ایک خاتون کا نکاح موبائل فون پر دبئی میں موجود ایک شخص سے کروایا گیا ہے۔ دبئی میں موجود شخص کی طرف سے کوئی وکیل مقررہ نہیں کیا گیا تھا، فون پر ایجاب و قبول ہوا ہے۔ نکاح نامہ تحریر کیا گیا ہے جس پر لڑکی کے دستخط لیے گئے ہیں۔ مندرجہ بالا صورت میں شرعا نکاح ہو گیا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شرعا یہ نکاح درست نہیں ہوا، اس لیے کہ نکاح کے انعقاد کے لیے مجلس کا ایک ہونا ضروری ہے، جبکہ فون پر نکاح کی صورت میں مجلس ایک نہیں ہوتی۔ البتہ اس کی یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ جس مقام پر لڑکی موجود ہو، اس مقام کے کسی آدمی کو لڑکا اپنا وکیل بنا دے، یا لڑکے کے مقام کے کسی آدمی کو لڑکی اپنا وکیل بنا دے اور وہ وکیل دو گواہوں کی موجودگی میں اس طرح ایجاب و قبول کر لے کہ میں اپنے مؤکل ( لڑکے )، یا مؤکلہ ( لڑکی ) کی طرف سے وکیل بن کر اتنے مہر میں اس کا نکاح اس لڑکے یا لڑکی سے کرتا ہوں اور مقابل ( لڑکا یا لڑکی ) قبول کر لے تو نکاح ہو جائے گا۔

لمافی بدائع الصنائع: ( 2/490، رشیدیہ )
(وأما) الذي يرجع إلى مكان العقد فهو اتحاد المجلس إذا كان العاقدان حاضرين وهو أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس لا ينعقد النكاح،……فأما إذا كان أحدهما غائبا؛ لم ينعقد
وفی الشامیة: ( 4/490، دار المعرفة )
“(قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد
وفی تقریرات الرافعی مع رد المحتار: ( 4/490، دار المعرفة )
“المتبادر من اشتراط اتحاد المجلس أن المراد بہ مجلس المتعاقدین، لا مجلس الایجاب و القبول.”
و فی الھندیة: (1/294، رشیدیہ )
“یصح التوکیل بالنکاح و ان لم یحضرہ الشھود کذا فی التاتارخانیۃ ناقلا عن خواھرزادہ.”
وکذا فی البحر الرائق: ( 3/241، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 2/60، الطارق )
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: ( 4/146، فاروقیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ: ( 9/6726، رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 2/527، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ: ( 5/4075، رشیدیہ )
وکذافی فتح القدیر: ( 3/301، رشیدیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/7/1440، 2019/4/4
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :100

! کسی سے قرض لیا ہو اور وہ دینا بھول جائے ، اور یہ بھی بھول جائے کہ کس کو دینا ہے، ایسی صورت میں قرض کیسے ادا کرے، جبکہ اسے حقیقی مالک کا پنہ ہی نہ ہو، یادداشت سے مٹ چکا ہو لیکن احساس ہو کہ میں نے قرض دینا ہے، کیا صدقہ کر دینے سے ادا ہو جائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں اتنی مالیت کا اندازہ لگا کر فقراء میں صدقہ کر دے۔ امید ہے کہ اس سے آخرت میں مؤاخذہ نہیں ہو گا۔

لما فی الدر المختار مع رد المحتار: ( 6/434، رشیدیہ )
(عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) هذا مذهب أصحابنا لا نعلم بينهم خلافا…(و) متى فعل ذلك (سقط عنه المطالبة) من أصحاب الديون (في المعقبي) مجتبی.
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 2/283، الطارق )
“من کان عليه ديون ومظالم جهل أصحابها ورثتھم وأيس من معرفتهم فعليه التصدق بقدر ما علیہ من ماله.”
وکذافی الشامیة: ( 6/434، رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر: ( 2/504، رشیدیہ )
وکذا فی الھندیة: (5/367، رشیدیہ )
وکذافی مجمع الأنھر: ( 2/531، مکتبہ المنار )
وکذافی الموسوعة الفقہیة: ( 29/235، علوم اسلامیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :190

سفر میں جمع بین الصلاتین کے حوالے سے ظہر و عصر کا وقت معلوم کرنا تو مثل اول و ثانی کے اعتبار سے آسان ہے۔ لیکن مغرب میں وہ مشترک وقت (جو کہ احناف کے ہاں مختلف فیہ ہے) کب ہوتا ہے جس میں مغرب و عشاء دونوں پڑھ سکیں؟ میں نے کسی سے سنا ہے کہ مغرب کا وقت داخل ہونے کے پونے گھنٹہ (45 منٹ) کے بعد مغرب و عشاء اکٹھی پڑھ سکتے ہیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

محتاط قول کے مطابق آغازِ وقتِ عشاء سے تقریبا 10 منٹ پہلے معذور اور مسافر، مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھ سکتے ہیں۔

لما فی فیض الباری: ( 2/133، رشیدیہ)
وهكذا أقول بالاشتراك بين المغرب والعشاء، ففي المغرب أيضا روايتان عن الإمام. الأولى: أنها إلى الشفق الأبيض، قالوا: إنه ظاهر الرواية. والثانية: أنها إلى الأحمر.
قلت: الأحمر، وقت مختص بالمغرب، وما بعد الأبيض وقت مختص بالعشاء، والأبيض يصلح لهما، والمطلوب هو الفاصلة، وترتفع تلك المطلوبية في السفر والمرض، فيجوز الجمع فيه كالجمع بين الظهرين في المثل الثاني،… وإليه تومىء الأحاديث لتعرضها إلى التأخير والتعجيل، وهما أصدق وأفيد على نظر الحنفية، وإن صدقا على نظرهم أيضا، لكن ليس فيه لطف.
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 1/668، رشیدیہ)
و بین الشفقین تفاوت یقدر بثلاث درجات، و الدرجۃ أربع دقائق.
وکذافی اللباب علی المختصر: ( 1/72، قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی اعلاء السنن: ( 2/14، ادارة القرآن)
وکذافی فتح الملھم: ( 4/77، مکتبہ دارالعلوم)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: ( 2/7، فاروقیہ)

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/9/1440، 2019/5/26
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :69

مسجد میں رکھے ہوئے مصاحف ( قرآن کے نسخے ) کسی ضرورت مند کو دے سکتے ہیں؟ جبکہ وہ نسخے کافی تعداد میں ہوں اور رکھے رکھے بوسیدگی کا شکار ہو رہے ہوں، اگر نہیں دے سکتے تو ان کا مصرف بھی بتا دیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مسجد کے زائد مصاحف کسی ضرورت مند کو نہیں دے سکتے، البتہ دوسری مسجد میں دیے جا سکتے ہیں۔

لما فی فتح القدیر: ( 6/202، رشیدیہ )
وفي الخلاصة، إذا وقف مصحفا على أهل المسجد لقراءة القرآن إن كانوا يحصون جاز، وإن وقف على المسجد جاز ويقرأ في ذلك المسجد، وفي موضع آخر، ولا يكون مقصورا على هذا المسجد، وأما وقف الكتب فكان محمد بن سلمة لا يجيزه ونصير بن يحيى يجيزه ووقف كتبه، والفقيه أبو جعفر يجيزه وبه نأخذ
وکذافی الدر المختار مع رد المحتار: ( 6/559،560، رشیدیہ )
وکذافی الشامیة: ( 6/560، رشیدیہ)
وکذا فی تقریرات الرافعی علی رد المحتار: ( 6/560، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 5/421، رشیدیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :189

اگر ظہر کی جماعت کا وقت ہو جائے اور امام اور مقتدی کسی نے بھی سنتیں نہ پڑھی ہوں تو کیا پہلے جماعت کروائی جائے یا سنتیں پڑھی جائیں؟ (2) اگر کسی ایک مقتدی نے سنتیں پڑھ لی ہوں تو جماعت امام کروائے یا مقتدی جس نے سنتیں پڑھ لی ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر کوئی حرج نہ ہو تو پہلے سنتیں ادا کرنا بہتر ہے، وگرنہ وقتِ مقررہ پر جماعت کرا لی جائے اور سنتیں بعد میں ادا کر لی جائیں۔(2) سنتیں پڑھے بغیر بھی امامت درست ہے، لہذا مقررہ امام ہی جماعت کروائے گا، البتہ امام کو اس کی عادت نہیں بنانی چاہیے۔

لما فی السنن ابن ماجة: ( 187، دار الکتب العلمیہ )
“عن عائشۃ قالت: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اذا فاتتہ الأربع قبل الظھر، صلاھا بعد الرکعتین بعد الظھر.”
وکذافی التنویر و الدر مع رد المحتار: ( 2/254، رشیدیہ )
“( و الأحق بالامامۃ ) تقدیما بل نصبا… و مثلہ امام المسجد الراتب ( أولی بالامامۃ من غیرہ ) مطلقا.”
وکذا فی البحر الرائق: ( 2/132، رشیدیہ )
و کذا فی إعلاء السنن: ( 7/137، ادارة القرآن )
وکذافی الشامیة: ( 2/546، رشیدیہ)
وکذا فی سنن ابن ماجة: ( 187، دار الکتب العلمیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :188

مفتی صاحب!1)مکہ مکرمہ میں داخلہ کی نیت سے آفاقی جب بھی سفر کرے گا تو میقات سے احرام باندھنا اور حج یا عمرہ کی نیت کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ اگر ضروری ہے تو اس وجوب کی کیا دلیل ہے؟2) حج تمتع کے لیے آفاقی عمر ہ کے بعد احرام کھول دے پھر ایام حج میں احرام کہاں سے باندھے؟3) اہل مکہ اور اہل حل حج/عمرہ کا احرام کہاں سے باندھیں؟ 4) آفاقی اگر ایک عمرہ کرنے کے بعد دوبارہ عمرہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے؟ اور احرام کہاں سے باندھے؟5) غیر آفاقی حج کے مہینوں میں زیادہ عمرے کر سکتا ہے؟ احرام کہاں سے باندھے؟6) غیر مسلم حدود حرم میں داخل ہو سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دخولِ مکہ کے لیے عام حالات میں آفاقی کا میقات سے احرام باندھنا واجب ہے، خواہ کسی بھی نیت سے داخل ہو رہا ہو، اور احرام کا وجوب، حرم کی سرزمین کے معظم و مکرم اور شرافت والی ہونے کی وجہ سے ہے، اور حرم کی تعظیم سب پر واجب ہے، خواہ وہ حج کا ارادہ رکھتا ہو یا عمرہ کا یا تجارت وغیرہ کا۔ الّا یہ کہ کوئی ڈرائیور یا مزدور وغیرہ ہو جسے روز یا ہفتے میں اکثر دن کام کی غرض سے حدودِ حرم میں جانا پڑتا ہو تو اس کے لیے احرام نہ باندھنے کی بھی گنجائش ہے۔

لما فی بدائع الصنائع: ( 2/373، رشیدیہ )

“وكذلك لو أراد بمجاوزة هذه المواقيت دخول مكة لا يجوز له أن يجاوزها إلا محرما، سواء أراد بدخول مكة النسك من الحج أو العمرة أو التجارة أو حاجة أخرى عندنا…ولنا ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ألا إن مكة حرام منذ خلقها الله تعالى لم تحل لأحد قبلي، ولا تحل لأحد بعدي، وإنما أحلت لي ساعة من نهار، ثم عادت حراما إلى يوم القيامة. الحديث.

ولأن هذه بقعة شريفة لها قدر وخطر عند الله تعالى، فالدخول فيها يقتضي التزام عبادة إظهارا لشرفها على سائر البقاع.”

وفی الھدایة : ( 1/253، المیزان )

” ومن كان داخل الميقات له أن يدخل مكة بغير إحرام لحاجته لأنه يكثر دخوله مكة وفي إيجاب الإحرام في كل مرة حرج بين.”

وفی المغنی لابن قدامة : ( 3/253، شاملہ )

“ولو أوجبنا الإحرام على كل من يتكرر دخوله، أفضى إلى أن يكون جميع زمانه محرما، فسقط للحرج.”

و کذا فی المصنف ابن أبی شیبة: (3/294، دار الکتب العلمیہ)
وکذا فی فتح القدیر شرح الھدایة: ( 2/430، رشیدیہ )
وکذافی کتاب الفقہ: ( 1/54، حقانیہ )
وکذا فی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری: ( 89، فاروقیہ )

حجِ تمتع کرنے والا ایامِ حج میں حج کا احرام حدودِ حرم میں جہاں سے چاہے باندھ سکتا ہے، البتہ مسجدِ حرام سے باندھنا افضل ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 3/2282، رشیدیہ )

فاذا کان یوم الترویۃ ( الثامن من ذی الحجۃ ) أحرم بالحج من المسجد الحرام ندبا، و یشترط أن یحرم من الحرم لان المتمتع فی معنی المکی، و میقات المکی فی الحج: الحرم، کما تقدم فی المواقیت

وکذافی الھدایة: ( 1/283، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/468، الطارق )
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب: ( 1/178، قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی غنیة الناسک: ( 216، ادارة القرآن )

مکہ والے حج کا احرام، حرم کی حدود کے اندر سے باندھیں، اور عمرہ کا احرام ”حِل“ سے باندھیں، البتہ عمرہ کا احرام مسجدِ عائشہ سے باندھنا زیادہ بہتر ہے۔ اور جو لوگ میقات اور حرم کی حدود کے درمیان رہتے ہیں ان کا حج و عمرہ کے لیے میقات ”حِل“ ہے۔

لما فی الھدایة: ( 1/254، المیزان )

ومن كان داخل الميقات فوقته الحِل معناه الحِل الذي بين المواقيت وبين الحرم لأنه يجوز إحرامه من دويرة أهله وما وراء الميقات إلى الحرم مكان واحد.
ومن كان بمكة فوقته في الحج الحرم وفي العمرة الحل لأن النبي عليه الصلاة والسلام أمر أصحابه رضي الله عنهم أن يحرموا بالحج من جوف مكة وأمر أخا عائشة رضي الله عنهما أن يعمرها من التنعيم وهو في الحِل

وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/460، الطارق )
وکذا فی اللباب فی شرح الکتاب: ( 1/166، قدیمی کتب خانہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 3/2127، 2126، رشیدیہ )

آفاقی ایک عمرہ ادا کرنے کے بعد دوبارہ عمرہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، اور عمرہ کا احرام حرم کی حدود سے باہر ”حِل“ سے باندھے گا، البتہ مقامِ تنعیم ( مسجدِ عائشہ ) سے احرام باندھنا زیادہ بہتر ہے۔

لما فی غنیة الناسک: ( 201، ادارة القرآن )

“أن السنۃ فی العمرۃ أن تفعل داخلا الی مکۃ لا خارجا بان یخرج المقیم بمکۃ الی الحِل، فیعتمر کما یفعل الیوم، و ان لم یکن ممنوعا و افضل مواقیتھا لمن بمکۃ التنعیم، ثم الجعرانۃ.”

وکذا فی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری: ( 511، فاروقیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 3/ 2126، رشیدیہ )
وکذافی الموسوعة الفقہیة: ( 2/151، علوم اسلامیہ )

غیر آفاقی کا اگر اسی سال حج کا ارادہ ہو تو اَشہُرِ حج میں اس کے لیے ایک عمرہ کرنا بھی مکروہ ہے اور اگر اسی سال حج کا ارادہ نہ ہوتومتعددعمرے کر سکتا ہے اور عمرہ کا احرام ”حِل“ سے باندھےگا۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/467، الطارق )

“و کذلک تکرہ العمرۃ لاھل مکۃ و من یقیم داخل المواقیت فی اشھر الحج، لان الغالب علیھم ان یحجوا فی سنتھم فیکونوا متمتعین، و ھم عن التمتع ممنوعون لما سیاتی، و الا فلا مانع أن یعتمر المکی فی أشھر الحج اذا لم یحج فی تلک السنۃ.”

وکذا فی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری: ( 87، فاروقیہ )
وکذا فی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری: ( 511، فاروقیہ )
وکذا فی غنیة الناسک: ( 199، ادارة القرآن )
وکذافی کتاب الفقہ: ( 1/577، حقانیہ )
وکذا فی اللباب فی شرح الکتاب: ( 1/166، قدیمی کتب خانہ )
و کذا فی الھدایة: ( 1/254، المیزان )

غیر مسلم کو حدودِ حرم سے گزرنے اور کسی ضرورت سے وہاں جانے کی اجازت تو ہے مگر حدودِ حرم میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں۔

لما فی الموسوعة الفقہیة: ( 17/188،189، علوم اسلامیہ )

اتفق الفقهاء على أنه لا يجوز لغير المسلم السكنى والإقامة في الحرم….. واختلفوا في اجتياز الكافر الحرم بصفة مؤقتة، فذهب الشافعية والحنابلة وهو قول عند المالكية: إلى منع دخول الكفار إلى الحرم مطلقا….. وقال الحنفية: لا يمنع الذمي من دخول الحرم، ولا يتوقف جواز دخوله على إذن مسلم ولو كان المسجد الحرام.

وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 3/ 2392، رشیدیہ )
وکذا فی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری: ( 541، فاروقیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 5/421، الطارق )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/6/1440، 2019/02/28
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :37

بعض لوگ کہتے ہیں کہ کھانے سے پہلے میٹھی چیز کھانی چاہیے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ کھانے کے بعد کھانی چاہیے، کیا اس کی کوئی حدیث میں اصل ہے؟ اور یہ بھی سنا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کھانے کے آخر میں نمک استعمال کرتے تھے کیا یہ درست ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

آپ ﷺ کو میٹھا پسند تھا،لیکن کھانے سے پہلے یا بعد میں میٹھا کھانے کا مستقل معمول نہیں تھا،بلکہ جب کبھی میٹھا میسر ہوتا آپ تناول فرمالیتے،البتہ طبی فوائد کے اعتبار سے میٹھا بعد میں کھانا صحت کے لیے زیادہ مفید اور بہتر ہے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کھانے کے آخر میں نمک استعمال کرنے کے متعلق کوئی اثر منقول نہیں، البتہ کھانے کے شروع میں نمک استعمال کرنے سے متعلق امام بیہقی رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک اثر نقل کیا ہے،لیکن اس کو بھی علماء کرام نے ضعیف قرار دیا ہے۔البتہ اس ضعیف اثر کی بنا پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔

لما فی صحیح البخارى: (2/328،327،رحمانيہ)
و قال الامام السندی فی ھامشہ: (قولہ یحب الحلواء و العسل) لیس المراد انہ کان یکلف بصنعہ او باحضارہ بل المراد انہ لو اتفق حضورہ کان یتناول منہ قدرا صالحا فیستدل بہ علی انہ یحبہ
وفی شعب الایمان:(5/103،دارالکتب العلمیہ)
“عن علی انہ قال: من ابتدا غداءہ بالملح اذھب عنہ سبعین نوعا من البلاء.”
وکذا فی عون المعبود:(10/103،قدیمی)
وکذا فی سنن ابن ماجة:(533،داراکتب العلمیہ)
وکذا فی جامع الترمذی:(457،داراکتب العلمیہ)
وکذا فی المواھب اللدنیةعلی الشمائل المحمدیہ:(125،ادارہ تالیفات رشیدیہ)
وکذا فی احیاء علوم الدین:(2/16،دارالمعرفہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاويد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/9/1440، 2019/5/22
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :67

میری ایک عزیزہ کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اب وہ عدت میں ہیں اور ان کا گھر کسی دوسرے شہر میں ہے۔ چند دنوں کے بعد ہمارے ہاں ایک ختم ہے اور ایک تقریب بھی ہے، تو کیا وہ عورت اس میں شرکت کے لئے ہمارے ہاں آ سکتی ہے؟ اور وہ عذر بھی بتا دیں جن کی وجہ سے عدت والی عورت گھر سے باہر نکل سکتی ہے، یا دوسرے شہر کا سفر کر سکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت اپنی عدت کے دوران عذر اور ضرورت کے تحت دن میں گھریلو اخراجات یا علاج معالجہ یا اپنی عزت یا مال کی حفاظت یا کرائے کی ادائیگی وغیرہ کے لئے گھر سے نکل سکتی ہے، جبکہ رات گھر میں گزارنا ضروری ہے ۔ مگر سوال میں مذکورہ وجوہات کوئی شرعی عذر نہیں ہیں، لہذا ان وجوہات کی بناء پر بیوہ کا گھر سے نکلنا جائز نہیں۔

لما فی الھندیة: ( 1/534، رشیدیہ )
“المتوفی عنھا زوجھا تخرج نھارا و بعض اللیل و لا تبیت فی غیر منزلھا کذا فی الھدایۃ.”
وفی الھدایة: ( 3/297، البشری )
المتوفی عنھا زوجھا تخرج نھارا و بعض اللیل و لا تبیت فی غیر… وأما المتوفی عنھا زوجھا فلأنہ لا نفقۃ لھا، فتحتاج الی الخروج نھارا لطلب المعاش، و قد یمتد الی أن یہجم اللیل.”
وکذافی فتح القدیر: ( 4/309، رشیدیہ )
وکذافی الدر المختار مع رد المحتار: ( 5/228، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 4/7200، 7199، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 4/459، رشیدیہ )
وکذافی الخانیة مع الھندیة: ( 1/554، رشیدیہ )
وکذا فی الأشباہ و النظائر: ( 87، قدیمی کتب خانہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/8/1440، 2019/4/10
جلد نمبر :19 فتوی نمبر:25

ہمارے ہاں بہت سارے لوگ ”ذکاء اللہ“ نام رکھتے ہیں، جبکہ لغت میں ذکاء کے بہت سارے معنی ہیں، تو اضافت کے ساتھ اس نام کا کیا مطلب ہو گا اور یہ نام رکھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ذکاء اللہ“ نام رکھنا درست ہے اور اس کے معنی ہیں اللہ کی طرف سے دی ہوئی ذہانت یا اللہ کی طرف سے دی ہوئی عقلمندی۔

لما فی الموسوعة الفقہیة: ( 11/331، علوم اسلامیہ )
الأصل جواز التسمیۃ بأی اسم الا ما ورد النھی عنہ … وتستحب التسمیۃ بکل اسم معبد مضاف الی اللہ سبحانہ و تعالی أو الی أی اسم من الأسماء الخاصۃ بہ سبحانہ و تعالی. لان الفقھاء اتفقوا علی استحسان التسمیۃ بہ
وفی لسان العرب: ( 5/51، دار احیاء تراث العربی )
“الذکاء: سرعۃ الفطنۃ. اللیث: الذکاء من قولک قلب ذکی و صبی ذکی اذا کان سریع الفطنۃ.”
وکذا فی الھندیة: ( 5/362، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 4/2752، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 5/469، الطارق )
وکذافی الدر المختار مع رد المحتار: ( 9/688، رشیدیہ )
وکذافی المعجم الوسیط: ( 1/314، دارالدعوة)
وکذا فی القاموس الوحید: ( 572، ادارہ اسلامیات )
وکذافی لغاتِ فارسی: ( 489، مکتبہ عمر)
وکذا فی فیروز اللغات: ( 730، فیروز سنز )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :187

ایک مسجد کا میٹر نہیں لگا ہوا، محلہ والوں نے ڈائریکٹ تار لگائی ہوئی ہے، پوچھنے پر بتاتے ہیں کہ بجلی والوں کو پتہ ہے بلکہ ہم نے ایک مرتبہ میٹر کے پیسے بھی دیے ہیں، کیا اس طرح مسجد کی تار لگانا درست ہے، اور ایسی مسجد میں وضو نماز کا کیا حکم ہے، جبکہ محلہ میں دوسری مسجد بھی نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں اہلِ محلہ کا ڈائریکٹ تار لگانا درست نہیں ہے، قانونی طور پر میٹر لگوا کر بجلی استعمال کی جائے، ورنہ میٹر لگنے تک کسی قریبی گھر سے کنکشن لے لیا جائے اور ” سب میٹر “ لگوا کراس کے مطابق بل ادا کرتے رہیں، بصورت دیگر تمام اہلِ محلہ اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ البتہ ایسی مسجد میں وضو و نماز درست ہے۔

لما فی الشامیة: ( 3/62، رشیدیہ)
“قال فی المعراج: لأن طاعۃ الامام لیس بمعصیۃ فرض.”
وکذافی الھدایة: ( 2/167، رشیدیہ )
“اذ لا یجوز لأحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی کذا فی البحر الرائق.”
وکذافی رد المحتار: ( 2/520، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 5/68، رشیدیہ )
وکذافی الموسوعة الفقہیة: ( 28/296، علوم اسلامیہ )
وکذافی السنن الکبری: ( 6/160، دار الکتب )
وکذا فی المجلة لأحکام العدلیة: ( 27، قدیمی کتب خانہ )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 1/107، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی الولوالجیة : ( 2/405، الحرمین شریفین )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة : ( 16/512،514، فاروقیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :186