امام نے نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہنے کے بعد سلام پھیرنے کی بجائے پانچویں تکبیر کہہ دی، اب مقتدیوں کو کیا کرنا چاہیے اور نماز جنازہ کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

مقتدی امام کے ساتھ پانچویں تکبیر نہ کہیں، بلکہ خاموش رہیں اور امام کے ساتھ سلام پھیریں، اور نماز جنازہ درست ہو گا۔

لمافی الھندیة:(1/164،رشیدیہ)
ولو کبر الامام خمسا فالمقتدی لایتابع ثم ما ذا یصنع فی روایۃ عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی یمکث حتی یسلم معہ وھو الاصح ھکذا فی محیط السرخسی
وفی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/192،رشیدیہ)
اذا کبر الامام فی صلوۃ الجنازۃ خمسا عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی فیہ روایتان والمختار ان لایتابع فی التبیرۃ الخامسۃ و ینتظر فاذا سلم سلم معہ
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(224،بشری)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1516،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر :(1/271،منار)
وکذافی الشامیة:(3/131،دارالمعرفة)
وکذافی المحیط البرہانی:(3/75،ادارةالقران)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/155،حرمین شریفین)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20،7،1443/2022،2،22
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:1

جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مساجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں ان کے ہاتھ میں چاندی کے رجسٹر اور سونے کی قلمیں ہوتی ہیں، وہ بالترتیب پہلے آنے والے لوگوں کے نام ان کے مراتب کے اعتبار سے لکھتے ہیں” یہ حدیث کہاں سے ثابت ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

یہ حدیث کنز العمال، احیاءعلوم الدین اور دیگر چندکتب میں موجود ہے، لیکن محدثین نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔

لمافی تخریج احادیث الاحیاء،المغنی عن حمل:(1/215،شاملہ)
اذا کان یوم الجمعۃ قعدت الملائکۃ علی ابواب المساجد بایدیھم صحف من فضۃ واقلام من ذھب یکتبون الاول فالاول علی مراتبھم (اخرجھ ابن مردویہ فی التفسیر من حدیث علی باسناد ضعیف)۔ “
وفی تخریج احادیث احیاء علوم الدین:(1/426،شاملہ)
قال العراقی :اخرجہ ابن مردویہ فی التفسیر من حدیث علی باسناد ضعیف اذا کان یوم الجمعۃ نزل جبرئیل ۔۔۔۔ثم نشروا قراطیس من فضۃ و اقلاما من ذھب۔
وکذافی تخریج احادیث الکشاف:(4/22،شاملہ)
وکذافی کنز العمال:(8/177،رحمانیہ)
وکذافی احیاء علوم الدین:(1/182،دار المعرفہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24-3-2022،1443-8-20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:66

جمعہ کی اذان اول اوراذان ثانی کس جگہ دی جائیں؟ مسجد کے اندر یا مسجد سے باہر؟

الجواب حامداًومصلیاً

جمعہ کی پہلی اذان تو عام اذانوں کی طرح ایسی جگہ دی جائے جو مسجد میں داخل نہ ہو اور دوسری اذان مسجد میں خطیب کے سامنے دی جائے۔

لمافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(97،بشری)
یستحب ان یوذن علی مکان عال خارج المسجد و یکرہ تنزیھا التاذین فی المسجد الا الاذان الثانی للجمعۃ فانہ یؤذن فی المسجد یدی الخطیب
وفی الموسوعة الفقہیة:(2/363،علوم اسلامیہ)
للجمعۃ اذانان اولھما عنددخول الوقت وھو الذی یؤتی بہ من خارج المسجد علی المئذنۃ ونحوھا والثانی وھو الذی یؤتی بہ اذا صعد الامام علی المنبر و یکون داخل المسجد بین یدی الخطیب
وکذافی الھندیة:(1/149،رشیدیہ)
وکذافی غنیة المتملی:(561،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(56،زمزم)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/78،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(197،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
19،5،1443/2021،12،24
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:43

جسم پر وائٹنرکی سفیدی یا ایلفی لگ جائے تواس حالت میں کیے جانے والے وضو اور غسل کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جسم پراگر وائٹنر کی سفیدی یا ایلفی لگی ہو تو اسے کھرچ کر یا پٹرول وغیرہ سے اپنی بساط کی حد تک خوب صاف کریں ، لیکن اگر بھر پور کوشش کے بعد بھی کچھ رہ جائے تو وضو اور غسل درست ہو جائیں گے۔

لمافی الشامیة:( 1/313 ،دار المعرفہ)
یفرض غسل کل مایمکن من البدن بلا حرج مرۃ و(علی الصفحۃ 317)لا یمنع علی ما ظفر صباغ ولا طعام بین اسنانہ او فی سنہ المجوف بہ یفتی وقیل ان صلبا منع وھو الاصح
وفی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعة:(1/100،حقانیہ)
و قد اختلف فی الاثار التی تقتضیھا ضرورۃ اصحاب المھن کالخباز الذی یعجن دائما والصباغ الذی یلصق بین اظافرہ صباغ ذوجرم یتعسر زوالہ و نحوھما فقال بعضھم انہ یبطل الغسل وقال بعضھم لا یبطل لان ھذہ الحالۃ ضرورۃ والشریعۃ قد استنثت احوال الضرورۃ ، فلا حرج علی مثل ھؤلاء، و ھذاالقول ھو الموافق لقواعد الشرع الحنیف
وکذافی المحیط البرہانی:(1/163،ادارة القرآن)
وکذافی البحرالرائق :(1/29،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ :(1/4،رشیدیہ)
وکذافی مراقی الفلاح :(63،قدیمی)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(1/200،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ :(1/392،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/4/1443،2021/12/5
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:154

ایک شخص کے پاس بیل ہے، جس کو جفتی کے لیے اجرت پر دیتا ہے، کیا اس شخص کا اجرت لینا جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جفتی کے لیے جانور اجرت پر دینا جائز نہیں، البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی کچھ دے دے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

لمافی الشامیة:(9/92،دار المعرفہ)
لا تصح الاجارۃ لعسب التیس و ھو نزوہ علی الاناث ولا لاجل المعاصی مثل الغناء والنوح والملاھی و لو اخذ بلا شرط یباح۔
وفی الموسو عة الفقہیة:(1/287،علوم اسلامیہ)
وفی اجارۃ الفحل للضراب خلاف فجمھور الفقہاء الحنفیۃ و ظاہر المذھب الشافعیۃ واصل المذھب الحنابلۃ علی منعہ لنہی النبیﷺ فی الحدیث المتفق علیہ من عسب الفحل۔۔۔۔ وقالوا ان أطرق انسان فحلہ بغیر اجارۃ ولا شرط، فاھدیت لہ ھدیۃ، فلا بأس۔
وکذافی مجمع الانھر:(3/532،منار)
وکذافی جامع الترمذی:(1/372،رحمانیہ)
وکذافی الھدایة:(3/427،بشری)
وکذافی المبسوط:(15/83،دار المعرفہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/33،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(399،بشری)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21،9،1443/2022،4،23
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:200

خاوند کہتا ہے کہ میں نے تین طلاقیں دی ہیں اورخاوند کا والد بھی یہی کہتا ہے، لیکن بیوی کہتی ہے کہ ایک طلاق دی ہے ، تو کس کی بات معتبر ہو گی ؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسؤ لہ میں خاوند کی بات معتبر ہو گی ،اس لیے کہ وہ تین طلا ق کا اقرار کر رہا ہے ،لہذا تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔

لمافی الشامیة :(3 /236 ،ایچ۔ایم۔سعید)
لو اقر بالطلاق کاذبا او ہاذلاوقع قضاء لا دیانۃ
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی :(300،بشری)
ان طلق الرجل امراتہ یقع سواء رضیت المراۃ او لم ترض…. اذا نطق الرجل بالطلاق بحیث سمع ہو وقع الطلاق سواء سمع ذلک غیرہ او لم یسمع و سواء علمت بہ المراۃ او لم تعلم
وکذافی المحیط البرہانی:(4/393،ادارة القرآن)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدرالمختار :(2/113،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/104،فاروقیہ)
وکذافی شرح مجلة الاحکام :(1/79،العر بیہ)
وکذافی المبسوط :(6/76،دارالمعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/4/1443،2021/11/29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:124

ایک آدمی نے اپنی بیوی کی تین طلاقیں دیں، اور لوگوں کو بھی کہتا رہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں ہیں، کچھ عرصہ بعد وہ انکار کرتا ہے اور بیوی بچوں کو واپس لے آتا ہے، تو برادری و محلہ والوں کو اس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ایسے شخص کو پیار، محبت سے خوب سمجھانا چاہیے، اگر پھر بھی نہ مانے تو ایسے شخص سے قطع تعلقی کر دینی چاہیے۔

لمافی بذل المجھود:(19/79،قدیمی)
اما ما کان من جھۃ الدین والمذھب فھجران اھل البدع والاھواء واجب الی وقت ظہور التوبۃ ومن خاف من مکالمۃ احد وصلتہ مایفسد علیہ الدین او یدخل مضرۃ فی دنیاہ یجوز لہ مجانبتہ والبعد عنہ ورب ھجر حسن خیر من مخالطۃ مؤذیۃ
وفی شرح الطیبی:(9/243،دار الکتب العلمیہ)
یرید بہ ان الھجر ضد الوصل یعنی فیما یکون بین المسلمین من عتب وموجدۃ او تقصیر یقع فی حقوق العشرۃ و الصحبۃ دون ما کان من ذلک فی جانب الدین فان ھجرۃ اھل الاھواء والبدع دائمۃ علی ما مر الاوقات ما لم یظہر منہ التوبۃ والرجوع الی الحق ۔
وکذافی فتح الباری:(10/608،قدیمی)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(5/355،دارالعلوم)
وکذافی عون المعبود:(13/122،قدیمی)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/759،التجاریة)
وکذافی اوجز المسالک الی موطأمالک:(14/166،دارالکتب العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16،8،1443/2022،3،20
جلد نمبر:27فتوی نمبر:25

ایک آدمی نے غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کودو مرتبہ یہ الفاظ کہے (توں میڈے تن تے حرام آئیں) تو میرے جسم پر حرام ہے، اب مرد اور عورت کے لیے کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسؤلہ میں ایک طلاق بائنہ ہو گئی ہے،نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/170،طارق)
فیقع الطلاق بھا بلا نیۃ للعرف کما أفتی المتأخرون فی قولہ: انت علیّ حرام، بانہ طلاق للعرف بلا اشتراط نیۃ۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6897،رشیدیہ)
قول الرجل انت علی حرام او حرمتک او محرمۃ لانہ وان کان فی الاصل کنایۃ، فقد غلب استعمالہ بین الناس فی الطلاق فصار من الالفاظ الصریحۃ فیہ، ھذا مذھب الحنفیہ۔۔
وکذافی البحر الرائق:(3/523،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/448،فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیہ:(2/15،حرمین شریفین)
وکذافی الشامیة:(4/491،رشیدیہ)
وکذافی الخانیه علی ھامش الھندیة:(1/519،رشیدیہ)
وکذافی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(4/188،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
19-4-2022،1443-9-17
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:3

تجارت و بیچنے کے لیے خریدے گئے پلاٹ پر زکوۃ ہوگی یا نہیں؟اور کیا اس پر سال کا گزرنا بھی شرط ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر اس پلاٹ کا مالک پہلے سے صاحب نصاب ہے تو باقی مال کا سال پورا ہونے پر اس پلاٹ کی موجودہ قیمت پر بھی زکوۃ ادا کرے گا اور اگر ا س پلاٹ کی وجہ سے صاحب نصاب بنا ہے تو سال گزرنے کے بعد پلاٹ کی کرنٹ ویلیو پر زکوۃ دے گا اور اگر صاحب نصاب نہیں ہے تو اس پر زکوۃ فرض نہیں ہے۔

لمافی الہندیة:(1 /179 ،رشیدیہ)
الزکوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت اذا بلغت قیمتھا نصابا من الورق والذھب…. و تعتبر القیمۃ عند حولان الحول بعد ان تکون قیمتھا فی ابتداء الحول مائتی درھم من الدراھم الغالب علیھا الفضۃ
وفی المختصر الفقہ الحنفی:(233،بشری)
رجل یملک شیئا من الذہب او الفضۃ ای اقل من النصاب و عندہ عروض التجارۃ تضم قیمۃ العروض الی الذھب والفضۃ فان بلغت قیمتھا جمیعا نصاب الذھب او الفضۃ تجب علیھا الزکوۃ.
وکذافی الھدایة :(1/212،میزان)
وکذافی الفتاو السراجیہ :(137،زمزم)
وکذافی المحیط البرھانی :(3/163،ادارة القرآن)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(3/164،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة :(23/271،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/5/1443،2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:7

پکی اینٹوں کی قبر بنانا کیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

پکی اینٹوں سے قبر بنانا جائز نہیں، البتہ اگر زمین نرم ہو یا قبر کے گر جانے کا اندیشہ ہو اور پکی اینٹوں کے بغیر گزارہ نہ ہوتو پھر اس کی گنجائش ہے۔

لمافی بدائع الصنائع:(2/61،رشیدیہ)
الآجر والخشب للعمران ولان الآجر مما یستعمل للزینۃ ولاحاجۃ الیھا للمیت ولانہ مما مستہ النار فیکرہ ان یجعل علی المیت تفاؤلا کما یکرہ ان یتبع قبرہ بنار تفاؤلا، وکان الشیخ الامام ابوبکر محمد بن الفضل البخاری یقول لابأس بالآجر فی دیارنا لرخاوۃ الاراضی ۔
وفی الموسو عة الفقہیة:(21/14،علوم اسلامیہ)
یکرہ وضع الآجر المطبوخ الا اذا کانت الارض رخوۃ لانھا تستعمل للزینۃ ولاحاجۃ للمیت الیھا ولانہ مما مستہ النار
وکذافی الشامیة:(3/167،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/292،بشری)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1551،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/340،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/166،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(222 ،بشری)
وکذافی المحیط البرہانی:(3/92،ادارة القران)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24،8،1443/2022،3،28
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:89