وضو کے بعد بعض لوگ شہادت کی انگلی اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے دعا پڑھتے ہیں، آسمان کی طرف دیکھنا اور انگلی اٹھانا جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

وضو کے بعدیہ دعا”اَشْھَدُ اَنْ لَااِلَہَ اِلاّ اللہ وَحْدَہ لَاشَرِیْکَ لَہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہ وَرَسُوْلُہ” تو پڑھنا چاہیے مگر آسمان کی طرف رخ کرنے اور شہادت والی انگلی اٹھانے والی روایت میں محدثین نے کلام کیاہے، اس لیے وہ درست نہ ہوگا۔

لمافی سنن ابی داود:(1/35،رٖحمانیہ)
” عن عقبۃ بن عامر الجھنی عن النبی ﷺنحوہ ولم یذکر امر الرعایۃ قال عندقولہ فاحسن الوضوء ثم رفع نظرہ الی السماء۔ “
وفی عون المعبود:(1/146،قدیمی)
اخرجہ مسلم والنسائی وابن ماجہ وفی لفظ لابی داود فاحسن وضوءہ ثم رفع نظرہ الی السماء فقال وفی اسناد ھذا رجل مجھول ۔۔۔۔وقال وھذا حدیث فی اسنادہ اضطراب ولا یصح عن النبی ﷺفی ھذا الباب کثیر شیئ۔
وفی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح :(77،قدیمی)
والاتیان بالشھادتین بعدہ قائما مستقبلا لقولہﷺ ما منکم من احد یتوضأ فیسبغ الوضوء ثم یقول اشھد ان لاالہ الا اللہ وان محمدا عبدہ ورسولہ وفی روایۃ (اشھد ان لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ الا فتحت لہ ابواب الجنۃ )الثمانیۃ یدخلھا من ای باب شاء۔
وکذافی بذل المجھود:(2/41،قدیمی)
وکذافی عمل الیوم واللیلة:(18،دار الکتاب العربی)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20،7،1443/2022،2،22
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:200

ہم اپنے والدین کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، آج سے پندرہ سال پہلے میری والدہ نے اپنی ساری زمین اور مکان ہم دونوں بھائیوں کے قانونا نام لگوا دیا، اس کی وجہ سے میری والدہ اور والد کے درمیان کافی عرصہ سے علیحدگی چل رہی تھی، میرے والد ہم سے الگ رہتے تھے اور میری والدہ کو طلاق بھی نہیں دی تھی، اب والدہ کو اپنی بیماری میں یہ ڈر تھا کہ اس جائیداد میں سے ان کی وفات کے بعد کوئی حصہ قانونا یا شرعا چلا نہ جائے، لیکن اللہ تعالی نے والدہ کو صحت کاملہ سے نوازا، وہ مکمل صحت یاب ہو گئیں، زمین اور مکان والدہ نے بدستورہم دونوں بھائیوں کے نام ہی رہنے دیا، جس پر بہنوں نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا، لیکن آج پندرہ سال بعد بہنیں کہہ رہی ہیں کہ اس جائیداد میں سے ہمیں بھی حصہ دو، جبکہ والدہ ابھی حیات ہیں اور والدہ بھی کہہ رہی ہیں کہ بیٹیوں اور والدہ کاحصہ دے دو ، جبکہ ساری جائیداد پندرہ سال سے قانونا ہمارے نام چلی آرہی ہے، مکمل زمین دس ایکڑ اور مکان دس مرلے کا ہے۔ اب علماءحضرات اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں، شرعا اس کی تقسیم اب کیا ہو گی؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسؤلہ میں والدہ نے اپنی زندگی میں ساری جائیداد بیٹوں کو ہبہ کی اور قانونا ہبہ مکمل بھی ہو گیا، لہذا والدہ اور بہنوں کا مطالبہ کرنا تو درست نہیں ہے، البتہ اخلاقی اعتبار سے بیٹوں کو چاہیے کہ اپنی والدہ اور بہنوں کو اس جائیداد میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیں۔

لمافی القرآن المجید:(الرحمٰن :60)
” ھل جزاء الحسان الا الاحسان. “
وفی الخانیة علی ھامش الہندیہ:(3/279،رشیدیہ)
” رجل وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز فی القضاء و یکون آثما فیما صنع.”
وفیہ ایضا :(3/272،رشیدیہ)
“لا یرجع فی الھبۃ من المحارم بالقرابۃ کالآباء والامھات وان علو ا و الاولاد وان سفلوا اولاد البنین واولاد البنات فی ذلک سواء.”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3982،رشیدیہ)
اتفق الائمۃ علی ان الھبۃ تصح بالایجاب والقبول و القبض…. و علی ان تخصیص بعض الاولاد بالھبۃ مکروہ، و کذا تفضیل بعضھم علی بعض
وکذافی البحر الرائق:(7/500،رشیدیہ)
وکذافی رد المحتار :(5/696،ایچ۔ایم۔سعید)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(395،بشری)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(14/460،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1443-2021/12/8
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:165

نہاد “کے معنی کیا ہیں؟ اور یہ نام رکھنا جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

“نُہاد”(نون کے پیش کے ساتھ) کامعنی ہےمقداراور” نِہاد” (نون کے زیر کےساتھ) کامعنی ہے’اصل،بنیاد،خصلت، عادت)
معنی کے اعتبار سےیہ دونوں لفظ، نام رکھنے کے لئے مناسب نہیں، اس لئے بہتر یہ ہے کہ حضرات انبیاءکرام علیھم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور بزرگان دین رحمھم اللہ کے نام پر یا اچھے اور با مقصد معنی والے نام رکھے جائیں۔

لمافی فرہنگ آصفیہ:(4/3308،فیصل)
” نِہاد :(اسم مؤنث )اصل،بنیاد، خلقت، سیرت۔ ”
وکذا فی المنجد:(841،الشرقیہ،بیروت)
وکذافی لغات فارسی:(522،عمر،لاھور)
وکذافی الشامیة:(9/689،دارالمعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20،5،1443-2021،12،25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:78

ایک مقتدی تک امام کی آواز نہیں پہنچ رہی، امام آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ کرتا ہے اور یہ مقتدی جان بوجھ کر کھڑا رہتا ہےکہ مجھ تک آواز نہیں پہنچی، لہذا میں سجدہ نہیں کرتا، ایسے شخص کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

یہ شخص جان بوجھ کر سجدہ تلاوت چھوڑنے کی وجہ سے گنہگار ہوا، اس شخص کی نماز تو ہو گئی لیکن اعادہ بہتر ہے۔

(مستفاد من احسن الفتاوی)

لمافی الشامیة:(2/82 ،ایچ۔ایم۔سعید)
” والظاہر ان المقتدی تجب علیہ الاعادۃکالامام ان کان السقوط بفعلہ العمد لتقرر النقصان بلا جابر من غیر عذر. “
و کذا فی الخانیة علی ہامش الہندیة :(1/160،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع :(1/448،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر :(2/18،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/133،رشیدیہ)
وکذافی الہدایة :(1/171،میزان)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(1/288،طارق)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1443-2021/12/16
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:4

ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے، اس کے قریب جہراً قرآن پڑھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر نماز میں خلل واقع ہو تو نمازی کے قریب جہرا ًقرآن پڑھنا مکروہ ہے۔

لمافی الشامیة:(2 /525 ،دار المعرفہ)
اجمع العلماء سلفاً وخلفاً علی استحباب ذکر الجماعۃ فی المساجد وغیرھا، الا ان یشوش جھرھم علی نائم أو مصل أو قارئ
وفی الموسوعة الفقہیة :(13/257،علوم اسلامیہ)
قد وردت احادیث باستحباب الجھر بالقرآن، واخری باستحباب الاخفاء…. قال النووی والجمع بینھما ان الاخفاء افضل، حیث خاف الریاء او تاذی مصلون او نیام بجھرہ والجھر افضل فی غیر ذلک لان العمل فیہ اکثر
وکذافی المحیط البرھانی :(7/513،علوم اسلامیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(318،قدیمی)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/57،فاروقیہ)
وکذافی بذل المجھود :(7/57،قدیمی)
وکذافی غنیة المتملی:(496،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/5/1443-2021/12/22
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:48

نماز میں سجدہ تلاوت واجب ہوا، تو کیا سجدہ اسی نمازمیں کرنا ضروری ہے یا بعد میں بھی کر سکتا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اسی نما ز میں وہ سجدہ کرنا ضروری ہےاگر سجدہ اسی نماز میں نہ کیا تو گناہ گار ہو گا، بعد میں اسکی قضاء بھی نہیں ہے۔

لمافی الشامیة :(2/705،دار المعرفہ)
” لو تلاھا فی الصلاۃ سجدھا فیھا لا خارجھا لما مر و فی البدائع واذا لم یسجد اثم فتلزمہ التوبۃ. “
وفی الموسوعة الفقہیة:(24/233،علوم اسلامیہ)
کل سجدۃ وجبت فی الصلاۃ ولم تؤد فیھا سقطت ولم یبق السجود لھا مشروعات لفوات محلہ واثم من لم یسجد فتلزمہ التوبۃ.
وکذافی الھندیة:(1/134،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/172،میزان)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/441،رشیدیہ)
وکذافی شرح العینی:(1/92،ادارة القرآن)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(181،بشری)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(2/468،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1129،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/287،طارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7،9،1443/2022،4،9
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:42

فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا سنت ہے یا بدعت؟ یعنی امام اور مقتدی ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا مانگ سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر اجتماعی دعا ثابت نہیں تو کیا انفرادی دعا ہاتھ اٹھا کر مانگ سکتے ہیں ؟

الجواب حامداًومصلیاً

حضور اکرمﷺ نے متعدد احادیث میں فرض نمازوں کے بعد دعا کی ترغیب دی ہے اور اس کو قبولیت دعا کے مواقع میں شمار کیا ہے اور فقہاء امت نے فرض نمازوں کے بعد دعا کو مستحبات میں شمارکیا ہے ، لیکن اجتماعی دعا ثابت نہیں ،البتہ اگر سنت یا مستحب سمجھے بغیر اجتماعی دعا مانگ لی جائے یا پھر اجتماعی دعاوالی صورت بن جائے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ،اس میں امام اور مقتدی کو ایک دوسرے کا پابند نہیں ہونا چاہیے۔

لمافی جامع الترمذی 🙁 2/ 662، رحمانیہ)
عن ابی امامۃ قال قیل یا رسول اللہ ای الدعاء اسمع ۔۔۔۔ قال جوف اللیل الاخر و دبر الصلوات المکتوبات۔
وفی فیض الباری:(6/225، رشیدیہ)
لا ریب ان الادعیۃ دبر الصلوات قد تورات تواترا لا ینکر اما رفع الایدی ، فثبت بعد النافلۃ مرۃ او مرتین فالحق بھا الفقھاء المکتوبۃ ایضا و ذھب ابن تیمیۃ و ابن القیم الی کونہ بدعۃ بقی ان المواظبۃ علی امر لم یثبت عن النبیﷺ الا مرۃ او مرتین کیف ھی ؟ فتلک ھی الشاکلۃ فی جمیع المستحبات ، فانھا تثبت طورا فطورا، ثم الامۃ تواظب علیھا نعم نحکم بکونھا بدعۃ اذا افضی الامر الی النکیر علی من ترکھا۔
وکذافی مجمع الزوائد :(10/194،دار الکتب العلمیة)
وکذافی فتح الباری:(11/160،قدیمی)
وفیہ ایضا :(11/160،قدیمی)
وکذافی اعلاء السنن :(3/194،علووم اسلامیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/4/1443-2021/11/19
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:115

اعتکاف کرنے کی نذر مانی ہے تو اعتکاف کرنے کے لیے روزہ رکھنا ضروری ہے یانہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

نذر اعتکاف کے لیے بھی روزہ رکھنا ضروری ہے۔

لمافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(268،بشری)
” لایصح الاعتکاف الواجب ای :المنذور الا بالصوم لان الصوم شرط للاعتکاف الواجب۔ “
وفی در المختار مع الرد المحتار:(3/496،دارالمعرفہ)
وشرط الصوم) لصحۃ (الاول) اتفاقا (فقط) علی المذھب (فلو نذر اعتکاف لیلۃ لم یصح )(فی حاشیتہ) لو قال للہ علیّ ان اعتکف شھرا بغیر صوم فعلیہ ان یعتکف و یصوم۔
وکذافی التجنیس والمزید:(2/443،ادارة القران)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/276،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ السلامی وادلتہ:(3/1762،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/432،طارق)
وکذافی الھندیة:(1/211،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/225،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفایق:(2/50،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15،8،1443-2022،3،19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:67

پاؤں کے ناخن کاٹنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

کتب حدیث میں ناخن کاٹنے کا مسنون طریقہ تو مذکور نہیں،البتہ پاؤں کے ناخن کاٹنے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ دائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی سے انگوٹھے تک اور پھر بائیں پاؤں کےانگوٹھے سے چھوٹی انگلی تک کاٹنے چاہییں۔

لمافی فتح الملھم:(2 /332 ،دار العلوم)
” یبدا فی الرجلین بخنصر الیمنی الی الابھام ، وفی الیسری بابھامھا الی الخنصر۔ “
وفی الھندیہ:(5/358،رشیدیہ)
” فی الرجل یبدا بخنصر الیمنی و یختم بخنصر الیسری۔”
وکذافی فتح الباری:(10/423،قدیمی)
وکذافی الشامیة :(5/260،دار احیا ءالتراث)
وکذافی بذل المجھود:(17/42،قدیمی)
وکذافی مرقاةالمفاتیح :(8/209،التجاریة)
وکذافی مجمع الانھر:(4/226،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/4/1443-2021/11/18
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:110

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ گانا بغیر موسیقی پڑھنا، گنگناناجائز ہے، گانا پڑھنا حرام نہیں، موسیقی حرام ہے، اس بارے میں بتا دیں ۔

الجواب حامداًومصلیاً

بغیر میوزک کے ایسے اشعار و گانے پڑھنا اور گنگنانا جائز ہیں، جن میں خلاف شریعت کوئی بات نہ ہو، مثلاً اللہ تعالی، رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی طرف جھوٹی بات منسوب نہ ہو، شرکیہ یا کفریہ کلام نہ ہو، فحاشی، عریانی، اور گناہ کی دعوت پر مشتمل مضامین نہ ہو، کسی متعین نامحرم یا بے ریش لڑکے کی تعریف وتحسین نہ کی گئی ہواور ان کی وجہ سے فرائض وواجبات میں سستی اور غفلت لازم نہ آئے وغیرہ۔

لمافی الشامیة:(9/578،دارالمعرفہ)
قراءۃ الاشعار ان لم یکن فیھا ذکر الفسق والغلام نحوہ لاتکرہ وفی الظہیریۃ قیل معنی الکراھۃ فی الشعر ان یشغل الانسان عن الذکر والقراءۃ فلابأس بہ
واعلم ان ماکان حراما من الشعر مافیہ فحش او ھجو مسلم او کذب علی اللہ تعالی او رسولہ ﷺاو علی الصحابۃ او تزکیۃ النفس اوالکذب اوالتفاخر المذموم اوالقدح فی الانساب وکذا مافیہ وصف امرد او امرأۃ بعینھا اذا کان حیین فانہ لایجوز وصف امرأۃ معینۃ حیۃ ولا وصف امرد معین حیّ حسن الوجہ بین یدی الرجال ولافی نفسہ
وفی الخانیة علی ہامش الھندیة:(3/406،رشیدیہ)
اما استماع صوت الملاھی کالضرب بالقضیب وغیر ذلک حرام ومعصیۃ لقولہ علیہ الصلوۃوالسلام استماع الملاھی معصیۃ ۔۔۔۔ اما قراءۃ اشعار العرب ماکان فیھا من ذکر الفسق والخمر والغلام فمکروہ لانہ ذکر الفواحش
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(18/187،فاروقیہ)
قراءۃ الاشعار ان لم یکن فیھا ذکر الفسق الغلام ونحوہ لا یکرہ و فی الظہیریۃ وقیل معنی الکراھۃ فی الشعر ان یشتغل الانسان فیشغلہ ذلک عن قراءۃ القرآن والذکر، اما اذا لم یکن ذلک فلابأس بہ ۔۔۔۔استماع صوت الملاھی کالضرب بالقصیب وغیر ذلک حرام من الملاھی۔۔۔۔ وفی النوازل قراءۃ شعر الادب ان کان فیہ ذکر الفسق والخمر والغلام یکرہ۔
وکذافی الفقہ السلامی وادلتہ:(4/2664،رشیدیہ) وکذافی المحیط البرھانی:(8/77،علوم اسلامیہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/346،رشیدیہ) وکذافی الھندیة:(5/351،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10،7،1443/2022،2،12
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:152