کہ ایک عورت کی عدت وفات 15 رمضان کے دن شروع ہوئی ،اس کی عدت وفات کب ختم ہو گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً ومسلماً

یہ عورت ا یک سو تیس دن عدت گزارے گی۔

لما فی القرآن الکریم:
”والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجاً یتربصن بانفسھنّ اربعھ اشھر وعشراً․“
وفی الھندیہ :(1/529،رشیدیہ)
عدۃ الحرۃفی الوفاۃ اربعۃاشھروعشرۃ ایام سواء کانت مدخولاً بھا اوّلا مسلمۃ او کتابیۃ تحت مسلم صغیرۃ او کبیرۃاو آیسۃ وزوجھا حرّ او عبد حاضت فی ھذہ المدۃ او لم تحض ولم یظھر حبلھا کذا فی فتح القدیر، ھذہ العدۃ لا تجب الا فی نکاح صحیح کذا فی السراج الوھاج،المعتبر عشر لیال وعشرۃ ایام عند الجمھور
وفی المبسوط:(6/30،دارالمعرفہ بیروت)
فاما عدۃ الوفاۃ فانھا لا تجب الا عن نکاح صحیح ویستوی فیھ المدخول بھا وغیر المدخول بھا صغیرۃ کانت او کبیرۃ حتیٰ اذا کانت حرۃ مسلمۃ او کتابیۃ تحت مسلم فعدتھا ما قال اللہ تعالیٰ :والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجاً یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشراً
وکذا فی احکام القرآن :(1/564،قدیمی کتب خانہ)         وکذا فی صحیح البخاری:(2/315،رحمانیہ)
وکذا فی التنویروالدر:(5/190،رشیدیہ)          وکذا فی بدائع الصنائع :(3/309،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(5/228،فاروقیہ)          وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(29/314،علوم اسلامیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(4/281،رشیدیہ)                وکذا فی الھدایہ:(2/162،البشریٰ)
وکذا فی البحر الرائق:(4/222،رشیدیہ)          وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/7181،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساھیوال
18/3/1443-202110//25
جلدنمبر:25 فتوی نمبر:76

ایک عورت غیر مرد کے ساتھ رات کی تاریکی میں بھاگ جاتی ہے اور اس پر زنا ثابت ہو جاتا ہےاور اس کا تعلق پہلے بھی ثابت ہو جاتا ہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ گاؤں والے اس لڑکی کو جان سےمارنا چاہتے ہیں غیرت کی وجہ سے کہ اس نے ہماری عزت کا خیال نہیں رکھالہٰذا لڑکی اور لڑکے کے بارے میں شرعی حکم بتائیں ۔ اور ان دونوں گروہوں کے درمیان صلح کا شرعی حکم کیا ہے؟ لڑکا اگر رشتہ دے کر صلح کر لے تو کر سکتا ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

شرعی اعتبار سےگاؤں والوں کا لڑکی اور لڑکے کو قتل کی سزادینے کا نہ تو اختیار ہے اور نہ ہی ان کے لیے ایسی سزا دینا جائز ہے گاؤ ں والوں کو چاہیے کہ اولا تر غیب و ترھیب سے اصلاح احوال کی کوشش کریں،اگر ایسا ناممکن نظر آئے تو صلاح احوال کی ایک بہترین صورت یہ بھی ہے کہ ان کا نکاح کرا دیا جائے، باقی جرمانے کے طور پر مال یا رشتہ لینا درست نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:طیب کان اللہ لہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
10/7/1443-2022/2/12
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:179

قربانی کا گوشت پکانے کے لیے ہنڈیا میں ڈالا گیا تھوری دیر کے بعد ایک بوٹی اس میں سے نکال کر دیکھی تو اس بوٹی کے ریشوں میں لفظ ”اللہ “لکھا ہوا واضح طور پر نظر آ رہا تھا ،اس بوٹی کا کیا کیا جائے پکا کر کھا لیں یا اس کو محفوظ رکھیں یا زمین میں دفن کر دیں؟

الجواب حامداً ومصلیاًومسلماً

عام طور پر اس طرح کا تصور محض وہم و خیال ہوتا ہے،لہذا ایسے گوشت کو پکا کر کھانے میں کوئی حرج نہیں۔

واللہ اعلم باصواب
کتبہ طیب عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساھیوال
24/3/1443-2021/10/30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:77

سنار کے پاس ایک آدمی آ کر قرض مانگتا ہے ،سنار کہتا ہے رقم نہیں ہے البتہ سونا ہے ۔ آدمی کہتا ہے مجھے رقم کی ضرورت ہے کسی طرح میرا مسئلہ حل فرما دیں ،سنار کہتا ہے سونا مجھ سے ادھار خرید کر دوسرے سنار کے پاس جاکر بیچ دو اب سنار اس کو سونا موجودہ مارکیٹ ریٹ سے زیادہ مہنگے ریٹ پر فروخت کرتا ہے ۔پھر آدمی جب وہی سونا دوسرے سنار کے پاس فروخت کرتا ہے،تو وہ سنار اس آدمی سے سونا موجودہ مارکیٹ ریٹ سے خریدتا ہےجس سے آدمی کو فوراً نقصان تو ہوتا ہےلیکن اس کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا لین دین کرنا دونوں سناروں اور اس آدمی کے لیے جائز ہے یا نہیں ؟ ورنہ متبادل صورت تجویز فرما دیں۔

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگر کبھی کبھار ایسی صورت پیش آ جائے تو درست ہے لیکن دوسرے کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا اخلاقاً درست نہیں ، اگر مستقل یہی معمول بنا لیا کہ ہر قرض کا مطالبہ کرنے والے کو مہنگا بیچنا شروع کر دیا تو یہ درست نہیں کیونکہ یہ سود کمانے کا ایک حیلہ ہی بن جائے گا۔

لمافی التنویر والدر:(7/415،رشیدیہ)
شراء الشئ الیسیر بثمن غال لحاجۃ القرض یجوز ،ویکرہ واقرہ المصنف.
وفی الشامیۃ: قولہ (یجوز ویکرہ) ای: یصح مع الکراھۃ ،ھذا لو الشراء بعد القرض لما فی الذخیرۃ: وان لم یکن النفع مشروطاً فی القرض ولکن اشتری المستقرض من القرض بعد القرض متاعاً بثمن غال فعلی قول الکرخی: لا باس بہ،وقال الخصاف: ما احب لہ ذلک، وذکر الحلوانی انہ حرام
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/222،الطارق)
واختف آراء المشایخ فی شراء الشئ الیسیر بثمن غال لحاجۃ القرض،قال فی الدر المختار یجوز ویکرہ
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(3/224،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(4/24،دار المعرفہ)
وکذافی الشامیہ:(7/433،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(6/261،رشیدیہ)
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(10/13،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
25،7،1443/2022،2،27
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:7

اگر زمین میں فصل کے ساتھ گھاس اگ گئی ہو تو اس میں عشر واجب ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلّیاومسلّما

اگر اس گھاس کو بھی بیچا جاتا ہے تو اس پر عشر ہے،ورنہ نہیں۔

لما فی الفتاویٰ الھندیہ(1/186،رشیدیہ)
فلا عشر فی الحطب والحشیش والقصب والطرفاء والسعف لانّ الاراضی لا تستنمی بھذہ الاشیاء بل تفسدھا حتیٰ لو استنمیٰ بقوائم الخلاف والحشیش والقصب و غصون النخل او فیھادلب اوصنوبرونحوھا وکان یقطعہ ویبیعہ یجب فیہ العشر
وفی بدائع الصنائع(2/178،رشیدیہ)
لا عشر فی الحطب والحشیش والقصب الفارسی،لان ھذہ الاشیاء لا تستنمی بھا الارض ولا تستغل بھا عادۃ لان الارض لا تنمو بھا بل تفسد فلم تکن نماء الارض حتیٰ قالوا فی الارض اذا اتخذھا مقصیۃ
وکذا فی الھدایہ(1/183،رشیدیہ)           وکذا فی الشامیہ(3/311،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق(1/291،امدادیہ)           وکذا فی المحیط البرھانی(3/271،دار احیاء تراث العربی)
وفی النھر الفائق(1/454،قدیمی کتب خانہ)         وکذا فی معارف السنن(5/202،ایچ ایم سعید)
وفی فتاویٰ قاضیخان علیٰ ھامش الھندیہ(1/276،رشیدیہ)          وکذا فی خلاصہ الفتاویٰ(1/247،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساھیوال
17/4/1443-2021/11/13
جلدنمبر:25 فتوی نمبر:143

میں پاکستانی ہوں لیکن مستقل عمان میں رہتا ہوں،وہاں سے پاکستان آنے کے لئے ائیر پورٹ پر آیا ،ائیر پورٹ شہر کی حدود کے اندر ہے تو میں قصر نماز پڑھوں یا پوری؟

الجواب حامداًومصلیاً ومسلماً

صورت مسئولہ میں پوری نماز پڑھی جائے گی۔

لما فی القدوری(35،الخلیل)
من خرج مسافراً صلیٰ رکعتین اذا فارق بیوت المصر ولا یزال علی حکم المسافر حتی ینوی الاقامۃ فی بلدۃ خمسۃ عشر یوماً فصاعداً فیلزمہ الاتمام فان نوی الاقامۃ اقل من ذلک لم یتم
وفی الشامیہ(2/723،رشیدیہ)
قولہ :(من جانب خروجہ الخ) قال فی شرح المنیۃ: فلا یصیر مسافراً قبل ان یفارق عمران ما خرج منہ من الجانب الذی خرج ،حتی لو کان ثمہ محلۃ منفصلۃ عن المصر ،وقد کانت متصلۃ بہ لا یصیر مسافراً ما لم یجاوزھا
وکذا فی الفتاویٰ الھندیہ(1/139،رشیدیہ)                 وکذا فی المبسوط(1/237،دار المعرفہ)
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ(2/1346،رشیدیہ)            وکذا فی المحیط البرھانی(2/387،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی فتح القدیر(2/32،رشیدیہ)         وکذا فی تبیین الحقائق(1/209،امدادیہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاویٰ(1/197،رشیدیہ)               وکذا فی البحر الرائق(2/226،رشیدیہ)

وللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/5/1443-2021/12/19
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:41

عورتوں کا مسجد میں صلاۃ التسبیح کی جماعت کروانا کیسا ہے ؟جبکہ امام عورت ہو،نیز اگر امام مرد ہو توپھر کیا حکم ہے ؟

الجواب حامداًومصلیاًومسلماً

صلاۃ التسبیح کی تو جماعت ہی درست نہیں خواہ عورتوں کی ہو یا مردوں کی اور پھر عورتوں کا مسجد میں جاکر جماعت کروانا یہ غلط پر غلط ہے۔

لما فی الفتاوٰی الھندیہ:(1/83،رشیدیہ)
”التطوع بالجماعۃ اذا کان علی سبیل التداعی یکرہ.“
وفی بدائع الصنائع:(1/384،رشیدیہ)
الجماعۃ انّما تجب علی الرجال العاقلین الاحرار القادرین علیھا من غیر حرج ،فلا تجب علی النساء والصبیان ۔۔۔۔۔۔۔۔اما النساء فلان خروجھن الی الجماعات فتنۃ
وفی المختصر القدوری:(29،مکتبہ الخلیل)
ویکرہ للنساء ان یصلین وحدھن بجماعۃ فان فعلن وقفت الامامۃ وسطھن کالعراۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویکرہ للنساء حضور الجماعۃ
وکذافی الشامیہ:(2/211،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(2/292،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/224،ادارہ القرآن)
وفی الفتاویٰ الھندیہ:(1/82،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
17/7/1443-2022/2/19
جلدنمبر:26 فتوی نمبر:195

عمامہ کے شملہ کی شرعی مقدار کیا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاًو مسلماً

شملہ کی مختلف مقداریں مذکور ہیں۔چار انگلیاں،ایک بالشت،کمر کے آخر تک، کمر کے درمیان تک اور یہ تمام مقداریں جائز ہیں،لیکن بعض فقہاء نے کمر کے درمیان تک کو مستحب قرار دیا ہے۔

لما فی الفتاویٰ الھندیہ(5/330،رشیدیہ)
ندب لبس السواد وارسال ذنب العمامۃ بین الکتفین الی وسط الظھر ․واختلفو فی مقدار ما ینبغی من ذنب العمامۃ منھم من قدّر بشبر ومنھم من قال الی وسط الظھر ومنھم من قال الی موضع الجلوس
وفی المحیط البرھانی(8/38،دار احیاء تراث العربی )
اختلفوا فی مقدار ما ینبغی ان یکون من ذنب العمامۃ،منھم من قدّرہ بشبر،ومنھم من قدّرہ الی وسط الظھر،ومنھم من قال :الی موضع الجلوس
وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیہ(18/105،فاروقیہ)       وکذا فی عمد ۃ القاری(21/307،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی عون المعبود (11/80،قدیمی کتب خانہ)                      وکذا فی اعلاء السنن(17/366،ادارہ القرآن)
وکذا فی الکتاب المصنف(5/178،دارالکتب العلمیہ)             وکذا فی تحفہ الاحوذی(5/413،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی التنویر والدر(10/521،رشیدیہ)
وکذافی ھامش المواھب اللدنیہ علی الشمائل(101،ادارہ تالیفات اشرفیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
13/5/1443-2021/12/18
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:30

بچے کا عقیقہ کرنا واجب ہے،سنت ہے یا مستحب ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

مستحب ہے۔

لمافیالفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(5/227،الطارق)
العقیقۃ ھی اسم لما یذبح عن المولود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واختلف فی حکمھا، فعند فقھائنا قولان: اباحۃ او تطوع،وقد ذکرھما ابن عابدین فی آخر کتاب الاضحیۃ فقال: یستحب لمن ولد لہ ولد ان یسمیہ یوم اسبوعہ ویحلق راسہ ویتصدق عند الائمۃ الثلاثۃ بزنۃ شعرہ فضۃًاو ذھباً ،ثم یعق عند الحلق عقیقۃ اباحۃ علی ما فی الجامع للمحبوبی،او تطوعاً علی ما فی شرح الطحاوی۔
وفی اعلاء السنن:(17/114،ادارہ القرآن)
ھذا وانما اخذ اصحابنا الحنفیۃ فی ذلک بقول الجمھور وقالوا باستحباب العقیقۃ لما قال ابن المنذر وغیرہ :ان الدلیل علیہ الاخبار الثابتۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعن الصحابۃ والتابعین بعدہ ،قالوا:وھو امر معمول بہ فی الحجاز قدیماً وحدیثاً قال وذکر مالک فی الموطا :انہ الامر الذی لا اختلاف فیہ عند ھم قال :وقال یحییٰ بن سعید الانصاری التابعی، ادرکت الناس وما یدعون العقیقۃ عن الغلام والجاریۃ 0وممن کان یری العقیقۃ ابن عمر وابن عباس وعائشۃ وبریرۃ الاسلمی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وانتشر عمل ذلک فی عامۃ بلد ان المسلمین شرح المھذب ملخصاً، فزعموا ان الامر کان مختلفا فیہ الصحابۃ والتابعین ثم اتفق الجمھور العلماء وعامۃ المسلمین علی استحبابہ ،فاخذوا بہ وافتوا بالاستحباب ووافقوالجمہور۔
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(5/362،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2745،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(9/554،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی (ترجمہ بہشتی زیور):(418،الشریٰ)
وکذافی بدائع الصنائع :(4/204،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15،7،1443/2022،2،17
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:72

ایک آدمی نے طلاق نہیں دی ،اور کہتا ہے کہ میں نے طلاق دی ہے تو اس کا کیا حکم ہے

الجواب حامداًومصلیاًومسلماً

اس کے اقرار کی وجہ سے ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔

لما فی الفتاویٰ التاتارخانیہ(4/401،فاروقیہ)
”اذا قال لامرأتہ ”قد طلقتک “او قال ”انت طالق قد طلقتک امس “وھو کاذب کان طلاقا فی القضاء․“
وفی الفتاویٰ الھندیہ(4/207،رشیدیہ)
اذا اقر انہ طلقھا منذ ثلاثۃ اشھر فان کان تزوجھا منذ شھر لم یقع علیھا شئ وان کان تزوجھا منذ اربعۃ اشھر وقع الطلاق علیھا الا انھا ان صد قتہ فی الاسناد فعدتھا من حین وقع الظلاق علیھا وان کذبتہ فی الاسناد فعدتھا من وقت اقرار الزوج بہ
وکذا فی التنویر والدر(12/125،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط(18/145،دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتاویٰ البزازیہ علی ھامش الھندیہ(4/248،رشیدیہ)

واللہ اعلم باصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساھیوال
22/5/1443-2021/12/27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:71