اگر باتھ روم اس طرح بنایا گیا ہو کہ صرف غسل کرتے ہوئے استقبالِ قبلہ یا استدبارِ قبلہ ہوتا ہو تو کیا حکم ہے؟ مطلب یہ کہ واش روم کی سیٹنگ ہی کچھ اس طرح ہے کہ پانی کا شاور شرقاً یا غرباً ہی لگ سکتا ہے ۔ براہ کرم اس کا شرعی حکم واضح فرما دیں۔

الجواب باسم ملہم الصواب

صورتِ مسئولہ میں غسل کرنے والا اپنا رخ شمال یا جنوب کی طرف کر لیا کرے ۔

لما فی مسند الامام احمد بن حنبل الشیبانی : ( 6 / 582 ، دار احیاء تراث العربی )
“عن ابی أیوب الأنصاری قال : قال رسول اللہ ﷺ : لا تستقبلوا القبلۃ بفروجکم و لا تستدبرو ھا.”
و فی فقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : ( 1 / 108 ، الطارق )
“یستحب فی الغسل ما یستحب فی الوضوء ، الا أنہ یکرہ فی الغسل استقبال القبلۃ ، لما فیہ من کشف العورۃ.”
و کذا فی مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوی : ( 105 ،قدیمی کتب خانہ )
و کذا فی الفتاوی الھندیة : ( 1 / 14 ، رشیدیہ )
و کذا فی رد المحتار علی الدر المختار : ( 1 / 319 ، رشیدیہ )
و کذا فی غنیة المستملی : ( 51 ، رشیدیہ )
و کذا فی البحر الرائق : ( 1 / 97 ، رشیدیہ )
و کذا فی مشکاة المصابیح : ( 1 / 50 ، رحمانیہ )
و کذا فی المرقاة : ( 2 / 149 ، دار الکتب العلمیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440، 2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :64

ہمارے علاقے میں جنازے کا اعلان مسجد کے اسپیکر کے ساتھ کیا جاتا ہے جس سے لوگوں کو شرکت میں سہولت رہتی ہے۔ اب ایک صاحب نے اعتراض کیا ہے کہ یہ گناہ ہے، اس بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر جنازہ کا اعلان کرنا تو درست ہے البتہ گم شدہ چیزوں اور اشیاء کی خرید و فروخت وغیرہ کا اعلان جائز نہیں۔

لما فی شرح الطیبی علی مشکاة المصابیح: ( 2/275 ، دار الکتب العلمیہ )
وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من سمع رجلا ينشد ضالة في المسجد فليقل: لا ردها الله عليك فإن المساجد لم تبن لهذا
“و یدخل فی ھذا کل امر لم یبن المسجد لہ، من البیع و الشراء، و نحو ذلک من أمور معاملات الناس و اقتضاء حقوقھم. “
وفی الصحیح لمسلم: ( 1/411، رحمانیہ )
عن سليمان بن بريدة، عن أبيه، أن رجلا نشد في المسجد فقال: من دعا إلى الجمل الأحمر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا وجدت، إنما بنيت المساجد لما بنيت له
وفی مرقاة المفاتیح: ( 2/411، المکتبة التجاریة )
(ضالة في المسجد) :… ويدخل في هذا كل أمر لم يبن له المسجد من البيع والشراء، ونحو ذلك.… (لم تبن لهذا) أي: لنشدان الضالة ونحوه، بل لذكر الله تعالى وتلاوة القرآن والوعظ، حتى كره مالك البحث العلمي، وجوزه أبو حنيفة وغيره ; لأنه مما يحتاج الناس إليه لأن المسجد مجمعهم
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر: ( 1/365، رشیدیہ )
تحت قولہ ( و یعلم بہ جیرانہ ) فی الشرنبلالیۃ عن الکمال لا بأس باعلام الناس بموتہ لان فیہ تکثیر المصلین علیہ و المستغفرین لہ و تحریضا للناس علی الطھارۃ
وکذافی غنیة المستملی : ( 611، رشیدیہ )
وکذا فی شرح النووی علی مسلم: ( 1/253، رحمانیہ )
وکذافی عون المعبود: ( 2/84، قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی بذل المجھود: ( 3/213، قدیمی کتب خانہ )
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: ( 3/85، فاروقیہ)
وکذا فی الشامیة: ( 2/239، ایچ ایم سعید)
وکذافی المحیط البرھانی: ( 3/103، دار احیاء تراث )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاویدعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/6/1440، 2019/2/21
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :179

