کیا میزان بینک کے ذریعہ اجارہ پر کار لینا درست ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اب تک ہماری معلومات کے مطابق “میزان بینک” مستند علماء کی زیر نگرانی شرعی طریقے کےمطابق کام کر رہا ہے، جب تک یہ ایسا کرتا رہے گا اس سے اجارہ پر کار لینا اور دیگر معاملات کرنا درست ہے، ورنہ نہیں، لہذا وقتاً فوقتاً قابل اعتماد دارالافتاء سے معلومات لیتے رہیں۔

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20،7،1443/2022،2،22
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:199

شوہر کا بیوی کے میڈیکل سرٹیفکیٹ پر میڈیکل سٹور کھولنا جائز ہے؟ جبکہ شوہر نے میڈیکل کی تعلیم حاصل نہیں کر رکھی، البتہ اس کو ادویات کی معلومات ہے، اس بارے میں رہنمائی فرما دیں۔

الجواب حامداًومصلیاً

ہماری معلومات کے مطابق میڈیکل سٹور کھولنے کے لیے اپنا سرٹیفکیٹ ہونا قانوناً لازمی ہے، کسی دوسرے کے میڈیکل سرٹیفکیٹ پر میڈیکل سٹور کھولنا، حکومت کے قوانین کی خلاف ورزی ہے اور حکومت کے جائز قوانین کی خلاف ورزی شریعت کی خلاف ورزی ہے۔

لمافی القرآن المجید:(59،النساء)
یاایھاالذین اٰمنو ااطیعوااللہ واطیعواالرسول واولی الامر منکم۔۔۔۔۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(8/6197،رشیدیہ)
وحینٔذ تصبح القوانین والتکالیف التی تصدر عن الحاکم واجبۃ التنفیذ، کالالزام بالتجنید الاجباری وفرض الضرائب علی الاغنیاء بالاضافۃ الی الزکاۃ کلما دعت حاجۃ البلاد الی ذلک
وفی الشامیة:(4/264،ایچ۔ ایم۔ سعید)
مطلب فی وجوب طاعۃ الامام، افترض علیہ اجابتہ والاصل فیہ قولہ تعالی واولی الامر منکم وقالﷺ اسمعواواطیعوا ولو امر علیکم عبد حبشی اجدع۔۔۔۔ ولو طلبواالموادعۃ اجیبواالیھاان خیرا للمسلمین۔
وکذافی تفسیر المظھری :(2/143،رشیدیہ)
وکذافی عمدة القاری:(13/218،احیاءالتراث)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(19/33،علوم اسلامیہ)
وکذافی مقالات عثمانی:(2/506،معارف القرآن)
وکذافی الاشباہ والنظائرفی الفقہ الحنفی:(124،قدیمی)
وکذافی الشامیة:(4/145،ایچ۔ایم۔سعید)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/7/1443-2022/2/22
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:198

اذان دینے کے لیے جو مسجد میں مقرر ہے، اس کی اجازت کے بغیر دوسرا شخص اقامت کہہ سکتا ہے یا اس کی اجازت ضروری ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر مؤذن ناراض نہ ہو تو بغیر اجازت کےاقامت کہہ سکتے ہیں، لیکن اگر اس کے ناراض ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر اس کی اجازت کے بغیر اقامت کہنا ناپسندیدہ ہے۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(1/718،رشیدیہ)
الافضل فی المذاھب الاربعۃ ان یتولی الاقامۃ من اذن اتباعا للسنۃ فھو مقیم۔۔۔۔ لکن قال الحنفیۃ یکرہ ان یقیم غیر من اذن ان تأذی بذلک لان اکتساب اذی المسلم مکروہ، ولا یکرہ ان کان لایتأذی بہ
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(99،بشری)
من اذن فھو احق بان یقیم فان اقام غیرہ یکرہ الان یغٰب المؤذن او یرضی لغیرہ فیجوز بلا کراھۃ
وکذافی الشامیة:(2 /79،دارالمعرفہ)
وکذافی الھندیة:(1/54،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/447،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/50،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/79،رشیدیہ)
وکذافی التجنیس والمزید:(1/392،ادارة القران)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1443-2022/4/9
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:88

تعزیت کے لیے مسجد میں بیٹھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

مسجد میں تعزیت کے لیے بیٹھنا فقہاء رحمھم اللہ کے ہاں مختلف فیہ ہے، بعض کے ہاں جائز اور بعض کے ہاں مکروہ ہے، البتہ ہمارے زمانے میں چونکہ لوگوں میں دین سے واقفیت بہت کم ہے، اب اگر مسجد میں تعزیت کی اجازت دی جائے تو دوسری خرابیاں سامنے آئیں گی مثلاً حقہ وسگریٹ نوشی، مسجد کے اندر غیبت، چغلخوری، فضول گوئی اور دنیاوی باتیں وغیرہ شروع ہو جائیں گی، اس لیے مسجد میں تعزیت کے لیے بیٹھنا جائز نہ ہو گا۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1572،رشیدیہ)
یجلس المعزی عند المصاب للتعزیۃ لما فی ذلک من استدامۃ الحزن وقال الحنفیۃ لابأس بالجلوس للتعزیۃ فی غیر المسجد ثلاثۃ ایام واولھا افضل
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار:(1/383،رشیدیہ)
الجلوس فی المسجد ثلاثۃ ایام للتعزیۃ مکروہ وفی غیرہ جازت الرخصۃ ثلاثۃ ایام للرجال و ترکہ احسن
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(315،زمزم)
وکذافی الشامیة:(3/176،دارالمعرفہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(12/288،علوم اسلامیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/342،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/95،فاروقیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/167،رشیدیہ)
وکذافی غنیة المتملی:(612،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24/8/1443-2022/3/28
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:92

ڈرائیور اکثر مسافر ہوتے ہیں، ان کے روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر روزہ رکھ سکتے ہوں تو ضرور رکھیں، لیکن اگر روزہ رکھنے کی ہمت نہ ہوتو پھر بعد میں جب بھی موقع ملے، ان روزوں کی قضاء کریں، اور اس کے باوجود بھی کچھ روزے رہ جائیں یا قضاء کرنے کا موقع نہ ملے تو ان روزوں کے فدیہ کی وصیت کرنا ضروری ہے، ایک روزے کا فدیہ ایک صدقۃالفطر کے برابر ہے۔

لمافی الفتاوی التاتارخانیة :(3/403،فاروقیہ)
یکرہ للمسافر ان یصوم اذا اجھد الصوم فاذا لم یکن کذلک فالصوم افضل للمسافر عندنا اذا لم یکن رفقاؤہ او عامتھم مفطرین ….فان لم یصم بعد ما صح او قام حتی مات فعلیہ ان یوصی ان یطعم عنہ و فی الھدایۃ اطعم عنہ ولیہ لکل یوم نصف صاع من بر او صاعا من تمر او صاعا من شعیر
وفی الموسوعة الفقہیة:(28/51،75،77،علوم اسلامیہ)
فمذھب الحنفیۃ و المالکیۃ والشافعیۃ و ھو وجہ عند الحنابلۃ ان الصوم افضل اذا لم یجھد ہ الصوم و لم یضعفہ و صرح الحنفیۃ والشافعیۃ بانہ مندوب .قال الغزالی والصوم احب من الفطر فی السفر لتبرئہ الذمۃ الا اذا کان یتضرر بہ
من افطر ایاما من رمضان کالمریض والمسافر قضی بعدۃ ما فاتہ لان القضاء یجب ان یکون بعدۃ مافاتہ لقولہ تعالی ومن کان مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخر
قال الحنفیۃ لو اخر قضاء رمضان بغیر عذر ثم مات قبل رمضان آخر او بعدہ ولم یقض لزمہ الایصاء بکفارۃ ما افطر علی من مات بقدر الاقامۃ من السفر و الصحۃ من المرض وزوال العذر ولایجب الایصاء بکفارۃ ماافطر علی من مات قبل زوال العذر
وکذافی الشامیة:(3/460،دارالمعرفة) وکذافی بدائع الصنائع:(2/248،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ السلامی وادلتہ :(3/1696،) وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/440،طارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/7/1443-2022/2/22
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:197

کوئی مسلمان فلمی اداکار فلم کے ذریعے پیسے کمائے اور اس سے حج کرے تو کیا اس کاحج ہو جائے گا یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

حرام کمائی والے شخص سے فرض تو ساقط ہو جائے گا، لیکن اس حج پر اجروثواب نہیں ملے گا۔

لمافی الشامیة:(2/456،ایچ۔ایم۔سعید)
لا یقبل بالنفقۃ الحرام کما ورد فی الحدیث، مع انہ یسقط الفرٖض عنہ معھا ولا تنافی بین سقوطہ و عدم قبولہ فلا یثاب لعدم القبول ولا یعاقب عقاب تارک الحج۔
وفی فتح القدیر:(2/412،رشیدیہ)
ویجتھد فی تحصیل نفقۃ حلال، فانہ لایقبل الحج بالنفقۃ الحرام مع انہ یسقط الفرض معھا، وان کانت مغصوبۃ ولا تنافی بین سقوطہ وعدم قبولہ فلا یثاب لعدم القبول ولا یعاقب فی الآخرۃعقاب تارک الحج
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(17/82،علوم اسلامیہ)
وکذافی غنیة الناسک:(21،ادارةالقران)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/2408،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/220،رشیدیہ)
وکذافی ارشاد الساری:(534،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/541،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/9/1443-2022/4/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:186

انشورنس کے متعلق کیا حکم ہےاور لائف انشورنس کے بارے میں بتا دیں، کیوں حلال نہیں ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

انشورنس کمپنیوں کے موجودہ طریقہ کار میں “سود” اور بسا اوقات “جُوا اور دھوکہ” کے پائے جانے کی وجہ سے جائز نہیں۔
‘سود’ اس طرح ہے کہ ایک فریق دوسرے فریق کو کم رقم اس شرط پر دے کہ دوسرا فریق اس رقم کے بدلہ اسے کچھ بڑھا کر دے گا، انشورنس کے اندر کم پریمیم کے بدلہ زیادہ رقم کی پالیسی خریدی جاتی ہےاور ‘جُوا’ یہ ہے کہ معاملہ اس طرح ہو کہ کسی غیر یقینی واقعے کی بنیاد پر ایک کا مال بلا معاوضہ دوسرے کے پاس چلا جائے، یعنی یا تو یہ مال ڈوب جائے گا یامزید مال حاصل ہونے کا ذریعہ بنے گا اور ‘دھوکہ’ اس طرح کہ معلوم نہیں کتنی رقم واپسی ہو گی؟ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جتنی رقم دی ہے وہی مع سود ملے اور یہ بھی ہو سکتا ہے حادثے کی صورت میں زیادہ رقم مل جائے۔

لمافی القرآن المجید:(مائدة/90)
یاایھا الذین اٰمنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطٰن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون
وفی بحوث قضایا فقہیة معاصرة:(2/187،معارف القران)
اتفق معٖظم العلماء المعاصرین والمجامع والندوات الفقہیۃ علی حرمۃ التأمین التجاری التقلیدی، لما یشمل علیہ من الغرر والقمار والربا
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(7/5089،رشیدیہ)
ان عقد التأمین التجاری اذا القسط الثابت الذی تتعامل بہ شرکات التأمین التجاری عقد فیہ غرر کبیر مفسد للعقد، ولذا فھو حرام شرعا۔

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/7/1443-2022/2/12
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:155

کیا گھر میں اگائے گئے درختوں اور سبزیوں پر عشر واجب ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

گھریلو درختوں کے پھلوں اور سبزیوں میں مفتیٰ بہ قول کے مطابق عشر واجب تو نہیں ہے البتہ چونکہ مسئلہ امام و صاحبین رحمھمااللہ کے درمیان مختلف فیہ ہے اس لیے صاحب استطاعت لوگوں کو احتیاطاً اس کا بھی عشر دے دینا چاہیے۔

لمافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/277،فاروقیہ)
ولو کان فی دار رجل شجرۃ وفی الینابیع مثمرۃ لایجب فی ذلک عشر وان کان تلک البلدۃ عشریۃ
وفی بدائع الصنائع:(2/18،رشیدیہ)
ویجب العشرفی قلیلہ و کثیرہ فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی لانہ ملحق بالنماء و یجری مجری الثمار والنصاب لیس بشرط فی ذلک عندہ وعندھما شرط ۔۔۔۔ومایوجد فی الجبال من العسل والفواکہ فقد روی محمد عن ابی حنیفۃ رحمھ اللہ تعالی ان فیہ العشر وروی اصحاب الاملاء عن ابی یوسف انہ لاشئ فیہ
وکذافی الھندیة:(1/186،رشیدیہ
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/247،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(148،زمزم)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/273،ادارة القران)
وکذافی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(4/91،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/200،حرمین شریفین)
وکذافی التجنیس والمزید:(2/347،ادارة القران)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
25/7/1443-2022/2/27
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:3

ایک شخص کی آنکھ صبح اتنی دیر سے کھلی کہ مسجد میں نماز ہو چکی تھی، اس نے گھر کی عورتوں کو جمع کر کے ان کو نماز پڑھا دی، اگر نماز ہو گئی ہے تو کیا ایسی حالت میں اکیلے نماز پڑھ لینا بہتر تھا یاجو صورت اختیار کی ہے، یہ بہتر ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اس شخص کا گھر کی خواتین کےساتھ جماعت کروانا، اکیلے نماز پڑھنے سے تو بہتر ہے، لیکن اگر دوسری مسجد میں جماعت ملنا ممکن ہو تو وہاں جانا زیادہ بہتر ہے۔

لمافی الھندیة:(1 /82 ،رشیدیہ)
اذا فاتتہ الجماعۃ لایجب علیہ الطلب فی مسجد آخر بلا خلاف بین اصحابنا لکن ان اتی مسجدا اخر لیصلی بھم مع الجماعۃ فحسن وان صلی فی مسجد حیہ وذکر القدوری انہ یجمع فی اھلہ و یصلی بھم
وفی المحیط البرھانی:(2/210، ادارة القرآن)
ولو فاتتہ الجماعۃ جمع باھلہ فی منزلہ لما روینا ان النبی علیہ الصلاۃوالسلام جمع باھلہ فی منزلہ حین انصرف من الصلح بعد ما فرغ الناس من الصلاۃ
وکذافی البدائع الصنائع :(1/385،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(2/280،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق :(1/606،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق :(1/133،امدادیہ)
وکذافی فتح القدیر :(1/353،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی :(142،بشری)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/5/1443،2021/12/19
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:44

ایک عالِم کے لیے ایسے رشتہ داروں کے ہاں شادی وغیرہ کی تقریب میں جانا کیسا ہے؟ جہاں یقین ہو کہ گانا بجانا ضرور ہو گا۔

الجواب حامداًومصلیاً

اگر امید ہو کہ اس کے جانے سے خرافات وغیرہ ختم یا کم ہو جائیں گی، تو ضرور جانا چاہیے، لیکن اگر یقین ہو کہ ختم یا کم نہ ہوں گی تو پھر نہیں جانا چاہیے۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2621،رشیدیہ)
ان علم المدعو بوجود منکر کلعب وغناء وملاہ ونصب تماثیل وصور مجسمۃ علی الحیطان او الاستار او الوسائد قبل حضورہ فلا یحضر۔۔۔۔ فان قدر علی المنع ، منعھم لقولہ ﷺ:من رای منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ افان لم یستطع فبلسانہ، فان لم یستطع فبقلبہ و ذلک اضعف الایمان ۔
وفی الھندیة:(5/343،رشیدیہ)
اما اذا علم قبک الحضور فلا یحضر لانہ لایلزمہ حق الدعوۃ بخلاف ما اذا ھجم علیہ لانہ قد لزمہ کذا فی السراج الوھاج وان علم المقتدی بہ بذلک قبل الدخول وھو محترم یعلم انہ لو دخل یترکون ذلک فعلیہ ان یدخل والا لم یدخل
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/339،طارق)
وکذافی الشامیة:(5/221،دار احیاء التراث العربی)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(45/239،علوم اسلامیہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/364،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/190،فاروقیہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(3/406،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/8/1443-2022/3/24
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:62