ایک شخص کو نزلہ بہت ہوا ہو،وہ حالت نماز میں اپنی جیب سے رومال نکال کر ناک صاف کرتا رہے،ایک سے زیادہ بار تو اس کی نماز ہوگئی یا نہں ؟

الجواب ومنہ الصدق والصواب

صورت مسئو لہ میں اگر ایک ہی رکعت میں جیب سےرومال نکال کرمسلسل اور بار بار ناک صاف کیا تو عمل کثیر پائے جانے کی وجہ سے نماز نہں ہوئی دوبارہ پڑھے ۔ایسی مجبوری میں رومال وغیرہ ہاتھ میں رکھا جائے اور بوقت ضرورت ناک صاف کر لیا جائےتو نماز ہو جاتی ہے۔

لما فی خلاصۃ الفتاوی:(1/57،رشیدیہ)
“والحک بید واحد فی رکن ثلاث مرات یفسد صلاتہ—ولو کان الحک مرۃ واحدا یکرہ0”
وفی البحر الرائق:(2/20،رشیدیہ)
“وان حک ثلاثا فی رکن واحد تفسد صلاتہ ھذا اذا رفع یدہ فی کل مرہ، اما اذا لم یرفع فی کل مرۃ فلا تفسد لانہحک واحد”
وکذافی الفتاوی الھند یة:(1/104،رشیدیہ)
وکذافی الدر المختار :(1/652 ،سعید)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/235،فاروقیہ)
وکذافی الفتح القدیر:(1/413،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/165،رشیدیہ)
وکذافی تنویر الابصار مع الدرالمختار:(1/624،سعید)
وکذافی الشامیة:(1/640،سعید)
وکذافی الھند یة:(1/101،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اکرام عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2019 /02/17
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :167

میرے ایک عزیزکا باربی کیو(تکہ و سیخ کباب وغیرہ) کا کاروبار ہے بعض اوقات وہ مختلف تقریبات کے لئے مال آرڈر بھی تیارکرتےہیں اس میں کئی دفعہ معاملہ کوانٹٹی(مقدار) طے کرکے کیا جاتاہے مثلا ہم آپ کو500کباب یا 700تکہ تیارکرکےدیں گےمٹیریل(سامان)کبھی دکاندار کا ہوتا ہے اور کبھی صاحب خانہ کا ۔دریافت طلب بات یہ ہے کہ اہل خانہ کو مطلوبہ مقدارفراہم کرنے کے بعد بچا ہوا مٹیریل اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں¬¬ واضح رہے کہ مٹیریل اگر صاحب خانہ کا ہو تب بھی مطلوبہ مقدار فراہم کرنے کے بعد ان کے کام کا نہیں رہتا دونوں صورتوں(مٹیریل دکاندار کا ہو یا صاحب خانہ کا) کے بارےمیں شرعی حکم سے مطلع فرمادیں۔

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر وہ بچا ہوا سامان دکاندار کا اپنا ہو تو چونکہ وہ اس کا مالک ہے وہ استعمال کر سکتا ہےاور اگر وہ سامان اہل خانہ کا ہوتو پھر ان کی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کر سکتا۔

لمافی مسند الامام احمدبن حنبل:(4/437، دار احیاءالتراث)
˝ولا یحل لامرئ من مال اخیہ الا ماطابت بہ نفسہ۔”
وفی کنز العمال:(5/51، رحمانیہ)
˝انہ لا یحل مال امرئ مسلم الا بطیب نفسہ منہ۔”
وکذافی السنن الکبری:(6/160، دار الکتب العلمیہ)
وکذافی المشکوۃ المصابیح:(1/228، رحمانیہ)
وکذا فی کنز العمال:(5/50، رحمانیہ)
وکذا فی کنز العمال:(5/49، رحمانیہ)

 

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام غفر لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساھیوال
1/5/1440،2019/01/08
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:84