دریافت یہ کرنا تھا ، جیسا کہ آج کل سردیوں میں آدمی بالٹی میں پانی گرم کرتا ہے پھر یہ دیکھنے کے لئے کی پانی گرم ہوا یا نہیں ہاتھ ڈالتا ہے ، تو کیا پھر اس پانی سے وضو یا غسل کرنا درست ہے ، اس یہ پانی مستعمل تو نہیں ہوتا ؟ جنبی یا غیر جننی کا فرق ہے یا نہیں ۔ براہ مہربانی تفصیل سے تحریر فرما دیویں ۔ جزاک اللہ خیرا) بعض مرتبہ پانی نہانے کے دوران اسی بالٹی میں گرتا ہے ، اس کا کیا حکم ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مذکورہ بالا صورت میں بالٹی میں ہاتھ دالنے والا چاہے جنبی ہو یا غیرجنبی ، اگر اس کے ہاتھ پاک ہوں ، تو اس پانی سے وضو اور غسل کرنا درست ہے اور پانی مستعمل نہیں ہو گا ، البتہ یہ عمل ناپسندیدہ ہے ، ایسا کرنے سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے ۔ 2) غسل کےدوران بالٹی میں گرنے والی پانی کی چھینٹوں سے بچنا مشکل ہوتا ہے ، لہذا اتنی مقدار میں گرنے والا پانی ” وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَج “( تم کو دین کے سلسلے میں تنگی کے اندر نہیں ڈالا گیا ) کی رو سے معاف ہے ۔

لما الصحیح لمسلم : ( 169 / 1 ، رحمانیہ )
“عن أبي هريرة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا استيقظ أحدكم من نومه، فلا يغمس يده في الإناء حتى يغسلها ثلاثا، فإنه لا يدري أين باتت يده».”
و فیہ ایضا فی شرح النووی علی الصحیح لمسلم 0
“المقصودۃ ھنا و ھی النھی عن غمس الید فی الاناء قبل غسلھا و ھذا مجمع علیہ لکن الجماھیر من العلماء المتقدمین المتآخرین علی انہ نہی تنزیہ لا تحریم فلو خالف و غمس لم یفسد الماء و لم یاثم الغامس .”
و فی البحر الرائق : ( 38 / 1 ، رشیدیہ )
“یکرہ ادخال الید فی الاناء قبل الغسل للحدیث و ھی کراھۃ تنزیہ ، لان النھی فیہ مصروف عن التحریم .”
و کذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : ( 27 / 1 ، الطارق )
“و لا یصیر الماء مستعملا بمجرد ملاقاتہ للعضو المغسول ، حتی ینفصل عنہ ، و ینزل الی موضع یستقر فیہ ، او الی الارض ، فلو سقط الماء اثنا ء الاغتسال من عضو علی عضو آخر من اعضاء المغتسل ، فاجراہ علیہ و غسلہ بہ ، صح غسلہ .”
و کذا فی فتح القدیر مع العنایة : ( 1/ 17 , 18 ، رشیدیہ )
و کذا فی الکفایة مع فتح القدیر : ( 8 / 1 ، رشیدیہ )
و کذا فی البحر الرائق : ( 37 / 1 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح : (66 ، قدیمی )
و کذا فی بذل المجھود فی حل ابی داود : ( 206 / 1 ، قدیمی کتب خانہ )
و کذا فی بدائع الصنائع : ( 211 / 1 ، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ : (274 , 275 / 1 ، رشیدیہ )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/05/1440،2019/01/20
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:96

