لیڈیز کے عمرہ کے لئے کیا کیا سامان ضروری ہے، جیسے مرد دو پٹی والی چپل پہنتا ہے پاؤں کھلا رکھنے کے لئے، تو لیڈیز کو بھی ویسی ہی چپل لینا ہو گی اور دوپٹہ یا اسکارف کیسا ہو، کالے رنگ کا پہن سکتی ہیں یا سفید رنگ کا ہی ہو؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عورتوں کے احرام میں اسکارف، دوپٹے، کپڑوں اور جوتوں کا کوئی خاص انداز اور رنگ ضروری نہیں ، چہرہ کا پردہ کرنے کے لئے ایک ” کیپ “ لے لی جائے۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/472، الطارق )
“المرأۃ فی الحج کالرجل الا انھا تختص ببعض الاحکام … فی الاحرام: تبقی فی ثیابھا، فتلبس المخیط و الخفین و القفازین و الجوربین و تغطی رأسھا و لاترفع صوتھا بالتلبیۃ.”
وفی الھندیة: ( 1/235، رشیدیہ )
والمرأة في جميع ذلك كالرجل غير أنها لا تكشف رأسها وتكشف وجهها…وتلبس من المخيط ما بدا لها من الدرع والقميص والخمار والخف والقفازين ولكن لا تلبس المصبوغ بورس و لا زعفران و لا عصفر الا ان یکون قد غسل کذا فی الکفایۃ، و لا بأس للمرأۃ المحرمۃ ان تلبس المخیط من حریر أو غیرہ
وکذا فی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری: ( 127، فاروقیہ )
وکذافی رد المحتار: ( 3/628، رشیدیہ )
وکذافی الھدایة: ( 1/277، رشیدیہ )
وکذا فی غنیة الناسک: ( 94، ادارة القرآن )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 3/2296، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 2/621، رشیدیہ )
وکذافی اللباب علی المختصر: ( 1/176، قدیمی کتب خانہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :185

سینے کے بالوں کا کیا حکم ہے ، کاٹ لینے چاہییں یا نہیں ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

سینے کے بال کاٹنا ادب کے خلاف ہے ، البتہ اگر کوئی ضرورت ہو تو کاٹ سکتے ہیں ۔

لما فی الھندیة:(5/358،رشیدیہ )
“و فی حلق شعر الصدر و الظھر ترک الادب ، کذا فی القنیۃ .
و فی رد المحتار علی الدر المختار:(9/671،رشیدیہ)
“و فی حلق شعر الصدر و الظھر ترک الادب ، کذا فی القنیۃ . “
و فی الفتاوی التاتارخانیة:(18/211،فاروقیہ)
“و فی الیتیمۃ : سألت أبا الفضل عمن حلق شعر صدرہ أو ظھرہ ، ھل لہ ذلک ؟ فقال: ھو تارک الأدب . “
و کذا فی الموسوعة الفقھیة:(18/100،علوم اسلامیہ)
و کذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(4/203،رشیدیہ)
و کذا فی المبسوط السرخسی:(4/73،دار المعرفہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاویدعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/6/1440، 2019/2/21
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :180

زید ماہِ جنوری یا فروری میں بھوسہ اسٹاک کر لیتا ہے، پھر کچھ مہینوں کے بعد اگست میں یا ستمبر میں نفع کے ساتھ فروخت کر دیتا ہے، کیا یہ ذخیرہ اندوزی کے زمرے میں داخل ہو گا یا نہیں؟ وضاحت فرما دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر بھوسہ اسٹاک کرنے سے اہلِ علاقہ کو پریشانی اور تنگی نہ ہوتی ہو تو جائز ہے، ورنہ نہیں۔