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا حج کتنے سال کی عمر میں کیا تھا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شریعت اسلام کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریبا تریسٹھ سال کی عمر میں سنۃ10ھ میں ایک ہی فرض حج کیا ہےاور جو ہجرت سے پہلے بعض کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا ذکر ہے وہ حج شریعت اسلام پر نہیں بلکہ شریعت ابراہیمی پر تھے ۔

لما فی معار ف السنن : ( 6/ 71 ،سعید )
وقد حج النبی صلی اللہ علیہ وسلم قبل حج الفرض ،وقد عرف بعرفۃ ولم یغیر من شرع ابرھیم ما غیروا حتی کانت قریش تقف بالمشعر الحرام ،یرید انہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یتبع قریشا بل اکتفی شرع ابرھیم
وفی دلائل النبوۃ: (5 /454 ،دار الکتب )
حدثنا زھیرابن معاویۃ—-حدثنی زید ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزا تسع عشرۃ،وانہ حج بعد ما ھجر حجۃ الوداع لم یحج بعدھا —عن مجاھد قال حج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثلاث حجج :حجتین وھو بمکۃ قبل الھجرۃ وحجۃ الوداع
وکذافی البدایة والنھایة: (5 /86 ،دارالکتب )
وکذا فی بذل المجھود (8 /189 ،قدیمی )
وکذا فی مرقاۃ المفاتیح : (5 /379 ،التجاریہ )
وکذا فی سبل الھدی والرشاد : (8 /444 ،نعمانیہ )
وکذا فی تشریحات ترمذی : ( 3/ 428 ،حامعہ اسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-6-1440،2019-2-23
جلد نمبر :18 فتوی :33

اسکولوں ،کالجوں میں چھٹیوں کے دنوں کی بھی فیس وصول کی جاتی ہے حلانکہ ان دنوں میں پڑ ھائی نہیں ہوتی تو کیا چھٹیوں کے دنوں کی فیس لینا درست ہے؟

الجواب ومنہ الصدق والصواب

درست ہے۔

لما فی موسوعۃالفقھیۃ:(36/293،علوم اسلامیۃ)
قال الحنفیۃ:انہ ینبغی الحاق المدارس بالقاضی فی اخذ ما رتب لہ یوم بطالتہ واختلفوا فیہا،وان صح انہ یاخذ لانہا للاستراحۃ وفی الحقیقۃ تکون للمطالعۃ والتحریر،وفصل البیری من الحنفیۃ المسئلۃ:فقال :ان کان الواقف قدقدر للمدرس کل یوم درس فیہ مبلغا فلم یدرس یوم الجمعۃ والثلاثاء فلا یحل لھ ان یاخذ المبیع ویصرف ھذین الیومین الی مصارف المدرسۃ من المرمۃ وغیرھا،بخلاف مااذالم یقدرلکل یوم مبلغا فانہ یحل لہ الاخذ وان لم یدرس فیھا للعرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔قال ابن عابدین:ھذاظاھر فیما قدر لکل یوم درس فیہ مبلغا،اما لو قال یعطی المدرس کل یوم کذافینبغی ان یعطی لیوم البطالۃ المتعارفۃ
وفی الفتاتارخانیہ:(11/70،فاروقیہ)
“ولم ینقل عن محمد رحمہ اللہ علیہ تعالی ان القاضی ھل یاخذالرزق فی یوم العطلۃ؟ اختلف المتاخرون فیہ والصحیح انہ یاخذ”
وکذا الفتاوی الھندیہ:(4/416،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(6/570،دارالمعرفہ)
وکذافی الاشباہ والنطائر:(96،قدیمی)
وکذا فی المحیط البرھانی:(12/186،داراحیاءالتراث)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(3/329،فاروقیہ)
وکذافی شرح المجلہ:(1/78،رشیدیہ)
وکذافی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار:(3/542،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1440،2019/02/02
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :133