اگر ایک آدمی نے ظہر کے فرضوں کے بعد دو رکعات سنتیں پڑھنا شروع کیں، تشہد کے بعد تیسری رکعت شروع کر دی بعد میں یاد آیا کہ میں تو دو رکعت سنت ادا کر رہا تھا، تو کیا واپس بیٹھ جائے یا چار رکعت مکمل کرے، اگر چار رکعت مکمل کر لے تو چار سنتیں ادا ہو جائیں گی، جبکہ اس نے فرضوں سے پہلے چار رکعات سنتیں ادانہ کی ہوں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں وہ آدمی اگر واپس بیٹھ کر سجدہ سہو کر لے تو یہ بھی ٹھیک ہے اور اگر چار رکعات مکمل کر لے تو یہ ظہر سے پہلے کی چار سنتیں ادا ہو جائیں گی، کیونکہ سنت اور نفل میں مطلق نماز کی نیت کر لینا کافی ہے رکعات کی تعیین ضروری نہیں۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیة: ( 2/297، فاروقیہ )
“و إذا شرع فی التطوع و أراد أن یصلی الرکعتین، ثم بدا لہ أن یصلی أربعا بتسلیمۃ واحدۃ، جاز لہ ذلک.”
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/282، الطارق )
و ان قام الی الرکعۃ الزائدۃ ساھیا، بعد ان قعد القعود الأخیر، عاد للجلوس عند ما یتذکر، ما لم یسجد للرکعۃ الزائدۃ،… و یسجد للسہو فی الصورتین؛ لتأخیر السلام فی الصورۃ الأولی
وکذافی ردالمحتار علی الدر المختار : ( 2/117، 116، رشیدیہ )
وکذا فی الھندیة: ( 11/66، رشیدیہ )
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح: ( 224، قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 1/484، رشیدیہ )
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب: ( 1/78، قدیمی کتب خانہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440، 2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :65

ایک سوال و جواب ملاحظہ فرمائیں۔ سوال: کیا فون پر نکاح ہو سکتا ہے؟ جواب: دولہا یا اس کے اپائنٹڈ وکیل کا موجود ہونا ضروری ہے۔ اگر وکیل اپائنٹڈ ہے تو اس کی اپائنٹمنٹ کے دو گواہان کا موجود ہونا ضروری ہے۔ دلہن کے ولی اور اپائنٹڈ وکیل کا ہونا ضروری ہے۔ ولی اور وکیل کی اپائنٹمنٹ کے دو گواہان کا ہونا ضروری ہے۔ شادی کے دو گواہان کا ہونا ضروری ہے۔ اس جواب کی تصحیح یا تصدیق کر دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

سوال میں ذکر کردہ جواب میں دولہا کے وکیل اور دلہن کے ولی اور وکیل کی اپائنٹمنٹ کے لیے دو گواہان کی موجودگی کو ضروری قرار دینا درست نہیں، کیونکہ مؤکل کی طرف سے وکیل کی اپائنٹمنٹ کے لیے گواہوں کی شرعاً کوئی ضرورت نہیں ہوتی، البتہ اگر ملکی قانون میں لازم ہو تو اس کا ہمیں علم نہیں کسی محترم وکیل صاحب سے پوچھ لینا چاہیے۔

لما فی الھندیة: (1/294، رشیدیہ )
یصح التوکیل بالنکاح و ان لم یحضرہ الشھود کذا فی التاتارخانیۃ ناقلا عن خواھرزادہ
وفی الفتاوی التاتارخانیة: ( 4/146، فاروقیہ )
یصح التوکیل بالنکاح و ان لم یحضرہ الشھود و انمایکون الشھود شرطا فی حال مخاطبۃ الوکیل المرأۃ
وکذا فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ: ( 9/6726، رشیدیہ )
وکذا فی الشامیة: ( 4/210، رشیدیہ )
وکذافی فتح القدیر: ( 3/301، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 3/241، رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 2/490، رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: ( 10/199، دار أحیاء تراث )

واللہ اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440، 2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :63

کرسمس ڈے کے موقع پر عیسائیوں کی طرف سے مسلمانوں کو ہدیہ میں دیا ہوا کیک کھانا جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

عام حالت میں تو حلال آمدن والے کافر شخص سے ہدیہ وغیرہ لینے کی اجازت ہے ، مگر جو چیزیں کافر لوگ اپنے مذہبی عقائد و نظریات کی تعظیم وغیرہ کے طور پر تقسیم کرتے ہیں ان کا لینا اور استعمال کرنا جائز نہیں ، اور یہ کرسمس کا کیک خالصتاً عیسائیوں کے ایک غلط نظریہ کا عکاس ہے ، لہذا اس کا کھانا بھی درست نہیں ۔

