دیہاتوں میں رات کے وقت اسپیکر میں قرآن پڑھا جاتا ہے(شبینہ)اس کا پڑھنا شرعاً کیسا ہے۔کیا ثواب ہو گا یا گناہ ہو گا؟

الجواب حامداًومصلیاًومسلماً

مروجہ شبینہ حضورﷺ اور صحابہ کرام سے ثابت نہیں،اس لئے ناجائز ہےاور اس میں اور بھی بہت سے مفاسد پائے جاتے ہیں مثلاً(1)عموماً یہ دکھلاوے اور ریا کے لئے ہوتا ہے۔(2)لوگ سننے میں سستی کرتے ہیں ۔(3)حفاظ جلدی کی وجہ سے تجوید اور ترتیل کا خیال نہیں رکھتے۔(4)روشنی اور دیگر اشیاء میں اسراف سے کام لیا جاتا ہے۔(5)عموماً اسپیکر کے استعمال کی وجہ سے لوگوں کے آرام میں خلل آتا ہے،نیز جب قرآن پڑھا جائے تو اس کا سننا واجب ہے لمبی قرات کی وجہ سے خاموشی سے سننا ممکن نہیں ہوتا لھذا لوگوں کو قرآن نہ سننے کے گناہ میں ملوث کیا جاتا ہے۔

لما فی القرآن الکریم(الاعراف:204)
”واذا قریٔ القرآن فاستمعوا وانصتوا لعلکم ترحمون․“
وفی صحیح البخاری(1/6،قدیمی کتب خانہ)
عن عبد اللہ بن عمرو عن النبیﷺ قال :المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ والمہاجر من ھجر ما نھی اللہ عنہ
وفی مشکوٰۃ المصابیح(1/27،رحمانیہ)
”عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت :قال رسول اللہ ﷺ من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد․“
وکذا فی مشکوٰہ المصابیح(1/13،رحمانیہ)     وکذا فی صحیح البخاری(2/1086،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی الفتاویٰ الھندیہ(5/317،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساھیوال
20/5/1443-2021/12/25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:91

سجدہ میں دونوں کہنیوں کے ذریعے رانوں کا سہارا لینا اور سجدہ میں جاتے اور اٹھتے وقت یا حالت سجدہ میں دونوں پاؤں کو زمین سے اٹھا لینے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً ومسلماً

سجدہ میں کہنیوں کا رانوں کےساتھ ملانا خلاف سنت ہے۔سجدہ میں جاتے اور اٹھتے وقت جان بوجھ کر پاؤں اٹھانا مکروہ ہے اور دوران سجدہ اگر دونوں پاؤں اس طرح اٹھائے کہ پورے سجدے میں ایک انگلی ایک لمحہ کے لیے بھی نیچے نہ لگی تو نماز درست نہیں ہو گی۔

لما فی الھندیہ(1/70،رشیدیہ)
ولو سجد ولم یضع قدمیہ علی الارض لا یجوز ولو یضع احداھما جاز مع الکراھۃ ان کان بغیر عذر،وضع القدم بوضع اصابعہ وان وضع اصبعا واحدۃ فلو وضع ظھر القدم دون الاصابع بان کان المکان ضیّقاً ان وضع احداھما دون الاخری تجوز صلاتہ کما لو قام علیٰ قدم واحدۃ
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید(1/207،الطارق)
ویکرہ تحریماً رفع القدمین عن الارض اثناء السجود ․ ومن السنۃ ان یوجہ اصابع قدمیہ نحو القبلۃ
وفی البحر الرائق(1/559،رشیدیہ)
قولہ (وابدی ضبعیہ )ای اظھر عضدیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔انما یظھرھما لحدیث الصحیحین انّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان اذا سجد فرج بین یدیہ حتی یبدو بیاض ابطیہ․ولحدیث مسلم ”اذا سجدت فضع کفیک وارفع مرفقین
وکذا فی التنویر و الدر(2/167،رشیدیہ)        وکذا فی المحیط البرھانی(2/123،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیہ(2/178،فاروقیہ)         وکذا فی البحر الرائق(1/555،رشیدیہ)
وفی الفتاویٰ الھندیہ(1/75،رشیدیہ)      وفی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح(283،قدیمی کتب خانہ)
وفی الھدایہ(1/100،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1443-2021/12/15
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:198

مدرّس نے سورۃ علق پڑھائی اور آٹھ طلبہ نے اجتماعی طور پر پڑھی ،کتنے سجدے کرنے ہوں گے؟

الجواب حامداً ومصلیاًومسلماً

مذکورہ صورت میں مدرّس اور تمام طلبہ پر ایک ایک سجدہ واجب ہوا ہے۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید (1/288،الطارق)
ولو کرّر ھا فی مجلس واحد، کفتہ سجدۃ واحدۃ، بشرط اتّحاد الآیۃ والمجلس،وتکفی سجدۃ واحدۃ اذا تکرّر سماعہ لھا فی مجلس واحد، وعلیٰ ھذا لو قرءھا جماعۃ،وسمعھا بعضھم من بعض، کفتھم سجدۃ واحدۃ، ویتکرّر وجوب السجود بتکرّر مجلس التلاوۃ، او باختلاف المتلو والمسموع
وفی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح(494، قدیمی کتب خانہ)
قولہ: (کمن کرّرھا فی مجلس واحد )لا فرق فی المکرر بین ان یکون واحداً، او متعدداً کان سمع السجدۃ من رجل ،ثم سمعھا فی ذلک المجلس من آخر،ثم قرءھا فیہ فانہ یکفیہ سجدۃ واحدۃ
و کذا فی الفتاویٰ الھندیہ( 1/134،رشیدیہ)    وکذا فی المبسوط(2/5،دار المعرفہ )
وکذا فی بدائع الصنائع(1/431،رشیدیہ)    وکذا فی المحیط البرھانی(2/364،دار احیاءتراث العربی)
وکذا فی خلاصہ الفتاویٰ(1/184، رشیدیہ)        وفی الشامیہ(2/712،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیہ(2/422،فاروقیہ)       وکذا فی البحر الرائق(2/220،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاٰء جامعۃ الحسن ساھیوال
22/5/1443-2021/12/27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:69

زکوٰۃ کی مد سے ایسی چیز لے کر کسی کو دی جائے جو اس کی ضرورت نہ ہو اور وہ مستحق زکوٰۃ بھی ہو ،ایسی چیز اس لیے لیکر دی تاکہ جس کے کام کی ہے وہ اس کو دے دے حالانکہ جس کے کام کی ہے وہ صاحب نصاب ہے ،یہ جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاًو مسلماً

مستحق کو مالک بنا کر وہ چیز دے دی جائے تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی اور مستحق بغیر کسی زبردستی اور دباؤ کے اپنی مکمل رضا مندی سے کسی مالدار کو وہ چیز دے تو یہ جائز ہے۔مگر اس طرح سے پلاننگ کرکے مستحق کو زکوٰۃ دینا نہایت قبیح ہے۔

لما فی البحر الرائق(2/428،)
و للغنی ان یشتری الصدقۃ الواجبۃ من الفقیر و یا کلھا، وکذا لو وھبھا لہ لما علم ان تبدل الملک کتبدل العین،فلو اباحھالہولم یملکھا منہ ذکر ابو المعین النسفی انہ لا یحل تناولہ للغنی ․و قال خواھرزادہ:یحل ․کذا فی الفوائد الناجیہ ․والذی یظھر ترجیح الاول لان الاباحۃ لو کانت کافیۃلما قال علیہ الصلاۃوالسلام فی واقعۃ بریرۃ”وھو لھا صدقۃ ولنا ھدیۃ
وفی حاشیہ الطحطاوی علی الدر(4/63،رشیدیہ)
قولہ واصلہ حدیث بریرۃ )قال فی التبیین وتبدل الملک کتبدل العین فصار کعین آخر والیہ اشار النبی صلی اللہ علیہ و سلم بقولہ فی حدیث بریرۃ ھی لھا صدقۃ ولنا ھدیۃ
وکذا فی الشامیہ(9/195،رشیدیہ) وکذا فی البحر الرائق(2/353،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ(3/1810رشیدیہ) وکذا فی التنویر و الدر(3/222،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ(1/170،رشیدیہ) وکذا فی کنز الدقائق(55،حقانیہ)
وکذا فی الھدایہ(1/170،رشیدیہ) وکذا فی الشامیہ(9/195،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1443-2021/12/15
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:200

ایک لڑکے کے کسی لڑکی سے ناجائز تعلقات قائم ہوئے جو کہ کچھ عرصہ چلے پھراس لڑکی کی شادی کسی اور سے ہو گئی اور شادی کے پانچ ماہ بعداس لڑکی نے بچہ جنا،اب اس بچے کے نسب اور مزنیہ کے غیر زانی سے ہونے والے نکاح کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیاومسلما

صورت مسئولہ میں مزنیہ کا غیر زانی سے نکاح درست ہےاور بچے کا نسب صرف ماں سے ثابت ہو گا۔

لما فی الفتاویٰ الھند یہ:(1/280،رشیدیہ)
وقال ابو حنیفۃومحمد رحمھما اللہ تعالیٰ: یجوز ان یتزوج امراۃ حاملا من الزنا ولا یطؤھا حتیٰ تضع وقال ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ لا یصح والفتویٰ علیٰ قولھما
وفی فتاویٰ قاضیخان علیٰ ھامش الھندیہ:(1/366،رشیدیہ)
یجوز نکاح الحامل من الزناولا یقر بھا زوجھا حتیٰ تلد فی قول ابی حنیفۃ ومحمد رحمھما اللہ تعالیٰ وقال ابو یوسف رحمھما اللہ تعالیٰ لایجوز نکاحھا واذا رای الرجل امراۃ تزنی فتزوجھا جاز النکاح وللزوج ان یطا ھا من غیر استبراء وقال محمد رحمھ اللہ تعالیٰ لا احبّ لہ ان یطاھا من غیر ان یستبر ئھا
وفی البحر الرائق:(9/391،رشیدیہ)
ویرث ولد الزنا واللعان من جھۃ الام فقط لان نسبہ من جھۃ الاب منقطع فلا یرث بہ ومن جھۃ الام ثابت فیرث بہ امہ واختہ من الام بالفرض لا غیر
وکذا فی الشامیہ:(4/138،رشیدیہ)         ( وکذا فی بدائع الصنا ئع:(2/550،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق :(3/187،رشیدیہ)       وکذا فی الفتا ویٰ التا تار خانیہ:(4/67،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/108،دار احیاءتراث بیروت)        وکذافی مجمع الانھر:(1/485،المنار)
وکذا فی فتح القدیر:(3/232،رشیدیہ)          وکذا فی الھدایہ:(2/18،البشریٰ)
وکذا فی الموسو عہ الفقھیہ:(40/237،علوم اسلامیہ)     وکذا فی تکملہ فتح الملھم:(1/239، دارالعلوم )

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/2/1443-2021/9/25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:19

اگر کوئی شخص بیماری کی وجہ سے رمضان کے روزے نہ رکھ سکا تو کیا اس پر صدقۃ الفطر لازم ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

جی صدقۃ الفطر تو بھی لازم ہے۔

لمافی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/433،رشیدیہ)
المسافر والمریض اذا افطر فی رمضان لا تبطل عنھا صدقۃ الفطر لان سبب الوجوب موجود فی حقھما وھو طلوع الفجر یوم الفطر
وفی فتاویٰ قاضیخان علی ھامش الھندیہ:(1/230،رشیدیہ)
وتجب صدقۃ علی من یسقط عنہ الصوم لمرض او کبر
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(3/462،فاروقیہ)
وکذافی فتاویٰ نوازل:(142،حقانیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(158،زمزم)
وکذافیالمبسوط :(3/104،دارالمعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
18،9،1443/2022،4،20
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:8

ذکر بالجہر کے بارے میں کیا حکم ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں؟

الجواب حامدا ومصلیا

ذکر بالجہر جائز ہے بشرطیکہ آوازبہت زیادہ بلند نہ ہو اور کسی کی بے اکرامی اور تکلیف کا سبب نہ ہو۔

لمافی الصحیح لمسلم:(2/345،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول اللہ عز وجل انا عند ظن عبدی بی وانا معہ حین یذکر نی فی نفسہ ذکرتہ فی نفسی وان ذکرنی فی ملأذکرتہ فی ملأ خیر منھم وان تقریب منی شبرا تقربت الیہ ذراعا وان تقرب الی ذراعا تقربت منہ باعا وان اتانی یمشی اتیتہ ھرولۃ․
وکذافی تفسیر المظھری:(3/40،رشیدیہ)
لعل الصوفیۃ الجشتیۃ قدس اللہ تعالی اسرارھم اختاروا الجھر للمبتدی لاقتضاء حکمۃ وہی طرد الشیطان ودفع الغفلۃ والنسیان وحرارۃ القلب و اشتغال نائر ۃ الحب بالریاضۃ
وکذافی الفتاویٰ الشامیہ:(9/656،رشیدیہ)
واما رفع الصوت بالذکر فجائز کما فی الاذان والخطبۃ والجمعۃ والحج۔ وقد حرر المسا لۃ فی الخیر یہ و حمل ما فی فتاوی قاضی علی الجہر المضر وقال ان ھناک احادیث اقتضت طلب الجہر ، واحادیث طلب الاسرار ، والجمع بینہما بان ذلک یختلف باختلاف الاشخاص والاحوال ، فالاسرارافضل حیث کیف الریاء او تاذی المصلین او النیام․والجہر افضل حیث خلا مما ذکر انہ اکثر عملا ولتعدی فائدتہ الی السامعین ویوقظ قلب الذاکرفیجمع ھمہ الی الفکر و یصرف سمعہ الیہ و یطرد النوم ویزید النشاط
وکذافی جامع الترمذی:(2/677،رحمانیہ)
وکذافی التفسیر المنیر:(5/240،امیر حمزہ کتب خانہ)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(5/315،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:طیب کان اللہ لہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
9/7/1443-2022/2/11
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:168

حالت اعتکاف میں مسجد میں موبائل پر فون کے ذریعے دکان،گھر کاروبار سے متعلق رابطہ کر سکتا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

دکان، گھر،کاروبارسے متعلق بوقت ضرورت،بقدر ضرورت رابطہ کر سکتا ہے،بلا ضرورت بات کرنا یا ہر وقت اسی میں لگے رہنا اعتکاف کے آداب کے خلاف ہے۔

لمافی الفتاویٰ الھندیہ:(1/212،رشیدیہ)
ولا باس ان یتحدث بما لا اثم فیہ وفی صفحۃ 213 ولا باس للمعتکف ان یبیع ویشتری الطعام وما لا بد منہ واما اذا اراد ان یتخذ متجراً فیکرہ لہ ذلک
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1765،رشیدیہ)
فلا باس بان یبیع ویبتاع فی المسجد من غیر ان یحضر السلعۃ، لانہ قد یحتاج الی ذلک بان لا یجد من یقوم بحاجتہ،لکن یکرہ تحریماً البیع لتجارۃ واحضار المبیع او السلعۃ الی المسجد ۔
وکذا فی الشامیہ(3/506،رشیدیہ)      وکذا فی مجمع الانھر(1/379،المنار)
وکذا فی الھدایہ(1/364،البشریٰ)    وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیہ(3/464،فاروقیہ)
وکذا فی فتاویٰ قاضیخان علی ھامش الھندیہ(1/222،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق(2/531، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/8/1443-2022/3/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:47

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو خلوت صحیحہ کے بعد تین طلاقیں دیں تو اسکی عدت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً ومسلماً

صورت مذکورہ میں اگر عورت کو حیض آتا ہے تو تین حیض ورنہ تین ماہ عدت ہو گی۔

لما فی الفتاویٰ الھندیہ(1/526،رشیدیہ)
رجل تزوج امراۃ نکاحاً جائزاً فطلقھا بعد الدخول او بعد الخلوۃ الصحیحۃکان علیھا العدۃ
وفی الموسوعہ الفقہیہ(29/302،مکتبہ علوم اسلامیہ)
تجب العدۃ علی المراۃ بالفرقہ بین الزوجین بعد الدخول بسبب الطلاق او الموت او الفسخ او اللعان ،کما تجب بالموت قبل الدخول و بعد عقد النکاح الصحیح․واما الخلوۃ فقد اختلف الفقھاء فی وجوب العدۃ بھا ،فذھب الحنفیۃ والمالکیۃ والحنابلۃ الی انہ تجب العدۃ علی المطلقۃ بالخلوۃ الصحیحۃ فی النکاح الصحیح
وکذا فی التنویر و الدر(5/182،رشیدیہ)           وکذا فی البحرالرائق(4/216،رشیدیہ)
وکذا فی فتاویٰ قاضیخان علی ھامش الھندیہ(1/549،رشیدیہ)        وکذا فی بدائع الصنائع(3/302،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیہ(5/226،فاروقیہ)        وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید(2/205،الطارق)
وکذا فی الفتح القدیر(4/275،رشیدیہ)        وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ(9/7166،رشیدیہ)

واللہ اعلم با لصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1443-2021/12/15
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:199

نماز کے شروع میں ثناء کے بجائے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ لی تو کیا سجدہ سہو کے بغیر نماز ہو جائے گی یا سجدہ سہو لازم ہو گا؟

الجواب حامداًومصلیاًومسلماً

نماز میں ثناء پڑھنا سنت ہے اور سنت چھوڑنے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا لہذا صورت مسئولہ میں بغیر سجدہ سہو کے نماز ہو جائے گی۔

لما فی التنویر والدر(2/207،رشیدیہ)
وسننھا )ترک السنۃ لا یوجب فساداً ولا سھواً بل اساءۃ لو عامداً غیر مستخف․
وفی الشامیۃ تحت قولہ :(لا یوجب فساداًولاسھواً )ای: بخلاف ترک الفرض فانہ یوجب الفساد ،وترک الواجب فانہ یوجب سجود السھو
وفی مراقی الفلاح(450،قدیمی کتب خانہ)
لترک واجب )بتقدیم،اوتأخیر ،اوزیادۃ او نقص لا سنۃ لان الصلاۃ لا توصف بالنقصان علی الاطلاق بترک سنۃ․
وکذا فی فتاویٰ الھندیہ(1/72،126،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید(1/279،الطارق)
وکذا فی خلاصہ الفتاویٰ(1/51،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیہ(2/655،رشیدیہ)

واللہ اعلم باصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساھیوال
22/5/1443-2021/12/27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:68