لما فی الھدایة: ( 4/473،474، رحمانیہ )
ويكره الاحتكار في أقوات الآدميين والبهائم إذا كان ذلك في بلد يضر الاحتكار بأهله…فيكره إذا كان يضر بهم ذلك بأن كانت البلدة صغيرة، بخلاف ما إذا لم يضر بأن كان المصر كبيرا؛ لأنه حابس ملكه من غير إضرار بغيره،…وقال أبو يوسف رحمه الله كل ما أضر بالعامة حبسه فهو احتكار وإن كان ذهبا أو فضة أو ثوبا
وفی بدائع الصنائع: ( 4/308،309، رشیدیہ )
ويكره الاحتكار…فهو أن يشتري طعاما في مصر ويمتنع عن بيعه وذلك يضر بالناس وكذلك لو اشتراه من مكان قريب يحمل طعامه إلى المصر وذلك المصر صغير وهذا يضر به يكون محتكرا وإن كان مصرا كبيرا لا يضر به لا يكون محتكرا
وکذافی سنن ابن ماجة فی کتاب التجارات: ( 345، دار الکتب العلمیہ )
وکذا فی الکتاب المصنف لابن أبی شیبة: ( 4/306، دار الکتب العلمیہ )
وکذافی فیض القدیر فی الجامع الصغیر: ( 6/46، دار الکتب العلمیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 8/370، رشیدیہ )
وکذافی الدر المختار مع رد المحتار: ( 9/656، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 5/433، الطارق )
وکذافی اللباب علی المختصر: ( 3/220، قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی تبیین الحقائق: ( 6/27، مکتبہ امدادیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18فتوی نمبر :184

بیٹے کا ایک لڑکی سے نکاح ہوا تھا لیکن ہمبستری نہیں کی اور اس کو طلاق دے دی، تو کیا باپ اس لڑکی سے شادی کر سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بیٹے نے اپنی بیوی سے ہمبستری کی ہو یا نہ کی ہو، محض نکاح کرنے سے وہ عورت باپ کے لئے حرام ہو جاتی ہے، لہذا باپ اس عورت سے نکاح نہیں کر سکتا۔

لما فی السنن الکبری : ( 7/260، دار الکتب العلمیہ)
“عن الحسن، أنه سئل عن رجل تزوج امرأة، فطلقها قبل أن يدخل بها أيتزوجها أبوه؟ قال الحسن: ” لا ” قال الله تعالى: {وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم} [النساء: 23].”
وفی الکتاب المصنف لابن أبی شیبة : ( 3/467، دار الکتب العلمیہ )
“عن أبی ابراھیم قال: اذا تزوج الرجل المرأۃ فلم یدخل بھا لم تحل لأبیہ.”
وفی رد المحتار علی الدر المختار: ( 4/111، رشیدیہ )
“قولہ: ( ولو بعیدا ) بیان للإطلاق … و تحرم زوجۃ الأصل و الفرع بمجرد العقد دخل بھا أو لا.”
وکذافی تفسیر البحر المحیط: ( 3/221، دار الکتب العلمیہ)
وکذا فی صفوة التفاسیر: ( 1/269، دار احیاء تراث)
وکذافی أحکام القرآن للجصاص: ( 2/185، قدیمی)
وکذا فی تفسیر القرطبی: ( 5/113، دار احیاء تراث)
وکذافی الجوھرة النیرة علی المختصر: ( 2/68، حقانیہ)
وکذا فی البنایة: ( 4/512، دشیدیہ)
وکذافی الدر مع شرحہ : ( 4/111، رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاویدعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/6/1440، 2019/2/21
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :178

کم عمری میں نکاح کیا گیا ( لڑکے کی عمر ڈھائی سال جبکہ لڑکی کی عمر دو سال تھی ) اب دونوں اٹھارہ سال کے ہیں، لڑکی کے والدین اس رشتے کو قائم نہیں رکھنا چاہتے۔ بوقتِ نکاح دونوں جانب سے والدین نے نکاح کی شرائط قبول کی تھیں، ایسے نکاح کی شرعی کیا حیثیت ہے؟ نکاح منعقد ہوا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں یہ نکاح شرعی طور پر منعقد ہو گیا ہے، لہذا لڑکا طلاق نہ دے تو یہ نکاح ختم نہیں ہو سکتا۔