لما فی المحیط البرھانی : ( 8 / 69 ، دار احیاء تراث العربی )
و لا بأس بطعام الیھود و النصاری کلہ من الذبائح و غیر ھا ، لقولہ تعالی : [و طعام الذین أوتوا الکتاب حل لکم ] من غیر فصل بین الذبیحۃ و غیرھا
و فی الموسوعة الفقھیة : ( 42 / 261 ، علوم اسلامیہ )
نص الحنفیۃ علی انہ لا یجوز الاھداء باسم النیروز کأن یقول عند الاھداء : ھذا ھدیۃ النیروز و المھرجان
و کذا فی صحیح البخاری : ( 1 / 458 ، رحمانیہ )
و کذا فی رد المحتار مع تنویر الأبصار و الدر :(10 / 521 ، رشیدیہ )
وکذا فی الھندیة:(5/ 288 ، الرشید )
و کذا فی فتاوی البزازیة علی ھامش ھندیة : ( 6 / 333 ، الرشید )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/05/1440 ، 2019/02/04
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر :120

موبائل فون میں میسج کے ذریعے جو سلام بھیجا جاتا ہے ، اس کا جواب دینا واجب ہے یا نہیں ؟ اگر واجب ہے تو تحریری طور پر بھیجنا ضروری ہے یا زبانی کہہ لینا کافی ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

موبائل پر میسج کے ذریعے بھیجے جانے والے سلام کا زبان سے جواب دینا واجب ہے ، تحریری طور پر جواب دینا ضروری نہیں ، البتہ اگر میسج کا جواب دینا ہو تو سلام بھی لکھ کر بھیج دے ۔

لما فی شرح النووی علی ھامش الصحیح لمسلم : ( 220 / 2 ، رحمانیہ )
“و بشرط کون الرد علی الفور و لو اتاہ سلام من غائب مع رسول او فی ورقۃ وجب الرد علی الفور “
و فی رد المحتار علی الدر المختار : ( 685 / 9 ، رشیدیہ )
المتبادر من ھذا ان المراد رد سلام الکتاب لا رد الکتاب ، لکن فی الجامع الصغیر للسیوطی : رد جواب الکتاب حق کرد السلام 0 قال شارحہ المناوی : ای : اذا کتب لک رجل بالسلام فی کتاب و وصل الیک وجب علیک الرد باللفظ او بالمراسلۃ و بہ صرح جمع شافعیۃ : و ھو مذھب ابن عباس 0
و کذا فی صحیح البخاری : ( 244/1 ، رحمانیہ )
وکذا فی الصحیح لمسلم:(221 / 2 ،رحمانیة)۔
و کذا فی تکملة فتح الملھم : ( 246 , 245 / 4 ، مکتبہ دارالعلوم )
و کذا فی رد المحتار مع الدر المختار : ( 685 / 9 ، رشیدیہ )
و کذا فی الموسوعة الفقھیة : ( 160 / 25 ، علوم اسلامیہ )
و کذا فی الاذکار للنووی : ( 323 ، دار البشائر الاسلامیہ )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/05/1440 ، 2019/01/19

