محلے کی مسجد میں آذان دینے کے بعد اگر کوئی نہ آئے تو اکیلا نماز پڑھنے سے نماز باجماعت کا ثواب مل جائے گا یا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

دوسری مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے اسی مسجد میں اکیلے نماز پڑھنا اس لئے افضل ہوگا کہ اس عمل کی وجہ سے اس مسجد کی آبادی بھی شروع ہو جائے گی۔

لمافی الشامیة:(2/523،دار المعرفہ)
قولہ ومسجد حیۃ افضل من الجامع ای:الذی جماعۃ اکثر من مسجد الحی وھذا احد قولین حکا ھما فی القنیۃ … … …بل فی الخانیۃ :لو لم یکن لمسجد منزلہ مؤذن فانہ یذھب الیہ ویؤذن فیہ ویصلی ولو کان وحدہ لأن لہ حقا علیہ فیؤدیہ
وکذافی الخانیة:(1/67،رشیدیہ)
مؤذن مسجد لا یحضر مسجدہ أحد قالوا یؤذن ھو ویقیم ویصلی وحدہ فذلک أحب من أن یصلی فی مسجد آخر
وکذافی الفتاوی الوالوالجیة:(1/81،الھرمین)
مؤذن مسجد لیس یحضر مسجدہ احد یؤذن ویقیم ویصلی وحدہ احب الیّ من ان یصلی فی غیرہ لأن حق المسجد علیہ وحق مسجد آخر لیس علیہ
وکذافی السراجیہ:(96،زمزم)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(15/280،علوم اسلامیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/385،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(1/604،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/83،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/210،ادارة القراٰن)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17،8،1443/2022،3،21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:60

استخارہ کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ کیاعمل استخارہ کے بعد بات نہ کرنا اور سونا ضروری ہوتا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

استخارہ کا مسنون ومستحب طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت نفل اس طرح پڑھے کہ پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعدسورت الکافرون اور دوسری رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۃ الاخلاص پڑھےپھرسلام کے بعداستخارے کی دعاپڑھے،دعا کے بعد پاک بستر پر قبلہ رخ ہو کر سوجائے،بیدارہونے کے بعد دل کا جس طرف رجحان ہو اختیارکرےاوراگر ایک مرتبہ یہ عمل کرنے سے سمجھ نہ آئے تو سات دن مسلسل یہ عمل کرے۔عمل استخارہ کے بعد سونابہتر ہے،ضروری نہیں ہے۔

لمافی البحر الرائق:(2/91،رشیدیہ)
من ھم بأمر وکان لایدری عاقبتہ ولایعرف أن الخیر فی ترکہ أو الإقدام علیہ فقد أمرہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن یرکع رکعتین یقرأ فی الأولی فاتحة الکتاب(وقل یا أیھا الکافرون)وفی الثانیة الفاتحة و(قل ھو اللّٰہ أحد) فإذا فرغ قال اللھم الخ
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(3/245،علوم اسلامیہ)
قال الحنفیۃ والمالکیۃ والشافعیۃ: یستحب أن یقرأ فی لرکعۃ الأولی بعد الفاتحۃ(قل یا أیھا الکافرون) وفی الثانیۃ(قل ھو اللہ أحد)
وکذافی جامع الترمذی:(1/220،رحمانیة)
وکذافی الدر المختار:(2/570،رشیدیہ)
وکذافی بذل المجھود:(7/245،قدیمی)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(163،البشریٰ)
وکذافی تحفة الاحوذی:(2/606،قدیمی )
وکذافی سنن ابن ماجہ:(208،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
15،7،1443/2022،2،17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:191

ایک مسلمان مرتد ہو گیا،جس کے ذمہ حقوق اللہ نماز روزہ وغیرہ اور حقوق العباد قرض وغیرہ لازم تھا۔اب وہ مرتد ہونے کے بعددوبارہ مسلمان ہوگیا،تومذکورہ حقوق میں کوئی سابقہ حق اس سے ساقط ہوگیایانہیں؟براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔

الجواب حامداومصلیا

مرتد ہونے سے پہلے حالت اسلام میں جو عبادات چھوڑی ہیں اُن کی قضاء لازم ہو گی،اسی طرح حقوق العباد بھی ساقط نہیں ہونگے،البتہ مرتد ہونے کی حالت میں جوحقوق چھوٹے ہیں،اُن کی قضاء نہیں کرے گا۔

لمافی الفقہ الحنفی:(3/97،الطارق)
وتبطل عبادتہ وعلیہ قضاء ماترک من عبادۃ فی إلاسلام کالصلاۃ والصیام لان ترکھامعصیۃوالمعصیۃ تبقی بعد الردۃوعلیہ قضاء الحج لانہ بالردۃ کالکافرالاصلی،فاذا اسلم وھو غنیی فعلیہالحج،لان سببہ البیت الحرام وھو باق بخلاف غیرہ من العبادات التی اداھا لخروج سببھا ولھذالوصلی الظھر مثلا ثم ارتد ثم تاب فی وقت الظہر فعلیہ ان یعید صلاۃ الظھر لبقاء سببہ وھوالوقت
ویواخذالمرتدبحقوق العبادالتی لزمتہ قبل الردۃ،أمابعدالردۃفلایؤاخذبشیٕ منذلک لأن الکافرالحربی لایواخذ بعدالاسلام بماکان اصابہ حال کونہ محاربالنافانّ الاسلایجب ماکان قبلہ وتصح تصرفات المرتد لانھا لاتقبل کما مرمعناواکسابھا مطلقا لورثتھا سواء کانت فی الاسلام او الردۃ
وکذافی الخانیة:(3/582،رشیدیہ)
رجل ارتد والعیاذ باللّٰہ تعالی وعلیہ قضاء صلوات اوصیامات ترکھا فی حالۃ الاسلام ثم اسلم بعد ذلک قال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اللّٰہ تعالی یقضی ماترک فی الاسلام لان ترک الصلٰوۃ والصیام معصیۃ والمعصیۃ تبقی بعد الردۃ وماادی من الصیامات والصلوات فی اسلامہ ثم ارتد تبطل طاعاتہ لکن لایجب علیہ قضاءھا بعد الاسلام
وکذافی التنویر مع الدر:(6/383،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الحامدیة:(1/197،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی مجمع الضمانات:(686،حقانیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(342،البشری)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
6،5،1443/2021،12،11
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:8

وقت سےپہلےاذان دےدی تواعادہ ضروری ہے کہ نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

اعادہ ضروری ہے

لمافی بدائع الصنائع:(1/381،رشیدیہ)
وامابیان وقت الاذان والاقامۃفوقتھماماھووقت الصلوات المکتوبات،حتی لواذن قبل دخول الوقت لایجزئہ ویعیدہ ازا دخل الوقت فی الصلوات کلھا
وفی الھندیہ:(1/53،رشیدیہ)
تقدیم الاذان علی الوقت فی غیر الصبح لایجوزاتفاقاوکذافی الصبح عندابی حنیفۃومحمدرحمھمااللہ تعالی وان قدم یعادفی الوقت………وعلیہ الفتوی
وفی المبسوط:(1/134،دار المعرفة)
وفی البحرالرائق:(1/456،رشیدیہ)
وفی الفقہ الحنفی:(1/193،الطارق)
وفی مجمع الانھر:(1/113،المنار)
وفی تبیین الحقائق:(1/93،امدادیہ)
وفی الھدایہ:(1/90،المیزان)
وفی کتاب الفقہ:(1/270،حقانیہ)
وفی تنویر الابصار:(2/63،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعةالحسن ساہیوال
21/2/1443-2021/9/29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:57

نفل نماز بغیر کسی عذرکے بیٹھ کر پڑھی جا سکتی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

نفل نماز بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر پڑھی جا سکتی ہے لیکن ثواب آدھا ملے گا بنسبت کھڑے ہو کر پڑھنے کے۔

لمافی بدا ئع الصنائع:(2/19،رشیدیہ)
یجوز التطوع قاعداً مع القدرۃ علی القیام، ولا یجوز ذلک فی الفرض، لان التطوع خیر دائم ، فلو الزمنا ہ القیام یتعذر علیہ ادامۃ ھذا الخیر
وفی الفتاویٰ الھندیہ:(1/114،رشیدیہ)
ویجوز ان یتنفل القادر علی القیام قاعداً بلا کراھۃ فی الاصح
وکذافی التنویر والدر:(2/584،رشیدیہ)                         وکذافی البحر الرائق:(2/110،رشیدیہ)
وکذافی الفتاویٰ التاتا ر خانیہ:(2/290،فاروقیہ)         وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1069،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق :(1/304،قدیمی کتب خانہ)               وکذافی المحیط البرھانی:(2/220،ادارہ القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/8/1443-2022/3/20
جلدنمبر:27 فتوی نمبر:46

ناپاک کپڑے دھوتے وقت جسم یا کپڑوں پر جو چھینٹیں پڑتی ہیں ان کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاًومسلماً

ناپاک کپڑے دھوتے وقت اڑنے والی چھینٹیں ناپاک ہیں، لہذا کپڑوں یا بدن کے جس حصے پر پڑیں گی وہ ناپاک ہو جائے گا۔

لما فی الفتاویٰ التاتارخانیہ(1/452،فاروقیہ)
الثوب اذا غسل فی اجانۃ ثم فی اجانۃ الی العشرۃ او اکثر فانہ ینظر ان لم یکن علی ثوبہ عین نجاسۃ فا لماء طاھر لا یصیر مستعملا ولو کانت علیہ نجاسۃکان القیاس ان تصیر المیاہ نجسۃ،ولا یطھر الثوب ما لم یصب علیہ الماء او یغسلہ فی ماء جار، وھو قول بشر وزفر رحمھما اللہ ،وفی الاستحسان یخرج الثوب من الاجانۃ الثالثۃ طاھراً، واما المیاہ الثلاثۃ نجسۃ والباقی طاھر بالاجماع
وفی البحر الرائق(1/386،رشیدیہ)
اعلم ان القیاس یقتضی تنجس الماء باول الملاقاۃ للنجاسۃ لکن سقط للضرورۃ ،سواء کان الثوب فی اجانۃو اورد الماءعلیہ او کان الماءفیھا واورد الثوب المتنجس علیہ،عندنا فھو طاھر فی المحل نجس اذا انفصل سواء تغیر اولاً
وکذا فی الفتاوی الھندیہ(1/42،رشیدیہ)       وکذا فی فتاویٰ قاضیخان علی ھامش الھندیہ(1/21،رشیدیہ)
وکذا فی فتاوی النوازل(31،حقانیہ)                وکذا فی المحیط البرھانی(1/379،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی الھدایہ(1/69،رشیدیہ)                                       وکذا فی التنویر و الدر(1/572،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاویٰ(1/46،رشیدیہ)                               و فی الفقہ الاسلامی وادلتہ(1/322،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1443-2021/12/18
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:31

حدیث مبارک میں آتا ہے”السفر قطعۃ من العذاب “اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے لیے جو دعا سکھلائی ہے اس میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں:”اللھم انّا نعوذبک من وعثاء السفر وکابۃ المنظر وسوء المنقلب۔۔۔۔“اس سے پتا چلتا ہے کہ سفر میں جتنی آسانی میسر ہو اختیار کرنی چاہیے ۔ موجودہ دور میں ٹرانسپورٹ میں زیادہ سے زیادہ سہولیات دی جارہی ہیں مثلاً ایک سہولت یہ بھی ہے کہ خدمت کے لیے ایک عورت موجود ہوتی ہے جو مسافر کو پانی وغیرہ مہیا کرتی ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ سہولیات اور وقت کی بچت کی طرف دیکھیں توایسی ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا بہتر ہے اور اگر ایسی ٹرانسپورٹ میں دوسری شرعی قباحتوں کی طرف دیکھیں مثلا ٹی وی اور نوجوان لڑکی کا برائے نام پردے میں ہونا وغیرہ، ایسا آدمی جو اپنے نفس پر قابو پا سکتا ہو اور جو قابو نہ پا سکتا ہو ان کے لیے اس قسم کی ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا جائز ہے؟ان دونوں صورتوں میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلّیا ومسلّما

ایسی گاڑیوں مین سفر کرنا جائز ہے ،لیکن نظر کی حفاظت کرنا بھی ضروری ہے۔ اور اگر کسی کو یقین ہو کہ وہ نظر کی حفاظت نہیں کر سکے گا تو اس کے لیے ایسی گاڑیوں میں سفر کرنا درست نہیں۔

لما فی القرآن الکریم(النور:30)
قل للمؤ منین یغضّوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذلک ازکیٰ لھم انّ اللہ خبیر بما صنعون
وفی المبسوط(1/152،دارالمعرفہ بیروت)
فاما النظر الی الاجنبیات فنقول یباح النظر الی موضع الزینۃ الظا ھرۃ منھن دون الباطنۃ لقو لہ تعالیٰ ولا یبدین زینتھن الّا ما ظھر منھا ،وقال علی وعباس رضی اللہ عنھم ما ظھر منھا الکحل والخاتم ،وقالت عائشۃ رضی اللہ عنھا احدیٰ عینیھا وقال ابن مسعود رضی اللہ عنہ خفھا وملامتھا واستدل فی ذلک بقولہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم النساء حبائل الشیطان بھن یصید الرجال ،وقال صلی اللہ علیہ وسلم ما ترکت بعدی فتنۃاضرّ علی الرجالمن النساء
وفی المحیط البرھانی(8/29،دار احیاء تراث العربی)
واما النظر فی الاجنبیات :فنقول :یجوز النظر الی مواضع الزینۃ الظاھرۃ منھن، وزلک الوجہ والکف فی ظاھر الروایۃ، والاصل فیہ قولہ تعالیٰ :ولا یبدین زینتھن الّا ما ظھر منھا ․قال علی وابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھم :ما ظھر منھا الکف والخاتم․
وفی صفحۃ 30 ):ذلک کلّہ اذا لم یکن النظر عن شھوۃ ، فان کان یعلم انّہ ان نظر اشتھیٰ ، او کان اکبر رایہ ذلک ، فلیجتنب بجھدہ
وکذا فی الفتاویٰ الھندیہ(5/329،رشیدیہ)        وکذا فی بدائع الصنائع(4/293،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق(6/17،امدادیہ)       وکذا فی الفقہ الاسلامیوادلتہ(4/2652،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایہ(4/99، البشریٰ)         وکذا فی کنز الدقائق(424،حقانیہ)
وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیہ(18/95،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساھیوال
21/4/1443-2021/11/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:144

مسنون اعتکاف کے لیے 20 رمضان کو مغرب سے پہلے پہنچنا ضروری ہے یا رات کو کسی بھی وقت پہنچ جائے تو اعتکاف مسنون ہی ہو گا؟

الجواب حامداًومصلیاً

سنت اعتکاف کے لیے مغرب سے پہلے پہنچنا ضروری ہے ورنہ سنت اعتکاف نہ ہو گا۔

لمافی معارف السنن:(5/516،ایچ ایم سعید)
قولہ :صلیٰ الفجر ثم دخل فی معتکفہ
استدل بھذا الحدیث الاوزاعی واللیث فی احد قولیہ و احمد فی روایۃ فی بدء الاعتکاف من اول النھار، واختارہ ابن المنذر من الشافعیۃ ،ومذھب الاربعۃ ھو دخول قبل الغروب لمن اراد ان یتم العشر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیکون المراد من ذلک دخولہ فی معتکفہ المتخذ من الحصیر ونحوہ ،ولیس ذلک وقت ابتداء اعتکافہ بل کان الابتداء بدخولہ المسجد قبیل غروب شمس العشرین من رمضان ،وکل من یرید ان یتم لہ اعتکافہ العشر لزمہ ان یدخل المسجد معتکفاً قبیل غروب الشمس من العشرین والا لم یتم لہ العشر فان اللیالی الماضیۃ لاحقۃ بالایام التالیۃ۔
وفی مرقاۃالمفاتیح:(4/605،مکتبہ التجاریہ)
صلیٰ الفجر ، ثم دکل فی معتکفہ ):بصیغۃ المفعول ای :مکان اعتکافہ۔ قال الطیبی :دل علی ان ابتداء الاعتکاف من اول النھار کما قال بہ الاوزاعی،والثوری،واللیث فی احد قولیہ،وعند الائمۃ الاربعۃ انہ یدخل قبل غروب الشمس ان اراد اعتکاف شھر او عشر وتاولوا الحدیث بانہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم دخل المعتکف وانقطع و تخلیٰ بنفسہ فانہ کان فی المسجد حجرۃ من حصیر ،ولیس المراد ان ابتداءالاعتکاف کان فی النھار

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
26،8،1443/2022،3،30
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:149

کوئی مرد نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی عورت (خواہ محرم ہو یا نا محرم) آ کر اس کے ساتھ کھڑ ی ہو جائے اور اپنی اکیلی نماز پڑھنی شروع ہو جائےتو اس صورت میں مرد کو کیا حکم ہے؟اور دونوں کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاًومسلماً

مذکورہ صورت میں مرد اپنی جگہ کھڑا رہے نماز ادا ہو جائے گی ،لیکن اس طرح عورت کا مرد کے برابر کھڑا ہونا مکروہ ہے۔

لما فی الدر المحتار(2/383،رشیدیہ)
”فمحاذاۃ المصلیۃ لمصل لیس فی صلاتھا مکرو ھۃ لا مفسد․“
وفی الشامیہ تحتہ(2/383،رشیدیہ)
”(قولہ مکروھۃ) الظاھر انھا تحریمیۃ، لانھا مظنۃ الشھوۃ الکراھۃ علیٰ الطاری․“

واللہ اعلم باصواب
کتبہ طیب عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساھیوال
24/3/1443-2021/10/30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:75

ایک آدمی کا پولٹری فارم ہے اس میں مرغیاں مر جاتی ہیں تو کیا مری ہوئی مرغیوں کا گوشت اپنے مچھلی فارم کی مچھلیوں کو کھلا سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاًومسلماً

نہیں کھلا سکتا۔

لما فی الھدایہ(4/157،البشریٰ)
ویکرہ شرب دردی الخمر والامتشاط بہ؛لانہ فیہ اجزاء الخمر ،والانتفاع بالمحرم حرام ،․․․․․․․․․․وکذا لا یسقیہا الدواب وقیل لا تحمل الخمر الیہا اما اذا قیدت الی الخمر: فلا باس بہ ،کما فی الکلب والمیتۃ
وفی الحاشیۃ تحت قولہ کما فی الکلب والمیتۃ :فلا تحمل المیتۃ الی الکلب ،ولو قید الکلب الی المیتۃ یجوز․
وفی فقہ البیوع(1/309،معارف القرآن)
اذا تنجس الخبز او الطعام، لا یجوز ان یطعم الصغیر ،او المعتوہ،اوالحیوان الماکول اللحم ․وقال اصحابنا لایجوز الانتفاع بالمیتۃعلی ای وجہ ولا یطعمھا الکلاب والجوارح
وکذا فی الفتاویٰ الھندیہ(5/344،رشیدیہ) وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ(18/502،فاروقیہ)
وفی خلاصہ الفتاوی(4/304،رشیدیہ) وکذا فی البحر الرائق(8/335،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی(8/444،دار احیاء تراث العربی) وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ(4/6597،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/5/1443-2021/12/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:70