بھنگ پینا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بھنگ پینا حرام ہے۔

لما فی تنویر الابصار مع رد المحتار: (4/458،سعید)
“(و یحرم اکل البنج و الحشیشۃ) ھی ورق القنب(و الافیون) لانہ مفسد للعقل و یصد عن ذکر اللہ و عن الصلاۃ.”
وفی الھداية: ( 1/499، رحمانیہ)
“و من ذھب عقلہ بالبنج و لبن الرماک و عن محمد رحمہ اللہ انہ حرام و یحد شاربہ اذا سکر منہ و یقع طلاقہ اذا سکر منہ کما فی سائر الاشربۃ المحرمۃ.”
وکذافی البحر الرائق: (8/402، رشیدیہ)
وکذا فی حاشية الطحطاوی علی الدر: (4/226، رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (7/5505، رشیدیہ)
وکذا فی اللباب: (3/86، قدیمی)
وکذافی الجوھرة النيرۃ: (2/427، قدیمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1440، 2019/5/27
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:75

ہمارا ڈیپارٹمنٹل سٹورہے جس میں ہم نے سینری وغیرہ بھی رکھی ہیں، جس میں سے بعض پر بڑی یا چھوٹی تصویریں بھی ہوتی ہیں، اور اسی طرح بچوں کے کھلونے جو مجسموں کی صورت میں ہوں یا ان پر تصویریں بنی ہوئی ہوں، اور ٹی شرٹ اور اپر وغیرہ جن پر تصویریں ہوں، ان کے بیچنے کا کیا حکم ہے، اور جو ایک دفعہ خرید لی ہوں ان کا کیا کیا جائے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

واضح چہرے والی تصویر اور بچوں کے ایسے کھلونے وغیرہ جن میں چہرے کے نقوش بالکل واضح ہوں، ان کی خرید و فروخت ناجائز ہے، اور تصویر والی اشیاء مثلا کپڑے اور برتن وغیرہ کی خرید و فروخت جائز ہے، لیکن ان کے استعمال کے لیے تصویر کو مٹانا ضروری ہے۔

لما فی فقہ البیوع: (1/319، معارف القرآن)
و یدخل فی ھذا القسم بیع الاصنام و الصور المجسدۃ، الا اذا قصرت ، و امکن الانتفاع برضاضھا، فیجوز بیعھا. و الاصل فیہ حدیث جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ انہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یقول عام الفتح و ھو بمکۃ: ان اللہ و رسولہ حرم بیع الخمر و المیتۃ و الخنزیر و الاصنام.
وفی زاد المعاد: (4/1260، علمیہ)
وأما تحريم بيع الأصنام، فيستفاد منه تحريم بيع كل آلة متخذة للشرك على أي وجه كانت، ومن أي نوع كانت صنما أو وثنا أو صليبا، وكذلك الكتب المشتملة على الشرك، وعبادة غير الله، فهذه كلها يجب إزالتها وإعدامها، وبيعها ذريعة إلى اقتنائها واتخاذها، فهو أولى بتحريم البيع من كل ما عداها، فإن مفسدة بيعها بحسب مفسدتها في نفسها.
وکذا فی الصحیح للبخاری: (1/296، قدیمی)
وکذا فی فتح الباری: (4/523، قدیمی)
وکذافی المسلم: (2/23، قدیمی)
وکذا فی الشامية: (4/214، دار احیاء تراث العربی)
وکذافی الموسوعة الفقهية: (12/129، علوم اسلامیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/9/1440، 2019/5/28
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:76

میری بیوی پہلے سے شادی شدہ تھی جب اس کو پہلے شوہر سے طلاق ہوئی تو میں نے اس سے اس کی عدت 3 ماہ 15 دن کے بعد نکاح کر لیا جب کہ میرے نکاح کے دن بقول اس عورت کے وہ 2 ماہ سے حاملہ ہے (میرے اس عو رت سے بد کاری کر نے کی وجہ سے وہ حاملہ ہو ئی ) میری طرف سے اب سوال یہ ہے کہ کیا میرا نکاح اس سے ہو گیا؟ میرے سا تھ نکاح کے تقریبا سات ماہ بعد بچی پیدا ہو ئی اور نکاح کے 10ماہ بعد میں نے طلاق ثلاثہ کا نوٹس لکھ دیا تھا ، اور پھردوبارہ میں نے اس خاتون سے نکا ح کر لیا اب اس خاتو ن کا میرے سا تھ رہنا جا ئز ہےیا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکو رہ صو رت میں حاملہ ہو نے کی وجہ سے اس عورت کی عدت وضع حمل تھی ، اس لیے عدت میں ہو نے کی وجہ سے آپ کااس سے نکاح نہیں ہوا تھا ،لیکن دوسرے نکا ح کے بعد آپ کا اس کے سا تھ رہنا جا ئز ہے۔پہلے جو کچھ ہو ا وہ حرام اور گناہ تھا،دونو ں اس پر استغفارکریں ۔

لمافی الشامية:(5/192،رشیدیہ)
قوله: أو من زنا إلخ) ومثله ما لو كان الحمل في العدة ۔۔۔۔ وفي الحاوي الزاهدي: إذا حبلت المعتدة وولدت تنقضي به العدة سواء كان من المطلق، أو من زنا وعنه لا تنقضي به من زنا…. قال:واعلم أن المعتدة لو حملت في عدتها ذكر الكرخي أن عدتها وضع الحمل ولم يفصل، والذي ذكره محمد أن هذا في عدة الطلاق، أما في عدة الوفاة فلا تتغير بالحمل وهو الصحيح كذا في البدائع
وفی الفتاوی التا تا ر خانية: (4 /66 ، فا رو قیہ)
وفي الخانية :ولا یجوزنکاح منکو حۃالغیر ومعتدۃ الغیر عند الکل ، ولو تزوج بمنکو حۃ الغیروھو لا یعلم انھا منکو ح الغیر فوطئھا (تجب العدۃ ، وان کا ن یعلم انھا منکو حۃ الغیر فوطئھا )لا تجب العدۃ حتی لا یحرم علی الزوج وطو ھا.
وکذافی الھندية : (1 /280 ،رشیدیہ ) وکذا فی بدا ئع الصنائع : ( 3/302 ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 9/6613 ،رشیدیہ ) وکذا فی البحر الر ائق: (4 /239 ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی : ( 2/76 ،الطارق )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
14-4-2019،1440-8-8
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:196

کہ نقلی ڈاڑھی استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟بعض لو گ نقلی ڈاڑھی لگا کر ڈارامو ں میں کام کرتے ہیں بعض اوقات ایسا کر دار بھی اداکرنا پڑتا ہے جس کی وجہ ڈاڑھی والوں کی تضحیک اور تحقیر ہوتی ہے اگر چہ بعض اوقات اس کے بر عکس بھی کر دار اداکر تے ہیں بحوالہ حکم ارشاد فر ما دیں ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت کی تحقیر وتضحیک کر نے والا کفر تک پہنچ جا تا ہے ۔

لمافی الشامية:(4/221،222،ایچ ایم سعید )
قلت: وقد حقق في المسايرة أنه لا بد في حقيقة الإيمان من عدم ما يدل على الاستخفاف من قول أو فعل ويأتي بيانه…….. ثم قال ولاعتبار التعظيم المنافي للاستخفاف كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمدا بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافا بها بسبب أنه فعلها النبي – صلى الله عليه وسلم – زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ. قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به، وإن لم يقصد الاستخفاف لأنه لو توقف على قصده لما احتاج إلى زيادة عدم الإخلال بما مر لأن قصد الاستخفاف مناف للتصديق
وفی الھندیہ: (6 /328 ،ر شیدیہ)
والحاصل انه اذااستخف بسنۃاوحدیث من احادیث علیہ السلام کفروتحت ھذاالاصل فروع کثیرۃذکرنا ھا فی الفتاوی
وکذافیہ : ( 2/263 ،رشیدیہ ) وکذا فی الفتای التاتا رخانية : (7 /306 ،فاروقيه )
وکذافی مجموعة رسائل ابن عابدین : (1 /326 ،محمودیہ ) وکذا فی حجةالله البالغة : (1 / 408 ،قدیمی )
وکذافیہ : (2 /410 ،قدیمی ) وکذا فی البحر الرائق: (5 /202،203 ،رشیدیہ )
وکذافی مجمع الانھر : (2 /506،509 ،المنار ) وکذا فی الموسوعةالفقھية : (26 /،98 ،علوم اسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ ولاساتذتہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
1-4-2019،1440-7-24
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:99

مسبوق کی مغرب میں دو رکعتیں رہ گئی تھیں، تو اس کا قعدہ اخیرہ کون سا ہو گا، کیونکہ اس کے قعدے تین ہو جائیں گے تو تینوں قعدوں کی فقہی حیثیت واضح فرما دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں قعدہ اخیرہ وہ ہے جس کے بعد مسبوق سلام پھیر دے، اس کے پہلے دونوں قعدےواجب اور تیسرا فرض ہے۔

لما فی غنية المستملي: (289، رشیدیہ)
“(و السادسۃ) من الفرائض (و القعدۃ الاخیرۃ) التی تکون فی آخر الصلوۃ سواء تقدمھا قعدۃ او لا کما فی الثنائية.”
وفی الموسوعة الفقهية: (37/164، علوم اسلامیہ)
“و فی الفتاوی الھندیۃ المسبوق یقضی اول صلاتہ فی حق القراءۃ و آخرھا فی التشھد، حتی لو ادرک رکعۃ من المغرب قضی رکعتین، و یفصل بقعدۃ فیکون بثلاث قعدات.”
وکذافی الشامية: (1/596، سعید)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانية: (2/180، فاروقیہ)
وکذافی حاشية الطحطاوي علي مراقي الفلاح: (250، رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی: (2/84، دار احیار تراث العربی)
وکذافی الھند ية: (1/91، رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/9/1440، 2019/5/28
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:78

کیا میتھی کا ذکر حدیث میں آیا ہے، اور اس کی کوئی فضیلت بھی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایک حدیث میں ہے کہ میتھی سے شفا حاصل کرو اور ایک کمزور حدیث میں ہے کہ اگر میری امت کو میتھی کے فوائد معلوم ہو جائیں تو لوگ اس کو سونے کے بدلے خرید لیتے ،لیکن اس حدیث پر کافی کلام ہے ، بعض نے تو اس کو من گھڑت بھی کہا ہے اور بعض نے اسے اطباء کا قول قرار دیا، البتہ حکماء و اطباء کے ہاں میتھی کے فوائد مسلم ہیں۔

لما فی زاد المعاد فی ھدی خیر العباد : (3/851،مکتبہ علمیہ)
ويذكر عن القاسم بن عبد الرحمن، أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (استشفوا بالحلبة ) وقال بعض الأطباء: لو علم الناس منافعها لاشتروها بوزنها ذهبا.
وفی الدرر المنتثرة: (212، دار الکتب العلمیہ)
“حديث: (لو يعلم الناس ما في الحلبة لاشتروها بوزنها ذهبا) ابن عدي من حديث معاذ بن جبل، وهو ضعيف.قلت: بل موضوع انتهى
و فی المقاصد الحسنة: (357، النوریہ الرضویہ)
حديث: لو يعلم الناس ما في الحلبة لاشتروها ولو بوزنها ذهبا، الطبراني في الكبير من حديث سليمان بن سلمة الخبائري. . . عن معاذ بن جبل مرفوعا بہ . . . و الخبائر کذاب
وکذا فی معجم الکبیر: (8/428، دار الکتب العلمیہ)
وکذافی الموضوعات الکبری: (195، قدیمی)
وکذا فی میزان الاعتدال فی تقد الرجال: (1/256، رحمانیہ)
وکذافی کشف الکفاء و مزیل الالباس: (2/166، الغزالی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1440، 2019/5/27
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:77

کہ ایک آدمی فجر کے بعد سوگیا اور سونے کی حا لت احتلام ہو گیا ظہر تک اس نے غسل نہیں کیا کیا یہ گنا ہ گار ہوگا یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں بغیر عذر کے تا خیر خلاف ادب ہے ،اگر غسل میں تا خیر کی وجہ سے کو ئی نماز قضاہو گئی تو گناہ گارہوگا ورنہ نہیں۔

لمافی المصنف عبد الرزاق :(1/279،المکتب الاسلامی )
عن يحيى بن يعمر قال: سألت عائشة: هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينام وهو جنب؟ قالت: «ربما اغتسل قبل أن ينام، وربما نام قبل أن يغتسل ولكنه يتوضأ» قال: الحمد لله الذي جعل في الدين سعة… عن ابن عمر، أن عمر استفتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أينام أحدنا وهو جنب؟ قال: «نعم، ليتوضأ، ثم لينم حتى يغتسل إذا شاء» قال: وكان عبد الله بن عمر ” إذا أراد أن ينام وهو جنب صب على يده ماء، ثم غسل فرجه بيده الشمال، ثم غسل يده التي غسل بها فرجه، ثم مضمض واستنثر ونضح في عينيه، وغسل وجهه ويديه إلى المرفقين، ومسح برأسه، ثم نام وإذا أراد أن يطعم شيئا، وهو جنب فعل ذلك
وفی بذل المجہود: (2 / 137،قدیمی )
 عن غضيف بن الحارث قال قلت لعائشة ارايت رسول الله صلي الله عليه وسلم كان يغتسل من الجنا بةفي اول الليل او في آخره قالت ربما اغتسل فی اول اللیل وربما فی اغتسل آخر ہ .قلت اللہ اکبر الحمد للہ الذی جعل فی الامر سعۃ
وکذافی فتح الباری : ( 1/517 ،قدیمی )
وکذا فی الکتاب المصنف ابن ابی شیبة: (1 /301 ،دار الکتب العلمية )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
14-4-2019،1440-8-8
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:18

ایک آدمی عمر ہ پر جا تا ہے اور وہ اپنی ماں اور بھائی كوثواب پہنچانا چاہتا ہے،تو کیا الگ الگ عمرہ کرے یا ايك ہی میں نیت کرے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دونوں طریقے درست ہے ۔

لمافی تنویر الابصار :(2/607،ایچ ایم سعید )
ومن حج عن) كل من (آمريه وقع عنه وضمن مالهما)… فإن عين أحدهما قبل الطواف والوقوف جاز،لأنه متبرع بالثواب فله جعله لأحدهما أو لهما،بخلاف ما لو أهل بحج عن أبويه أو غيرهما من الأجانب حال كونه (متبرعا فعين بعد ذلك جاز)
وفی البحرالرائق : (3 /111 ،رشیدیہ )
ومن حج عن آمريه ضمن النفقة)….. وقيد بالأمر بهما؛ لأنه لو أحرم عنهما بغير أمرهما فله أن يجعله عن أحدهما؛ لأنه متبرع بجعل ثواب عمله لأحدهماأو لهما فبقي على خياره بعد وقوعه سببا لثوابه
وکذافی غنية الناسك : (328 ،ادارۃالقر آن والعلوم )
وکذا فی المحیط البر ھانی : (3 /576 ،دار احیا ء التراث العربی )
وکذافی الفتاوی التا تا ر خانية: (3 /651 ، فاروقیہ)
وکذا فی البحرالرائق : (3 /105 ،رشید یہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
14-4-2019،1440-8-8
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:19

جب کرائےپر گا ڑی لیں تو اس میں کتنے افرادبٹھا سکتے ہیں؟یہ سوال اس لیے پیدا ہوا کیو نکہ عا م طور پر کار ،پانچ بندوں کی سواری کے لیے ہو تی ہے ،جبکہ کچھ گزاراکر کے چھ بھی بیٹھ سکتے ہیں اور تھوڑ ی سی مشقت کے ساتھ سات بھی سوارہو سکتے ہیں۔جب گا ڑی اپنی ہو اس میں تو آدمی گزاراکر لیتا ہے ،لہذ اکرائے کی گا ڑی کا حکم وا ضح کریں اور یہی صورت حال موٹر سا ئیکل میں بھی پیش آتی ہے جب اسے رینٹ پر لیں ،اس حکم بھی بتادیں ؟یعنی اگر گنجائش سےزیادہ بندے بٹھانے ہو ں تو مالک سے اجازت لینا ضروری ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں ایک گاڑی پر جتنے افراد بیٹھ سکتےہیں ، اس سے زیادہ بٹھا نے کے لیے اجازت ضروری ہے اور بغیر اجازت زیادتی کی صورت میں کو ئی نقصان ہو گیا تو اگر گا ڑی اتنے افراد کی صلا حیت رکھتی تھی تو بقدر زیادتی ضمان لا زم ہو گی ورنہ پوری ضمان لا زم ہوگی۔

لمافی الھندية:(4/490،رشیدیہ)
استأجر دابة ليحمل عليها شعيرا كيلا معلوما فحمل عليها برا مثل كيله فعليه قيمة الدابة إن هلكت ولا أجر عليه في قولهم جميعا…. بخلاف ما لو استأجرها ليحمل عليها عشرة أقفزة من شعير فحمل عليها أحد عشر قفيزا من شعير حيث يضمن جزءا من أحد عشر جزءا من قيمتها إذا كانت الدابة تقوى على حمل ذلك لأن المحمول من جنس المسمى
وفی المحیط البرھانی : (12 /9،10 ،داراحیاءالتراث العربی )
وإذا استأجر من آجر دابة ليحمل عليها عشرة مخاتيم حنطة، فحمل عليها أحد عشر مختوماً، فعطبت الدابة من ذلك بعدما بلغت المكان المشروط، فعليه الأجر كاملاً ويضمن جزءاً من أحد عشر جزءاً من قيمة الدابة، أما عليه الأجر كاملاً؛ لأنه استوفى المعقود عليه وزيادة، ولم يملك شيئاً من المستأجر، فكان عليه الأجر كملاً…..وأما يضمن جزءاً من أحد عشر جزءاً من قيمة الدابة لأن الدابة بلغت بسبب الثقل وثقل العشرة من ذلك مأذون فيه، وثقل الحادي عشر غير مأذون فيه قالوا: تأويل المسألة من وجهين: أحدهما: إذا كانت الدابة تطيق حمل ما زاد، وكانت تسير مع الحمل، أما إذا كانت لا تطيق، يضمن جميع قيمتها على قياس مسألة تأتي بعد هذا.
وکذافی البحر الرائق : ( 8/24 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانية : (15 / 251 ،فا ر وقیہ )
وکذافی شرح المجلة : (2 /658 ،ر شیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی : (5 /3852 ،ر شیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی : (4 / 378 ،الطارق )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
14-4-2019،1440-8-8
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:1

کیا یہ بات درست ہے کہ ابو لہب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولا دت کی خو شی ميں اپنی باندی ثویبہ كو آزاد كيا جس كی وجہ سے ان كے عذاب میں تخفیف ہوگئی۔

الجواب حامداً ومصلیاً

بعض روایات میں ہےکہ ابولہب نے کسی کے خواب میں آکر بتایاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولا دت کی خو شی میں اپنی با ندی ثو یبہ کو آزاد کر نے کی وجہ سےمیرے عذاب میں تخفیف کی گئی ۔

لمافی صحیح البخاری :(2/764،قدیمی )
قال عروة، وثويبة مولاة لأبي لهب: كان أبو لهب أعتقها، فأرضعت النبي صلى الله عليه وسلم، فلما مات أبو لهب أريه بعض أهله بشر حيبة، قال له: ماذا لقيت؟ قال أبو لهب: لم ألق بعدكم غير أني سقيت في هذه بعتاقتي ثويبة
وفی فتح الباری : (9 / 174 ، قدیمی )
قال عروة :وثوبية مولاة لابي لهب وكان ابولهب اعتقها فارضعت النبي صلي عليه وسلم ،فلما مات ابو لهب اريه بعض اهله بشرحيبة ،قال له : ماذا لقيت؟ قال أبو لهب: لم ألق بعدكم غير أني سقيت في هذه بعتاقتي ثويبة ……. وذكر السهيلي أن العباس قال لما مات أبو لهب رأيته في منامي بعد حول في شر حال فقال ما لقيت بعدكم راحة إلا أن العذاب يخفف عني كل يوم اثنين قال وذلك أن النبي صلى الله عليه وسلم ولد يوم الاثنين وكانت ثويبة بشرت أبا لهب بمولده فأعتقها
وکذافی فیض الباری : (5 /508 ،رشیدیہ )
وکذا فی الخصا ئص الکبری : (1 / 366،التو فیقية )
وکذافی عمدۃ القاری : (20 /94،95 ،داراحیاء التراث العربی )
وکذا فی السن الکبری : (7 /263 ،دار الکتب العلمية )
وکذافی مصنف عبدالزاق : (7 / 477،الاسلا می )
وکذا فی دلائل النبوۃ : (1 /149 ،دار الکتب العلمِية )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
9-5-2019،1440-9-3
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:57