امام صاحب نےظہرکی نماز میں قعدہ اولی میں تشہدکے بعد پورا درود شریف بھی پڑھ دیاپوچھنا یہ ہےکہ اب سجدہ سہوواجب ہوگا یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس صورت میں سجدہ سہو واجب ہوگا،اگرسجدہ سہونہ کیاتونمازدوبارہ پڑھناہوگی۔

لما فی الہندیہ : (1/127،رشیدیہ)
” ولوكررالتشهدفي القعدة الاولي فعليه سجود السهووكذالوزادعلي التشهدالصلاةعلي النبي صلي الله عليه وسلم. “
وفی غنية المستملی : ( 460،رشیدیہ)
” (ولوزادفي التشهدفي)القعدة (الاولي)علي التشهد شيئا نظر (ان قال اللهم صل علي محمدوعلي ال محمد يجب ) عليه سجود السهو بالاتفاق.”
وکذافی مجمع الانهر : (1/221،المنار) وکذا فی البناية : ( 2/739،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی :(1/177،رشیدیہ) وکذا فی تبیین:(1/193،امدادیہ)
وکذا فی الدر المختارمع ردالمحتار :(2/127،رشیدیہ) وکذا فی المحيط:(2/314 ،داراحياء)

واللہ تعالی اعلم با لصواب
ایثارالقا سمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :174

امام نے بھول کرفرضوں کی چوتھی رکعت میں سورت فاتحہ کے ساتھ سورت ملا دی،کیا اب سجدہ سہو واجب ہےیانہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

اس صورت میں سجدہ سہو واجب ہوگا۔

لما فی الہندية(1/126،رشیدية)
“ولو قرأفی الاخریین الفاتحۃ والسورۃ لایلزمہ السہو وھوالاصح.”
وفی حاشية الطحطاوی علی الدرالمختار:(1/311،رشیدية)
“ولوضم سورۃ الی الفاتحۃفی الاخریین لاشئ علیہ فی الاصح.”
وکذافی کتاب التجنس والمزید:(140،142ادارة القرآن)
وکذافی الہداية:(1/164،الميزان)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/176،رشیدية)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/193،امدادیہ)
وکذافی التاتارخانية:(2/392،فاروقية)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/310،داراحیاء)

واللہ تعالی اعلم با لصواب
ایثارالقا سمی غفر لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/6/1440 ، 2019/2/18
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :198

ہماری دکان پرجوملازم کام کرتےہیں ان کےآنےکاوقت تومتعین ہےلیکن چھٹی کاوقت متعین نہیں،بس جب تک کام ہوگاوہ دکان پررہیں گے،کسی دن جلدی چلےجاتےہیں اورکسی دن دیرسےجاتےہیں،یہ معاملہ شرعاًدرست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی درست ہےکیونکہ یہاںمدت میں جہالت ملازم ومالک کےدرمیان جھگڑے کاباعث نہیں بنتی۔

لما فی التاتارخانية: ( 15/281،فاروقيه)
“والاجارة علي العمل اذاكان العمل معلوماصحيحة بدون بيان المدت.”
وفی الهندية: ( 4/411،رشيديه)
“فان كان مجهولا جهالةمفضية الي المنازعةيمنع صحة العقدوالافلا.”
وکذافی الفقه الحنفی: ( 4/385،الطارق)
وکذا فی تبیین الحقائق: (5/121،امدادیہ)
وکذافی حاشية الطحطاوی علی الدرالمختار: ( 4/24، رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: ( 7/530،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی: ( 5/3812،رشیدیہ)
وکذا فی شرح المجلہ: ( 2/538،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/8/1440،2019/4/10
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :12

اگراس طرح جنازه پڑهاجائےكہ امام اورمیت دونوں مسجد سے باہرہوں اور مقتدی سارےمسجدکےاندرہوں توکیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرکوئی عذرہو(بارش یاجگہ کی تنگی وغیرہ)توجائزہےورنہ مکروہ ہے۔

لما فی الہندیہ : (1/160،رشیدیہ)
و صلاةالجنازة في المسجدالذي تقام فيه الجماعةمكروهةسواء كان الميت والقوم في المسجداوكان الميت خارج المسجدوالقوم في المسجداوكان الامام مع بعض القوم خارج المسجد والقوم الباقي في المسجد۔۔۔۔ولا تكربعذر المطرونحوه
وفی فتح القدير : ( 2/132،رشیدیہ)
(ولايصلي علي ميت في مسجدجماعت)في الخلاصة مكروه سواء كان الميت والقوم في المسجد،اوكان الميت خارج المسجد والقوم في المسجداوكان الامام مع بعض القوم خارج المسجد والقوم الباقون في المسجداوكان الميت في المسجد والامام والقوم خارج المسجد۔۔۔۔هوالمختار.
وکذافی سنن ابن ماجه : (221،رحمانيه)
وکذا فی شرح المعانی : (1 /286،رحمانیہ)
وکذا فی الشامية :(2/226،سعید)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/243،امدادیہ)
وکذا فی مجمع الانھر :(1/272،المنار)
وکذا فی المحيط:(3/108،داراحیاء)
وکذا فی البحر الرائق :(2/327،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ایثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440۔2019/4 /1
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :170

ساہیوال کا ایک شخص لاہور ہسپتال میں زیرعلاج تھا وہیں فوت ہوگیا اس کےساتھ اس کا بیٹا اور بھائی تھے ،باقی تمام رشتہ داراور متعلقین ساہیوال میں ہیں اس کی میت کو ساہیوال لانا جائز ہے یالاہور میں ہی دفن کیا جائے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

اگر مرحوم کی رہائش وہاں نہ ہو بلكہ علاج یا تجارت کی غرض سےیاکسی اور ضرورت سےوہاں گیاتھا اس صورت میں اگرچہ ساہیوال لانابھی جائزہےمگربہتریہی ہےکہ وہیں دفن کیاجائے لیکن اگرمرحوم کی عارضی رہائش بھی وہاں تھی پھر واپس لانا مکروہ ہوگا۔

لمافی خلاصة الفتاوی:(4/345،رشیدیہ)
نقل المیت من بلد ۃ الی بلدۃ لایکرہ فی العیون ۔۔۔وذکرالامام السر خسی انہ یکرہ الاقدر میل او میلین الکل فی الفتاوی قال الفقیہ فان حمل من بلدالی بلدلا یکون اثما۔۔۔وروی ان سعدبن وقاص رضی اللہ عنہ مات فی ضیعۃ علی اربعۃ فراسخ من المدینۃ فحمل علی اعناق الرجال الی المدینۃ
وکذافی الہندیة)1/195،رشیدية)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/66،داراحیاء)
وکذافی التاتا رخانية:(3/81،فاروقية)
وکذافی البحرالرئق:(2/342،رشیدية)
وکذافی مجمع الانھر:(1/276،المنار)

واللہ تعالی اعلم با لصواب
ایثارالقا سمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/7/1440 ، 2019/3/27
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :129