لما فی الکتاب المصنف لابن أبی شیبة: ( 3/449، دار الکتب العلمیہ )
“عن الزھری و الحسن و قتادۃ قالوا: اذا أنکح الصغار آباؤھم جاز نکاحھم.”
وفی الھندیة: ( 1/285، رشیدیہ )
“لولی الصغیر و الصغیرۃ أن ینکحھما و ان لم یرضیا بذلک … فإن زوجھما الأب و الجد فلا خیار لھما بعد بلوغھما.”
وکذافی کنز الدقائق و ھامشہ: ( 100، حقانیہ )
و کذا فی الھندیة: ( 1/283، رشیدیہ )
وکذا فی الھدایة: ( 3/32،34، البشری )
وکذافی الدر المختار مع رد المحتار: ( 4/166، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 3/211، رشیدیہ )
وکذافی اللباب علی المختصر: ( 2/146، قدیمی کتب خانہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :183

کسی شخص پر سجدہ سہو واجب ہونے کی صورت میں صرف ایک سجدہ ادا کیا، تو کیا نماز ہو جائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سہو کے دو سجدے کرنا واجب ہیں، لہذا نماز لوٹانا واجب ہے۔

لما فی تنویر الأبصار مع رد المحتار: ( 2/252، رشیدیہ )
“(و یجب لہ بعد سلام واحد سجدتان ).”
وفی الھدایة: ( 1/164، المیزان )
“یسجد للسھو فی الزیادۃ و النقصان سجدتین بعد السلام ثم یتشھد ثم یسلم…… و لنا قولہ علیہ السلام لکل سھو سجدتان بعد السلام.”
وکذافی مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوی: ( 460، قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی النھر الفائق: ( 1/321، قدیمی کتب خانہ )
وکذافی غنیة المستملی: ( 455، رشیدیہ )
وکذا فی الھندیة: ( 1/125، رشیدیہ )
وکذافی کتاب الفقہ: ( 1/384، حقانیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ: ( 2/1123، رشیدیہ )
وکذا فی الدر المنتقی مع مجمع الأنھر: ( 1/219، )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: ( 2/385، فاروقیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :136

صاحب احسان کا شکریہ ادا کرنا ہو تو کن الفاظ سے شکریہ ادا کرنا مسنون ہے؟ اور ”جزاک اللہ خیرا“ کیا حدیثِ مبارکہ کے الفاظ ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

محسن کا شکریہ ادا کرنے کے لیے مختلف احادیث میں مختلف الفاظ مذکور ہیں۔ البتہ ان میں ”جزاک اللہ خیرا“ اور ”بارک اللہ فیک“یا ”فیکم“ زیادہ مشہور ہیں۔2) ”جزاک اللہ خیرا“حدیثِ مبارکہ کے الفاظ ہیں۔

لما فی جامع الترمذی: ( 2/467، رحمانیہ )
“عن أسامة بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صنع إليه معروف فقال لفاعله: جزاك الله خيرا فقد أبلغ في الثناء : هذا حديث حسن جيد غريب.”
وفی عمل الیوم و اللیلة للنسائی : ( 108، دار الکتب العلمیة )
” عن أسامة بن زيد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صنع إليه معروف فقال لفاعله جزاك الله خيرا فقد أبلغ في الثناء.”
وفی کتاب الأذکار للنووی: ( 399،398، دار البشائر الاسلامیة )
“عن أسامة بن زيد رضي الله عنهما عن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) قال: من صنع إليه معروف فقال لفاعله: جزاك الله خيرا، فقد أبلغ في الثناء.”
“عن عبد الله بن أبي ربيعة الصحابي رضي الله عنه قال: استقرض النبي (صلى الله عليه وسلم) مني أربعين ألفا، فجاءه مال فدفعه إلي وقال: بارك الله لك في أهلك ومالك، إنما جزاء السلف الحمد والأداء. “
عن عائشة رضي الله عنها قالت: ” أهديت لرسول الله (صلى الله عليه وسلم) شاة، قال: اقسميها، فكانت عائشة إذا رجعت الخادم تقول: ماقالوا؟ تقول الخادم: قالوا: بارك الله فيكم، فتقول عائشة: وفيهم بارك الله، نرد عليهم مثل ما قالوا، ويبقى أجرنا لنا
وکذافی الصحیح للبخاری: ( 1/87، رحمانیه )
وکذا فی سنن ابن ماجة: ( 388، دار الکتب العلمیة )
وکذافی الأدب المفرد: (77، دار المعرفة )
وکذا فی کنز العمال: ( 6/222، رحمانیہ )
وکذافی المعجم الصغیر: ( 2/148، دار الکتب العلمیة )
وکذا فی المصنف ابن ابی شیبة: ( 5/322، دار الکتب العلمیة )
و کذا فی المسند للحمیدی: ( 2/177، علم الکتب )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :135

