علماء کے جنازہ پر اکثر یہ کہا جاتا ہے “موت العالِم موت العالَم ” یہ حدیث ہے یا مقولہ ؟ اگر یہ مقولہ ہے تو کن کا ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

” مَوْتُ الْعَالِمِ مَوْتُ الْعَالَمِ ” سے متعلق مولانا رضوان الدین معروفی صاحب اپنی کتاب ” عُمْدَۃُ الْاَقَاوِیْلِ فِی تَحْقِیْققِ الْاَبَاطِیْلِ “ کے صفحہ (379) پر نقل فرماتے ہیں :
” یہ عبارت حدیث نبوی نہیں ہے ، کسی شخص کا قول ہے ذخیرہ احادیث میں اس کا ذکر نہیں ملتا ، ہاں اس کا مضمون اپنی جگہ صحیح ہے کہ عالِم کی موت اتنا بڑا خسارہ ہے کہ اس کو عالَم کی موت کہنا بجا ہے ، اس قسم کا مضمون جس سے عالَم کی موت کا خسارہ ہونا بعض دوسری روایات میں وارد ہے ۔

(عمدۃ الاقاویل فی تحقیق الاباطیل : 379 ، معروفی کتب خانہ )

اس مقولہ کے ہم معنی روایات ذیل میں ملاحظہ ہوں :
فی مجمع الزوائد و منبع الفوائد للھیثمی :
“عن عائشۃ رفعتہ ، قال: موت العالِم ثلمۃ فی الاسلام لا تسد ما اختلف اللیل و النھار . “
و فیہ ایضا :
و عن انس بن مالک ، قال : قال النبیﷺ : ان مثل العلماء فی الارض کمثل النجوم فی السماء یھتدی بھا فی ظلمات البر و البحر ، فاذا انطمست النجوم او شک ان یضل الھداۃ
(مجمع الزوائد و منبع الفوائد :1 / 276 ، دار الکتب العلمیہ )
و فی المستدرک علی الصحیحین للحاکم :
“عن ابن عباس، رضي الله عنهما في قوله عز وجل {أولم يروا أنا نأتي الأرض ننقصها من أطرافها} [الرعد: 41] قال: موت علمائها وفقهائها «هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه».”
( المستدرک علی الصحیحین : 2 / 460 ، قدیمی کتب خانہ )
و کذا فی شعب الایمان للبیھقی: ( 2 / 268 ، دار الکتب العلمیہ )
و کذا فی کنز العمال للھندی : ( 10 /68 ، 65 ، رحمانیہ )
و کذا فی المقاصد الحسنة للسخاوی : ( 56 ، النوریہ الرضویہ )
و کذا فی مسند الفردوس للدیلمی : ( 4 / 73 ، دار الکتب العلمیہ )
و کذا فی المستدرک علی الصحیحین : ( 2 / 460 ، قدیمی کتب خانہ )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/05/1440 ، 2019/02/04
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :121

حضرت علی کی پیدائش کس مہینہ کی ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

معتبر تاریخی کتب میں لکھا ہے کہ حضرت علی بعثت نبوی سے دس سال پہلے پیدا ہوئے ، جبکہ آپ کی ولادت کے مہینہ کے بارے میں کسی بھی معتبر کتاب میں تذکرہ نہیں ملتا ، ما سوائے مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی  کی کتاب ” المرتضی “ کے ، جس میں صفحہ 51 پر ” ابن سعد “ کے حوالے سے مولانا نقل فرماتے ہیں :

” صحیح روایتوں کے بموجب سیدنا علی بعثت نبوی سے دس سال پہلے پیدا ہوئے ، ابن سعد کا بیان ہے کہ آپ کی پیدائش رجب کے مہینہ ، عام الفیل کے ۳۰ ھ میں ( چھٹی صدی عیسوی ) رجب کی بارہ ( ۱۲ ) راتوں کے گزرنے کے بعد ہوئی۔“ ( المرتضی : 51 ، البرہان )
لیکن افسوس کہ مولانا کا ذکر کردہ حوالہ ہمیں تلاش بسیار کے باوجود ”طبقات ابن سعد“ میں نہ مل سکا ۔

اور سیر الصحابہ میں ہے

” حضرت علی آپ ﷺ کی بعثت سے دس برس پہلے پیدا ہوئے تھے ۔“

(سیر الصحابہ : 1/194، اسلامی کتب خانہ )
اور حضرت مولانا نافع  اپنی کتاب ” سیرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ “ میں اس طرح رقمطراز ہیں :
” بعض اقوال کے مطابق حضرت علی کی ولادت مکہ شریف میں عام الفیل کے سات سال بعد ہوئی ہے اور بعض سیرت نگار لکھتے ہیں کہ نبی اقدس ﷺ کے مولد شریف کے تیس سال بعد علی المرتضی متولد ہوئے ۔ اور یہ بھی علماء فرماتے ہیں کہ آنجناب کی ولادت بعثت نبوی سے دس برس قبل ہوئی تھی ۔


(سیرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ : 34 ، دارالکتاب )

و فی الاصابة فی تمییز الصحابة للامام ابن حجر العسقلانی :

“و علی بن ابی طالب بن عبد المطلب …… ولد قبل البعثۃ بعشر سنین علی الصحیح 0”

(الاصابة فی تمییز الصحابة: 4/1294، الوحیدیہ )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/05/1440 ، 2019/02/04
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر :119

ہماری ایک کمپنی ہے جو مختلف چیزیں تیار کر کے دیتی ہے ، ہمارا طریقہ یہ ہے کہ مثلا موٹر سائیکل کی قیمت (36000) کا 60 فیصد گاہک سے پیشگی وصول کرتے ہیں ، اور گاہک کو متعین تاریخ پر موٹر سائیکل دینے کا وعدہ کرتے ہیں ، ہم موٹر سائیکل کے پرزے (پارٹس ) چائنہ سے لا کر فٹنگ کر کے موٹر سائیکل تیار کر تے ہیں ، متعین تاریخ پر جب گاہک آئے گا تو ہم اسے کہتے ہیں کہ یہ تمہاری موٹر سائیکل ہے ۔ اب اس کو اختیار دیتے ہیں کہ یا تو کل قیمت کا بقیہ 40 فیصد ادا کر کے اپنی موٹر سائیکل لے جائے ، اور اگر چاہے تو 40 فیصد ادا نہ کرے اور موٹر سائیکل ہمارے ہاتھ فروخت کر دے ، ہم اسے تقریبا تین ہزار روپے نفع دیتے ہیں ۔ اگر وہ موٹر سائیکل ہمارے ہاتھ فروخت کر دے تو اب پھر گاہک کو اختیار دیتے ہیں کہ چاہے اپنی ساری رقم (60 فیصد قیمت ، اور تین ہزار نفع) وصول کر کے معاملہ ختم کر دے ، او راگر چاہے تو صرف نفع لےکر 60 فیصد قیمت ہمارے ہاتھ چھوڑ دے ، اور آئندہ کے لئے پھر اسی طرح کا معاملہ جاری رکھے ۔ آپ حضرات سے یہ معلوم کرنا ہے کہ اس طرح کا روبار کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور اگر ناجائز ہے تو جائز صورت کیا ہو گی ؟ جس پر آسانی سے عمل ہو سکے ۔ امید ہے تفصیل سے بیان فرمائیں گے۔

الجواب و باللہ التوفیق
سوال میں مذکور طریقے سے معاملہ کرنا درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جب کسٹمر بقیہ 40 فیصد رقم ادا کیے بغیر وہ چیزیعنی موٹر سائیکل وغیرہ دوبارہ کمپنی کو بیچتا ہے تو وہ چیز پر قبضہ کیےبغیر دوبارہ کمپنی کو بیچ دیتا ہے ، اور خود قبضے سے پہلے چیز کو بیچنا شرعا جائز نہیں ۔
اس کی جائز صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کمپنی، خریدار کو موٹر سائیکل دیتے وقت بقیہ 40 فیصد رقم وصول کر لے اور موٹر سائیکل،خریدار کے مکمل قبضے اور تصرف میں دے دے ،یعنی موٹر سائیکل کی چابی اور کاغذات خریدار کے حوالے کر دے ۔ پھر کمپنی ، خریدار سے یہ موٹر سائیکل زیادہ قیمت پر واپس خرید لے ۔ مثلا موٹر سائیکل کی اصل قیمت مبلغ= /36000 ہے تو کمپنی ، خریدار کو تین ہزار نفع دے کر مبلغ =/39000 کا خرید لے ۔ اس صورت میں کمپنی کا موٹر سائیکل پر اور بیچنے والے کا قیمت پر قبضہ کرنا ضروری ہے ۔
پھر اگر نیا معاملہ کرنا چاہیں تو کسٹمر 60 فیصد رقم ایڈوانس جمع کروا دے اور متعین تاریخ پر مذکورہ بالا طریقے سے معاملہ کر لیں۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ ہر مرتبہ بتائے گئے طریقے کے مطابق ہونا چاہیے ، یعنی پہلے مرحلے میں خریدار ، موٹر سائیکل پر اور کمپنی ، رقم پر قبضہ کرے ۔ اور دوسرے مرحلے میں خریدار ، رقم پر اور کمپنی ، موٹر سائیکل پر قبضہ کرے ورنہ یہ معاملہ درست نہ ہو گا۔

لما فی الھدایة : (3/78 ، رحمانیہ )

“و من اشتری شیئا مما ینقل و یحول لم یجز لہ بیعہ حتی یقبضہ لانہ نہی عن بیع ما لم یقبض و لان فیہ غرر انفساخ العقد علی اعتبار الھلاک.”

و فیہ ایضا : ( 3/58 ، رحمانیہ )

“و من اشتری جاریۃ بالف درھم حالۃ او نسیئۃ فقبضہ ثم باعھا من البائع بخمس مائۃ قبل ان ینقد الثمن لا یجوز البیع الثانی ”

و فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ : ( 5/3463 ، رشیدیہ )

قال الحنفیۃ : لا یجوز التصرف فی المبیع المنقول قبل القبض ، لان النبی صلی اللہ علیہ و سلم نھی عن بیع ما لم یقبض و النھی یوجب فساد المنھی عنہ ولانہ بیع فیہ غرر الانفساخ بھلاک المعقود علیہ

و کذا فی البحر الرائق : ( 6/136،137 ،رشیدیہ )
و کذا فی رد المحتار علی الدر المختار : ( 7/268 ، رشیدیہ )
و کذا فی فقہ البیوع : ( 1/550،551 ،معارف القرآن )
و کذا فی فتح القدیر : ( 6/397 ، رشیدیہ )
و کذا فی بدائع الصنائع : ( 4/427 ، رشیدیہ )
و کذا فی المحیط البرھانی : ( 9/381 ، دار احیاء تراث العربی )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/04/1440 ، 2018/12/18
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :59

آج کل جو کپاس کے خریدار ہوتے ہیں وہ وزن کے دوران فی من ایک کلو یا دو کلو کاٹتے ہیں اور اس طرح کرنا ان خریداروں کا ضابطہ ہے مثلا ایک آدمی کی 20 مَن 20 کلو کپاس چنائی کے وقت ہوئی لیکن جب اس نے آگے آڑھتیوں کو بیچی تو انہوں نے فی من ایک کلو کاٹا تو 20 من کپاس کا وزن ہوا ۔ یہاں 2 سوال ہیں ، (1 ) کیا خریداروں کا ایسا کرنا جائز ہے ؟ (2 ) بائع 20 مَن کا عشر کا ادا کرے گا یا 20 مَن 20 کلو کا ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر خرید و فروخت کی مذکورہ صورت منڈیوں میں رائج اور معروف ہے ، اور بیچنے والا اور خریدار دونوں اس طرح معاملہ پر متفق اور راضی ہوں ، اور اس میں کوئی ظلم و زیادتی نہ ہو تو خرید و فروخت جائز ہے ۔ اور عشر کا تعلق چونکہ زمین سے حاصل شدہ پیداوار سے ہے اس لئے اگر وہ فصل بیچی جائے تو 20 مَن کا عشر ادا کیا جائے اور اگر گھریلو استعمال کے لئے رکھی جائے تو ساڑھے بیس مَن کا عشر اداکیا جائے ۔

لما فی درر الحکام شرح مجلة الحکام:(1/46 ،المکتبة العربیة )
“والحاصل ان استعمال الناس غیر المخالف للشرع و لنص الفقھاء یعد حجۃ .”
و فیہ ایضا :1/44،المکتبة العربیة
“العادۃ محکمۃ یعنی ان العادۃ عامۃ کانت او خاصۃ تجعل حکما لاثبات حکم شرعی .”
و کذا فی القرآن المجید:(سورة النساء،29)
و کذا فی سنن ابن ماجہ:( 275 ، رحمانیہ)
و کذا فی السنن الکبری :(6/160 ، دارالکتب )
و کذا فی اصول الافتاء و آدابہ :(262 ، معارف القران )
و کذا فی درر الحکام شرح مجلة الحکام:(1/106،المکتبة العربیة )
و کذا فی الھدایة:( 1/219 ، المیزان )
و کذا فی رد المحتار علی الدرالمختار:(3/317 ، رشیدیہ )
و کذا فی المحیط البر ھانی :(3/290 ، دار احیاء تراث العربی )
وکذا فی البحر الرائق :(2/416 ، رشیدیہ )
و کذا فی بدائع الصنائع : ( 2/185 ، رشیدیہ )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/04/1440 ، 2018/12/18
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :60

اگر جانور ذبح کرتے ہوئے جانور کی گردن کٹ کر الگ ہو جائے تو کیا وہ جانور حرام ہو جاتا ہے ؟

الجواب حامدا و مصلیا

ایسی صورت میں جانور حرام تو نہیں ہوتا ، البتہ ایسا کرنا مکروہ ہے ۔

لما فی تبیین الحقائق:( 5/292 ، امدادی)
قال رحمہ اللّٰہ تعالی ( و کرہ النخع و قطع الرأس و الذبح من القفا ) …و کل ذلک مکروہ لان فی جمیع ذلک و فی قطع الرأس زیادۃ تعذیب الحیوان فلا فائدۃ … و تؤکل فی جمیع ذلک لأن الکراہیۃ لمعنی زائد و ھی زیادۃ الألم فلا توجب الحرمۃ
و فی رد الحتار مع تنویر الأبصار و الدر:( 9/495 ، رشیدیہ )
(و ) کرہ کل تعذیب بلا فائدۃ مثل ( قطع الرأس و السلخ قبل ان تبرد ) أی : تسکن عن الاضطراب و ھو تفسیر باللازم کما لا یخفی
وکذا فی الھدایة :(4/ 437 ، 438 ، رحمانیہ )
وکذا فی البحر الرائق :(8/ 311 ، رشیدیہ )
وکذا فی مجمع الانھر : (4 / 159، المنار)
وکذا فی الفقہ الحنفی :(5/177 ،الطارق )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة :(17/ 396 ،فاروقیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ : ( 4 / 2767 ، 2768 ، رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة تنقیح الفتاوی الحامدیة : ( 2 / 366 ، قدیمی )
وکذا فی الھندیة :(5/ 288 ، الرشید )
وکذا فی بدائع الصنائع :(4/ 189 ، رشیدیہ )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/04/1440 ، 2018/12/18
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :58

1) قربانی کے بڑے جانور میں اگر شرکاء کی تعداد سات سے کم ہو مثلا چھ شرکاء ہوں مگر چار حصے تو چار شرکاء کے ہوں اور تین حصے دو شرکاء میں نصف نصف ہوں تو اس صورت میں قربانی ہو جائے گی یا نہیں ؟ 2) ایک شخص بڑے جانور میں اگر ایک اپنا قربانی کا حصہ رکھتا ہے اور اپنے مرحوم والد یا والدہ کی طرف سے نفلی قربانی کا حصہ بھی اسی بڑے جانور میں رکھتا ہے جب کہ انہوں ( والدین ) نے کوئی وصیت نہیں کی ، تو یہ والد کی طرف سے قربانی ہو جائے گی یا نہیں ؟ اگر کوئی فقہی حوالہ بھی مل جائے تو مہربانی ہو گی ۔ ایک شخص جو قربانی کے نصاب کا مالک نہیں ہے ، لیکن اس کی موروثی زمین جو ( چند پشتوں سے ) ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی اور بیکار پڑی ہے ، یا ورثاء ( یا غیر ورثاء ) میں سے کوئی ایک اسے کاشت کر رہا ہے اور زمین میں سے جو حصہ اس کا بنے گا اس کی قیمت نصاب کو پہنچ جاتی ہے تو ایسی صورت میں اس کو زکوۃ دینا جائز ہے یا نہیں ؟ نیز ایسی صورت میں اس پر قربانی ہو گی ہا نہیں ؟

الجواب حامدا و مصلیا

صورت مسئولہ میں قربانی ہو جائے گی ۔

1) لما فی بدائع الصنائع : (4/ 206 ، 207 ، رشیدیہ )۔
“لا یجوز بعیر واحد و لا بقرۃ واحدۃ عن أکثر من سبعۃ و یجوز ذلک عن سبعۃ أو أقل من ذلک ، و ھذا قول عامۃ العلماء .”
“و لا شک فی جواز بدنۃ أو بقرۃ عن أقل من سبعۃ بأن اشترک اثنان أو ثلاثۃ أو أربعۃ أو خمسۃ أو ستۃ فی بدنۃ أو بقرۃ لأنہ لما جاز السبع فالزیادۃ أولی ، و سواء اتفقت الأنصباء فی القدر أو اختلفت بأن یکون لأحدھم النصف و للآخر الثلث و لآخر السدس بعد أن لا ینقص عن السبع .”
2)وکذا فی الصحیح لمسلم:(1/491،رحمانیة)۔
3) وکذا فی الھدایة:(4/444،رحمانیة)۔
4) وکذا فی البحرالرائق:(8/319،325 ،رشیدیة)۔
5) وکذا فی الھندیة:(5/304،الرشید)۔
6) وکذا فی الفقہ الحنفی: (8/203،المکتبة الطارق)۔
7) وکذا فی رد المحتار علی الدر المختار : (9/525،رشیدیہ)۔
8) وکذا فی مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر:(4/168،المنار) ۔
(2) صورت مسئولہ میں نفلی قربانی والد یا والدہ کی طرف سے ہو جائے گی ۔
1) لما فی رد المحتار علی الدر المختار:(6/326 ،ایچ ایم سعید)۔
“وإن تبرع بها عنه له الأكل لأنه يقع على ملك الذابح والثواب للميت، ولهذا لو كان على الذابح واحدة سقطت عنه أضحيته كما في الأجناس.”
2) لما فی الفتاوی الخانیة علی الھندیة:(3/352، الرشید )۔
“اذا ضحی رجل عن ابویہ بغیر امر ھما و تصدق بہ جاز لان اللحم ملکہ و انما للمیت ثواب الذبح …”
3)وکذا فی المستدرک علی الصحیحین :(5/152،153،قدیمی)۔
4) وکذا فی مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر:(4/173،المنار)۔
5) وکذا فی المحیط البرھانی: ( 8/473،دار احیاء التراث العربی)۔
6) وکذا فی رد المحتار علی الدر المختار:(9/540،رشیدیہ)۔
7) وکذا فی المبسوط :(12/12،دار المعرفة)۔
8) وکذا فی الفتاوی الولوالجیة :(3/73،الحرمین شریفین )۔
9) وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : (5/214،الطارق)۔
10) وکذا فی الفقہ الاسلامی : (4/2744،علوم اسلامیہ)۔
3) یہ زمین چونکہ اس شخص کی ملکیت میں نہیں آئی اس لئے اس زمین کی وجہ سے اس پر قربانی واجب نہیں ہو گی ، اور اس کو زکاۃ بھی دی جا سکتی ہے ۔
(1) لما فی بدائع الصنائع : (2/ 88 ، رشیدیہ )۔
“و منھا : الملک المطلق و ھو أن یکون مملوکا لہ رقبۃ و یدا ، و ھو قول أصحابنا الثلاثۃ ، و قال زفر : الید لیست بشرط ، و ھو قول الشافعی ، فلا تجب الزکاۃ فی المال الضمار عندنا خلافا لھما .”
“و تفسیر مال الضمار : ھو کل مال غیر مقدور الانتفاع بہ مع قیام أصل الملک کالعبد الآبق ، و الضال ، …”
2) وکذا فی رد المحتار علی الدر المختار:(3/208،رشیدیہ)۔
3) وکذا فی المحیط البرھانی: ( 8/455،دار احیاء التراث العربی)۔
4) وکذا فی البحرالرائق:(8/318 ،رشیدیة)۔
5) وکذا فی مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر:(4/167،المنار)۔
6) وکذا فی الفتاوی الولوالجیة :(3/82،الحرمین شریفین )۔
7) و کذا فی الفتاوی التاتارخانیة :(17/406،405،فاروقیہ)۔
8) وکذا فی الھندیة:(5/292،الرشید)۔
9) وکذا فی الھدایة:(4/443،444،445،رحمانیة)۔

و اللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
01/04/1440
09/12/2018
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :57

فصل با لکل تیارتھی لیکن جھگڑےکے دوران اس کو آگ لگ گئی اورساری فصل جل گئی یا بہت معمولی سی حاصل ہوئی،اس صورت میں عشرکاکیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں جوفصل حاصل ہوئی ہےاسی کےحساب سےعشر نکالا جائےگا،اوراگرکسی نے آگ لگائی ہےتوپھراس سےضمان لیکراس سےجوعشربنتاہےاداکیاجائےگا۔

لما فی الہندیہ: ( 1/186،رشیدیہ)
ویسقط بہلاک الخارج من غیر صنعہ وبہلاک البعض یسقط بقدرہ وان استہلکہ غیر المالک اخذ الضمان منہ وادی عشرہ وان استہلکہ المالک ضمن عشرہ وصاردینافی ذمتہ.
وفی بدائع الصنائع: ( 2/187،رشیدیہ)
وبيان هذه الجملة إذا أتلف إنسان الزرع أو الثمر قبل الإدراك حتى ضمن أخذ صاحب المال من المتلف وأدى عشره، وإن أتلف البعض دون البعض أدى عشر المتلف من ضمانه ،وإن أتلفه صاحبه،أو أكله يضمن عشره ويكون دينا في ذمته، وإن أتلف البعض دون البعض يضمن قدر عشر ما أتلف
وکذافی الفقه الاسلامی وادلتہ: ( 3/1913،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (2/413،رشیدیہ)
وکذافی الشامية: ( 3/321، رشيديه)
وکذا فی كتاب الفقه: ( 1/524،حقانيه)
وکذافی التاتارخانيه: ( 3/285،فاروقيه)
وکذا فی الفقه الحنفی: ( 1/366،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/9/1440،2019/5/7
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :52

ولیمہ نکاح سےایک دودن پہلےیاایک دودن بعدکرسکتےہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ولیمہ کاوقت تومیاں بیوی کےملنےکےبعدکاہے،درحقیقت ولیمہ اسےہی کہتےہیں،نکاح سےپہلےتو دعوت ہوگی اس سےولیمہ والی سنت ادانہیں ہوگی۔

لما فی الموسوعة الفقهية: ( 45/249،علوم الاسلاميه)
“فذهب الحنفية والمالكيةفي المشهوروابن تيميةالي ان الوليمة تكون بعدالدخول.”
وفی اعلاء السنن: ( 11/12،اداراةالقرآن)
“وحديث انس في هذا الباب صريح في انهااي الوليمةبعدالدخول،لقوله فيه اصبح عروسا بزينب فدعاالقوم.”
وکذافی سنن ابی داؤد: (2/170،رحمانیہ)
وکذا فی عون المعبود: (10/120،قدیمی)
وکذافی حاشية الطحطاوی علی الدرالمختار: ( 4/175، رشيديه)
وکذا فی فتح القدير: ( 9/287،رشيديه)
وکذافی الفقه الاسلامی: ( 9/662،رشیدیہ )
وکذا فی کتاب الفقہ: (2 /35،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/9/1440،2019/5/15
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :65

! ايك بستی جس کی آبادی تقریبادوسوسےتین سوکےدرمیان ہےاس کےقریب سےایک بڑی سڑک گزرتی ہےاوراس بستی کےبس سٹاپ پرتقریباپندرہ دکانیں ہیں کچھ کریانہ کی، کچھ سبزی کی، ایک مٹھائی کی اوردرزی کی،اس بستی کی مسجدمیں گزشتہ8سال سےجمعہ پڑھاجارہاہے اب اس مسجدمیں ایک تبلیغی جماعت آئی ہےجن میں ایک مفتی صاحب تھےانہوں نےبتایا ہےکہ یہاں جمعہ جائز نہیں آپ ظہرکی نمازاداکیاکریں آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ہم جمعہ جاری رکھیں یاظہرشروع کردیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جمعہ کی ادائیگی کےلئےفقہاءکرام نےشہریابڑی بستی ہونالازم قراردیاہےکہ جس میں اکثر ضروریات زندگی میسرہوںمثلا بازارہو،کوئی با ا ثر شخص یاادارہ ہوجولوگوں کے آپس کےمعاملات حل کرواسکے،مفتی ہو جولوگوں کومسائل بتائے،الغرض انسان کی دینی ودنیوی ضروریات کا حل موجود ہومذکورہ بستی میں چونکہ شرائط موجودنہیں ہیں لہذاجمہورکےنزدیک یہاں جمعہ اداکرناجائزنہیں،اگرفتنہ فسادکاخطرہ نہیں ہےتوجمعہ روک دیاجائے،ورنہ بعض فقہاءکرام جن میں حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی صاحب بھی ہیں ان کےنزدیک جہاں جمعہ شروع ہوچکاہو وہاں جمعہ جاری رکھنےکی بھی اجازت ہے۔

لما فی ردالمحتار : (2/137،سعید)
عن ابي حنيفةانه بلدة كبيرة فيهاسكك واسواق ولهارساتيق وفيهاوال يقدر علي انصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه اواعلم غيره يرجع الناس اليه فيمايقع من الحوادث وهذاهوالاصح
وفی بدائع الصنائع : (1 /583،584،رشیدیہ)
اما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة ادئهاعند اصحابنا حتي لاتجب الجمعة الاعلي اهل المصرومن كان ساكنافي توا بعه وكذا لايصح اداءالجمعة الافي المصروتوابعه فلاتجب علي اهل القري التي ليست من توابع المصر،ولايصح اداءالجمعةفيها
وفيه ايضا : “وعن ابی عبداللہ ا لبلخي انہ قال احسن ماقیل فیہ اذاکانوابحال لواجتمعوفی اکبرمساجدھم لم یسمعھم ذلک حتی احتاجواالی بناءمسجد الجمعة فهذامصرتقام فيه الجمعة”
وکذا فی شرح الوقاية : ( 1/240،امدادیہ)
وکذا فی الہدا ية:(1/177،رحمانیہ)
وکذا فی الہندية:(1/145،رشیدیہ)
وکذا فی الدرالمختار :(2/137،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
ایثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/7/1440۔2019 /4/2
جلد نمبر : 18 فتوی نمبر :101

ايك صاحب کہہ رہے تھےکہ سنت مؤکدہ کی آخری دورکعتوںمیں سورت نہیں ملائی جاتی،یہ مسئلہ درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ مسئلہ درست نہیں ،بلکہ سنتوں کی تمام رکعتوںمیں سورت ملاناضرری ہے۔

لما فی البحرالرائق: ( 2/99،رشیدیہ)
“(وکل النفل والوتر)ای القراءۃفرض فی جمیع رکعات النفل والوتر.”
وفی المحیط البرھانی: ( 2/220،داراحیاء)
امافی السنن مثل الاربع قبل الظہروالاربع قبل العشاءالاخیرفانہ یلزمہ اربع رکعات،ویلزم اکثرمن ذلک ویلزمہ فی کل رکعتین من القراءۃ
وکذافی التاتارخانیہ: (2 /56،فاروقیہ)
وکذا فی الدرالمختار: (2/573،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی: ( 1/210،الطارق )
وکذا فی الہندیہ: ( 1/113،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی: (2/1067،رشیدیہ)
وکذا فی النھرالفائق: ( 1/299،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440،2019/4/11
جلد نمبر : 19 فتوی نمبر :11