ایک امام کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ،ڈاکٹروں نے قضائے حاجت کے لیے بیگ لگا یا ہے اس حالت میں اس کے لیے نماز پڑھانے کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر مریض کاعذراتنے وقت کے لیے بھی نہیں رکتا کہ جس میں وضو کر کے نماز پڑھ سکے اور اسی حالت میں نماز کاپورا وقت گذر جائے تو ایسا شخص شرعا معذور ہے ، ایسے شخص کے وضو اور نماز کے بارے میں حکم یہ ہے کہ ایسا شخص ایک نماز کے وقت میں وضو کرلے پھر اس وضو سے اس وقت میں جتنی چاہے فرض اور نفل نمازیں ادا کر سکتا ہے ،اس نماز کاوقت ختم ہونے سے وضو بھی ٹوٹ جائےگا پھر دوسرے وقت کے لئے اس شخص کو دوبارہ وضو کرنا ہو گا۔
جس آدمی کو قضائے حاجت کےلیے بیگ لگایا جاتا ہے عموما اس کی صورت حال بھی یہی ہو تی ہے، لہذا وہ بھی مذکورہ طریقے کے مطابق وضو اور نماز اداکرےگا اور شرعا معذور ہوگا اور معذور آدمی صحیح لوگوں کا امام نہیں بن سکتا،لہذا یہ آدمی صحیح لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکتا۔

لما فی الدر المختار :(1/553،رشیدیہ)
(وصاحب عذرمن بہ سلس بول)لا یمکنہ امساکہ—-(ان استوعب عذرہ تمام وقت صلاۃ مفروضۃ)بان لا یجد فی جمیع وقتھا زمنا یتوضا ویصلی فیہ خالیا عن الحدث (ولوحکما)لان الانقطاع الیسیر ملحق بالعدم(وھذاشرط)العذر(فی حق الابتداء وفی)حق(البقاء کفی وجودہ فی جزء من الوقت)ولو مرۃ—— وفی حق الزوال یشترط(الاستیعاب الانقطاع)تمام الوقت (حقیقۃ) لانہ الانقطاع الکامل-(وحکمہ الوضوء)لا غسل ثوبہ ونحوہ(لکل فرض)اللام للوقت کما فی (لدلوک الشمس)(ثم یصلی) بہ (فیہ فرضا ونفلا)فدخل الواجب بالاولی (فاذا خرج الوقت بطل)”
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/266،م:طارق)
“السلامۃمن الاعذار،فلایجوز اقتداء صاحب عذربصاحب عذرآخر، لانہ اقتداء طاھر بمعذور من جھۃ فان عذر المعذورفی حق نفسہ بمنزلۃ المعدوم، لکنہ معتبر فی حق غیرہ”
وفی الخانیۃ :(1/89،رشیدیہ)
“ولا یصح اقتداء الکاسی بالعاری ولااقتداء الصحیح بصاحب العذر”
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ(1/442،رشیدیہ) وکذا فی الشامیۃ:(1/578، ایچ ایم سعید)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیۃ: (2/258،فاروقیہ) وکذافی البحرالرائق:(1/630،رشیدیہ)
وکذافی الھندیۃ:(1/84،رشیدیہ) وکذافی خلاصۃ الفتاوی:(1/146،رشیدیہ)
وکذافی موسوعۃ الفقھیۃ:(6/209،رشیدیہ) وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (2/1198،رشیدیہ)
وکذا فی اللباب:(1/92،قدیمی)

 

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1440، 2019/02/02
جلدنمبر :17 فتوی نمبر:132

ایک بات سنی ہے کہ جماعت میں سب سے پہلے امام پر رحمت برستی ہے پھرامام کے بالکل پیچھے والے پرپھر دائیں طرف والوں پر پھر بائیں طرف والوں اسی طرح پچھلی صف والوں پر یہ بات کسی حدیث سے ثابت ہے یا نہیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں !یہ بات حدیث مبارک سے ثابت ہےچنانچہ ایک حدیث پاک میں ہےکہ مسجد میں زمین کاسب سے بہتر حصہ وہ ہے جو امام کے پیچھے ہو ،اور جب رحمت نازل ہوتی ہے تو وہ امام سے شروع ہوتی ہےپھر اس پر جو اس کے پیچھے ہو ،پھر دائیں طرف والوں پر پھر بائیں طرف والوں پر پھروہ تمام مسجد والوں کو گھیر لیتی ہے۔

لما فی کنزالعمال: ( 7/250 ،رحمانیہ )
” خیر بقعۃ فی المسجد خلف الامام،وان الرحمۃاذا نزلت بدات بالامام ،ثم الذی خلفہ،ثم یمنۃ،ثم یسرۃ ،ثم تتغاص المسجدباھلہ .
وفی مسند الفردوس: (2 /182 ،دارالکتب )
” خیر بقعۃ فی المسجد خلف الامام،وان الرحمۃاذا نزلت بدات بالامام ،ثم الذی خلفہ،ثم یمنۃ،ثم یسرۃ ،ثم تتغاص المسجدباھلہ .
وکذافی جامع الاحادیث : (12 /366 ،الشا ملہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (1 /307 ،قدیمی )
وکذا فی الشامیة : (2 /372 ،رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق : ( 1/619 ،رشیدیہ )
وکذا فی دررالاحکام شرح غررالاحکام : (1 /90 ،الشاملہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-6-1440ھ2019-2-23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :17

عمرہ کے طواف کے دوسرے چکرمیں پنڈلی پر ویل چیئر لگی اورخون نکلنے لگا، لیکن طواف کے بعد پتہ چلا کہ خون نکل رہا ہے تو دم وغیرہ کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں ایسے شخص کو وضو کر کےدوبارہ طواف کرنا چاہیے تھا ،دوبارہ طواف کرنے سے کچھ لازم نہ ہوتا لیکن اگر کسی نے دوبارہ طواف نہ کیا اور گھر واپس لوٹ آیا تو حدود حرم میں بکری ذبح کرنی ہو گی۔

لما فی الشامیہ :(3/663،رشیدیہ)
“ولوطاف للعمرۃ کلہ او اکثرہ او اقلہ ولو شوطا جنبا او حائضا او نفساء او محدثا فعلیہ شاۃ، لا فرق فیہ بین الکثیر والقلیل والجنب والمحدث،لانہ لا مدخل فی طواف العمرۃ للبدنۃ ولا للصدقۃ۔۔۔۔۔۔وان اعاد سقط عنہ الدم۔”
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(3/609،فاروقیۃ)
“فنقول:اذاطاف للعمرۃمحدثااوجنبافمادام بمکۃیعیدالطواف،فان رجع الی اھلہ ولم یعد ففی المحدث تلزم شاۃ، وفی الجنب:القیاس ان تلزمہ البدنۃ، وفی الاستحسان تکفیہ شاۃ۔”
وکذا فی البحر الرائق:(3/39،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/436،المنار)
وکذافی الھدایہ:(1/296،المیزان)
وکذا فی تبیین الحقائق:(2/60،امدادِیہ)
وکذا فی فتح القدیر(فوائد):(3/51،رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ:(4/289،رشیدیہ)
وکذافی حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار:(1/523،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/504،الطارق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام غفر لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساھیوال
1/5/1440،2019/01/08
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :85

ایک عورت کہتی ہے کہ خاوند نے لڑائی کے دوران مجھے کہا ہے کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں اگر کہے گی تو پیپر بھی بھجوا دوں گا لیکن خاوند انکار کرتا ہے اور کہتا ہےکہ میں نےکہا تھا اگر نہیں رہنا چاہتی تو پیپر بھیج دوں گا تو کس کی بات کا اعتبار ہو گا ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر بیوی اپنی بات پر گواہ پیش کر دے تو اس کی بات معتبر ہو گی ورنہ شوہر سے قسم لی جائے گی اگر وہ قسم اٹھا لے تو اس کی بات معتبر ہو گی اور قسم سے انکار کی صورت میں عورت کی بات معتبر ہو گی اور ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:2/185(طارق)
“فان اختلفا فی وجود الشرط اصلا او تحققا ای اختلفا فی وجود اصل التعلیق بالشرط او فی تحقق الشرط بعد التعلیق فالقول قولہ مع الیمین لانکارہ الطلاق…… وان ادعی تعلیق الطلاق بالشرط واد عت الارسال فالقول قولہ ولوادعت انہ طلقھا من غیر شرط والزوج یقول طلقتھا بالشرط ولم یو جد فالبینۃ فیہ للمرءۃ
وکذا فی تنقیح الفتاوی:(1/101،قدیمی)
وکذافی الھدایہ:(3/213،رحمانیہ)
وکذا فی الفتاوی التا تارخانیہ:(13/99،فاروقیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(4/299،امدادیہ)
وکذافی البحرالرائق:(7/353،مرشیدیہ)
وکذا فی البنایہ:(8/413 ،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط :(6/159،دار المعرفہ)
وکذا فی الھدایہ:(3/161، رحمانیہ)
وکذا فی الشامیہ:(8/354،دار المعرفہ)

واللہ تعا لی اعلم بالصواب
محمداکرام پاکپتنی عفی عنہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
1/4/1440ھ
2018 /12/9
جلد نمبر :17
فتوی نمبر :83

علماء سے سنا ہے اور کتابوں میں پڑھا ہے کہ اللہ پاک کے نافرمانوں اور باغیوں سے محبت کرنا جائز نہیں۔ والدین کو محبت کی نظر سے دیکھنے کی فضیلت بھی حدیث شریف میں آئی ہے۔ آپ سے سوال یہ ہے کہ جس کے والدین اللہ پاک کے نافرمان اور باغی ہوں، تو ایسے والدین کو بھی محبت کی نظر سے دیکھا جائے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

پہلی بات تو یہ ہے کہ باغیوں اور نافرمانوں کی ذات سے نہیں بلکہ ان کے افعال سے شریعت نے نفرت کا حکم دیا ہے، ان کی ذات تو قابلِ رحم اور قابلِ شفقت ہے کہ ان کو جہنم سے بچایا جائے۔ اور والدین سے متعلق تو خاص طور پر قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے ”وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا“ کہ اگر کافر و مشرک والدین، شرک کی طرف بلائیں تو ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی، لیکن اس کے باوجود، ان سے دنیا میں حسنِ سلوک ضروری ہے۔ اور حدیثِ مبارکہ ” مَا مِنْ وَلَدٍ بَارٍّ يَنْظُرُ نَظْرَةَ رَحْمَةٍ إِلَّا كَتَبَ اللّهُ بِكُلِّ نَظْرَةٍ حَجَّةً مَبْرُورَةً “ میں ” وَلَدٍ بَارٍّ “ کے الفاظ ہیں، یعنی جو اپنےوالدین کا فرمانبردار ہو، تو اس کے لیے اپنے والدین کو محبت کی نظر سے دیکھنے پر مقبول حج کا اجر ہے، لہذا والدین جیسے بھی ہوں، اولاد کے لیے ان سے حسنِ سلوک کا معاملہ کرنے، محبت و شفقت سے پیش آنے اور جائز کاموں میں ان کی فرمانبرداری کرنے کا حکم ہے، اور احادیث مبارکہ میں فرمانبردار اولاد کے لیے بےشمار فضائل وارد ہوئے ہیں، اور اولاد کو چاہیے کہ والدین کے لیے دعا کرتے رہیں، اور ان کے مقام اور مرتبہ کا لحاظ کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی کوشش کرتے رہیں۔

لما فی القرآن الکریم: (السراء،23 )
“وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا.”
وفیہ أیضاً: ( اللقمان ، 15،14 )
وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ (14) وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا
وکذافی تفسیر القرطبی: ( 14/65، دار احیاء تراث )
وکذا فی تفسیر القرطبی: ( 10/238،239، دار احیاء تراث )
وکذافی تفسیر البغوی: ( 3/491، دار المعرفہ)
وکذا فی صفوة التفاسیر: ( 2/492، دار احیاء تراث )
وکذافی أحکام القرآن للجصاص: ( 3/290، قدیمی )
وکذا فی أحکام القرآن للعثمانی: ( 3/266، ادارة القرآن )
وکذا فی الصحیح للبخاری: ( 2/409،رحمانیہ )
وکذا فی شعب الایمان: ( 6/186، دار الکتب العلمیہ )
وکذا فی المرقا ة: ( 8/677، المکتبة التجاریة )
وکذا فی الموسوعة الفقھیة: ( 8/65، علوم اسلامیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/8/1440، 2019/4/10
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :195

میرے ایک دوست نے نیا مکان تعمیر کیا ہے، لیکن اس میں ایک واش روم غلط تعمیر ہو گیا ہے، یعنی شرقاً غرباً تعمیر ہو گیا ہے، جس میں پیشاب یا پاخانہ کرتے ہوئے پیٹھ، قبلہ کی طرف ہوتی ہے۔ اب اس میں شرعی حکم کیا، کیا اس صورت میں پیشاب ، پاخانہ کرنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

متعدد احادیث میں آپ ﷺ نے پیشاب و پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے یا پشت کرنے سے منع فرمایا ہے، اسی لیے فقہاء کرام نے پیشاب و پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے یا پشت کرنے کو مکروہِ تحریمی کہا ہے، لہذا جلد از جلد اس بیت الخلاء کو درست جانب یعنی شمالاً جنوباً بنانا ضروری ہے، ورنہ سخت گناہ ہو گا۔

لما فی الصحیح للبخاری: ( 1/123، رحمانیہ )
عن أبي أيوب الأنصاري، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة، ولا تستدبروها ولكن شرقوا أو غربوا، قال أبو أيوب: فقدمنا الشأم فوجدنا مراحيض بنيت قبل القبلة فننحرف، ونستغفر الله تعالی.
وفی سنن أبی داؤد: ( 1/13، رحمانیہ )
” عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما أنا لكم بمنزلة الوالد، أعلمكم فإذا أتى أحدكم الغائط فلا يستقبل القبلة، ولا يستدبرها ولا يستطب بيمينه،….”
وفی التنویر و الدر مع رد المحتار: ( 1/608، رشیدیہ )
” ( كما كره) تحريما (استقبال قبلة واستدبارها ل) أجل (بول أو غائط) فلو للاستنجاء لم يكره (ولو في بنيان) لإطلاق النهي.”
وفی ملتقی الأبحر مع مجمع الأنھر: ( 1/100، المنار )
” و کرہ استقبال القبلۃ و استدبارھا لبول و نحوہ و لو فی الخلاء.”
وفی مجمع الأنھر: ( 1/100، المنار )
(وكره استقبال القبلة واستدبارها لبول ونحوه) ولكن لقوله عليه الصلاة والسلام: إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة، ولا تستدبروها ولكن شرقوا أو غربوا ولهذا كان الأصح من الروايتين كراهة الاستدبار كالاستقبال، والكراهة تحريمية
وکذافی بذل المجھود: ( 1/50، قدیمی )
وکذا فی عارضة الأحوذی بشرح الترمذی: ( 1/27، دار احیاء تراث )
وکذافی فتح الملھم: ( 2/241، مکتبہ دار العلوم )
وکذا فی معارف السنن: ( 1/93، سعید )
وکذافی الشامیة: ( 1/609، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/62، الطارق )
وکذافی الھندیة: ( 1/50، رشیدیہ )
وکذافی البحر الرائق: ( 1/422، رشیدیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/8/1440، 2019/4/10
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :194