار سے؟ جس عورت کاشوہر فوت ہوجائے وہ عدت،شمسی مہینوں کے اعتبار سے گزارے گی یا قمری مہینوں کے اعتبار سے؟ جس عورت کاشوہر فوت ہوجائے وہ عدت،شمسی مہینوں کے اعتبار سے گزارے گی یا قمری مہینوں کے اعتبار سے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس کے شوہرکا انتقال قمری مہینے کی پہلی تاریخ کو ہواتوقمری مہینے کے اعتبار سے 4ماہ 10دن عدت ہوگی، ورنہ 130دن عدت ہوگی۔

لما فی الھندیۃ :(1/524 ،رشیدیہ)
لوطلق امرتہ وقت العصر من اول یوم من الشہر وھی ممن تعتد بالاشھرتعتبرعدتھا بالاھلۃ
وفیہ ایضاً:(1/527،رشیدیہ)
“اذاوجبت العدۃبالشھورفی الطلاق والوفاۃ فان اتفق ذالک فی غرۃ الشھوربالاھلۃ—وان اتفق فی خلالہ فعند ابی حنیفۃرحمہ اللہ تعالی—یعتبر فی ذالک عددالایام”
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 9/ 7181 ،رشیدیہ )
وکذافی التاتارخانیۃ : ( 5/231، فاروقیہ)
وکذا فی تنویر الابصارمع الدرالمختار: (3/ 510 ، سعید)
وکذا فی الجوھرۃ النیرۃ: ( 2/243 ،قدیمی )
وکذا فی النھر الفائق: (2 /477، قدیمی)
وکذا فی مجمع الانھر : (2 / 144 ، المنار)
وکذا فی البرجندی:(2/69،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2019/2/17
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :166

عورت کسی ایسےمقام پرنماز اداکرے کہ جہاں اجنبی مردوں کی آمدورفت ہومثلا ٹرین،ہسپتال،وغیرہ تو وہاں پر وہ چہرہ چھپاکر نمازپڑھے گی یا کھول کر ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ مقام پرعورت چہرہ چھپاکر نمازپڑھے گی۔

لما فی البحر الرائق: ( 1/470 ،رشیدیہ )
” قال مشایخنا:تمنع المراۃ الشابۃ(من کشف وجھھا بین الرجال)فی زماننا للفتنۃ . “
وفی غنیة المستملی: (1 /212 ،رشیدیہ )
(وقال فی )الفتاوی(الخاقانیۃ المعتبر فی افساد الصلوۃ انکشاف مافوق الاذنین)من الشعر— واما النظر الیہ من الاجنبی فلایحل بالاتفاق قال فی الکفایۃلا لانہ عورۃ —بل لان النظر الی شعورھن فتنۃ کالنظرالی وجہ المراۃ الشابۃ
وکذافی الشامیة: (1 /406 ،سعید )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (1 /745 ،رشیدیہ )
وکذا فی النھر الفائق : (1 / 183 ،قدیمی )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدرالمختار: ( 1/ 191 ،رشیدیہ )
وکذا فی الشامیة: (1 /406 ،سعید )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (4 /2652 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-6-1440،2019-2-23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :18

ایک آدمی نے تشہد میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی “ایاک نعبد” پر پہنچا تو یاد آیا کہ میں تو حالت تشہد میں ہوں پھر اس نے “اشھد ان محمدا “سے آخر تک پڑھا، التحیات کا پہلا حصہ چھوڑ دیا اب اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر اس آ دمی نے سجدہ سہو کر لیا تھا تو اس کی نماز درست ہو گئی ورنہ دوبارہ پڑھے۔

لما فی تنویر الابصار مع شرحہ :(2/197،دار المعرفہ)
(والتشھدان )ویسجد للسہو بترک بعضہ ککلہ، وکذا فی کل قعدۃفی الاصح۔ قال فی الشامیۃ قال فی البحر :من باب سجود السہو فانہ یجب سجود السہو بترکہ ولو قلیلا فی ظاھر الروایۃ،لانہ ذکر واحدمنظوم ،فترک بعضہ کترک کلہ اھ
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/283،الطارق)
“ولو ترک التشہد او بعضہ——- فعلیہ سجود السہو “
وکذا فی خلاصۃ الفتاوی :(1/177،رشیدیۃ)
وکذا فی الھندیۃ:(1/127،رشیدیۃ)
وکذا الفتاوی التاتار خانیۃ:(2/132،فاروقیۃ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/406،رشیدیۃ)
وکذا فی المبسوط :(1/220،دار المعرفۃ)
وکذا فی مجمع الانھر :(1/130 ،المنار )
وکذا فی فتح القدیر :(1/520،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق :(1/524،رشیدیۃ)
وکذا فی تبیین الحقائق :(1/193،امدادیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
26 /5/1440،2019 /02/ 02
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :134