جلد نمبر :17 فتوی نمبر :105

گاڑیوں میں عورتوں کو بس ہوسٹس کے طور پر اس لئے رکھنا کہ مسافر اس میں زیادہ متوجہ ہوں، جبکہ اس کے متبادل مرد بھی موجود ہوں تو اس کا کیا حکم ہے؟ اور اس طریقہ سے عورتوں اور گاڑی والوں کی آمدن کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت کے لیے شریعت مطہرہ میں پردہ کو فرض قرار دیا گیا ہے، چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ” وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى …“ اور دوسری جگہ ارشاد ہے: ” قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ…“ ان آیات میں مردوں اور عورتوں کو اپنی نظروں کی حفاظت کرنے اور نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور متعدد احادیث میں بھی غیر محرم کی طرف دیکھنے سے منع کیا گیا ہے اور نامحرم کو دیکھنا، ان سے گفتگو کرنا اور معاملات کرنا، زنا کے قریب لے جانے کا بڑا ذریعہ ہیں، اور نامحرم کو دیکھنے پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔ عورت کا ایسی جگہ ملازمت کرنا جہاں اس کا اجنبی مردوں سے اختلاط ہوتا ہو، ناجائز اور حرام ہے۔ اور مذکورہ صورت میں عورتوں کا اس جیسی ملازمت کرنے میں یہ تمام مفاسد پائے جاتے ہیں، لہذا ایسی جگہ پر عورتوں کا ملازمت کرنا درست نہیں، اگر کوئی سخت مجبوری ہو تو کوئی ایسا کسبِ معاش اختیار کیا جائے جہاں مردوں کے ساتھ اختلاط نہ ہوتا ہو۔ اور گاڑی مالکان کو چاہیے کہ عورتوں کے بجائے مردوں کو ملازمت پر رکھیں، تاکہ ان مذکورہ مفاسد سے اور اْس وعید سے بچا جا سکے جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمائی: ” لَعَنَ اللهُ النَّاظِرَ وَالْمَنْظُورَ إِلَيْهِ …“ کہ بد نظری کرنے اور کرانے والے پر اللہ تعالی لعنت فرماتے ہیں، لہذا اس صورتِ حال کے پیشِ نظر عورتوں کو بس ہوسٹس بنانا ناجائز اور حرام کام ہے، کیونکہ اس میں بے پردگی، بد نظری اور مردوں و عورتوں کا اختلاط پایا جاتا ہے۔

لما فی القرآن المجید: ( الأحزاب:33 )
” وقرن فی بیوتکن و لا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الأولی.”
و فی القرآن المجید: ( النور:30،31 )
” قل للمؤمنین یغضوا من أبصارھم و یحفظوا فروجھم ذلک أزکی لھم ان اللہ خبیر بما یصنعون و قل للمؤمنات یغضضن من أبصارھن و یحفظن فروجھن و لا یبدین زینتھن.”
وفی السنن الکبری: ( 7/159، دار الکتب العلمیہ )
“و عن الحسن رضی اللہ عنہ مرسلا قال : بلغنی أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال: لعن اللہ الناظر و المنظور الیہ.”
وفی الموسوعة الفقھیة: ( 40/343، مکتبہ علوم اسلامیہ )
” يحرم نظر الرجل بغير عذر شرعي إلى وجه المرأة الحرة الأجنبية وكفيها كسائر أعضائها سواء أخاف الفتنة من النظر باتفاق الشافعية أم لم يخف ذلك.”
وفی الشامیة: ( 5/228، رشیدیہ )
قال في الهداية: وأما المتوفى عنها زوجها فلأنه لا نفقة لها فتحتاج إلى الخروج نهارا لطلب المعاش وقد يمتد إلى أن يهجم الليل ولا كذلك المطلقة لأن النفقة دارة عليها من مال زوجها. قال في الفتح: والحاصل أن مدار حل خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره، فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها
وکذافی الصحیح للبخاری: ( 2/450، رحمانیہ )
وکذا فی النتف فی الفتاوی: ( 338،سعید )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 4/39، رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر: ( 2/230، رشیدیہ)

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر182

کسی برتن کے اندر سے ہاتھ کے ذریعے پانی لے کر وضو کرنا کیسا ہے ؟ مثلا بڑی بالٹی یا چھوٹا پتیلا وغیرہ۔

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر ہاتھ پاک ہوں تو صورتِ مسئولہ میں وضو ہو جائے گا لیکن یہ ناپسندیدہ عمل ہے ۔