مسبوق جس نے امام کے ساتھ ایک رکعت پائی ہے، وہ اپنی بقیہ نماز کیسے پوری کرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جو شخص مغرب کی تیسری رکعت میں شریک ہوا وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو جائے اور پہلی رکعت میں ثناء، تعوذ، تسمیہ، فاتحہ اور سورت پڑھے اور رکعت پوری کر کے قعدہ میں تشہد پڑھ کر کھڑا ہو جائے اور دوسری رکعت فاتحہ اور سورت کے ساتھ پڑھے، پھر قعدہ میں تشہد، درود اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے۔
اورجو شخص ظہر، عصر اور عشاء کی آخری رکعت میں شریک ہوا وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو جائے اور پہلی رکعت میں ثناء، تعوذ، تسمیہ، فاتحہ اور سورت پڑھے اور رکوع و سجدے کے بعد التحیات پڑھ کر کھڑا ہو جائے اور دوسری رکعت میں فاتحہ اور سورت پڑھے، اور تیسری رکعت میں صرف فاتحہ پڑھے اور قعدہ اخیرہ میں تشہد، درود اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے۔

لما فی خلاصة الفتاوی: ( 1/165، رشیدیہ )
و المسبوق فیما یقضی أول صلوتہ فی حق القراءۃ و آخر صلوتہ فی حق التشھد حتی لو أدرک مع الامام رکعۃ من المغرب ثم قام الی قضائہ بعد تسلیم الامام فانہ یقضی رکعتین و یقرأ فی کل رکعۃ بالفاتحۃ و السورۃ و لو ترک القراءۃ فی احدیھما تفسد صلوتہ و علیہ أن یقضی رکعۃ و یتشھد ثم رکعۃ أخری و یتشھد و یسلم لانہ یقضی اخر صلوتہ فی حق التشھد و لو أدرک رکعۃ مع الامام فی صلوۃ الظھر و العصر و العشاء و قام الی القضاء فعلیہ أن یقضی رکعۃ و یقرأ فیھا بالفاتحۃ و سورۃ و یتشھد لانہ یقضی آخر الصلوۃ فی حق التشھد و یقضی رکعۃ أخری و یقرأ فیھا بالفاتحۃ و سورۃ و لا یتشھد و فی الثانیۃ بالخیار و القراءۃ أفضل
وفی الدر المختار: ( 2/418، رشیدیہ )
ويقضي أول صلاته في حق قراءة، وآخرها في حق تشهد؛ فمدرك ركعة من غير فجر يأتي بركعتين بفاتحة وسورة وتشهد بينهما، وبرابعة الرباعي بفاتحة فقط، ولا يقعد قبلها
وکذافی کتاب الآثار: ( 1/192، دار السلام )
وکذا فی إعلاء السنن: ( 4/394، إدارةالقرآن )
وکذافی غنیة المستملی: ( 469، رشیدیہ )
وکذا فی الأشباہ و النظائر: ( 165، قدیمی کتب خانہ )
وکذافی شرح الحموی علی الأشباہ و النظائر: ( 1/422، إدارة القرآن )
وکذا فی فتح القدیر: ( 1/401، رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: ( 409، رشیدیہ )
و کذا فی البزازیة مع الفتاوی العالمگیریة: ( 4/60، رشیدیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :107

