کسی اسلامی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا کیسا ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

جو بینک مستند علماءکرام کے زیر نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق کام کر تےہیں(مثلا ًمیزان بینک ،البرکۃ بینک وغیرہ )ان میں اکاؤنٹ کھلوانا جائز ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی:(5/3758،رشیدیہ)
بینما المصارف الاسلامیۃ لاغموض فیھا ،وکل اعمالھا واضحۃ،ویھمھا توفیر ثقۃ المتعاملین مع ادارۃ المصرف،ولا تعتمد علی الاقراض بالفائدۃ،وتلتزم بعقدالمشارکۃ(شرکۃ العنان فی الفقہ الاسلامی)مع العمیل او صاحب راس المال،فیساھم الشریک والمصرف فی راس المال والادارۃ،ویقسم الربح بنسبۃ یتفقان علیھا بالتراضی مقدما،اما الخسارۃ فتکون بنسبۃ راس المال،الا اذا کانت الخسارۃ بسبب التعدی او التقصیر
وفی بحوث فی قضایا فقھیہ معاصرہ:(2/162،163،معارف القرآن)
اما حسابات الاستثمارفی البنوک الاسلامیۃ،لیست قروضا،وانما ھی اموال قدمھا اصحابھا علی اساس الشرکۃ او المضاربۃ،…..وانما یقدمونھا لعقودالشرکۃ اوالمضاربۃ،…..وانما یربحون فیھا او یخسرون بطبعیۃ الشرکۃ او المضاربۃ
وفی تکملہ فتح الملہم :(1/575،576،دارالعلوم کراتشی)
والانصاف ان ینظرالدائن فی دینہ :ھل یقرض ذالک اعانۃ للمستقرض؟او یرید ان یشارکہ فی ارباحہ؟فان کان المقصود ھو الاول،فلا حق لہ الا فی راس المال، وان کان المقصود ھو الثانی،فالانصاف ان یشارکہ فی اخطار التجارۃ ایضا،ولا یطالبہ بالربح الااذا ربحت تجارتہ،وانما یمکن ذالک فی المضاربۃ،……واما نظام البنوک فیمکن ان یجری الیوم علی اساس الشرکۃ او المضاربۃ بدل الربا،وقد وضعت لجنۃ من علماء الشریعۃ وعلماء الاقتصاد فی باکستان مخططا لھذا الغرض

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
22/9/1440-2019/5/28
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:79

بندہ آپ سے قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ سوال پوچھنا چاہتا ہے کہ میری ایک ہمشیرہ ہے جو کہ اوکاڑہ سٹی میں رہائش پذیر ہے ان کے شوہر 7دسمبر 2018بروز جمعۃالمبارک کو خالق حقیقی سے جا ملے ہیں اب ان کے بعد ان کی بیوی بیوہ ہے اور ان کے 3 یتیم بچے ہیں ،ان میں سب سے بڑا بیٹا ہے جس کا نام حماد ہے اس کی عمر 12 سال ہے اور اس کے بعد چھوٹی بیٹی ہے جس کا نام ہادیہ ہے اس کی عمر 10سال ہے اور اس کے بعد سب سے چھوٹی بیٹی ہے جس کا نام حرا ہے اس کی عمر 6سال ہے،ذرائع آمدن ان کے کوئی بھی نہیں ہیں خدا کے سہارے کے علاوہ حالات حاضرہ کے مطابق کوئی بھی سہارا نہیں ہے،اب ان بچوں کے دادا ابو اپنی وراثتی جگہ ایک مکان جو کہ رانا نرسری ایم جناح روڈ اوکاڑہ میں واقع ہے اور ایک دکان جو کہ دہلی سویٹس بیکرز کی آؤٹ سائیڈ میں واقع ہےتو یہ دونوں چیزیں داداابو بغیر کسی کو محروم کرتے ہوئے ان تین یتیم بچوں کے نام رجسٹری کروانا چاہتے ہیں ،اس رجسٹری کے 101000 اخراجات ہیں جو کہ بچوں کے دادا ابو اور ان بچوں کی والدہ ادا کرنے سے قاصر ہیں ،آیا ان اخراجات کو زکاۃ کی مد میں ادا کیا جا سکتا ہےیا نہیں؟اگر اد اکیا جا سکتا ہے تو راہنمائی فرمائی جائے۔اگر ادا نہیں کیا جاسکتا تو یہ 101000رقم بچوں کی والدہ کے سپرد کر دی جائے جو کہ مستحقہ ہیں وہ اپنی مرضی سے اس کام پر خرچ کر سکتی ہیں ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مذکورہ میں تینوں بچے اور ان کی والدہ چونکہ زکوۃ کے مستحق ہیں ،اس لیے اس مذکورہ رقم کا ان سب کو مالک بنا کر انہی کے فائدے کے لیے اس مذکورہ کام میں خرچ کیا جا سکتا ہے ۔اور ان کو مالک بنانے کا طریقہ یہ ہو کہ چھوٹے دو بچوں کی طرف سے دادا ابو قبضہ کر لیں اور بڑا بچہ اور والدہ اپنے لیے خود قبضہ کر لیں ،پھر ساری رقم جمع کر کے مذکورہ کا م میں لگا دی جائے۔

لما فی الھندیہ:(1/187،رشیدیہ)
منھاالفقیر)وھو من لہ ادنی شیئ وھو ما دون النصاب او قدر نصاب غیرنام وھو مستغرق فی الحاجۃفلا یخرجہ عن الفقر ملک نصب کثیرۃ غیر نامیۃ اذا کانت مستغرقۃ بالحاجۃ
وفی مجمع الانھر:(1/328،المنار)
ولا یصرف الی مجنون،وصبی غیر مراھق الا اذا قبض لھما من یجوز لہ قبضہ کالاب والوصی،ویصرف الی مراھق یعقل الاخذ کما فی المحیط
وکذا فی الھندیہ:(1/190،رشیدیہ)
وکذا فی القرآن المجید:(سورۃالتوبہ:59)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/526،الحقانیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(3/204،341،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاوی:(1/242،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/371،الطارق)
وکذا فی التاتارخانیہ:(3/211،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:102

زنا کی وجہ سے جو بچہ پیدا ہو اس کا خرچہ کس کے ذمہ ہے اور کیا وہ زانی یا مزنیہ یا مزنیہ کے شوہر کا وارث ہو گا یا نہیں؟شرعی حکم واضح فرما دیں۔

الجواب باسم ملہم الصواب

ولدالزنا کا خرچہ ماں کے ذمے ہو گا ،اور ماں کا ہی وارث ہوگا۔

لما فی جامع الترمذی :(2/476،رحمانیہ)
عن عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:ایما رجل عاھر بحرۃاو امۃ فالولد ولد زنا لا یرث ولا یورث ……والعمل علی ھذا عند اھل العلم ان ولد الزنا لا یرث من ابیہ
وفی البحرالرائق:(9/391،رشیدیہ)
ویرث ولدالزنا واللعان من جھۃ الام فقط)لان نسبہ من جھۃالاب منقطع ولایرث بہ،ومن جھۃالام ثابت فیرث بہ امہ واختہ من الام
وکذا فی التاتارخانیہ:(5/428،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/353،داراحیاءتراث)
وکذا فی الدرالمختار علی ردالمحتار:(5/167،رشیدیہ)
وکذا فی سنن ابی داؤد:(2/55،رحمانیہ)
وکذا فی ھامش الترمذی:(2/476،رحمانیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(10/554،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(23/364،داراحیاءتراث)
وکذا فی بدائع الصنائع:(3/449،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:132

ایک آدمی کسی دکاندار سے کوئی سامان خریدنے جاتا ہے جو اس کے پاس موجود نہیں ہوتا ،یہ اس کو ایک اور دکاندار کے پاس بھیجتا ہے کہ وہ چیز فلاں دکاندار کے پاس ہے۔اور پہلا دکاندار دوسرے سے اس بات کا کمیشن طے کرتا ہے کہ میں آپ کے پاس گاہک بھیجا کروں گا،تو کیا اس کا یہ کمیشن لینا درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صرف گاہک کی راہنمائی کرنے کی وجہ سے کمیشن کا مستحق نہ ہو گا،جب تک کہ کوئی عملی اقدام نہ کرے،مثلا اس گاہک کو دکان تک لے جائے۔

لمافی المحیط البرھانی:(11/352،داراحیاءتراث)
وفی نوادر ابن سماعۃ:عن ابی یوسف رحمہ اللہ: رجل ضل شیئا، فقال:من دلنی علیہ فلہ درھم،فدلہ انسان فلاشیئ لہ،لان الدلالۃوالاشارۃلیست بعمل یستحق بہ الاجر، ولوقال لانسان بعینہ :ان دللتنی علیہ فلک درھم،فان دلہ من غیر مشی معہ،فکذالک الجواب لایستحق بہ الاجر،وان مشی معہ ودلہ فلہ اجر مثلہ،لان ھذا عمل یقابل بالاجرعرفاوعادۃ،الاانہ غیرمقدر،ففسدالعقد،ووجب بہ اجرالمثل
وفی الفقہ الحنفی:(4/410،الطارق)
“فللاجیر المشترک ان یتقبل العمل من اشخاص،لان المعقودعلیہ فی حقہ ھوالعمل او اثرہ.
وکذا فی التاتارخانیہ:(15/138،فاروقیہ)
وکذا فی تنویرالابصارعلی ردالمحتار:(9/107،108،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(5/3847،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(4/35،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(4/500،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(8/47،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/8/1440-2019/4/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:34

ہمارے مدرسہ کی ٹینکی سے مردہ چوہا نکلا ہے جو پھولا پوا تھا چوہانکال کر ٹینکی پاک کردی گئی ،مسئلہ تو یہ مشہور ہے کہ ایسی صورت میں 3دن رات کی نمازیں لوٹائی جائیں اورجن چیزوں کو ٹینکی کا پانی لگا ہے وہ پاک کر دی جائیں،لیکن مشکل یہ ہے کہ اس دوران مدرسہ کا پروگرام تھا جس میں مختلف علاقوں سے بہت سارے لوگ آئے ہوئے تھے،ان سب کو اطلاع کرنا ممکن نہیں ہےاورمدرسہ کے تمام برتنوں اورکپڑوں کو پاک کرنا یقیناًمشقت میں ڈالے گا،تو اس کا کوئی اور حل ہے؟ جن لوگوں کے کپڑوں پر وضو،غسل یا استنجاء کی وجہ سے یہ پانی لگا تھا پھر انہوں نے پاک پانی سے وضو وغیرہ کر کے انہی کپڑوں میں نماز پڑھی تو ان کی نمازوں کا کیا حکم ہے؟جبکہ ان کے کپڑوں پر تویہ ناپاک پانی لگا ہوا تھا۔

الجواب باسم ملہم الصواب

نمازوں میں احتیاط اس میں ہے کہ امام صاحب رحمہ اللہ کے قول پر عمل کرتے ہوئے 3دن رات کی نمازیں لوٹائی جائیں،اور باقی چیزوں کے بارے صاحبین رحمہم اللہ کے قول پر عمل کرتے ہوئے علم ہونے کے وقت سے نجاست کا حکم لگایا جائے گا ،اور جن لوگوں کو اطلاع کرنا ممکن نہیں ہے ان کی نماز ہو جائے گی۔

لما فی تنویرالابصار وشرحہ:(1/420،رشیدیہ)
ومذ ثلاثۃ ایام )بلیالیھا(ان انتفخ او تفسخ )استحسانا.وقالا:من وقت العلم فلایلزمھم شیئ قبلہ ، قیل: وبہ یفتی.
وفی ردالمحتارلابن عابدین رحمہ اللہ :(1/419،420،رشیدیہ)
اشار”فی الدرر“الی ان ما قالہ الزیلعی ملفق من قول الامام وقولھما حیث قال بعد نقلہ کلام الزیلعی:یؤیدہ ما قال فی”معراج الدرایۃ“ ان الصباغی کان یفتی بھذا انتھی:ای بھذا التفصیل ، قال فی البحر:کان الصباغی یفتی بقول ابی حنیفۃ فیما یتعلق بالصلاۃ وبقولھما فیما سواہ ، کذا فی”معراج الدرایۃ“………وصرح فی البدائع بان قولھما قیاس ،وقولہ استحسان ،وھو الاحوط فی العبادات
وکذا فی البحر الرائق:(1/220،رشیدیہ) وکذا فی مجمع الانھر:(1/54،المنار)
وکذا فی اللباب:(1/50،قدیمی) وکذا فی الھندیہ:(1/20،رشیدیہ)
وکذا فی الدرالمنتقی علی مجمع الانھر:(1/53،المنار) وکذا فی الھدایہ:(1/47،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
17/9/1440-2019/5/23
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:70

ساڑھےگیارہ کنال زمین ہے،ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں ،اور والد صاحب نے دوسری شادی کی ہےجس میں سے 4بیٹے اور 1 بیٹی ہے،والد صاحب نے ہم دو بھائی اور دو بہنوں کو ایک کنال زمین دی ہے تو اب یہ ایک کنال ہم دو بھائیوں اور دو بہنوں میں کس طرح تقسیم ہو گی ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بہتر تو یہ ہے کہ یہ ایک کنال آپ چاروں بہن بھائیوں میں برابر تقسیم ہو اورہر ایک کو 5 مرلے ملیں۔اور اگر حالات کے تقاضے کے مطابق ہر بھائی کو دو حصے اور ہر بہن کو ایک حصہ دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے اس طرح ایک کنال زمین کے کل 6 حصے کر کےہر بھائی کو 2 حصے(٪33.33)یعنی 6.6مرلےاور ہر بہن کو 1 حصہ(٪16.66)یعنی 3.3مرلےدیے جائیں۔

 

لما فی الصحیح لمسلم:(2/46،47،رحمانیہ)
عن النعمان بن بشیر انہ قال:ان اباہ اتی بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال:انی نحلت ابنی ھذا غلاما کان لی،فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :أکل ولدک نحلتہ مثل ھذا؟فقال:لا،فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:فارجعہ
وقال النو وی فی شرح الصحیح لمسلم:(2/46،رحمانیہ)
اما قولہ نحلت فمعناہ وھبت،وفی ھذا الحدیث انہ ینبغی ان یسوی بین اولادہ فی الھبۃویھب لکل واحد منھم مثل الآخر ولا یفضل ویسوی بین الذکر والانثی،وقال بعض اصحابنا یکون للذکر مثل حظ الانثیین،والصحیح المشھور انہ یسوی بینھما لظاھر الحدیث،فلو فضل بعضھم او وھب بعضھم دون بعض فمذھب الشافعی ومالک وابی حنیفۃ انہ مکروہ لیس بحرام والھبۃ صحیحۃ
وکذا فی تکملہ فتح الملہم:(2/68،دارالعلوم کراتشی)
وکذا فی شرح معانی الآثار:(2/227،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/7/1440-2019/3/21
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:40

کعب احبار کا تعارف کیا ہے؟کیا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسلمان ہو گئے تھے ؟کیا وہ منافقین کے ساتھ خفیہ طور پر شامل رہتے تھے؟کیا اسرائیلی روایات کے یہی ذمہ دار ہیں؟ایک صاحب (جو کہ صاحب علم مانے جاتے ہیں) نے یہ سب باتیں کی ہیں،براہ کرم ان سوالات اور ان جیسے دیگر سوالات کا تسلی بخش جواب مرحمت فرما دیں

الجواب باسم ملہم الصواب

شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مد ظلہ العالی اپنی کتاب ”علوم القرآن“میں ”کعب احبار“کا تعارف اس طرح تحریر فرماتے ہیں:
”کعب الاحبار کا پورا نام کعب بن ماتع حمیری ہے،اور وہ کعب الاحبار یا کعب الحبر کے لقب سے مشہور ہیں،یہ یمن کے باشندے تھے،اور انہیں علمائے یہود میں ایک ممتاز مقام حاصل تھا،انہوں نے جاہلیت اور اسلام دونوں کا زمانہ پایا ہے،لیکن سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں مشرف باسلام نہ ہوسکے،12ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے دوران یہ مدینہ طیبہ آئے اور مسلمان ہوگئے،طبقات ابن سعد میں روایت ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ ”تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیوں اسلام نہیں لائے؟اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے باپ نے مجھے تورات کا ایک نسخہ لکھ کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اس پر عمل کرتے رہو ،اور تورات کے علاوہ جتنی کتابیں تھیں انہیں بند کر کے اس پر مہریں لگا دی تھیں،تاکہ میں ان کا مطالعہ نہ کروں،اور ساتھ ہی مجھ سے اپننے رشتہ ابوّت کا واسطہ دے کر یہ عہد لیا تھا کہ میں یہ مہریں نہ توڑوں،لیکن جب دین اسلام دنیا میں غالب ہونے لگا تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہونے لگا کہ کہیں میرے باپ نے مجھ سے کوئی علم چھپانے کی کوشش نہ کی ہو،چنانچہ میں نے ان کتابوں کی مہر توڑ دی اور ان کا مطالعہ کیا ،تو اس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کا تذکرہ مجھے ملا ،اس لیے میں اب مسلمان ہو کر آیا ہوں۔“
کعب الاحبار رحمہ اللہ کو عام طور سے ثقہ قرار دیا گیا ہے،لیکن علامہ کوثری رحمۃ اللہ علیہ نے بعض روایات کی بناءپر ان کے بارے میں کچھ شکوک و شبہات کا بھی اظہار کیا ہے،مثلا یہ واقعہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد اقصی تعمیر کرنے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں سے مشورہ کیا کہ”مسجد کو صخرہ بیت المقدس کے آگے تعمیر کیا جائے یا پیچھے؟اس پر کعب الاحبار رحمہ اللہ نے مشورہ دیا کہ مسجد صخرہ کے پیچھے بنائی جائے،یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :یہودی عورت کے بیٹے !تم پر یہودیت کا ابھی تک اثرہے، میں تو مسجد کو صخرہ کے آگے بناؤں گا،تاکہ نماز میں صخرہ کا استقبال نہ کیا جائے ۔“علامہ زاہد کوثری رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد کعب احبار کے ذہن میں حضرت عمر رضی اللہ کے بارے میں کچھ رنجش رہی،یہاں تک کہ ان کا میل جول ایسے لوگوں کے ساتھ بھی دیکھا گیا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کی سازش میں ملوث تھے،اور اس سے پہلے وہ اہل کتاب کی بعض کتابوں کے حوالے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ تنبیہ کر چکے تھے کہ آپ کو کسی وقت قتل کیا جائے گا،ان تمام واقعات کو نقل کرنے بعد علامہ کوثری لکھتے ہیں:
”ان بکھرے ہوئے واقعات کو ملانے سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ،حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ،حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کعب الاحبار پر پورابھروسہ نہیں کرتے تھے۔“
علامہ کوثری رحمہ اللہ نے کعب الاحبار پر جن شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے،اور مختلف صحابہ کرام کے اقوال کے جو نتائج نکالے ہیں ان سے اختلاف کی گنجائش ہے،(مصر کے محقق عالم ڈاکٹر رمزی نعناعہ نے ان شکوک وشبہات کی مفصل ومدلل تردید کی ہے)لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ ان کی بیشتر روایات اسرائیلی روایات ہیں،لہذا جب تک ان کی تصدیق خارجی دلائل سے نہ ہو جائے اس وقت تک ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ (علوم القرآن:348،349،دارالعلوم کراچی)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:131

وزٹ ویزے پر حج و عمرہ کرنا درست ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملہم الصواب

اگر حکومت سعودیہ کی طرف سے اجازت ہو تو ٹھیک ہے ورنہ قانون کی پاسداری نہ کرنے کا گناہ ہو گا۔

لما فی القرآن المجید:(سورۃ النساء:59)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: 59]
وفی تفسیر المظہری:(2/143،رشیدیہ)
مسالۃ:وھذاالحکم وجوب اطاعۃ الامیر مختص بما لم یخالف امرہ الشرع یدل علیہ سیاق الآیۃ فان اللہ تعالی امر الناس بطاعۃ اولی الامر بعد ما امرھم بالعدل فی الحکم تنبیھا علی ان طاعتھم واجبۃ ما داموا علی العدل ونص علی ذالک فیما بعد: { فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ}الآیہ[النساء: 59].
وفی الصحیح للبخاری:(2/602،رحمانیہ)
عن عبد اللہ بن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:السمع والطاعۃ علی المرءالمسلم فیما احب وکرہ ما لم یؤمر بمعصیۃ فاذا امر بمعصیۃ فلاسمع ولا طاعۃ.”
وکذا فی الصحیح لمسلم :(2/133،رحمانیہ)
وکذا فی ھامش علی الصحیح لمسلم :(2/133،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
13/7/1440-2019/3/21
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:39

کف والی قمیص پہننا امام کےلیے درست ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملہم الصواب

اجازت ہے مگرعادت نہ بنائی جائے۔

لما فی سنن ابی داؤد:(2/206،رحمانیہ)
قال عبداللہ ابوعمر مولی أسماء بنت أبی بکر قال رأیت ابن عمر فی السوق اشتری ثوبا شامیا فرأی فیہ خیطا أحمر فردہ فأتیت أسماء فذکرت ذالک لھا فقالت یا جاریۃ ناولینی جبۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأخرجت لہ جبۃ طیالسۃ مکفوفۃ الجیب والکمین والفرجین بالدیباج
وفی الصحیح للبخاری:(2/385،رحمانیہ)
عن المغیرۃبن شعبۃ قال انطلق النبی صلی اللہ علیہ وسلم لحاجتہ ثم أقبل فتلقیتہ بماء فتوضأوعلیہ جبۃ شامیۃ فمضمض واستنشق وغسل وجھہ فذھب یخرج یدیہ من کمیہ فکانا ضیقین فأخرج یدیہ من تحت بدنہ فغسلھما ومسح برأسہ وعلی خفیہ
وکذا فی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(9/586،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(9/586،رشیدیہ)
وکذا فی عون المعبود:(11/64،قدیمی)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(4/179،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(18/117،118،فاروقیہ)
وکذا فی تکملہ فتح الملہم:(4/87،دارالعلوم کراتشی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:147

ہمارے علاقے میں زمین برابر کرنے کےلیے ٹریکٹر کرائے پر لیتے ہیں کہ فی گھنٹہ 1200روپے،اب اگر کام کے دوران ڈرائیور کا فون آجائے دو تین منٹ وہ فون سن لے یا دو تین دفعہ فون آجائے اور مالک مطالبہ کرے کہ جتنی دیر آپ نے فون سنا ہے اتنے پیسے کم کرو۔کیا یہ مطالبہ درست ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ صورت میں مالک اس مطالبہ کا حق رکھتا ہے،لیکن اگر صرف دو یا تین منٹ کی بات ہو تو اخلاقاً در گزر کرلینا چاہیے۔

لما فی المجلہ:(مادہ :425،ص82،قدیمی)
الاجیر الخاص یستحق الاجرۃاذا کان فی مدۃالاجارۃ حاضرا للعمل ولایشترط عملہ بالفعل،ولکن لیس لہ ان یمتنع من العمل واذا امتنع فلایستحق الاجرۃ.
وفی دررالحکام:(1/459،العربیہ)
اماالاجیر الخاص اذا امتنع عن تسلیم نفسہ مدۃالاجارۃ لصیرورتہ عاجزا عن العمل،فلایستحق الاجرۃ
وکذا فی المجلہ:(مادہ:478،ص90،قدیمی)
وکذا فی دررالحکام:(1/546،547،العربیہ)
وکذا فی الھدایہ:(3/295،296،رحمانیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/23،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(4/413،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(5/3809،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(8/7،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدسلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
10/8/1440-2019/4/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:35