مجهےايك مسئلہ کےبارےمیں پتاکرناتھاکہ میرےخاوندنےتقریباڈیڑھ سال پہلےمیرےسامنےبیٹھ کرمجھےیہ کہاکہ میں۔۔۔۔آپ کو۔۔۔اپنے پورےہوش وحواس میں طلاق دیتاہوں،طلاق،طلاق،طلاق،جب مجھےیہ سب بولامیں اس وقت اپنےماں باپ کےگھرگئی تھی لیکن میں نے ڈراوربچوں کی خاطراورمیرےابودل کےمیریض تھےاس لیےمین کسی کونہیں بتایا،اورمیں خاوندکےساتھ اس کےگھرآگئی اس کے6یا7ماہ کےبعدمیرےابوکی وفات ہوگئ اورمیں پھراپنےماں باپ کےگھر آگئی تووہاں پرپھرمجھےمیسج پرلکھ بھیجاکہ میں۔۔۔آپ کو۔۔۔طلاق دیتاہوں،طلاق،طلاق،طلاق،چونکہ اس وقت میرےابوکاانتقال ہوگیاتھا،اورگھرمیں اس قت کوئی نہیں تھاکہ میں کسی کوکچھ بتاتی،اورمیں پھراپنےخاوندکےگھرآگئی اس کےعلاوہ بھی کئی بارمجھےیہ الفاظ سننےکوملےکئی بارمجھےیہ کہاکہ میں تمھارےساتھ نہیں رہ سکتا،اپناسامان بیگ وغیرہ تیارکرواورجاواپنےگھر۔اس کےبعداس طرح گھرمیں بدسکونی اورناچاتی بڑھتی گئی،لیکن مین اس بارےمیں پڑھااورپتابھی کیاتومجھےبتالگاکہ یہ طلاق ہوگئی ہےاورمیں اس کےساتھ غیرشرعی طورپررہ رہی ہوں۔میں نےخاوندکےسامنےبیٹھ کرگھروالوں بتایاتوخاوندنےوہاں سامنےبیٹھ کریہ کہاکہ میں نے غصےمیں وہ الفاظ بولے،میں ان الفاظ کےمطلب کونہیں جانتاتھا،میں بہت غصےمیں آگیاتھا مجھےان الفاظ کی سمجھ نہیں تھی،لہذامیرے گھروالوں اس کےساتھ پھرمجھےبھیج دیاکہ اس کاکفارہ ہوجاتاہے،اوریہ طلاق نہیں ہوئی،محترم صاحب آپ مجھے مہربانی فرماکر یہ فتوی دےدیں کہ کیامیں اس کےساتھ اب غیرشرعی تونہیں رہرہی ؟کیایہ طلاق ہوگئی ہےیانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ اگرواقع کےمطابق ہےتوجب پہلی مرتبہ آپ کےشوہرنےآپ کوتین طلاقیں دیں تھیں اسی وقت آپ اپنےشوہرپرحرام ہوگئی تھیں،اس کےبعد آپ دونوں کااکٹھارہناحرام اورسخت گناہ ہے،اب فورا آپ دونوں علحدگی اختیارکریں اورسابقہ گناہ پرتوبہ استغفارکریں۔
واضح رہےکہ احادیث صحیحہ کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمارہوتی ہیں،اس پرمتعددمرفوع احادیث موجودہیں:(1)چناچہ صحاح ستہ میں سےابوداؤدشريف ميں حضرت عويمرعجلانی رضی اللہ عنہ کاواقعہ ہےکہ انہوں نےحضورصلی اللہ علیہ وسلم کےسامنےتین طلاقیں دی تھیں تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےانہیں نافذفرمادیاتھا۔

“عن سھل بن سعدفی ھذاالخبرقال فطلقھاثلاث تطلیقات عندرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فانفذہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم.”

(سنن ابی داؤد:2/140،دارالکتب)
ترجمہ:حضرت سھل بن سعدسےاس خبر(حضرت عویمرعجلانی رضی اللہ عنہ کےواقع لعان )کےبارےمیں مروی ہےکہ حضرت عويمرعجلانی رضی اللہ عنہ نےحضورصلی اللہ علیہ وسلم کےسامنےتین طلاقیں دی تھیں تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےانہیں نافذفرمادیاتھا۔(2)سنن دارقطنی میں ہےکہ ایک مرتبہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نےاپنی بیوی کوفرمادیاتھا”اذھبی فانت طالق ثلاثا”(جاتجھےتین طلاق)عدت گزنےکےبعد آپ نےاپنی مطلقہ کوکچھ ہدیہ بھیجااس خاتون نے کہا”متاع قلیل من حبیب مفارق” (آپ سےجدائی کےبدلےمیں یہ بہت تھوڑاہے)اوروہ چیزقبول کرنےسےانکارکردیا۔جب یہ بات حضرت حسن رضی اللہ عنہ کومعلوم ہوئی توآپ رونےلگےاورفرمایا:
“لوانی سمعت جدی اوحدثنی ابی انہ سمع جدی یقول رجل طلق امراتہ ثلاثامبھمۃ اوثلاثا عندالاقراء لم تحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ لراجعتھا.” ( سنن دارقطنی:4/20،دارالکتب)

ترجمہ:اگرمیں نےاپنےنانا(حضورصلی اللہ علیہ وسلم)سےیہ بات نہ سنی ہوتی کہ جس شخص نےاپنی بیوی کوتین طلاقیں دےدی ہوں یاتین طہروںمیں تین طلاقیں دےدی ہوں تووہ اس کےلیےحلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ دوسرےشوہرسےنکاح کرلے،تو میں اس سےرجوع کرلیتا۔(3)حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نےحالت حیض میں اپنی بیوی کوایک طلاق دےدی، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کومعلوم ہواتوآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےرجوع کاحکم دیااس موقع پر حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نےدریافت کیا:
“یارسول اللہ افرایت لوانی طلقتھاثلاثاکان یحل لی ان اراجعھا؟قال تبین منک وتکون معصية”

( السنن الکبری للبیھقی:7/546،دارالکتب)
ترجمہ:اےالله كےرسول:آپ کیافرماتےہیں کہ اگرمیں تین طلاقیں دےدیتا،تومیرےلیےرجوع حلال ہوتا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:نہیں،وہ تجھ سےجداہوجاتی اورگناہ بھی ہوتا۔(4)”ان حفص بن المغیرةطلق امراته فاطمة بنت قيس علی عھدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثلاث تطلیقات فی کلمة واحدةبانهامنه النبی صلی اللہ علیہ وسلم”

(سنن دارقطنی:4/10،دارالکتب)
ترجمہ:حضرت حفص بن مغيره رضی اللہ عنہ نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کےزمانےمیں اپنی بیوی کوایک کلمہ سےتین طلاقیں دیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی کوان سےجداکردیا۔(5)”بیہقی”اور”مصنف ابن ابی شیبہ”میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کافیصلہ موجودہے:
“جارجل الی علی رضی اللہ عنہ فقال طلقت امراتی الفاقال ثلاث تحریمھاعلیک واقسم سائرھابین نسائک”
( السنن الکبری للبیہقی:7/548، دارالکتب،ومصنف ابن ابی شیبہ:4/63،دارالکتب)
ترجمہ: ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کےپاس آکرکہنےلگامیں نےاپنی بیوی کوہزار طلاقیں دیں،آپ رضی اللہ عنہ نےفرما یاتین طلاق سے تیری بیوی تجھ پرحرام ہوگئی اورباقی طلاقیں عورتوںمیں تقسم کردے۔
(6)ایک مجلس کی تین طلاق کےبارےمیں حضرت عمران بن حصین کافیصلہ ملاحظہ فرمائیں۔
“سئل عمران بن حصین عن رجل طلق امراتہ ثلاثافی مجلس قال اثم بربہ وحرمت علیہ امراتہ”
(مصنف ابن ابی شیبہ:4/62،دارالکتب)
ترجمہ:حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سےاس آدمی سےمتعلق پوچھاگیاجس نےایک مجلس میں تین طلاقیں دیں۔فرمایا۔اس نے اپنےرب کی نافرمانی کی اوراس کی بيوی اس پرحرام ہوگئ۔
آیت الطلاق مرتان سےاستدلال اس لیےدرست نہیں کہ اس آیت میں بتایاگیاہےکہ رجوع کاحق دوطلاق تک ہےتیسری کےبعدرجوع کااختیارنہیں اورقرآن کریم میں ایک مجلس یاایک جملہ کی کوئی قیدوغیرہ بھی نہیں،لہذاجوآدمی بھی دوسےزیادہ یعنی تین طلاقیں دے،اس آیت کی روسےاس کےلیےرجوع کا اختیارنہیں،جب تک یہ عورت آگےدوسرانکاح نہ کرلے،جیساکہ اگلی آیت میں اس کاذکرہے چناچہ ارشادباری تعالی ہے:

فان طلقھافلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاغیرہ”(البقرہ:30)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/5/1440،2019/2/5
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :131

 

بغیر عذرکےمحض سستی کی وجہ سےچار پائي یابیڈ یالکڑی کےبنےہوےجائےنمازپرنمازپڑھ لی جاتی ہےکیا یہ درست ہےاس میں شرعی حکم واضح فرمائیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں ان اشیاء پراگر كھڑےہوکر نماز پڑھی جائےتو درست ہے،بشرطیکہ چارپائی کسی ہوئی اورسخت ہواوربیڈپربہت زیادہ موٹا گدّا نہ ہو۔

لما فی الہندية:(1/70،رشدية)
ولو سجدعلی الحشیش ا والتبن او علی القطن او الطنفسۃ او الثلج ان اسقرت جبہتہ وانفہ ویجد حجمہ یجوزوان لم تسقر لا.
وفی الشا مية:(ا/500،سعید)
(قولہ وان یجد حجمہ الارض)تفسيرہ ان الساجد لوبالغ لایتسفل رﺃسہ ابلغ من ذالک ،فصح علی طنفسۃوحصیر حنطۃوشعیر وسریر وعجلۃان کانت علی الارض۔۔۔کبساط مشدود بین اشجار.”
وکذافی التبیین:(1/117،امدادیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/54،رشیدية)
وکذافی مجمع الانھر:(1/230،المنار)
وكذافی الفقہ الحنفی:(1/208،الطارق)
وکذافی حاشيةالطحطاوی:(1/320،رشدية)
وکذافی الصحیح البخاری:(1/55،قدیمی)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/291،رشیدية)

واللہ تعالی اعلم با لصواب
ایثارالقا سمی غفر لہ
دارا لافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
12/6/1440 ، 2019/2/18
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :171

اگر کوئی شخص مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ عمرہ کی نیت سے آئےتو کیاوہ مسجدعائشہ سے احرام باندھ سکتاہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اصل تواس پریہی لازم ہےکہ مدینہ كی میقات ہی سے احرام باندھےلیکن اگرجہالت یاکسی عذر کی بناپروہاں سےنہ باندھ سکا تواب مسجدعائشہ سےبھی باندھناکافی ہوگا۔

لما فی المحیط البرھانی : (3/221،داراحیاء)
وان جاوز الآفاقي الميقات بغيراحرام وهويريد الحج والعمرةفان عادالي الميقات واحرم يسقط عنه الدم.
وفی الشامية : ( 3/550،رشیدیہ)
ومن جاوز وقته غيرمحرم ثم اتي وقتاآخرفاحرم منه اجزاه.
وکذافی تبيين الحقائق : (2/73،امدادیہ) وکذا فی الفتاوی قاضی خان :(1/287،رشیدیہ)
وکذا فی الہندیہ : (1 /121،رشیدیہ) وکذا فی فتح القدیر:(3/99،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ :(3/553،فاروقیہ ) وکذا فی المبسوط:(4/170،دارالمعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
ایثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/7/1440/2019/4 /4/2
جلد نمبر : 18 فتوی نمبر :176

ایک خاتون کی بچہ دانی نکال دی گئی،چونکہ آپر یشن ہواہے اس لیےڈا كٹر نے کہاہےکہ کچھ دن خون آتا رہےگا،پو چھنا یہ ہےکہ یہ خون حیض شمارہوگا یانہیں؟اور اگراس عورت کو آئندہ عدت گزا ر نی پڑجائے تو وہ کس طرح گزارے گی؟

الجواب باسم ملہم الصواب

یہ خون حیض شمار نہیں ہو گا،بلکہ یہ خون بیما ری کا ہوگااور اگر اس عورت كو آئندہ عدت گزارنی پڑجائےتو یہ تین مہینے عدت گزا رے گی

لمافی مجمع الانھر:(1/77،المنار)
“(ھودم ینفضہ رحم امراۃ بالغۃلا داءبھا).”
وفی الہندية:(1/549،رشدية)
“ولوکانت المطلقۃصغیرۃ اوآیسۃ وھی حرۃ فعدتہا ثلاثة اشھر.”
وفی حا شيةالطحطاوی علی درالمختار:(2/220،رشید ية)
“فان کانت من ذوات الاقراء صارت عدتہا ثلاث حیض والا فثلاثۃاشھر.”
وکذافی بدائع الصنائع:(1/160،رشیدية)
وکذافی البحر الرائق:(1/330،رشیدية)
وکذافی التاتارخانية:(1/469،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/392،دار احیاء)
وکذافی الہداية مع فتح القد یر:(4/277،رشدية)
وکذافی تبیین الحقائق:(3/27،امدادیہ)
وکذا فی الشا مية:(5/185،رشیدية)

واللہ تعالی اعلم با لصواب
ایثارالقا سمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/6/1440 ، 2019/2/18
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :172

ايك عيسائی آدمی نےمسجدکو50روپےچنده دیاہےاوروہ آدمی بھی غریب ہےتوان روپوں کومسجدمیں لگانا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ان روپوں کومسجدمیں لگانادرست ہے۔

لما فی فتح القدیر: (6 /186، رشیدیہ)
“واماالاسلام فلیس شرط فلووقف الذمی علی ولدہ ونسلہ وجعل آخرہ للمساکین جاز ویجوزان یعطی ا لمساکین المسلمین
وفی الہندية: ( 2/353، رشيديه)
واماالاسلام فليس بشرط فلووقف الذمي علي ولده ونسله وجعل آخره للمسا كين جازويجوزان يعطي المساكين المسلمين
وکذافی الفقه الاسلامی: ( 10/7648، رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: ( 5/316، رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی: (9 /155، داراحیاء)
وکذا فی مجمع الانھر: ( 2/568، المنار)
وکذافی الشامية: ( 4/314، سعيد)
وکذا فی التا تارخانيه: ( 8/201،فاروقيه )

واللہ اعلم بالصواب
ايثارالقاسمی عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/7/1440، 19/3/2019
جلد نمبر : 18 فتوی نمبر :130