دریافت طلب امریہ ہےکہ ایک آدمی کا ارادہ اصلاعمرہ کاہےمگراس کادوست مدینہ منورہ میں ہے،اس سےملاقات کاارادہ بھی ہےجس وجہ سےوہ پہلےمدینہ جاناچاہتاہےپھردویاتین دن رہنےکےبعدمکہ جانےکاارادہ ہےتووہ میقات سےبغیراحرام گزرسکتاہے؟پھرجب مکہ جائےتوکہاں سےاحرام باندھے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

گزرسکتاہے،پھرجب عمرہ کےلئےجائےتومدینہ کےمیقات)بئرعلی)سےاحرام باندھ لے۔

لمافی غنية الناسك:(53/ادارةالقرآن)
والآفاقي اذاانتہی الیھاعلی قصددخول مکۃاوالحرم علیہ ان یحرم من آخرھاقصدالحج اوالعمرۃاولافامااذالم یقصدذلک،وانماقصدمکانامن الحل بحیث لم یمرعلی الحرم حل لہ مجاوزتہ بلااحرام،فاذاحصل فیہ،ثم بدالہ دخول مکۃلحاجتہ غیرالنسک،یدخلھابلااحرام.
وفی الدرالمختارمع ردالمحتار: ( 3/552 ، رشیدیہ)
لمن اي لآفاقي(قصددخول مكة)يعني الحرم(ولولحاجة)غيرالحج امالوقصدموضعامن الحل كخليص وجدةحل له مجاوزته بلااحرام فاذاحل به التحق باهله فله دخول مكةبلااحرام .
وکذافی المحیط البرھانی : ( 3/ 415 ، داراحیاء)
وکذا فی البحرالرائق : (3 / 87، رشیدیہ)
وکذافی الہندیہ: ( 1/ 221 ، رشیدیہ)
وکذا فی کنزالدقائق : ( 92/ ، حقانیہ)
وکذافی التاتارخانیہ : ( 3/ 553، فاروقیہ)
وکذا فی ارشادالساری : ( 97/ ، فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ايثارالقاسمی غفرلہ
داالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
25/3/2019-1440/17/17
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :74

شطرنج كھیلنا کیساہے؟اوراس نیت سے کھیلنا کیسا ہےکہ اس سے دماغ تیز ہوتاہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرجوےکےساتھ ہوتو حرام ہےورنہ مکروہ ہے۔

لما فی الہندیہ: ( 1/356،رشیدیہ)
ویکرہ اللعب بالشطرنج والنردوثلاثۃعشرواربعۃعشروکل لھوماسوی الشطرنج حرام بالاجماع واماالشطرنج فااللعب بہ حرام عندنا
وفی الفقہ الحنفی: ( 5/424،الطارق)
وکذاالشطرنج،وانماکرہ لان من اشتغل بہ ذھب عناوہ دنیوی وجاءہ العناوہ الاخروي فھو حرام وکبیرۃ عندنا۔۔۔۔وفی الحد یث قال علیہ الصلاۃوالسلام لھو المومن باطل الافی ثلاث،تادیبہ لفرسہ،ومناضلتہ عن قوسہ،وملاعبتہ مع اھلہ.
وکذافی الہداية: ( 4/473،رشيديه)
وکذا فی اعلاءالسنن: (17/458،ادارة القرآن)
وکذافی الفقه الاسلامی: (4/2663، رشیدیہ )
وکذا فی مجمع الانھر: ( 4/222،المنار )
وکذافی الموسوعة الفقهية: ( 35/269،علوم الاسلاميه)
وکذا فی الدرالمختارمع ردالمحتار( 9/650،651،رشيديه)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440،2019/4/11
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :10

ايك شخص نےمجهےكہاکہ میری گاڑی فروخت کروادومیں نےکہامجھےکمیشن کتنادوگے؟اس نےکہاکہ کمیشن تونہیں دوں گا،البتہ یوں کرلوکہ اس کی مالیت تقریباً 4لاکھ روپےہے،میں اس کے3لاکھ70ہزارلوں گا،اس سےزیادہ جتنے کی فروخت کرلووہ تمہارےہیں،اس طرح معاملہ درست ہےیانہیں؟یہ بھی واضح رہےکہ اس گاڑی کی مارکیٹ میں4لاکھ یااس سےاوپرقیمت بہت آرام سےلگ جائےگی۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح یہ معاملہ درست نہیں ہے،البتہ اس کی صحیح صورت یہ ہوسکتی ہےکہ گاڑی والاایجنٹ سےیہ کہہ دےکہ مجھے صافی تین لاکھ سترہزارروپےچاہییں، اس سے اوپرمثلاًاگرتین لاکھ نوےہزارکی بکوادوتوبیس ہزارآپ کاہوگایا پورے چارلاکھ کی بکوا دوگے توتیس ہزار آپ کاکمیشن ہوگا،اس طرح کوئی ایک رقم طےکرلیں توعقددرست ہوجائےگا۔

لما فی الدرالمختار: ( 9/77،رشیدیہ)
(تفسدالاجارۃبالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد فکل ماافسدالبیع)ممامر(یفسدھا)کجہالۃ ماجور،اواجرۃ،اومدۃاوعمل
وفی حاشية الطحطاوی علی الدرالمختار: ( 4/24،رشیدیہ)
(تفسدالاجارۃ بالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد فکل ماافسدالبیع)ممامر(یفسدھا)کجہالۃ ماجوراواجرۃاومدةاوعمل
وکذافی الفقه الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 4/385،الطارق)
وکذا فی التبیین الحقائق: (5/121،امدادیہ)
وکذافی الشامية: ( 9/78، رشيديه)
وکذا فی البحرالرائق: (7/530،رشيديه)
وکذافی شرح المجلة: ( 2/538،رشيديه)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/9/1440۔2019/5/15
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :51

تنگ بازووالی قمیص پہنناکیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اجازت ہے،مگر عادت نہ بنائی جائے۔

لما فی الصحیح البخاری: ( 2/863،قدیمی)
حدثنا قيس بن حفص۔۔۔۔۔ حدثني المغيرة بن شعبة، قال: انطلق النبي صلى الله عليه وسلم لحاجته، ثم أقبل، فتلقيته بماء، فتوضأ، وعليه جبة شامية، فمضمض واستنشق وغسل وجهه، فذهب يخرج يديه من كميه، فكانا ضيقين، فأخرج يديه من تحت الجبة فغسلهما.
وفی الجامع الترمذی: ( 1/439،رحمانیہ)
حدثنایوسف بن عیسی۔۔۔۔۔عن ابیہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم لبس جبۃرومیۃ ضیقۃ الکمین.
وکذافی المحیط البرھانی: ( 8/43،داراحیاء)
وکذا فی تکملة فتح الملهم: (4/87،دارالعلوم كراچی)
وکذافی فتح الباری: ( 10/329، قدیمی)
وکذا فی البحرالرائق: ( 8/349،رشیدیہ)
وکذافی سنن الترمذی: ( 441/،دارالکتب)
وکذا فی موطاامام مالک: ( 24/قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/8/1440،2019/4/10
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :9

ايك مسجد ميں چھپکلیاں بہت ہیں کیاان کومارنادرست ہے،اگردرست ہےتوان كو مارنےپراجربھی ہےیانہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ان کومارنادرست ہےاوران کومارنےپراجروثواب بھی ہے،چنانچہ ایک حدیث میں ہےکہ چھپکلی کوپہلی ضرب سے مارنےپرسونیکیاںملتی ہیں اوردوسری ضرب پر اس سے کچھ کم اورتیسری ضرب پراس سےبھی کچھ کم اجرملتاہے۔

لما فی الصحيح لمسلم : ( 2/243،رحمانيه)
“حدثناقتيبة بن سعيد۔۔۔۔۔۔من قتل وزغافي اول ضربةكتبت له مائة حسنة وفي الثانيةدون ذلك وفي الثالثةدون ذلك.”
وفی الصحیح البخاری: ( 1/583،رحمانیہ)
“حدثناصدقۃبن الفضل۔۔۔۔ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم امرھابقتل الاوزاغ.”
وکذافی سنن ابن ماجہ: ( 365/رحمانیہ)
وکذا فی جامع الترمذی: (1/405،رحمانیہ)
وکذا فی سنن النسائی: ( 2/32،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابی داود: ( 2/373،رحمانیہ)
وکذا فی سنن الکبری: ( 5/345،دارالکتب)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440،2019/4/11
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :8

مقتدی امام کےسلام کےبعدبھول کرکھڑاہوگیااوررکعت پوری کرنےکےبعدساتھ والےسےگفتگوکی تواس نےبتایاکہ آپ کی رکعت تونہیں رہتی تھی،اب وہ کیاکرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نمازدوبارہ پڑھےگا۔

لما فی حاشية الطحطاوی علی مراقی الفلاح: ( 247/،قدیمی)
“قولہ واعادتھابترکہ عمداای مادام الوقت باقیاوکذافی السہوان لم یسجدلہ وان لم یعدھاحتی خرج الوقت۔۔۔۔ویکون فاسقاآثما.”
وفی الدرالمختارمع حاشية الطحطحاوی: ( 1/207،رشیدیہ)
“(ولھاواجبات)لاتفسدبترکھاوتعادوجوبافی العمدوالسہوان لم یسجدلہ وان لم یعدھا یکون فاسقاآثما.”
وکذافی کتاب الفقہ: ( 1/209،حقانیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی: (1/209،الطارق)
وکذافی البحرالرائق: ( 1/515، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی: ( 2/808،رشیدیہ)
وکذافی الدرالمختارمع ردالمحتار: ( 1/456،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440،2019/4/11
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :7

اگر نابالغ کی نماز جنازہ ہو اور معلوم نہ ہو کہ لڑكا ہے یا لڑکی تو کونسی دعا پڑھیں گے ؟ اور اگر نا بالغ لڑکے اور لڑکی کا نمازجنازہ ایک ساتھ ہو تو لڑکے اور لڑکی دونوں کی دعا پڑھیں گے یا صرف لڑكے کی؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر معلوم نہ ہو کہ یہ لڑکا ہے یا لڑکی تو لڑکے والی دعا پڑھ لی جائے۔اور اگر دونوں کی نماز جنازہ ایک ساتھ ہو تو پھر دونوں والی دعائیں پڑھی جائیں۔

لما فی تحفةالاحوذی:(4/91،قدیمی)
وروی مثلہ فی جامعه عن الحسن ،قال: والظاھر انہ یدعو بھذہ الالفاظ الواردۃ فی ھذہ الاحادیث ،سواء کان المیت ذکر ااو انثی،ولا یحول الضمائر المذکرۃ الی صیغۃ التانیث اذا کانت المیت انثی لان مرجعھا المیت ، وھو یقال علی الذکر والانثی.
وفی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(586،قدیمی)
“وفی مجمع الانھر وان کان المیت مانثا انث الضمائر الراجعۃ الیہ.”
وکذا فی البحر الرائق:(2/323،رشیدیہ)
وکذا فی الھداية:(1/192،المیزان)
وکذا فی الھندیة:(1/164،رشیدیہ)
وکذا فی الدرالمختار مع ردالمحتار:(3/132،133،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیة:(3/45،فاروقیہ)
وکذا فی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح:(587،قدیمی)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1515،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/271،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
ايثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440، 2019/4/11
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :6

ہمارادرزی کا پیشہ ہے لوگ ہم سے کفن وغیرہ بھی سلواتے ہیں،تو براہ کرم مردوعورت کے کفن میں استعمال ہونے والے کپڑوں کی تعداداور ان کی لمبائی بھی بتا دیں ،نیز بعض لوگ عورتوں کے کفن میں پاجامہ بھی سلواتے ہیں ،اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مرد کا مسنون کفن تین کپڑے ہیں:(1)”ازار“بڑی چادر جو سر سے قدموں تک ہو(2)”لفافہ“ازار سے کچھ بڑی چادر(3)”قمیص“جو گردن سے قدموں تک ہو۔

عورت کا مسنون کفن پانچ کپڑے ہیں:عورت کے کفن میں تین کپڑے تو مرد والے ہیں)4)سینہ بند:بغل سے رانوں تک ہو تو زیادہ اچھا ہے،ورنہ ناف تک بھی درست ہے اور چوڑائی میں اتنا ہو کہ بند ھ جائے(5)سربند:یعنی دوپٹہ جو تقریبا تین ہاتھ لمبا ہو نا چاہیے۔اور کفن میں کوئی بھی چیز مثلا پاجامہ وغیرہ سلوانا درست نہیں۔