ایک شخص بغیر کسی کام کے بس یونہی کہتا ہے کہ میں حج کی نذر مانتاہوں ،میں حج کرنے جاؤں گا ،حالانکہ اس پر حج فرض نہیں ہے تو کیا یہ نذر منعقد ہوجائے گی ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شخص مذکورکے الفاظ میں اپنے ذمہ حج کا لزوم مفہوم نہیں ہوتابلکہ وعدہ اور ارادہ کا اظہار ہے اس لیے یہ نذر منعقدنہ ہوگی ۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 2/345 ،الطارق )
“وھو فی الشرع التزام المکلف شیئا لم یکن علیہ . “
وفی الموسوعةالفقہیة: (40 /136 ،علوم اسلامیہ )
” والنذر اصطلاحا:الزام مکلف مختار نفسہ للہ تعالی بالفعل شیئا غیر لازم علیہ باصل الشرع . “

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-6-1440،2019-2-23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :15

سفر میں اطمینان کی حالت میں ہو تو سنت اور نفل کا کیا حکم ہےیہ پڑھنے ضروری ہیں یا اگر نہ پڑھیں تو کوئی گناہ تو نہیں ہوتا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں سنت اور نوافل پڑھنا افضل ہےاور بلاوجہ وبلاعذر چھوڑنا بہت نا مناسب اور اجر سے محرومی ہے۔

لما فی العالمکیریة: (1 / 139 ،رشیدیہ)
وبعضھم جوزوا للمسافر ترک السنن والمختار انہ لایاتی بھا فی حال الخوف ویاتی بھا فی حال القرار والامن ھکذا فی الوجیز للکردری
وفی: الفقہ الاسلامی وادلتہ (2 /1372 ،رشیدیہ )
وقال الحنفیۃ :ویاتی المسا فر السنن الرواتب ان کان فی حال امن وقرار ای نازلا مستقرا والا بان کان فی حال خوف وفرار،ای فی السیرلا یاتی بھا
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : (1 /115 ،الطارق )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (2 /489 ،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی : (2 /384 ،دار احیاء )
وکذا فی تنویر الابصار مع شرشہ: (2 / 737 ،دارالمعرفہ)
وکذا فی البحر الرائق : (2 /230 ،رشیدیہ )
وکذا فی مجمع الانھر: (1 /230 ،منار )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار: (1 /335 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-6-1440،2019-2-23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :16

اگر دلہااور دلہن دونوں کی طرف سے صرف وکیل ایجاب وقبول کرلیں جبکہ مجلس میں نہ دلہاموجودہو ،نہ دلہن، تو یہ نکاح درست ہو جائے گا ؟ اگر ہو جائے گا تو وکیل ایجاب و قبول میں کیا الفاظ کہے گا؟

الجواب ومنہ الصدق والصواب

جی ہاں !یہ نکاح درست ہو جائےگا ۔اور طریقہ یہ ہوگا کہ دلہن کا وکیل، دلہے کے وکیل کو یوں کہے گا کہ میں نے فلاں مثلا اپنی بیٹی کا نکاح فلاں آدمی سے کر دیا پھر دلہے کا وکیل کہے گا میں نے فلاں (دلہے ) کی طرف سے قبول کر لیا تو یہ نکاح درست ہو جائے گا ۔

لما فی البحر الرائق:(7/257،رشیدیہ)
“ففی النکاح یقول وکیل الزوج زوج بنتک لفلان فیضیفہ الی المو کل— واما وکیل الزوجۃ فیقول زوجت فیصح “
وفی المحیط البرھانی:(15/199،دار احیاء)
“الواحد یصلح وکیلا بالنکاح من الجانبین ،وان لم یکن البدل مسمی:لانہ لا یودی الی التضاد،لا باعتبار الحقوق،ولا باعتبار التسمیۃ اما باعتبار الحقوق لان حقوق النکاح لا ترجع الی العاقد واما باعتبار التسمیۃ لان للوکیل بدا من التسمیۃ فی باب النکاح، لان النکاح ینعقد معاوضۃ بدون التسمیۃ”
وکذا فی البحر الرائق:(7/256،رشیدیہ)
وکذا فی الولواجیۃ:(4/344،حرمین)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/40175،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(5/20،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیۃ:(12/459،فاروقیہ)
وکذا فی المبسوط :(19/119،دار المعرفہ)
وکذافی الشامیۃ:(4/158،رشیدیہ)
وکذا فی الخلاصۃ الفتاوی:(2/30،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2019/02/02، 26/5/1440
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :136

پتنگ بیچنا کیسا ہے؟

الجواب ومنہ الصدق والصواب

اگر پتنگ بیچنے پر حکومت کی طرف سے پابندی ہو تو پتنگ بیچنا نا جائز ہو گا اور پابندی نہ ہونے کی صورت میں بھی ان کی خرید و فروخت بہت سارے مفاسد مثلا پتنگ بازی میں انہماک کی وجہ سے نمازوں کو چھوڑنا، بے پردگی ،آوارگی،جان کا خطرہ اور کفار کے ساتھ مشابہت وغیرہ کی وجہ مناسب نہیں ہے ۔

لما فی بدائع الصنائع :(4/337،رشیدیہ)
ویجوز بیع آلات الملاھی من البربط والطبل والمزمار والدف ونحو ذالک عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی لکنہ یکرہ-وعند ابی یوسف ومحمد:لاینعقد بیع ھذہ الاشیاء—- وعلی ھذاالاختلاف بیع النرد والشطرنج، والصحیح قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی۔
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2687،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(8/343،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/334،دار احیاء)
وکذافی البحر الرائق:(8/371،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(3/116،رشیدیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/317،316معارف القرآن)
وکذافی رد المختار :(9/644،دار المعرفہ)
وکذافی موسوعۃ الفقھیہ:(9/157،علوم اسلامیہ )
وکذافی الھدایہ:(3/385،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1440،2019/02/02
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :135

روح نکلنے کے بعدمیت کولٹانے کا سنت طریقہ کیا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جب روح نکل جائےتو سنت کام صرف اتنا ہے کہ میت کی آنکھیں بند کر دی جائیں،اس سے آگے فقہاء نے آداب ذکر کیے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ منہ قبلہ کی طرف کر دیں اورایک چوڑی پٹی لیکر میت کی ٹھوڑی کے نیچے سے گزار کر سر پر لاکرگرہ لگادیں،اوربازو کو کندے سے ،پنڈلی کو ران سے،اور ران کو پیٹ سے ایک مرتبہ ملاکر نرمی سے واپس اپنی جگہ لوٹادیں،اسی طرح ہاتھ کی انگلیوں کو بند کر کے پھر کھلی چھوڑ دیں۔ اور پیٹ پر معمولی وزنی چیز رکھ دیں تاکہ پیٹ نہ پھولے اور دایاں ہاتھ دائیں پہلو میں اور بایاں ہاتھ بائیں پہلو میں رکھ دیں ۔

لما فی الصحیح لمسلم : (1/ 300، قدیمی)
” عن ام سلمۃ رضی اللہ تعالی عنھا قالت دخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن ابی سلمۃوقد شق بصرہ فاغمضہ . “
وفی الموسوعة الفقھیة: (39 /414 ،علوم اسلامیة)
” اتفق الفقھاءعلی استحباب شد لحی المیت بعصابۃ عریضۃ تربط فوق راسہ—وکذا اتفق الفقھاءعلی استحباب تلین مفاصل المیت ،وذالک برد ساعدہ الی عضدہوساقہ الی فخذہ وفخذہ الی بطنہ ،ثم تمد وتلین اصابعہ بان ترد الی بطن کفہ ثم تمد —اتفق الفقھاءعلی استحباب توجیہ المیت الی القبلۃ لانھا اشرف الجھات ،ولکن اختلفوافی طریقۃ توجیہ المیت الی القبلۃعلی اقوال فذھب الحنفیۃالی انہ یسن ان یوجہ المحتضرللقبلۃ علی یمینہ مثل توجیہ فی القبر. “
وفی تنویرالابصار: (2 /193 ،سعید )
“(واذا مات تشدد لحیاہ وتغمض عیناہ)—ثم تمد اعضاءہ ویوضع علی بطنہ سیف او حدید لئلا ینتفخ. “
وکذا فی البنایة: (3 /209 رشیدیہ، )
وکذا فی الموسوعةالفقھیة: (39 /412 ،علوم اسلامیہ )
وکذا فی المراقی الفلاح: (1 /563 ،قدیمی )
وکذا فی الشامیة : (2 /193 ،سعید )
وکذا وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (2 /480 ،رشیدیہ )
فی البحر الرائق : (2 /300 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدرالمختار: (1 /365 ،رشیدیہ )
وکذافی الجوھرۃ النیرۃ: (1 /52 ،قدیمی )
وکذافی الھدایة : (1 /189 ،المیزان )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-6-1440،2019-2-23
جلدنمبر :18 فتوی :29