جمعہ کا خطبہ سننے کے لئے کس ہیئت میں بیٹھنا چاہیئے؟ تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

جمعہ کا خطبہ سننے کے لئے جس ہیئت میں بیٹھنا آسان ہو بیٹھ سکتے ہیں۔ البتہ مستحب یہ ہے کہ دو زانو ہو کر جس طرح التحیات میں بیٹھا جاتا ہے بیٹھنا چاہیئے۔

لما فی الھندیة: ( 1/148، رشیدیہ)
إذا شھد الرجل عند الخطبۃ إن شاء جلس محتبیا أو متربعا أو کما تیسر لأنہ لیس بصلاۃ عملا و حقیقۃ کذا فی المضمرات. ویستحب أن یقعد فیھا کما یقعد فی الصلاۃ کذا فی معراج الدرایۃ
وکذافی مجموعة رسائل اللکنوی: ( 4/142، ادارة القرآن)
وکذا فی الصحیح البخاری: ( 1/197، رحمانیہ)
وکذا فی جامع الترمذی مع ھامشہ: ( 1/227، رحمانیہ)
وکذافی معارف السنن شرح جامع الترمذی: ( 4/364، ایچ ایم سعید)
وکذا فی إعلاء السنن: ( 8/84، إدارة القرآن)
وکذافی البحر الرائق: ( 2/259، رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاویدعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/6/1440، 2019/2/21
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :181

بالوں میں پیشانی سے گدی کی طرف کنگھی کرنا کہ بال گدی کی طرف چلے جائیں ، یہ سنت سے ثابت ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

آپ ﷺ کا بالوں کو گدی کی طرف کرنا احادیث مبارکہ سے ثابت تو ہے ، لیکن یہ سنت نہیں ۔ سنت مبارکہ یہ تھی کہ آپ ﷺ سر مبارک کے درمیان سے مانگ نکالا کرتے تھے ۔

لما فی الصحیح لمسلم: ( 2 / 264 ، رحمانیہ )
عن ابن عباس، قال: كان أهل الكتاب يسدلون أشعارهم، وكان المشركون يفرقون رءوسهم، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب موافقة أهل الكتاب فيما لم يؤمر به، فسدل رسول الله صلى الله عليه وسلم ناصيته، ثم فرق بعد
و فیہ ایضا فی شرحہ للنووی
“قال العلماء و الفرق سنۃ لانہ الذی رجع الیہ النبی ﷺ . “
و فی فتح الباری لابن حجر : ( 10 / 443 ، قدیمی کتب خانہ )
قوله ( ثم فرق بعد ) في رواية معمر ( ثم أمر بالفرق ففرق ) وكان الفرق آخر الأمرين …. قال والفرق سنة لأنه الذي استقر عليه الحال …. وقد صح أنه كانت له صلى الله عليه وسلم لمة ، فإن انفرقت فرقها وإلا تركها ، فالصحيح أن الفرق مستحب لا واجب، وهو قول مالك والجمهور …. وقال النووي الصحيح : جواز السدل والفرق
و کذا فی الصحیح للبخاری : ( 2 / 877 ، قدیمی ) و کذا فی سنن ابی داؤد : ( 3 / 84 ، دارالکتب العلمیہ )
و کذا فی تکملة فتح الملھم : ( 4 / 551 ، مکتبہ دارالعلوم ) و کذا فی بذل المجھود : ( 17 / 37 ، قدیمی )
و کذا فی شرح الطیبی: ( 8 / 276 ، دارالکتب العلمیہ ) و کذا فی التعلیق الصبیح : ( 4 / 536 ، رشیدیہ )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/05/1440 ، 2019/02/04
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :118