اگر شوہر بیوی سے کہے کہ اگر تو نے یہ کام کیا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا تو کیا وہ کام کرنے سے طلاق ہو جائے گی

الجواب حامداومصلیاومسلما

طلاق واقع نہیں ہو گی۔

لما فی المبسوط:(6/216،دارالمعرفہ بیروت)
ولو قال لھا احتاری فقالت اختار نفسی فی القیاس لا تطلق لانّ کلامھا وعد ولیس بایجاب الا تریٰ انّہ لو قال لھاطلقی نفسک فقالت انا اطلق نفسی لم یقع شیئ ولکن فی الاستحسان تطلق لان قولھا اختار وعد صورۃ وایجاب معنی․والعادۃ الظاھرۃ فی ھذا اللفظ انہ یراد بہ الحال دون الاستقبال
وفی فتح القدیر:(4/73،رشیدیہ)
فقالت انا اختار نفسی المقصود انھا ذکرت بلفظ المضارع کاختار نفسی سواء ذکرت انا اولاً، ففی القیاس لا یقع لانہ وعد، کما لو قال: طلقی نفسک فقالت انا اطلق حیث لا تطلق․
وکذا فی التنویر والدر:(4/546،رشیدیہ) وکذا فی الھندیہ:(1/384،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق :(3/545،رشیدیہ) وکذا فی الھدایہ:(2/105،البشریٰ)
وکذا فی خلاصہ الفتاویٰ:(2/81،رشیدیہ) وکذا فی البنایہ:(5/129،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی:(2/141،رشیدیہ) وکذا فی الجوھرۃ النیرہ:(119،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/2/1443-2021/9/26
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:34

ایک دفعہ انہوں (شوہر )نے کہا مجھے تمہارا بڑھاپا بہت تاریک نظر آرہا ہے میں نے کہا میرا بڑھاپا میری جوانی سے زیادہ تاریک نہیں ہوسکتا انہوں نے کہا تم اپنی جوانی روشن کرلو جاؤ چلی جاؤ میری طرف سے تمہیں اجازت ہے مجھ سے جولکھوانا ہو الکھوا لینا پھر ایک دفعہ ہماری لڑائی ہوئی انہوں نے کہا تم جس کے ماں ،باپ،بہن، بھائی مرے ہو اس سے شادی کرلو میری طرف سے عام اجازت ہے ۔ ایک دفعہ انہوں نے کہا تم علیحد گی اختیا ر کرلو۔ایک دفعہ کہیں جا رہے تھے ہماری لڑائی ہوئی میں نے کہا ہمارے خاندان میں کوئی ایسا نہیں کرتا انہوں نے کہا تم اپنے خاندان میں شادی کرلو پھر یہ کچھ بول رہے تھے لیکن مجھے سنائی نہیں دیا پھر انہوں نے کہا میری جان چھوڑو۔پھر لڑائی ہوئی انہوں نے کہا میری زندگی سے دفعہ ہو جاؤ میری جان چھوڑو۔مجھے ان کی نیت کی سمجھ نہیں آتی آپ خود ان سے نیت پوچھیں۔ ایک دن میں نے ان سے کہا کہ فلاں میاں بیوی کا تعلق بہت اچھا ہے تو انہوں نے کہا تم اسی سے شادی کر والیتی میں اس کی بیوی سے کروالیتا۔ہم اب وٹا لیتے ہیں یا تبدیل کرلیتے ہیں۔ میں تینوں دنا ں طلاق تے انو کہناتو اپنی بیوی نو دے ۔ ایک دفعہ یہ میری امی سے کوئی بات کر رہے تھے لیکن امی کو سمجھ نہیں آئی بعد میں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا ایسی کوئی بات نہیں کی۔

الجواب حامداًومصلیاً

مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی،البتہ ایسے الفاظ کا استعمال نہایت نازک اور سنگین معاملہ ہےاس سے اجتناب کرنا چاہیےاور ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کر کے زندگی کزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

لمافی التنویر و الدر :(4/541،رشیدیہ)
قال لھا اختاری او امرک بیدک ینوی) تفویض (الطلاق)لانھا کنایۃ فلا یعملان بلا نیۃ (او طلقی نفسک فلھا ان تطلق فی مجلس علمھا بہ) مشافھۃ او اخبارا(وان طال) یومااو اکثر مالم یوقتہ و یمضی الوقت قبل علمھا (ما لم تقم) لتبدل مجلسھا حقیقۃ( او) حکمابان (تعمل ما یقطعہ) مما یدل علی الاعراض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(لا) تطلق (بعدہ) ای: المجلس ۔
وفی الفتاویٰ الھندیہ :(1/387،رشیدیہ)
اذا قال لامراتہ اختاری ینوی بذلک الطلاق او قال لھا طلقی نفسک فلھا ان تطلق نفسھا مادامت فی مجلسھاذلک و ان تطاول یوما او اکثر ما لم تقم منہ او تا خذ فی عمل آخر وکذا اذا قام ھو من المجلس فالامر فی یدھا ما دامت فی مجلسھا ۔
وکذافی بدائع الصنائع:(3/180،رشیدیہ)
وکذافی التاتا ر خانیہ:(4/476،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
4/9/1443-2022/4/6
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:81

جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں نیکی کا کام کرنے سے صغیرہ گناہ معاف ہوگئے تو کون سے گناہ معاف ہوتے ہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

گناہ صغیرہ وہ ہیں جن کا مرتکب شرعی حد اور سزا کا مستحق نہ ہو، اور اس کے ارتکاب پر قرآن و حدیث میں وعید شدید مذکور نہ ہو اور جو گناہ اتفاقی سرزد ہو گیا اور اس کے ساتھ وہ دل میں خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔
مثلاً: (1)غیر محرم کو بغیر قصد دیکھنا۔(2) کسی مسلمان کی ہجو کرنا اگرچہ اشارۃ کنایۃ ہو اور بات سچی ہو۔(3)بالا خانہ وغیرہ پر بغیر ضرورت چڑھنا جس سے لوگوں کے مکانات سامنے پڑیں۔(4)کسی فاسق کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا۔(5)شراب کو گھر میں رکھنا۔(6)مسجد میں ایسے کام کرنا جو عبادت نہیں۔(7)زکوٰۃ ردی مال سے ادا کرنا۔(8)اکڑ کر اور اترا کر چلناوغیرہ۔(گناہ بے لذت:71،دارالاشاعت)
نیکی کا کام کرنے سے اس طرح کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔

لمافی معارف السنن:(1/37،ایچ ایم سعید)

قولہ حتیٰ یخرج نقیاً من الذنوب: اختلفو ا فی ھذہ الذنوب ھل ھی صغائر فقط دون الکبائر او ما یعمھما، فاختارالمتاخرون انھا الصغائر فقط، لان الحسنات یذھبن السیئات
وفی الموسوعہ الفقہیّہ:(34/150،مکتبہ علوم شرعیہ)
” ومن الضوابط المذکورۃ لکبیرۃ:
قول الزیلعی :ما کان حراماً لعینہ
وقول الماوردی :ما اوجبت الحد او توجہ بسببھا الی الفاعل وعید۔
وما نقلہ القاضی ابو یعلیٰ عن الامام احمد بانھا :کل ذنب اوجب اللہ فیہ حداً فی الدنیا او ختمہ بنار فی الآخرۃ۔
وکذا فی فتح الباری:(1/346،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی عمدہ القاری(3/7،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی اوجز المسالک(2/147،دار الکتب العلمیہ)
وکذا فی فتح الملھم(2/285،مکتبہ دار العلوم کراچی)
وکذا فی تحفہ الاحوذی(1/33،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/8/1443-2022/3/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:48

صدقۃ فطر اگر عید کے دن ادا نہ کیا تو اس کے ذمہ باقی رہے گا یا ساقط ہو جائے گا؟

الجواب حامداًومصلیاً

ساقط نہیں ہو گا بلکہ اس کے ذمہ باقی رہے گا۔

لمافی الفتاویٰ الھندیہ:(1/192،رشیدیہ)
“وان قدموھا علی یوم الفطر جاز ولا تفصیل بین مدۃومدۃ وھو الصحیح وان اخرھا عن یوم الفطر لم تسقط وکان علیہم اخراجھا ۔ “
وفی بدائع الصنائع:(2/207،رشیدیہ)
” واما وقت ادائھا فجمیع العمر عند عامۃ اصحابنا ولا تسقط بالتاخیر عن یوم الفطر۔ “
وکذافی المبسوط:(3/110،دارالمعرفہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/384،ادارہ القرآن)
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(3/451،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/2041،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/445،رشیدیہ)
وکذافی التنویر والدر:(3/362،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
18،9،1443/2022،4،20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:152

ایک آدمی پر صدقۃ الفطر واجب ہوا اور اس نے ادا نہ کیا بعد میں وہ فقیر ہو گیا تو اس سے صدقۃ الفطر ساقط ہو جائے گا؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں صدقۃ الفطر ساقط نہیں ہو گا۔

لمافی التنویر والدر:(3/366،رشیدیہ)
فلا یسقط ا)فطرۃ ولذا الحج( بھلاک المال بعد الوجوب )کما لا یبطل النکاح بموت الشھود۔
وفی بدائع الصنائع:(2/208،رشیدیہ)
“ان صدقۃ الفطر تتعلق بالذمۃ وذمتہ قائمۃ بعد ھلاک المال ،فکان الواجب قائما والزکاۃ تتعلق بالمال فتسقط بھلاکہ ۔ “
وکذافی المبسوط:(3/110،دار المعرفہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/439،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/2040،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/374،الطارق)
وکذافی فتح القدیر:(2/291،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/471،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
18،9،1443/2022،4،20
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:5

ایک آدمی شیخ فانی ہے اس نے رمضان کے روزوں کر فدیہ ادا کیا اور بعد میں وہ اس پر قادر ہو گیا کہ وہ روزے رکھ سکے تو کیا وہ قضاء کرے گا یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

شیخ فانی اگر روزے پر قادر ہو گیا تو اس پر قضاء لازم ہے۔

لمافی الفتاویٰ الھندیہ:(1/207،رشیدیہ)
فا لشیخ الفانی الذی لا یقدر علی الصیام یفطر و یطعم لکل یوم مسکینا لما یطعم فی الکفارۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثم ان شاء اعطیٰ الفدیۃ فی اول رمضان بمرۃ وان شاء اخرھا الی آخرہ کذا فی النھر ۔ولو قدر علی الصیام بعد ما قدر فدی بطل حکم الفداء الذی فداہ حتی یجب علیہ الصوم۔
وفی البحر الراءق:(2/501،رشیدیہ)
” قولہ وللشیخ الفانی و ھو یفدی فقط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولو قدر علی الصیام یبطل حکم الفداء لان شرط الخلیفۃ استمرار العجز فی الصوم۔ “
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(3/409،فاروقیہ)
وکذافی بدائع الصنا ئع:(2/265،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/369،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
18،9،1443/2022،4،20
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:6

شوہر اپنی بیوی کو زکوٰۃ دے سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

نہیں دے سکتا۔

لمافی بدائع الصنائع:(2/143،رشیدیہ)
“ولا یدفع احد الزوجین زکاتہ الی الآخر ۔ “
وفی البحر الرائق:(2/425،رشیدیہ)
وزوجتہ وزوجھا )ای لا یجوز الدفع لزوجتہ ولا دفع المراۃ لزوجھا لما قدمنا ہ من عدم قطع المنفعۃ عنہ من کل وجہ ۔ “
وکذافیالفتاویٰ السراجیہ :(153،زمزم)
وکذافی المبسوط :(3/11،دار المعرفہ)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(1/189،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/212،ادارہ القرآن)
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(3/207،فاروقیہ)
وکذافی التنویر والدر:(3/345،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15،7،1443/2022،2،17
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:73

شطرنج اور لڈو کھیلنے سے منع کیا گیا ہے کیوں منع کیا گیا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

شطرنج کھیلنے سے جو منع کیا گیا ہے اس کی بہت سی وجوہات ہیں :مثلاً شرط لگا کر کھیلی جاتی ہے ،اس میں جوا،دھوکہ،جھوٹ اور جھگڑا ہوتا ہے ،اگر یہ سب نہ بھی ہوتو اس کی وجہ سے بلا مقصدوقت کا ضیاع اور شرعی و اخلاقی ذمہ داریوں میں غفلت وسستی ہوتی ہے ۔

لمافی الھدایہ:(4/123،البشریٰ)
” قال :یکرہ اللعب بالشطرنج والنرد والاربعۃ عشر وکل لھو؛ لانہ ان قامر بھا فالمیسر حرام بالنص ، وھو اسم لکل قمار، وان لم یقامر بھا فھو عبث ولھو ،وقال علیہ السلام :لہو المؤمن باطل الا الثلاث :تادیبہ لفرسہ ،ومناضلتہ عن قوسہ ،وملاعبتہ مع اھلہ ۔وقال بعض الناس :یباح اللعب بالشطرنج لما فیہ من تشحیذ الخواطر وتذکیۃ الافھام،وھو محکی عن الشافعی۔
ولنا: قولہ علیہ السلام :من لعب بالشطرنج والنرد شیر فکانما غمس یدہ فی دم الخنزیر۔
وفی الموسوعہ الفقہیہ:(35/269،مکتبہ علوم اسلامیہ)
اجمع المسلمون علی ان اللعب بالشطرنج حرام اذا کان علی عوض او تضمن ترک واجب مثل تاخیر الصلاۃ عن وقتھا ،وکذلک اذا تضمن کذبا او ضرراً او غیر ذلک من المحرمات۔
اما اذا لم یکن کذلک فاختلف الفقھاء علی اقوال :والمذھب عند الحنفیۃ والشافعیۃ وھو قول عند المالکیۃ ان اللعب بالشطرنج مکروہ۔
ماخذ الکراہۃ انہ من اللھو واللعب وجاء فی حدیث جابر بن عمیر رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: کل شئ لیس من ذکر اللہ عز و جل فھو لھو او سھو الا اربع خصال :مشی الرجل بین الغرضین، وتادیبہ فرسہ،وملاعبۃ اھلہ، وتعلیم السباحۃ ۔
وکذافی الشامیہ:(9/650،رشیدیہ) وکذافی البحر الرائق:(8/379،رشیدیہ)
وکذافی الفتاویٰ الھندیہ:(5/352،رشیدیہ) وکذافی بدائع الصنائع:(4/305،رشیدیہ)
وکذافی ملتقی الابحر:(4/221،المنار) وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(18/194،فاروقی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
18،9،1443/2022،4،20
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:7

شرط لگا کر کرکٹ کھیلنا کیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

یہ جوا ہے جو کہ ناجائز ہے۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2662،رشیدیہ)
یحرم بالاتفاق کل لعب فیہ قمار: وھو ان یغنم احدھما، ویغرم الاخر ،لانہ من المیسر ای القمار الذی امر اللہ باجتنابہ فی قولہ تعالیٰ :انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان ،فاجتنبوہ
وفی تبیین الحقائق:(6/32،امدادیہ)
وحرم لو شرط المال من الجانبین بان یقول ان سبق فرسک اعطیتک کذا وان سبق فرسی فاعطنی کذا۔
وکذافی التنویر والدر:(9/665،رشیدیہ)
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(18/73،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/14،ادارہ القرآن)
وکذافی بدائع الصنا ئع:(4/305،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
18،9،1443/2022،4،20
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:9

سونے اور چاندی کے بنے ہوئے زیورات ہول سیل ڈیلر سے خریدنے پر جو وہ شرح ملاوٹ بتاتے ہیں، آگے وہی شرح ملاوٹ بتا کر فروخت کرنا جائز ہےیا نہیں؟حالانکہ اس میں شرح ملاوٹ زیادہ ہونے کا امکان غالب ہوتا ہے۔

الجواب حامدا ومصلیا ومسلما

اگر یقین ہو کہ شرح ملاوٹ زیادہ ہے تو پھر وہی کم شرح ملاوٹ بتا کر بیچناجائز نہیں، بلکہ یہ جھوٹ اور دھوکہ ہے احادیث میں اس کی صریح ممانعت آئی ہےاور اگر بعد میں خریدار کو پتا چل گیا تو اس کو واپس کرنے کا اختیار ہو گا۔

لما فی جامع التر مذی:(1/378،رحمانیہ)
عن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الکبائر قال الشرک باللہ وعقوق الوالدین و قتل النفس وقول الزور․
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انّ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرّ علی صبرۃ من طعام فادخل یدہ فیھا فاصابہ بللا فقال:یا صاحب الطعام ما ھذا قال اصابتہ السماء یا رسو ل اللہ قال:افلا جعلتہ فوق الطعام حتیٰ یراہ الناس ثم قال: من غش فلیس منّا
وفی الفتاویٰ الھند یہ:(3/66،رشیدیہ)
”اذا اشتریٰ شیئا لم یعلم بالعیب وقت الشراء ولا علمہ قبلہ والعیب یسیر او فاحش فلہ الخیار ان شاء رضی بجمیع الثمن وان شاء ردّہ
وکذا فی سنن ابی داوٗد:(2/133،رحمانیہ)        وکذا فی سنن ابن ماجہ:(،162،160،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی الھدایہ:(3/42،رحمانیہ)       وکذا فی شرح المجلہ:(2/290،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیہ:(7/166،رشیدیہ)       وکذا فی الفتاویٰ الھندیہ:(3/66،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(6/58، رشیدیہ)        وکذا فی فتح القدیر:(6/327، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلّتہٗ:(5/3558،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
17/2/1443-2021/9/25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:35