ایک بچی جو بالغ ہے اور وہ تراویح اپنے بھائی کے پیچھے پڑھ رہی ہو، تو کیا وہ غلطی پر لقمہ دے سکتی ہے؟ نماز پڑھنے والے سب محرم ہیں، کوئی غیر محرم نہیں ہے۔

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں بھی عورت کے لیے لقمہ دینا ناپسندیدہ ہے۔

لما فی البحرالرائق:(1/470،رشیدیة)
نغمۃ المرأۃ عورۃ وبنی علیہ أن تعلمھا القرآن من امرأۃأحب للرجال والتصفیق للنساء ))فلا یجوز أن یسمعھا الرجل ۔ومشی علیہ المصنف فی الکافی فقال :ولا تلبی جھراًلأن صوتھا عورۃ ومشی علیہ صاحب المحیط ۔۔۔۔۔۔ قیل إذا جھرت بالقرآن فی الصلوۃ فسدت کان متجھا۔
وفی غنیة المتملی:(217،رشیدیة)
بأن نغمۃ المرأۃ عورۃ أن تعلمھا القرآن من المرأۃ احب لان نغمۃھا عورۃ ولھذا قال علیہ السلام التسبیح للرجال والتصفیق للنساء فلا یحسن أن یسمعھا الرجل أذا جھرت بالقرآن فی الصلوۃ فسدت کان متجھاولذا منعھا علیہ السلام عن التسبیح بالصوت لاعلام الإمام بسہوہ الی التصفیق انتھی۔
وفی الصحیح لمسلم:(1/219،رحمانیة)
“عن ابن شھاب قال أخبرنی سعید بن المسیب وأبوسلمۃ بن عبدالرحمٰن انھما سمعا ابا ھریرۃ یقول قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ((التسبیح للرجال والتصفیق للنساء))۔”
وفی ردالمحتار علی الدرالمختار :(2/94،دارالمعرفة)
وفی المبسوط للسرخسی:(1/133،دارالمعرفة)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(2/278،فاروقیة)
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(2/1182،رشیدیة)
وفی الفتاوی الھندیة:(1/85،رشیدیة)
وفی بدائع الصنائع:(1/376،رشیدیة)
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/193،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد احسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/8/1443،2022/3/27
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:94

کیا عورت اپنی قربانی کا جانور خود ذبح کر سکتی ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جی ہاں کر سکتی ہے۔

لمافی الھندیة:(5/286،رشیدیہ)
“المرأۃ المسلمۃ والکتابیۃ فی الذبح کالرجل وتؤکل ذبیحۃ الاخرس مسلما کان او کتابیا. “
وفی المبسوط:(12/5،دار المعرفہ)
لا بأس بذبیحۃ المسلمۃ و الکتابیۃ لان تسمیۃ اللہ تعالی علی الخلوص یتحقق من النساء کما یتحقق من الرجال
وکذافی البحرالرائق:(8/305،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(17/390،فاروقیہ)
وکذافی النتف فی الفتاوی:(147،ایچ۔ایم۔سعید)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(21/183،علوم اسلامیہ)
وکذافی تنویر البصار مع الدر:(9/496،دارالمعرفہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(4/2763،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20،5،1443/2021،12،25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:90

کیا ایسی خاتون جس پر حج فرض ہو، وہ اپنے بھائی کے ساتھ حج کے لیے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر جا سکتی ہے؟ یا شوہر کی اجازت ضروری ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

فرض حج کے لیے شوہر کی اجازت ضروری نہیں، محرم کا ساتھ جانا ضروری ہے، لیکن اس خاتون کو چاہیے کہ شوہر کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش ضرور کرے۔

لمافی الھندیة:(1/219،رشیدیہ)
عند وجود المحرم کان علیھا ان تحج حجۃ الاسلام وان لم یأذن لھا زوجھا وفی النافلۃ لا تخرج بغیر اذن الزوج
وفی الخانیة علی ہامش الھندیة:(1/283،رشیدیہ)
وعند وجود المحرم کان علیھا ان تخرج لحجۃ الاسلام وان لم یأذن زوجھا وفی النافلۃ لا تخرج بغیر اذن الزوج
وفی الشامیة:(2/465،ایچ۔ایم۔سعید)
“(ولیس لزوجھا منعھا) ای اذا کان معھا محرم والا فلہ منعھا۔”
وکذافی مجمع الانھر:(1/387،منار)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(17/37،علوم اسلامیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/300،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/475،فاروقیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(272،بشری)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/454،طارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23،8،1443/2022،3،27
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:93

بچوں کے اور بچوں کے گھر کے کاموں کی وجہ سے مجھ سے پوری نمازیں ادا نہیں ہوتی تھیں ،جس کی وجہ سے میاں بیوی میں اکثر جھگڑہوتا تھا، ایک دن غصہ میں شوہر نے یہ کہہ دیا کہ اگر میں تم سےہمبستری کروں تو حرام کروں، پوری نمازیں پڑھو گی تو ملوں گا، لیکن کچھ دن گزرے تو شوہر سے قسم ٹوٹ گئی اور اپنی بیوی سے مل لیئے اور بیوی نے نماز بھی پوری شروع کر دی ، شوہر نے فکر مندی سے کسی مفتی سے قسم ٹوٹنے کا پوچھا تو انہوں نے نکاح دوبارہ پڑھوا دیا۔(2)بہن کے گھر بیٹے کی ولادت ہوئی، میں ،میری خالہ اور میرا دس سال کا بیٹا ہم بچے کو دیکھنے چلے گئے ، واپسی پر شوہر نے جھگڑا کیا اور برا بھلا کہا اور کہا کہ تو توبڑی آ زاد ہے ، کچھ دن گزرنے کےبعد ناراضگی دور ہوئی تو شوہر بیوی سے مل لیئے، لیکن اب بیوی نے رولا ڈال لیا کہ آپ نے تو آزاد کہا تھا ، شوہر نے کہا کہ میں نے (آزاد خیال ) کے زمرے میں کہا تھا، ہم دونوں مفتی کے پاس چلے گئے ،انھوں نے پھر نکاح پڑھوا دیا۔(3)شوہر اور بیوی کے درمیان لڑائی ہوئی اور شوہر نے کہا کہ ہاں ہاں تو تو میری باجی ہے اور پھر مجھے کہتے کہ باجی کہنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے ، اب تو راضی ہے ، اب تو طلاقن ہو گئی ہے اور خود کہہ کر سخت پریشان ہو گئے، اب ہم دونوں پریشان کہ لڑائی میں یہ کیا کہہ دیا ، اب کوئی مفتی نہ ملے جس سے بات کر سکیں . اب پوچھنا یہ ہے کہ اول مسئلہ میں طلاق ہوئی یا نہیں ، دوسرے مسئلہ میں طلاق ہوئی یا نہیں، تیسرے مسئلہ میں طلاق ہوئی یا نہیں ؟

الجواب حامداًومصلیا

اس مسئلہ میں تین صورتیں بیان ہوئیں ، جن کو ترتیب کے وار ذکر کیا جاتاہے۔
(1)

شوہر کا یہ کہنا کہ” میں تم سے ہمبستری کروں تو حرام کروں ” اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی ،بلکہ یہ قسم ہے اور قسم توڑنے کا کفارہ شوہر پر لازم ہو گا، قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے ، یا ان کو کپڑے پہنائے جائیں ، اگر اس کی گنجائش نہ ہو تو مسلسل تین روزے رکھے جائیں۔
(2)

شوہر کا اپنی بیوی کو کہنا کہ ” تو تو بڑی آزاد ہے” اس سے بھی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ یہ جملہ ڈانٹ کے طور پر کہا ، جیسا کہ سوال میں وضاحت کر دی ہے کہ یہ جملہ ‘آزاد خیال’ کے زمرے میں کہا تھا۔
(3)

شوہر کا بیوی سے کہنا کہ” تو میری باجی ہے، باجی کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے ، اب تو طلاقن ہو گئی ہے ” اس سے ایک طلاق بائنہ ہو گئی ہے، اس لیے کہ جن علاقوں کے عرف میں بیوی کے لیے یہ الفاظ ‘میری بیٹی ،میری بہن ‘ طلاق کی نیت سے بولے جاتے ہیں ، وہاں ان الفاظ سے طلاق بائنہ واقع ہو جائے گی اور سوال سے بھی لگ رہا ہے کہ بظاہر شوہر نے اسی نیت سے یہ الفاظ کہے ہیں ، لہذا اب دونوں عدت کے دوران یا عدت کے بعد دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(2 /321 ،طارق)
فمن حرم شیئا ثم فعلہ کفر لیمینہ ۔۔۔۔لو قالت المراۃ لزوجھا انت علی حرام او حرمتک علی نفسی ، فلو طاوعتہ فی الجماع او اکرھھا لزمتھا الکفارۃ
وفیہ ایضا:(2/343،طارق)
الواجب فی الکفارۃ احد الاشیاء الثلاثۃ ، وہی تحریر رقبۃ او اطعام عشرۃ مساکین او کسوتھم لان کلمۃ “او” للتخییر ، فان لم یقدر علی احد ھذہ الشیاء الثلاثۃ عند الاداء صام ثلاثۃ ایام متتابعات۔
وفی : المحیط البرہانی (4/428،ادارة القرآن)
وما یصلح ان یکون جوابا و یصلح شتیمۃ نحو قولہ خلیۃ، بریۃ ، بتۃ، بائن ،حرام لا یجعل طلاقا اذا قال لم انو بہ الطلاق و صلاحیۃ ھذہ الالفاظ للشتم اذا احتمل الشتم و الطلاق ثبت ادناھا ،وحالۃ المغایظۃ کما یدل علی الطلاق ، یدل علی الشتم ،ثبت ادناھما وھو الشتم
وفی شرح مجلة الاحکام:(1/21،العربیة)
“العبرۃ فی العقود للمقاصد والمعانی لا للالفاظ والمبانی۔ “
وکذافی الھدایة:(2/235،بشری)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/459،فاروقیہ)
وکذافی الخانیة علی ہامش الہندیة:(1/519،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/171، رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/570، رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/4/1443،2021/11/21
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:106

ایک شخص شرعی مسافت طے کر کے ایک شہر کے نواحی علاقے میں آ گیا ہے اور اس علاقے کی مختلف بستیوں میں چالیس دن رہنے کی نیت کی ہے، جبکہ بستیوں کا درمیانی فاصلہ ایک سے تین کلو میٹر تک کاہے لیکن کسی بھی بستی میں پندرہ دن پورے نہیں گزارنے تو اس صورت میں یہ شخص مقیم شمار ہو گا یا مسافر؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر ان میں سےہر بستی، دوسری سے الگ اور مستقل حیثیت رکھتی ہے اور دوسری بستی کا ذیلی حصہ نہیں ہے اور سوال سے بھی بظاہر ایسا لگ رہا ہے تو یہ شخص مسافر شمار ہو گا۔

لمافی الھندیة:(1/139،رشیدیہ)
لا یزال علی حکم السفر حتی ینوی الاقامۃ فی بلدۃ او قریۃ خمسۃ عشر یوما او اکثر۔۔۔۔ ولو نوی الاقامۃ خمسۃ عشر یوما فی موضعین فان کان کل منھما اصلا بنفسہ نحو مکۃ ومنی والکوفۃ والحیرۃ لایصیر مقیما وان کان احداھما تبعا للآخر حتی تجب الجمعۃ علی سکانہ یصیر مقیما۔
وفی بدائع الصنائع:(1/269،رشیدیہ)
وان کان مصرین او قریتین او احدھما مصر والاخر قریۃ لا یصیر مقیما لانھما مکانان متباینان حقیقۃ وحکما
وکذافی اللباب:(1/111،قدیمی)
وکذافی المبسوط:(2/108،دارالمعرفہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/232،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/212،امدادیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/499،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/391،ادارة القران)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/166،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/311،طارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
9،9،1443/2022،4،11
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:141

سونے یا چاندی کے زیورات میں نگینے لگے ہوئے ہوں، تو ان کو سونے یا چاندی کے بھاؤ بیچنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگرگاہک کو معلوم ہے کہ دکاندار نگینے بھی سونے کی قیمت میں دےرہا ہے اور وہ رضامند ہو جاتا ہے تو پھر جائز ہے، ورنہ نہیں، اس لئے کہ یہ دھوکہ ہے۔

لمافی الآثار:(2 /733 ،دارالسلام)
” عن ابراہیم قال اذا کان الخاتم فضۃ و فیہ فص فاشترہ بما شئت ان قلیلا وان شئت کثیرا.
وفی رد المحتار :(5/238،ایچ۔ایم۔سعید)
“لا بأس ببیع المغشوش اذا بین غشہ او کان ظاہرا یری.
وکذافی المبسوط:(14/25،دار المعرفہ)
وکذافی قضایا فقہیة معاصرة :(1/13،معارف القرآن)
وکذافی شرح المجلة الاحکام:(3/201،عربیہ)
وکذافی الہندیہ:(3/215،رشیدیہ)
وکذافی الہدایة :(3/113،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/5/1443،2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:6

خالص سونے وچاندی کی ادھار خرید و فروخت مارکیٹ ریٹ سے کم پر کرنسی کے بدلے جائز ہے یا نہیں؟ (2) سونے اور چاندی کو اگر مکس کر کے جس میں چاندی غالب ہو، مرد کے لیے ساڑھے چار ماشہ سے کم انگوٹھی پہننا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

(1)

سونے اور چاندی کی ادھار خرید وفروخت کرنسی کے بدلے جائز ہے ۔
(2)

مرد کے لیے ایسی انگوٹھی پہننا جس میں سونے کی ملاوٹ ہو جائز نہیں۔

لمافی المبسوط:(14/24،دارالمعرفہ)
واذا اشتری الرجل فلوسا بدراھم ونقد الثمن ولم تکن الفلوس عند البائع فالبیع جائز لان الفلوس الرائحۃ ثمن کالنقود وقد بینا ان حکم العقد فی الثمن وجوبھا ووجودھا معاً ولا یشترط قیامھا فی ملک بائعھا لصحۃ العقد کما لایشترط ذلک فی الدراھم والدنانیر
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(18/126،فاروقیہ)
وفی الجامع الصغیر لا یتختم الا بالفضۃ ھذا اللفظ بظاہرہ یقتضی ان التختم بالذھب والحدید والصفر والحجر والشبہ وما اشبہ ذلک حرم علی الرجال ۔۔۔۔لا بأس بمسمار الذھب یجعل فی الفص یرید بہ المسمار لیحفظ بہ الفص
وکذافی فتح القدیر:(7/147،رشیدیہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/177،التجاریة)
وکذافی الشامیة:(7/433،دارالمعرفہ)
وکذافی الھندیہ:(3/242،رشیدیہ)
وکذافی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(5/5،رشیدیہ)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(4/128،دارالعلوم)
وکذافی الھندیہ:(5/335،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14،9،1443/2022،4،16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:140

خریدوفروخت کی ایک کمپنی کا طریقہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو کہتے ہیں آپ ہم سے 500 روپے کا کارڈ خریدو، پھر اسے کھولو، اس پر دو چیزوں کا نام لکھا ہوگا مثلا لیپ ٹاپ اور استری، تو آپ 6000 دے کر دونوں چیزیں لے لینا اور اور اگر کارڈ خالی ہو، اس پر کسی چیز کا نام لکھا ہوا نہ ہو تو آپ کو آپ کے 500 کے ساتھ اضافی 500 دیا جائے گا، اس قسم کی خریدوفروخت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

خریدوفروخت کی مندرجہ بالا صورت سود، دھوکہ، اور مشروط معاہدہ ہونے کی بناء پر ناجائز ہے، لہذا بہر صورت اس سے بچا جائے۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4 /86 ،طارق)
الغرر مایکون مجھول العاقبۃ لا یدری ا یکون ام لا …. فبیوع الغرر تنسحب علی بیع دخلہ الغرر بوجہ من الوجوہ وقد نھی النبی ﷺعن بیع الغرر
وفیہ ایضا:(4/233،طارق)
ہو بیع المال الربوی بجنسہ مع الزیادۃ فی احد العوضین، وسمی بھذا لوجود الفضل فی العقد وھو حرام وبعد صفحتین معتمد الفقہ جریان الربا فی الفلوس کالذھب و الفضۃ
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ :(5/3700،رشیدیہ)
ربا الفضل الذی ہو بیع بانہ زیادۃ عین مال فی عقد بیع علی المعیار الشرعی (وہو الکیل و الوزن )عند اتحادالجنس…. فان الربا یتحقق بالزیادۃ المشروطۃ وغیر المشروطۃ فی البیع او فی القرض
وکذافی تکملة فتح الملھم :(1/322،دارالعلوم)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلة :(5/3410،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة :(22/57،علوم اسلامیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/400،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1443،2021/12/16
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:3

امام یا منفرد نماز کی تیسری رکعت یا پہلی رکعت میں بھول کر قعدہ میں بیٹھ جائے تو محض بیٹھنے سے سجدہ سہو واجب ہو گا ؟یا کسی خاص مقدار بیٹھنے سے سجدہ سہو واجب ہو گا؟

الجواب حامداًومصلیاً

محض بیٹھنے سے سجدہ سہو واجب نہ ہو گا ، بلکہ تین مرتبہ’ سبحان ربی الاعلی’ کہنے کی مقدار بیٹھنے سے سجدہ سہو واجب ہو گا ۔

لمافی البزازیة علی ھامش الہندیہ:( 4/63 ،رشیدیہ)
سہا فی صلاتہ انھا الظہر او العصر او غیر ذلک ان تفکر قدر ما یؤدی فیہ رکن کالرکوع لزم وان قلیلا لا۔
وفی المحیط البرہانی :(2/314،علوم اسلامیہ)
و فی شرح الکافی للصدر الشھید وکان الشیخ الامام الاجل ظہیر الدین المرغینانی یقول لا یجب سجود السہو بقولہ اللھم صل علی محمد و نحوہ ، وانما المعتبر مقدار ما یودی فیہ رکنا
وکذافی الشامیة :(1/469،ایچ۔ ایم۔ سعید)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(474،قدیمی)
وکذافی الفتاوی التاتار خانیة :(2/390، فاروقیہ)
وکذافی مجمع الانھر :(1/221،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/4/1443،2021/11/28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:122

زیر ناف بال کاٹنے کی حدود کیا ہیں ؟ بغلوں کے بال ختم کرنےکا شرعی طریقہ کیا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ناف کے نیچے سخت ہڈی (پیڑ کی ہڈی)سے لے کر پیشاب و پاخانہ کی جگہ اور اس کے ارد گرد جہاں تک جسم کے ناپاک ہونے کا خطرہ ہو وہاں تک بال کاٹے جائیں۔
بغلوں کے بال ختم کرنے کامسنون طریقہ تو اکھیڑنا ہے ،لیکن اگر درد یا تکلیف ہو تو مونڈنا بھی جائز ہے۔

لمافی الشامیة:(5 /261 ،دار احیاءالتراث)
یستحب حلق عانتہ )قال فی الہندیۃ و یبتدئ من تحت السرۃ ولو عالج بالنورۃ یجوز کذا فی الغرائب و فی الاشباہ و السنۃ فی عانۃ المراۃ النتف (قولہ و تنظیف بدنہ )بنحو ازالۃ الشعر من ابطیہ ویجوز فیہ الحلق و النتف اولی
وفی الموسوعة الفقہیة :(18/100،علوم اسلامیہ )
” اما حلق شعر الابط فجائز لمن شق علیہ النتف و الافضل فی النتف “
وکذافی فتح الباری:(10/421،قدیمی)
وکذافی فتح الملھم :(2/332،دارالعلوم)
وکذافی الہندیة :(5/385،رشیدیہ)
وکذافی الموسو عة الفقہیة :(29/233،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/4/1443،2021/12/5
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:155