لما فی جامع الترمذی:(1/102،رحمانیہ)
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: إذا استيقظ أحدكم من الليل فلا يدخل يده في الإناء حتى يفرغ عليها مرتين أو ثلاثا، فإنه لا يدري أين باتت يده … قال الشافعي: أحب لكل من استيقظ من النوم قائلة كانت أو غيرها، أن لا يدخل يده في وضوئه حتى يغسلها، فإن أدخل يده قبل أن يغسلها، كرهت ذلك له، ولم يفسد ذلك الماء إذا لم يكن على يده نجاسة
و فی ردالمحتار علی الدر المختار:(1/246،رشیدیہ)
وفي البحر قالوا: يكره إدخال اليد في الإناء قبل الغسل للحديث، وهي كراهة تنزيه؛ لأن النهي فيه مصروف عن التحريم بقوله: فإنه لا يدري أين باتت يده فالنهي محمول على الإناء الصغير أو الكبير إذا كان معه إناء صغير، فلا يدخل اليد أصلا، وفي الكبير على إدخال الكف، كذا في المستصفى وغيره
و کذا فی فتح القدیر مع العنایة:(1/17،رشیدیہ) و کذا فی تحفة الاحوذی:(1/117، قدیمی کتب خانہ)
و کذا فی الکفایة مع فتح القدیر:(1/8 ،رشیدیہ) و کذا فی مرقاۃ المفاتیح:(2/102،المکتبة التجاریة)
و کذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(66، قدیمی ) وکذا فی البحر الرائق:(1/38،رشیدیہ)
و کذا فی عون المعبود شرح سنن أبی داؤد:(1/88،قدیمی) و کذا فی بدائع الصنائع:(2/185،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاویدعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/6/1440، 2019/2/21
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر :182

ایک کمپنی دکانداروں کی میٹنگ کرتی ہے اور دکانداروں کو ایک پیکج دیتی ہے کہ اگر تم ہماری کمپنی کا بیج یا دوائی خریدو گے اور اس کی قیمت کی ادائیگی چھ ماہ قبل کرو گے تو ہم آپ کو %9 ڈسکاؤنٹ دیں گے یا اتنا ریٹ دیں گے، مثلا بیج کا ایک تھیلا جو کہ دس ہزار کا ہے ہم آپ کو =/9100 کا دیں گے اور دکاندار جب چھ ماہ قبل قیمت کی ادائیگی کرتا ہے تو کمپنی =/9100 کے حساب سے ایک بل بنا دیتی ہے کہ یہ بل دکھا کر چھ ماہ بعد اپنا بیج لے جانا ، کیا یہ معاملہ درست ہے

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ قسم کے معاملہ کو شریعت کی اصطلاح میں ” بیع سلم “ کہا جاتا ہے ۔ اور اس میں چند شرائط کا لحاظ کرنا ضروری ہوتا ہے، اگر معاملہ کرتے وقت ان شرائط کا لحاظ کیا جائے تو معاملہ درست ہے ورنہ نہیں۔ شرائط مندرجہ ذیل ہیں۔
جو چیز فروخت کی جا رہی ہے مثلا بیج یا دوائی وغیرہ، اس کی قیمت معلوم ہو مثلا فی تھیلا 9100 کا، اس چیز کی جنس معلوم ہو، مثلا کون سا بیج یا دوائی وغیرہ، کوالٹی معلوم ہو اعلی درجہ کی ہے یا اوسط درجہ کی، مقدار اور وزن معلوم ہو مثلا اتنے تھیلے اور فی تھیلا اتنے کلو کا، سپردگی کی تاریخ اور جگہ معلوم / متعین ہو اور معاملہ طے ہو جانے کے بعد اسی مجلس میں مکمل قیمت کی فی الفور ادائیگی ہو۔

لما فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ: ( 5/3603، رشیدیہ )
تعریف السلم: السلم او السلف: بیع آجل بعاجل، أو بیع شیئ موصوف فی الذمۃ ای انہ یتقدم فیہ راس المال و یتأخر المثمن الآجل، و بعبارۃ اخری:ھو أن یسلم عوضا حاضرا فی عوض موصوف فی الذمۃ الی أجل
وفی المحیط البرھانی: ( 10/277، دار إحیاء تراث )
السلم لہ شرائط کثیرۃ: أحدھا بیان فنس المسلم فیہ، کقولنا: تمر جید، أو ردئ، و الثانی: بیان نوعہ … الثالث: بیان صفتہ… و الرابع: بیان قدرہ فی المکیلات بالکیل، و الموزونات بالوزن… لأن بدون بیان ھذہ الاشیاء یقع بینھما منازعۃ مانعۃ من التسلیم و التسلم.
وکذافی فقہ البیوع: ( 2/1160، 1158،معارف القرآن )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 5/3607، رشیدیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاويد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/9/1440، 2019/5/22
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :66