نومولود کے کان میں جو اذان دی جاتی ہےاس کے بارے میں تقریرات رافعی میں ہے کہ ”ویلتفت فیھما بالصلاۃ لجھۃالیمین وبالفلاح لجھۃالیسار“(شامیہ:2/66،دارالمعرفہ)جبکہ اعلاءالسنن کے حاشیہ میں حضرت فرماتے ہیں کہ” وما ذکرہ بعض الفقھاء من تحویل الوجہ فی ھذاالأذان یمینا وشمالا لم أجد لہ أصلا،ولا یصح قیاسہ علی التحویل فی الأذان للصلاۃ لأنہ للاعلام ،ولا حاجۃ الی مثل ھذا الاعلام ھھنا،کما لا یخفی“(اعلاءالسنن:17/123،ادارۃالقرآن)۔برائے مہربانی دیگر دلائل کی روشنی میں صحیح بات کی راہنمائی فرمائیں۔

الجواب باسم ملہم الصواب

جیساکہ اقامت کو اذان پر قیاس کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہےکہ جس طرح اذان میں دائیں اور بائیں التفات ہےاسی طرح اقامت میں بھی ہوگا،اسی طرح بچے کے کان میں اذا ن دیتے وقت بھی التفات کیا جائے گاکیونکہ یہ التفات اور کھڑے ہونا اور قبلہ کی طرف منہ کرنا یہ سب اذان کی سنتیں ہیں،جیسا کہ اگر کوئی شخص بیابان میں اکیلا ہو اور وہ اذان کہے تو اس کےلیے بھی یہی حکم ہے کہ اذان کی سنتوں کی رعایت رکھتے ہوئے اذان دے گا ۔اسی طرح بچے کے کان میں اذان دیتے وقت بھی ان سنتوں کی رعایت کی جائے گی سوائے اس کے کہ آواز بہت بلند نہ کی جائے گی اور نہ ہی کانوں میں انگلیاں ڈالی جائیں گی۔

لما فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/185،186،رشیدیہ)
قولہ بصلاۃ وفلاح)لف و نشر مرتب یعنی أنہ یلتفت یمینا بالصلاۃ وشمالا بالفلاح وھوالصحیح(قولہ ولو وحدہ)ولایخل المنفرد بشیئ من سننہ،نحر،وأشار بہ الی ردقول الحلوانی أنہ لا یلتفت لعدم الحاجۃ الیہ،والجواب ما أشار الیہ الشارح بقولہ لأنہ سنۃ الأذان مطلقا(قولہ مطلقا)للمنفرد وغیرہ والمولود وغیرہ
وفی الھندیہ:(1/56،رشیدیہ)
واذا انتھی الی الصلاۃ والفلاح حول وجھہ یمینا وشمالا وقدماہ مکانھما سواء صلی وحدہ أو مع الجماعۃ وھوالصحیح حتی قالوا فی الذی یؤذن للمولود ینبغی أن یحول وجھہ یمنۃ ویسرۃ عند ھاتین الکلمتین ھکذا فی المحیط
وکذ افی تنویرالابصار وشرحہ مع ردالمحتار:(2/66،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(2/66،رشیدیہ)
وکذا فی تقریرات الرافعی علی ردالمحتار:(2/66،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/449،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/88،89،داراحیاءتراث)
وکذا فی البنایہ:(2/99،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
26/7/1440-2019/4/3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:134

اگرکسی شخص کوبیدارہونےکےبعدیہ شک ہوا کہ شاید مجھ پر غسل فرض ہوگیاہےلیکن اس کو کپڑوں پرنجاست کےکچھ اثرات نظر نہیں آئےتواسےکیا کرنا چاہیے؟(2)جب بندےپرغسل فرض ہوتوکیااس حالت میں وہ کھانا کھا سکتا ہے؟یابال وغیرہ کٹواسکتاہے؟کیااس دوران کسی سے گفتگو وغیرہ کرسکتا ہے؟اوراگر غسل نہیں کیا تو کیا صرف وضوکرکےسفرکی نیت سےچلاجائےاورمقام پرجاکر غسل کر لےتواس کےلیے کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

(1)

غسل فرض نہیں ہوا۔

(2)

افضل اور بہترتو یہی ہے کہ غسل کرنے میں تاخیر نہ کی جائےکیونکہ جنبی کے پاس رحمت کے فرشتے نہیں آتے،لیکن اگر کسی وجہ تاخیر ہوجائےتو حالت جنابت میں سفرکرنااورگفتگوکرناجائز ہےالبتہ وضو کرلینا بہترہے،اور کلی کرکےاورہاتھ دھوکر کھاناکھانابھی جائز ہے،لیکن حالت جنابت میں بال کٹوانا مکروہ ہے۔

لما فی الھندیہ:(1/15،رشیدیہ)
ولوتذکرالاحتلام ولذۃ الانزال ولم یربللا لایجب علیہ الغسل، والمراۃ کذالک فی ظاہرالروایۃ لان خروج منیھا الی فرجھاالخارج شرط لوجوب الغسل علیھا، وعلیہ الفتوی، ھکذا فی معراج الدرایۃ
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/292،فاروقیہ)
الیتیمۃ:ولاباس اذا اجنب نھارا ان یخرج فی حوائجہ من غیر ان یغتسل اویتوضا ،…واذا اراد الجنب الاکل فینبغی ان یغسل یدیہ ثم یتمضمض ثم یاکل
کذا فی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(1/333،رشیدیہ)
کذافی ردالمحتار:(1/333،رشیدیہ)
کذافی جامع الترمذی:(1/124،رحمانیہ)
کذافی الھندیہ:(5/358،رشیدیہ)
کذافی التاوی التاتارخانیہ:(1/291،فاروقیہ)
کذافیہ:(18/136،فاروقیہ)
کذافی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(1/356،رشیدیہ)
کذافی المحیط البرھانی:(1/236،داراحیاءتراث)
کذافی المعجم الکبیر للطبرانی:(5/416،دارالکتب العلمیہ)
کذافی کنزالعمال:(9/167،رحمانیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدسلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
8/6/1440،2019/2/14
جلدنمبر:17 فتوی نمبر:148

ہمارا یہ زمانہ مادیت پسندی کا زمانہ ہے ہر شخص مادی چیزوں میں اپنے کو دوسروں پر بڑا جتلانے کی کوشش کرتا ہے،خاص طور پر شادی بیاہ اوردوسری تقریبات کے اندر اس کا مشاہدہ عام ہے۔ایسے حالات میں بہت سارا ”پرائمری کلاس “طبقہ اپنی عزت بچانے اور نام بنانے کےلیے شادی بیاہ کی تقریبات میں دلہا اور دلہن کےلیے فاخرہ جوڑے کرائے پر حاصل کرتا ہے،اسی طرح دلہن کے زیورات جو کہ کبھی سونے کے ہوتے ہیں اور کبھی بناوٹی(آرٹی فیشل)بھی کرائے پر لیتے ہیں،تو کیا یہ زیورات اور کپڑے کرائے پر لینا اور ان کا دینا درست ہے یا نہیں؟شرعی حکم سے مطلع فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔

الجواب باسم ملہم الصواب

یہ چیزیں کرائے پر لینا دینا جائز ہے،لیکن تکبر،دکھلاوا،دھوکہ اور فضول خرچی کےلیے ان کا استعمال جائز نہیں۔

لما فی الفقہ الاسلامی:(5/3838،رشیدیہ)
أحکام إجارۃ المنافع: إجارۃ المنافع کإجارۃالدور والمنازل والحوانیت والضیاع،والدواب للرکوب والحمل،والثیاب والحلی للبس،والأوانی والظروف للإستعمال،ویجوز العقد علی المنافع المباحۃ.
وفی المحیط البرھانی:(11/392،داراحیاءتراث)
“إذا إستاجرالرجل ثوبا لیلبسہ الی اللیل بأجر معلوم،فھو جائز.”
وکذا فی ردالمحتار:(9/589،580،رشیدیہ) وکذا فی البحرالرائق:(7/522،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(11/504،داراحیاءتراث) وکذا فی بدائع الصنائع:(4/16،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ التاتارخانیہ:(18/112،فاروقیہ) وکذا فی التاتارخانیہ:(18/122،فاروقیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(4/177،رشیدیہ) وکذا فی الفقہ الحنفی:(5/354،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
26/7/1440-2019/4/3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:143

ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے اور عملاً اس کا رواج بھی ہے کہ شادی بیاہ اور تقریبات وغیرہ سے پہلے صدقہ کے طور پر جانور خصوصا بکرا یا مرغی وغیرہ ذبح کر کے صدقہ کیا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ بکرا وغیرہ دینا ہی ضروری ہے یا کسی مستحق کو اس کے پیسے یا ضرورت کا سامان بھی دے سکتے ہیں؟

الجواب باسم ملہم الصواب

ضرورت کا سامان یا پیسے دینا زیادہ بہتر ہے تاکہ مستحق اپنی مختلف ضروریات کو بآسانی پورا کر سکے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/2044،رشیدیہ)
دفع القیمۃ عندھم:یجوز عندالحنفیۃ أن یعطی عن جمیع ذالک القیمۃ دراھم أو دنانیرأو فلوسا أو عروضا أو ما شاء،لان الواجب فی الحقیقۃ اغناء الفقیر،لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم:{اغنوھم عن المسا لۃ فی مثل ھذ االیوم}،والاغناء یحصل بالقیمۃ،بل أتم ووأفر وأیسر،لانھا أقرب الی دفع الحاجۃ،فتبین ان النص معلل بالاغناء
وفی الھندیہ:(1/191،192،رشیدیہ)
ثم الدقیق أولی من البر والدراھم أولی من الدقیق لدفع الحاجۃ وما سواہ من الحبوب لا یجوز الا بالقیمۃ،وذکر فی الفتاوی:ان أداء القیمۃ أفضل من عین المنصوص علیہ،وعلیہ الفتوی،کذا فی الجوھرۃ النیرۃ
وکذا فی تنویر الابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(3/376،رشیدیہ) وکذا فی ردالمحتار:(3/376،رشیدیہ)
وکذا فی ملتقی الابحر علی مجمع الانھر:(1/338،339،المنار) وکذا فی کتاب الفقہ:(1/531،الحقانیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/437،رشیدیہ) وکذا فی بدائع الصنائع:(2/205،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/339،المنار) وکذا فی التاتارخانیہ:(3/455،فاروقیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدسلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17/7/1440-2019/3/25
جلدنمبر:18 فتوی نمبر:122

ایک آدمی نے استنجاء کرنا تھا لیکن اس کو وضو کے وقت یاد نہ رہا جب اس نے وضوء کر لیا بعد میں یاد آیا ،تو اب وہ استنجاء کرنے کے بعد دوبارہ وضو کرے گا یا وہی وضوکافی ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

عموماً ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص کہیں بیابان میں یا کھیتوں میں بول و براز کرلیتا ہے اور صرف ڈھیلے سے استنجاء کر لیتا ہے ،پھر بعد میں جب پانی مہیا ہوتا ہےتو پانی سے بھی استنجاء کر لیتا ہے ،اس طرح پانی سے استنجاء کرنے سے پہلے اگر نماز کے لیے وضوکر لیا اور پھر پانی سے صرف استنجاء کر لیا تو اس سے وضو ختم نہ ہو گا ،یہ ایسے ہے گویا اس نے اپنے جسم پر لگی گندگی کو دور کیا ہے ،ہاں اگر وضوکے بعد بول و براز کر کے استنجاء کیا تو وضو ختم ہو جائے گا ۔

لما فی الدر المختار علی رد المحتار :(1/615،رشیدیہ)
استنجی المتوضی ،ان علی وجہ السنۃ بان ارخی انتقض ،والا فلا
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/437،رشیدیہ)
ینقض الوضوء اثنا عشر شیئا:ما خرج من السبیلین الا ریح القبل فی الاصح ،وولادۃ من غیر رؤیۃ دم،ونجاسۃ سائلۃ من غیر السبیلین کدم وقیح وقیئ طعام او ماء او علق (دم متجمد من المعدۃ )،او مرۃ (صفراء )اذا ملأ الفم،……وینقضہ دم غلب علی البزاق او ساواہ، ونوم مضطجعا،او متکئا او مستندا الی شیئ لو ازیل لسقط
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/50،72،الحقانیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/215،240،فاروقیہ)
وکذا فی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(1/307،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار :(1/308،615،رشیدیہ)
وکذا فی احسن الفتاوی:(2/108،ایچ ایم سعید)
وکذا فیہ:(10/192،ایچ ایم سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
2019/2/19
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:151

کھڑے ہو کر کنگھی کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ایک واقعہ نقل فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ دوران اعتکاف حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی شریف کی ایک کھڑکی یا سوراخ سے اپنا سر مبارک میرے حجرے کی طرف نکالا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی کنگھی کی۔

کھڑکی وغیرہ سے سر نکالنا بظاہر کھڑے ہو کر ہی ہو سکتا ہے،لہذا اس واقعہ سے بطور اشارۃ النص معلوم ہوتا ہے کہ کھڑے ہو کر کنگھی کرنا بھی ثابت ہے۔واللہ اعلم وعلمہ اتم

لما فی الصحیح لمسلم:(1/176،رحمانیہ)
عن عائشۃ قالت کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا اعتکف یدنی الی راسہ فارجلہ وکان لا یدخل البیت الا لحاجۃ الانسان.
وفی سنن ابی داؤد:(1/356،رحمانیہ)
عن عائشۃ قالت کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یکون معتکفا فی المسجد فیناولنی راسہ من خلل الحجرۃ فاغسل راسہ،وقال مسدد:فارجلہ وانا حائض
وکذا فی شمائل الترمذی علی جامع الترمذی:(2/723،رحمانیہ)
وکذا فی فتح الباری:(10/449،قدیمی)
وکذا فی مخلصیات:(3/358،وزارۃالاوقاف والشؤون الاسلامیہ،شاملہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
13/7/1440-2019/3/21
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:55

میری والدہ صاحبہ بوڑھی ہیں ،انہیں سردی بہت زیادہ لگتی ہے،رضائی سے باہر نکلتے ہی کپکپی شروع ہو جاتی ہے ،صبح اور رات کے وقت اگر گرم پانی سے بھی وضوکریں تو بائیں بازو اور گردن میں شدید درد شروع ہو جاتا ہے جو بہت دیر تک رہتا ہے اور یہ درد انہیں پہلے بھی ہوتا ہے لیکن سردیوں میں بڑھ جاتا ہے،دھوپ کے وقت اگر گرم پانی سے وضو کریں تو تو درد زراکم ہوتا ہے ۔تو کیا صبح اور رات کے وقت وہ تیمم کرسکتی ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی! صبح اور رات کو تیمم کر سکتی ہیں۔

لما فی المحیط البرھانی:(1/312،داراحیاءتراث)
ویجوز التیمم للمریض اذا خاف زیادۃ المرض باستعمال الماء
وفی الھندیہ:(1/28،رشیدیہ)
ولو کان یجد الماء الا انہ مریض یخاف ان استعمل الماء اشتد مرضہ او ﺃبطا برؤہ یتیمم لافرق بین ان یشتد بالتحرک کالمشتکی من العرق المدنی والمبطون او بالاستعمال کالجدری ونحوہ
وکذا فی القرآن المجید:(المائدہ:6)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(1/573،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/158،الطارق)
وکذا فی الھدایہ:(1/52،رشییدیہ)
وکذا فی کنزالدقائق وحاشیتہ:(9،حقانیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/245،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/378،فاروقیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/134،الحقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440،2019/3/5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:50

قبلہ کی طرف پاؤں کرنا یا تھوکنا کیسا ہے؟نیز قبلہ کی طرف پاؤں کر کے سونا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کعبہ کی بے ادبی و بے حرمتی سخت گناہ ہے اور بے ادبی و بے حرمتی کا تعلق عرف سے ہوتا ہے،تو جس عرف میں کعبہ کی طرف ٹانگیں پھیلانا بے حرمتی سمجھا جاتا ہے وہاں کعبہ کی طرف ٹانگیں کرنا گناہ اور مکروہ تحریمی ہو گا اور جہاں بے حرمتی نہیں سمجھا جاتا وہاں گناہ بھی نہیں ہو گا۔اور تھوکنے سے متعلق یہ حکم ہے کہ نماز اور دعا کی حالت میں مکروہ تحریمی ہے اس کے علاوہ خلاف ادب ہے۔

لما فی الصحیح لمسلم:(1/249،رحمانیہ)
عن ابی سعید الخدری ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم رای نخامۃ فی قبلۃ المسجد فحکھا بحصاۃ ثم نھی ان یبزق الرجل عن یمینہ او امامہ ولکن یبزق عن یسارہ او تحت قدمہ الیسری
وفی الفقہ الاسلامی :(2/959،967،رشیدیہ)
یکرہ فی الصلاۃ ما یاتی:………….16-البصاق او التنخم فی غیر المسجد امامہ او عن یمینہ،لحدیث الشیخین واحمد:[اذاکان احدکم فی الصلاۃ،فانمایناجی ربہ،فلایبزقن بین یدیہ،ولا عن یمینہ].زادالبخاری:[فان عن یمینہ ملکا،ولکن عن یسارہ او تحت قدمہ].ویکرہ البصاق ایضا وھو فی غیر الصلاۃ عن یمینہ وامامہ اذا کان متوجھا الی القبلۃ،اکراما لھا
و فی الھندیہ:(5/322،رشیدیہ)
وضع المصحف تحت راسہ فی السفر للحفظ لا باس بہ وبغیر الحفظ یکرہ،کذا فی خزانۃ الفتاوی
وفی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/276،رشیدیہ)
قولہ مد رجلیہ)او رجل واحدۃومثل البالغ الصبی فی الحکم المذکور(قولہ ای عمدا)ای ومن غیر عذراما بالعذر او السھو فلا
وکذافی تنویر الابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(2/215،216،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(2/516،رشیدیہ)
وکذا فیہ:(1/608،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ کنز الدقائق:(34،قدیمی)
وکذا فی النھر الفائق:(1/287،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(2/59،رشیدیہ)
وکذا فی سنن ابی داؤد:(2/179،رحمانیہ)
وکذا فی فیض الباری:(2/48،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440-2019/3/5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:49

ہمارے ہاں امام صاحب نے عشاء کی نماز میں” { وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا}“کی جگہ ” { وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ کفرُوا}“پڑھ دیا تو اس نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس سے نماز فاسد ہو گئی ہے،دوبارہ پڑھی جائے۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2 /96،97،فاروقیہ)
وفی الظھیریۃ:ومن قرأ فی صلاتہ مکان قولہ”اولئک اصحاب الجنۃ “”اولئک اصحاب النار“او قرأ”ان الکافرین فی جنات النعیم“”مکان المتقین“او قرأ”الاان حزب اللہ ھم الکافرون“مکان”المفلحون“تفسد صلاتہ عند ابی حنیفۃومحمد رحمھمااللہ ……وفی الغیاثیۃ:ومن العلماءمن یوجب الفسادلقبح المعنی
وفی الفتاوی قاضی خان علی الھندیہ:(1/149،رشیدیہ)
وکذا لو قرا ”واذکر فی الکتاب ادریس “اذکر فی الکتاب ابلیس تفسد صلاتہ.وکذا لو قرﺃ ”انی اخاف ان یمسک عذاب من الرحمن “عذاب من الشیطان تفسد صلاتہ.”ومن یؤمن باللہ ویعمل صالحا یدخلہ جنات“قرا ومن یکفر باللہ تفسد صلاتہ.
وکذافی الھندیہ: (1/80،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(2/1038،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/67،داراحیاءتراث)
وکذا فی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(2/478،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(2/473،474،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/268،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440-2019/3/5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:48

اگرمقیم نے مسافر امام کی اقتداءظہر یا عصر یا عشاء کی نماز کے آخری قعدہ میں کی یا صرف ایک رکعت رہ گئی تو باقی نما زکیسے پڑھے گا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مذکورہ میں آخری قعدہ میں ملنے والا کھڑےہونے کے بعد عام طریقے کے مطابق اپنی نماز مکمل کرے گا ۔اگر صرف ایک رکعت رہ جائے توکھڑے ہونے کے بعدپہلی رکعت میں قرات کرے گا پھر قعدہ میں بیٹھ کر تشہد پڑھے گا بقیہ دو میں خاموش رہے گا ،قرات نہیں کرے گا ۔اگر مغرب کی صرف ایک رکعت پالی تو کھڑے ہونے کے بعد دونوں رکعتوں میں قرات کرے گا اور دونوں رکعتوں کے درمیان قعدہ کرے گا اورتشہد پڑھے گا ۔

لما فی المحیط البرھانی:(2 /407،داراحیاءتراث )
ثم اذا اقتدی المقیم بالمسافر وسلم المسافر،یقیم المقیم ویتم الصلاۃ ،کما فعل اھل مکۃ،وھل یقراالمقیم فی ھاتین الرکعتین ؟ فیہ اختلاف المشایخ رحمھم اللہ تعالی،والاصح انہ لا یقرا ،والیہ مال الشیخ الامام ابوالحسن الکرخی رحمہ اللہ تعالی،لانہ لا حق ادرک اول الصلاۃ وقد ادرک فرض القراءۃ
وفی بدائع الصنائع: (2/277 ،رشیدیہ )
ثم اذا سلم الامام علی راس الرکعتین لایسلم المقیم لانہ قد بقی علیہ شطر الصلاۃ فلو سلم لفسدت صلاتہ ولکنہ یقوم ویتمھا اربعا لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم اتموا یا اھل مکۃفانا قوم سفر
وکذافی الفتاوی الولوالجیہ:(1/136،الحرمین شریفین) وکذا فی الخانیہ:(1/169،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/664الی666،رشیدیہ) وکذا فی سنن ابی داؤد:(1/181،رحمانیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/198و516،فاروقیہ) وکذا فی ردالمحتار:(2/417،رشیدیہ)
وکذا فی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(2/735،رشیدیہ) وکذافی الھندیہ:(1/142 ،رشیدیہ )
وکذا فی ھامش کتاب الفقہ:(1/406،الحقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3-4-2019،1440-7-26
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:142