جبیرہ پر مسح کرنے والے کی امامت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

جائزہے۔

لمافی تنویر مع الدر:(2/405،رشیدیہ)
وصح اقتدءمتوضی)لاماءمعہ(بمتیمم)ولو مع متوضی بسورحمار(وغاسل بماسح)ولو علی جبیرۃ
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/257،فاروقیہ)
ویوم الماسح الغاسل وفی الخانیۃویجوزاقتداءماسح الخف بماسح الخف الخلاصۃ:وفی حق ساحب الجبیرۃ،اختلف المشایخ والاصح انہ یجوز
وکذافی المحیط البرھانی:(2/185،ادارةالقران)
وکذافی الھدایة:(1/113،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/84،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/169،المنار)
وکذافی البحرالرائق:(1/636،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/267،الطارق)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1243،رشیدیہ)
وکذافی الجوھر النیرة:(1/166،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیرغفرلہ
دارالافتاءجامعةالحسن ساہیوال
25،3،1443/2021،11،1
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:98

نماز تراویح پر اجرت لینا کیسا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

جائز نہیں ہے۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/398،الطارق)
فالحاصل أن ماشاع فی زماننا من قراءۃ الأجزاء بالأجرۃ لایجوز،لأن فیہ الأمر بالقراءۃوإعطاءالثواب للآمروالقراءۃ لأجل المال،فإذا لم یکن للقاریٔ ثواب لعدم النیۃ الصحیحۃ،فأین یصل الثواب إلی المستأجرولو لاالأجرۃ ماقرأ أحد لأحد فی ھذا الزمان بل جعلوا القراٰن العظیم مکسبا ووسیلۃ إلی جمع الدنیاوإناللّٰہ وإناالیہ راجعون فالمفتی بہ جواز الأخذاستحسانا علی تعلیم القراٰن لاعلی القراٰۃالمجردۃ
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(399،البشری)
لایجوز أن یستاجر قارئا،لیقرأالقراٰن ویھدی ثوابہ إلی المیت،لأن القاریٔ إذا قراللمال فلاثواب لہ ،فما ذایہدی إلی المیت
وکذافی مجمع الانھر:(3/533،المنار)
وکذافی الشامیة:(9/95،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3821،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(3/301،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/43،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(3/115،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
15،6،1443/2022،1،19
جلدنمبر:26 فتوی نمبر:113

ایک صاحب سودی بنک میں ملازم ہیں اور ان کی آمدنی کا اہم ذریعہ یہی ہے،وہ حج کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو کیا ان کاحج کرنا صحیح ہو گا؟

الجواب حامداومصلیا

حج کے لئے حلال آمدن کا ہونا ضروری ہے،البتہ اگر بنک کی آمدن سے حج کیاتو فرض حج تو ادا ہو جائے گا لیکن ثواب نہیں ملے گا۔

لمافی الھندیة:(1/220،رشیدیہ)
ویجتھد فی تحصیل نفقۃ حلال فانہ لا یقبل الحج بالنفقۃ الحرام مع انہ یسقط الفرض معھاوان کانت مغصوبۃ․
وکذافی الشامیة:(3/519،رشیدیہ)
مطلب:فیمن حج بمال حرام وھنا کذلک فان الحج فی نفسہ مامور بہ وانما یحرم من حیث الانفاق وکانہ اطلق علیہ الحرمۃ،لانہ للمال دخلا فیہ،فان الحج عبادۃ مرکبۃ من عمل البدن والمال کما قدمناہ ولذا قال فی البحرویجتھد فی تحصیل نفقۃ حلال،فانہ لا یقبل بالنفقۃ الحرام………مع انہ یسقط الفرض عنہ معھا ولا تنافی بین سقوطہ وعدم قبولہ،فلا یثاب لعدم القبول ولایعقاب عقاب تارک الحج
وکذافی البحر الرائق:(2/541،رشیدیہ)
وکذافیارشاد الساری:(534،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(17/82،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17/9/1443-2022/4/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر :190

ہمارااینٹوں کا بھٹہ ہے،ہمارے پاس ایک شخص آتاہے اور بغیر دیکھے اینٹوں کاسودہ کر لیتاہےیعنی کہتا ہے کہ 5ہزاراول نمبر اینٹ بھیج دو ہم اینٹوں کی ٹرالی بھیج دیتے ہیں ،جب وہ اینٹیں وصول کرلیتا ہے،اس وقت ہمیں پیسے دے دیتاہے توکیا ہمارااس طرح معاملہ کرنا درست ہے؟

الجواب حامداومصلیا

درست ہے،البتہ خریدنے والے کو اختیار ہےکہ اینٹ پسند ہوتو لےلےورنہ لوٹادے۔

لمافی الفقہ السلامی وادلتہ:(5/3579،رشیدیہ)
أجاز الحنفیۃ خیار الرؤیۃفی شراء مالم یرہ المشتری ولہ الخیار إذارآہ:ان شاءأخذالمبیع بجمیع الثمن وإن شاء ردّہ وکذا أذا قال رضیت ثم رأہ لہ ان یردہ
وکذافی الھندیة:(3/58،رشیدیہ)
من اشتری شیٔا لم یرہ فالبیع جائزولہ الخیار أذا رأہ ان شاء أخذہ بجمیع الثمن وإن شاء ردہ
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/121،الطارق)
وکذافی البحرالرائق:(6/42،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(9/98،فاروقیہ)
وکذافی شرح الوقایة:(3/26،رحمانیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الخنفی :(360،البشری)
وکذافی الھدایة:(3/40،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
11،8،1443/2022،3،15
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:188

کہ بہت سے لوگ آج کل بال اس طرح بنواتے ہیں کہ اوپر سے بڑے ہوتے ہیں اور گدی اور کانوں کےاوپر سے قدرے چھوٹے ہوتے ہیں۔کیا اس طرز کی کٹنگ پر بھی ”قزع“کا حکم لگے گا(جس کی حدیث شریف میں ممانعت آئی ہے) یانہیں؟تفصیل سے بیان کریں۔

الجواب حامداومصلیا

”قزع “اس طرح بال بنوانے کو کہتے ہیں،کہ سر کے بعض حصے کاحلق کروا لیا جائے اور بعض کوچھوڑ دیا جائے،لھذا صورت مسئولہ پر”قزع“ کاحکم تو نہیں لگے گا،البتہ اس طرح کی کٹنگ فیشن کےنام پر بالوں کے بیہودہ اسٹائل اور خالص غیر مسلموں اور فاسق وفاجر لوگوں کاشعار بن چکا ہے لھذاان کے ساتھ مشابہت کی بناء پر ناجائزہوگا۔

لمافی الصحیح المسلم:(2/203،قدیمی کتب خانہ)
عن ابن عمر انّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہی عن القزع قال قلت لنافع وما القزع قال یحلق بعض راس الصبی ویترک بعض
وکذافی الھندیة:(5/357،رشیدیہ)
ولابأس للرجل أن یحلق وسط رأسہ ویرسل شعرہ من غیرأن یفتلہ وان فتلہ فذلک مکروہ لانہ یصیر مشابہا ببعض الکفرۃوالمجوس فی دیارنا یرسلون الشعر من غیر فتل ولکن لایحلقون وسط الرأس بل یجزون الناصیۃ
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(422،البشری)
وکذافی الشامیة:(6/407،ایچ،ایم سعید)
وکذافی الصحیح البخاری:(2/401،رحمانیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2678،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/212،فاروقیہ)
وکذافی سنن ابن ماجہ:(1/394،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
12/5/1443-2021/12/17
جلدنمبر:26 فتوی نمبر:16

آئینہ کے سامنے کھڑےہوکرنمازپڑھنا کیسا ہے،جبکہ حالت قیام میں اگر نظر سامنے کی طرف جائے تو مکمل عکس بھی نظر آتا ہے۔

الجواب حامدامصلیا

اگرآئینہ کی وجہ سے نماز کے خشوع میں خلل واقع ہو تو مکروہ ہے،ورنہ نہیں

لما فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(149،البشری)
یکرہ ان یصلی فی موضع یخاف فیہ علی نفسہ الضحک أوالخلل بالخشوع أو شغل البال
وکذا فی حاشیةطحطاوی:(276،قدیمی کتب خانہ)
ومنھا نظر المصلی سواء کان رجلا أو امرأۃ إلی موضع سجودہ قائما حفظا لہ عن النظر إلی مایشغلہ عن الخشوع
وکذا فی الھندیة:(1/73،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(73،زمزم)
وکذافی فتاوی النوازل:(87،حقانیة)
وکذافی التنویر مع الدر:(2/520،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/164،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفر لہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
14،5،1443/2021،12،19
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:54

کیااونٹ کے دودھ اور پیشاب سے علاج کیاجاسکتاہے؟

الجواب حامداومصلیا

دودھ سے علاج کر سکتے ہیں،البتہ اونٹ کے پیشاب کے متعلق اگر دین دار ماہر ڈاکٹریہ کہہ دیں کہ اس مرض کاعلاج صرف اونٹ کے پیشاب میں ہی ہے تو ضرورت کی وجہ سے جائز ہے ورنہ نہیں۔

لمافی الشامیة:(6/389،ایچ،ایم،سعید)
وجوزہ فی النھایۃونصہ وفی التھذیب :یجوز للعلیل شرب ابول والدم والمیتۃ للتداوی إذااخبرہ طبیب مسلم أنّ شفاءہ فیہ ولم یجد من المباح مایقوم مقامہ
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/313،رشیدیہ)
وأماحدیث العرنیین وأمرہ علیہ السلام لھم بشرب البوال الابل،فکان للتداوی والتداوی بالنجس جائز عند فقد الطاھر الذی یقوم مقامہ
وکذافی شرح معانی الاٰثار:(1/77،رحمانیہ)
وخالفھم فی ذلک اٰخرون فقالواابوال الابل نجسۃ وحکمھاحکم دمائھالاحکم البانھاولحومھاوقالوا امامارؤیتموہ فی حدیث العرنیین فذلک انما کان للضرورۃفلیس فی ذلک دلیل انہ مباح فی غیر حال الضرورۃ لاناقدرأینااشیاءاُبیحت فی الضرورات ولم تبح فی غیر الضرورات
وکذافی التاتارخانیة:(18/141،فاروقیہ)
وکذافی جامع الترمذی:(2/447،رحمانیہ)
وکذافی الصحیح المسلم:(2/67،رحمانیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(9/562،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(5/355،رشیدیہ)
وکذافی فتح الباری:(1/447،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
15،5،1443/2021،12،20
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:80

اندھیرے میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟اوراگر اندھیرے میں نماز پڑھنے کے اعتبار سے فرائض،واجبات اور نوافل میں کوئی فرق ہو حکم کے اعتبار سے تو اسکی رہنمائی بھی فرمائیں۔

الجوب حامداومصلیا

اندھیرے میں نماز پڑھنا جائز ہےاوراندھیرے میں نماز پڑھنے کے اعتبار سےفرائض،واجبات اور نوافل میں حکم کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔

لمافی بدائع الصنائع:(1/309،رشیدیہ)
وان کان عاجزا بسب الاشباہ وھو ان یکون فی المفازۃ فی لیلۃ مظلمۃ او لا علم لہ بالامارات الدالۃ علی القبلۃ،فان کان بحضرتہ من یسالہ عنھا لایجوز لہ التحری لما قلنا بل یجب علیہ السوال
وکذا فی الصحیح البخاری:(1/121،رحمانیہ)
عن عائشۃ رضی اللہ عنہا زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم انھا قالت کنت انام بین یدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورجلای فی قبلتہ،فاذا سجد غمزنی فقبضت رجلی واذا قام بسطھما قالت والبیوت یومئذ لیس فیھا مصابیح
وکذا فی الھندیة:(1/64،رشیدیہ)
رجل صلی فی المسجد فی لیلۃ مظلمۃ بالتحری فتبین انہ صلی الی غیر القبلۃ جازت صلاتہ لانہ لیس علیہ ان یقرع ابواب الناس للسوال عن القبلۃ
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/102،امدادیہ)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(1/70،رشیدیہ)
وکذا فی شرح الوقایة:(158،امدادیہ)
وکذافی الھدایة:(1/92،رشیدیہ)
وکذافی التجنیس والمزید:(1/424،ادارۃ القراٰن)
وکذافی مجمع الانھر:(1/127،المنار)
وکذافی جامع الترمذی:(1/188،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
21،4،1443/2021،11،27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:126

سونے یا چاندی کے زیورات لوگ امانت رکھوانے کے لئے ہمارے پاس آتے ہیں ہم ان سے استعمال کی اجازت مانگیں تواجازت ملنےپر استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟نیز اگر نقصان ہو جائے تو اس کا تاوان ادا ہو گا یا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

مالک کی اجازت سے استعمال کرنا جائز ہےاوراگر غفلت یازیادتی سے نقصان ہو اتو تاوان ہو گا ورنہ نہیں۔

لمافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(387،البشری)
لوھلکت الودیعۃ عند المودع او ضاعت عندہ بدون تقصیرہ فی الحفظ،بان سرقت او اصاب دارہ الحریق فاحترقت: لا یلزمہ الضمان وان ھلکت بتقصیرہ یلزمہ الضمان
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/4022،رشیدیہ)
اتفق علماء المذاھب علی ان الودیعۃ قربۃ مندوبۃ الیھا وان فی حفظھا ثواباوانھا امانۃ محضۃ،لامضمونہ وأن الضمان لایجب علی الودیع الابالتعدی او التقصیر
وکذافی الھندیة:(4/363،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(11/123،دارالمعرفة)
وکذافی فتاوی النوازل:(314،حقانیہ)
وکذافی سنن الکبری:(6/166،دار الکتب العلمیة)
وکذافی شرح المجلة:(3۔321،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
25-12-2021/1443-5-20
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:82

امام قرأت کررہا ہوتو اس کے پیچھے مقتدی کا جان بوجھ کرقرأت کرنا یا ثناء پڑھنا کیسا ہے؟اور اس آدمی کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

مقتدی کا امام کی قرأت کے دوران جان بوجھ کر قرأت کرنا یا ثناء پڑھنا جائز نہیں ہے،لیکن امام کی متابعت کی وجہ سے اس کی نماز ہو جائے گی۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/274،الطارق)
وعن ابن مسعود قال:لیت الذی یقرأ خلف الإمام ملئ فوہ تراباوھذاالقول مروی عن کثیر من أئمۃ التابعین منھم سعید بن جبیروسوید بن غفلۃ وغیر ھم اوھذہ النصوص أفادت أن القراءۃ خلف الإمام مکروھۃ تحریما
وکذافی اعلاءالسنن:(1/100،ادارة القراٰن)
عن موسی ابن سعد بن زید بن ثابت یحدثہ عن جدہ أنہ قال من قرأ خلف الإمام فلاصلوۃ لہ وعلی الصفحۃ الآتیۃ: و معنی قولہ”فلاصلوۃ لہ“أی لاصلوۃ لہ کاملۃ ودلالتہ علی کراھۃ القراءۃ خلف الإمام ظاہرۃ وھم یعم الجھریۃ والسریۃ کلیھما
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(116،البشری)
لاقراءۃ علی المدرک،لأنّ قراءۃ الامام قراءۃ لہ وإن قرأ:یکرہ تحریما
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/832،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/161،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/108،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/215،الطارق)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/316،ادارة القراٰن)
وکذافی الھندیة:(1/90،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
6،7،1443/2022،2،8
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:125