لما فی الھندیہ:(1/160،رشیدیہ)
“کفن الرجل سنۃ ازار وقمیص ولفافة….والازار من القرن الی القدم واللفافۃکذلک والقمیص من اصل العنق الی القدم کذا فی الھدایۃ،بلا جیب ودخریص وکمین…..وکفن المراۃ سنۃ درع وازار وخمار ولفافۃ وخرقۃ …..وعرض الخرقۃ مابین الثدی الی السرۃ ….والاولی ان تکون الخرقۃ من الثديين الی الفخذ.”
وفی التاتارخانیہ:(3/26،فاروقیہ)
“واما کفن السنۃ للرجال قیل:انہ ازار ورداءوقمیص،وللنساء خمسۃ:لفافۃ وازار ودرع وخمار وخرقۃ.”
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/66،داراحیاء)۔
وکذا فی الشامیہ:(3/112،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/36،رشیدیہ)۔

 

وکذا فی الصحیح البخاری:(1/247،رحمانیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/266،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
ایثار القاسمی عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
9/9/1440-2019/5/15
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :42

جوگائےاپناپیشاب پیتی ہے،اس کےدودھ کاکیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

گندگی کھانےاورپیشاب پینےکی وجہ سےجس جانورکےگوشت اوردودھ میں بدبوپیداہوجائےاس کےدودھ وغیرہ کےاستعمال کومکروہ کہاگیاہےلیکن گوشت اوردودھ میں واضح بدبوپیدانہ ہوتوبلاکراہت دودھ وغیرہ کااستعمال درست ہے۔

لما فی الہندیہ: (5 /289،290، رشیدیہ)
وروى ابن رستم عن محمد – رحمه الله تعالى – في الناقة الجلالة والشاة الجلالة والبقرة الجلالة: إنما تكون جلالة إذا نتن وتغير لحمها ووجدت منه ريح منتنة فهي الجلالة حينئذ لا يشرب لبنها ولا يؤكل لحمها وبيعها وهبتها جائز، هذا إذا كانت لا تخلط ولا تأكل إلا العذرةغالبافان خلطت فلیست بجلالۃفلاتکرہ
وفی المحیط البرھانی: ( 8/444، داراحیاء)
“والجلالۃالتی تعتاداکل الجیف،ولاتختلط ویکون منتناوانماکرہ الاستعمال ۔۔۔۔فاما یختلط ۔۔۔فلاباس باکل لحمہ والعمل علیھا
وکذافی الشاميه: ( 9/511، رشيديه)
وکذا فی اعلاءالسنن: ( 17/194، اداراةالقرآن)
وکذافی التاتارخانيه: ( 18/502، فاروقيه)
وکذا فی تبيين الحقائق: ( 6/10، امداديه)
وکذافی الفقه الحنفی: ( 5/212،الطارق )
وکذا فی حاشية الطحطاوی علی الدر المختار: ( 4/157،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
ایثارا القاسمی عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440،2019/4/11
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :5

مقامی بچےجس مدرسہ میں پڑهتےہوں توان کوعشر،زکوۃ ،اورقربانی کی کھالیں،وغیرہ دیناکیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ طلبہ اگرواقعی مستحق ہوں تواس مدرسہ میں یہ اشیاءدےسکتےہیں بشرطیکہ انہوں نےمدرسہ کےمنتظم کوعشروزکوۃ لینےکاوکیل بنایاہو۔

لما فی الہندیہ: ( 1/190، رشیدیہ)
“اذاوقع الزکوۃالی الفقیرلایتم الدفع مالم یقبضھااویقبضھاللفقیرمن لہ ولایۃعلیہ نحوالاب والوصی.”
وفی التاتارخانية: (3 /212، فاروقيه)
“ولايجوزالزكوةالااذاقبضهاالفقير،اوقبضهامن يجوزقبضهاله لولايته عليه كالاب والوصي.”
وکذافی خلاصة الفتاوی: ( 1/242، رشیدیہ)
وکذا فی القرآن الکریم: (سورة توبه/60، )
وکذافی البحرالرائق: ( 2/219، رشيديه)
وکذا فی مجمع الانهر: ( 1/328، المنار)
وکذافی المحيط البرهانی: (3 /214،داراحیاء )
وکذا فی الفقہ الاسلامی: ( 3/1962،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440،2019/4/11
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :4