ماتھے پر اس طرح ٹوپی رکھنا کہ سامنے سے سارے بال چھپ جائیں ضروری ہے یا سامنے سے کچھ بالوں کا ظاہر کرنا بھی درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاًومسلماً

روایات میں مطلق ٹوپی پہننے کاذکر ہے کوئی خاص طریقہ مذکور نہیں، لہذا دونوں صورتیں جائز ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1443-2021/12/15
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:196

ایک آدمی سنار سے کہتا ہے مجھے دو تولہ خالص سونا تین ماہ بعد ادا کرنا ،میں قیمت فی الوقت ادا کرتا ہوں ،کیا ریٹ دو گے ؟ سنار کہتا ہے فی الوقت مارکیٹ میں ایک لاکھ دس ہزار خالص فی تولہ سونے کا ریٹ ہے۔ اگر آپ مجھ سے تین ماہ بعد لیں گے اور ادئیگی ابھی کرنی ہے تو میں آپ کو ایک لاکھ پانچ ہزار کے حساب سےدوں گا آدمی دو لاکھ دس ہزار دو تولہ سونے کی قیمت فی الوقت ادا کر کے رسید لے لیتا ہے۔ یہ جائز ہے؟

الجواب حامداً و مصلیاً ومسلماً

اگر کیرٹ اور مارکیٹ میں دیگر معروف صفات کے تعیّن کے ساتھ ہو تو جائز ہے۔

لما فی الفتاویٰ البزازیہ علی ھامش الھندیہ(5/5،رشیدیہ)
”لواشتریٰ مائۃ فلوس بدرھم یکفی التقابض من احد الجانبین․“
وفی فتح القدیر(7/147،رشیدیہ)
لو اشتریٰ مائۃ فلس بدرھم وقبض الفلوس او الدرھم ثم افترقا جاز البیع لانھما افترقا عن عین بدین
وکذا فی التنویر والدر(7/433،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاویٰ الھندیہ(3/224،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط(14/24،دار المعرفہ)
وکذا فی المحیط البرھانی(9/293،دار احیاء تراث العربی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساھیوال
2/5/1443-2021/12/7
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:197

ٹرین کاسفر ٹکٹ چیکر اور گارڈ کی اجازت کے ساتھ بغیر ٹکٹ کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ٹکٹ چیکر اور گارڈ کو اجازت دینے کا اختیار نہیں،لہذا اس طرح بغیر ٹکٹ سفر کرنا جائز نہیں۔ اگر خدا نخواستہ ایسا کر لیا ہو تو اس کا کرایا دینا لازمی ہے جس کی صورت یہ ہے کہ کرائے کے برابر ٹکٹ لے کر ضائع کر دیا جائے۔

لمافی شرح المجلہ :(1/262،رشیدیہ)
لا یجوز لاحد ان یتصرف فی مال الغیر بلا اذنہ وعدم الجواز شامل لجمیع انواع التصرف من استعمال کرکوب، ولبس، ووضع جذع علی حائط ،ودخول دار ،ومرور بارض،ومن اعارۃ،وایداع واجارۃ وصلح ،وھبۃ،وبیع،ورھن،وھدم،وبناء
وفی شرح المجلہ:(1/265،رشیدیہ)
فمن تناول مال احد باحدی ھذہ الطریق فھو ظالم غاصب یجب علیہ ردہ قائما،اومثلہ او قیمتہ ھالکا
وکذافی الدر المختار:(9/334،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(6/4789،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(5/119،رشیدیہ)
وکذافی سنن الدار قطنی :(3/22،دارالکتب)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15،7،1443/2022،2،17
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:148

سڑک پرموجود بارش کا پانی پاک ہےیا ناپاک؟ اور بارش کےپانی کی چھینٹیں کپڑوں پر پڑجائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً و مسلماً

سڑک پر موجود بارش کا پانی پاک ہے اور چھینٹیں کپڑوں پر پڑنےسے کپڑے ناپاک نہیں ہوتے، لیکن اگر اس پانی میں نجاست نظر آرہی ہو یا گٹر وغیرہ پانی کی واضح امیزش ہو پھر وہ پانی ناپاک ہے اس سے کپڑے بھی ناپاک ہوتے ہیں۔

لما فی الشامیہ (1/583،رشیدیہ)
”قولہ وطین شارع مبتداخبرہ قولہ:”عفو”والشارع:الطریق وفی الفیض:طین الشوارع عفو وان ملا الثوب للضرورۃ ولو مختلطاً بالعذرات وتجوز الصلاۃ معہ․“
وفی بدائع الصنائع (1/235،رشیدیہ)
”وروی عن محمد فی الروث انہ لا یمنع جواز الصلاۃ وان کان کثیراً فاحشاً وقیل ان ھذا آخر اقاویلہ حین کان بالری وکان الخلیفۃ بھا فرای الطرق والخانات مملوءۃ من الارواث وللناس فیھا بلویٰ عظیمۃ،
فعلیٰ ھذا القیاس قال بعض مشایخنا بما وراء النھر ان طین بخاریٰ اذا اصاب الثوب لا یمنع جواز الصلاۃ وان کان کثیراً فاحشاً لبلویٰ الناس فیہ لکثرۃ العذرات فی الطرق․
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید(1/57،الطارق)         وکذا فی البحر الرائق(1/904،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ(1/47، رشیدیہ)         وکذا فی الفتاویٰ التاتار خانیہ(1/428،فاروقیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح(158،قدیمی کتب خانہ)          وکذا فی تبیین الحقائق(1/74،امدادیہ)
وفی المحیط البرھا نی(1/364،دار احیاء تراث العربی)     وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الد”ر(1/161،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساھیوال
21/4/1443-2021/11/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:142

انسانی کٹے ہوئے بالوں یا کنگی کے ذریعے اترے ہوئے بالوں کی خریدوفروخت جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاًومسلماً

جائز نہیں۔

لما فی بدائع الصنائع:(4/333،رشیدیہ)
”واما عظم الادمی وشعرہ فلا یجوز بیعہ لا للنجاسۃ لانہ طاھر فی الصحیح من الروایۃ لکن احتراماً لہ و الابتذا ل بالبیع یشعر بالاھانۃ.“
وفی الفتاویٰ الھندیہ:(3/115،رشیدیہ)
”لا یجوز بیع شعور الانسان ولا یجوز الانتفاع بھا وھو الصحیح.“
وکذا فی المحیط البرھانی:(9/334،ادارہ القران)
وکذافی البحر الرائق:(6/133،رشیدیہ)
وفی کذا الھدایہ:(3/57،رحمانیہ)
وفی کذا النھر الفائق:(3/428،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/56،الطارق)
وکذا فی الفتاوی الشامیہ:(7/244،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/7/1443-2022/2/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:194

امام صرف”سمع اللہ لمن حمدہ“کہے گایا”ربنا لک الحمد“بھی کہے گا؟

الجواب حامداًومصلیاًومسلماً

روایات دونوں طرح کی ملتی ہیں لہذا امام آہستہ آواز سے ”ربنا لک الحمد“ کہہ لے تو بہتر ہے۔

لما فی التنویر و الدر(2/246،رشیدیہ)
ثم یرفع راسہ من رکوعہ مسمعاً )فی ”الولوالجیۃ “:لو ابدل النون لاماً تفسد ؛وھل یقف بجزم او تحریک ؟قولان (ویکتفی بہ الامام)وقالا :یضم التحمید سراً( و )یکتفی (بالتحمید المؤتم)
وھو روایۃ عن الامام ایضاً ؛والیہ مال الفضیلی والطحاوی وجماعۃمن المتاخرین ،معراج عن الظیر یۃ ․واختارہ فی الحاوی القدسی،ومشی علیہ فی نور الایضاح ،لکن المتون علی قول الامام
وفی البحر الرائق(1/552،رشیدیہ)
واکتفیٰ الامام بالتسمیع و المؤتم والمنفرد بالتحمید )لحدیث الصحیحین ”اذا قال الامام سمع اللہ لمن حمدہ فقولوا ربنا لک الحمد“ فقسم بینھما و القسمۃ تنافی الشرکۃ فکان حجۃ علی ابی یوسف ومحمد القا ئلین بان الامام یجمع بینھما استدلالاً بانہ علیہ السلام کان یجمع بینھما لان القول مقدم علی الفعل
وکذا فی الفتاویٰالتاتارخانیہ(2/169،فاروقیہ) وکذا فی غنیہ المتملی(318،رشیدیہ) وکذا فی الھدایہ(1/106،المیزان) وکذا فی خلاصہ الفتاویٰ(1/53،رشیدیہ) وکذا فی الجوھر ہ النیرہ(1/142،قدیمی کتب خانہ) وکذا فی الفتاویٰ الھندیہ(1/74،رشیدیہ) وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح(283،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/5/1443-2021/12/19
جلد نمبر :26 فتوی نمبر:72

کہ خطبہ جمعہ میں ”الصدق ینجی والکَذِبُ۔۔۔۔الخ“جملے میں لفظ”الکَذِبُ “کو بکسر العین پڑھتے ہیں جبکہ چھٹے کلمے میں”من الشرک والکِذبِ“بسکون العین پڑھتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا دونوں جگہ پر دونوں طرح سے پڑھ سکتے ہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا ومسلما

الکَذِبُ اور الکِذبُ دونوں کَذَبَ کے مصدر ہیں اور دونوں کا معنیٰ ایک ہی ہے”جھوٹ بولنا“، لہذا دونوں جگہ پر دونوں طرح پڑھا جا سکتا ہے۔

لما فی القاموس المحیط (1/281،دار احیاء تراث العربی)
” کَذَبَ: یَکْذِبُ کَذِبًا وَ کِذْبًا وَکِذْبَۃً وَ کِذَابًا․“
وفی المعجم الوسیط (780،الادارۃ للمعجمات)
”(کَذَبَ: کَذِبًا، وَکِذْبًا،وَ کِذَابًا اخبر عن الشیئ بخلاف ما ھو علیہ فی الواقع․“
وکذا فی المحیط فی اللغہ(6/237،عالم الکتب)
وکذا فی القاموس الوحید(1115،ادارہ اسلامیات)
وکذا فی القاموس الجدید (608،ادارہ اسلامیات)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساھیوال
28/4/1443-2021/12/4
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:150

مارے علاقے میں ایک ادارہ ہے، اخوت کے نام سے جو لوگوں کو قرض حسنہ دیتا ہےاور آسان اقساط میں واپس لیتا ہے،اس کی ترتیب یہ ہے کہ جو شخص بیس یا تیس ہزار قرض لیتا ہے شروع میں اس سے 300 روپے سروس چارجز کے نام پر لیتے ہیں جس سے وہ ادارے کے اخراجات اور عملہ کی تنخواہیں ادا کرتے ہیں اور پھر ہر قسط کے ساتھ ترغیب دیتے ہیں کہ آپ حسب توفیق عطیہ اس قرض حسنہ کے فنڈ میں جمع کروائیں اور یہ رقم بھی جمع کروانا لازمی ہوتا ہے ۔اس ادارے سے قرض لینا کیسا ہے؟ وہ تین سو سروس چارجز کے اور بعد میں جو عطیہ فند میں جمع کروایا جا تا ہے سود ہے یا نہیں؟ تنقیح:فون پر اخوت ادارے کے نمائندے نے درج ذیل باتیں بتائیں:(1)قرض لینے والے سے نادرہ فیس اور ایپلیکیشن فیس لی جاتی ہے۔(2)عطیہ کی شرط نہیں لگائی جاتی ،قرض لینے والے کو پورا اختیار ہوتا ہے کہ وہ عطیہ دےیا نہ دے۔

الجواب حامداًومصلیاً

ہم نے اخوت ادارے سے برائے راست جو تفصیل معلوم کی وہ مندرجہ بالا ہے،اگر اس ادارے کی یہی ترتیب رہے جو سوال میں مذکور ہے تو اس سے قرض لینا جائز ہے، اور اگر ترتیب بدل جائے تو دوبارہ سوال کر لیا جائے۔

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/8/1443-2022/3/26
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:87

کیا ویڈیو کے ذریعہ حد زنا جاری کی جائے گی؟ اگر نہیں تو کیا تعزیر ہو گی؟

الجواب حامداًومصلیاً

زنا کی حد جاری کرنے کے لیے مخصوص شرائط کے مطابق چار مسلمان مردوں کی گواہی یاملزم کا اقرار ضروری ہے، فقط ویڈیو کی وجہ سے حدزنا جاری نہ ہو گی، البتہ ویڈیو کی بناء پر قاضی یا حاکمِ وقت تعزیر (کوئی مناسب سزا) دے سکتا ہے۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(7/5372،رشیدیہ)
فہی شھادۃ اربعۃ رجال ذکور، عدول، احرار، مسلمین علی الزنا بان یقولوا: رأیناہ وطئھا فی فرجھا کالمیل فی المکحۃ۔۔۔۔ ان یجمع الشھود الاربعۃ علی فعل واحد، فی المکان والزمان کمابان عند الحنفیۃ فان اختلفوا لاتقبل شھادتھم
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(6/402،فاروقیہ)
ینبغی ان ینظر القاضی فی سببہ فان کان من جنس ما یجب بہ الحد ولم یجب بعارض یبلغ التعزیر اقصی غایاتہ
وفیہ ایضًا :(6/398،فاروقیہ)
“ان الحد یدرأ بالشبھات والتعزیر یجب مع الشبھات۔”
وکذافی الشامیة:(4/62،ایچ۔ایم۔سعید)
وکذافی المحیط البرھانی:(6/401،ادارة القرآن)
وکذافی الھندیة:(2/143،رشیدیہ)
وکذافیہ ایضاً:(2/143،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(12/257،علوم اسلامیہ)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(2/438،دار العلوم)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29،7،1443/2022،3،3
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:196

مدرسے کے پانی کو ذاتی استعمال میں لانا مثلا موٹرسائیکل وغیرہ دھونا شرعی اعتبار سےکیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

مدرسے کے پانی سے موٹرسائیکل دھونا ادارے کے کارکنان کے لئے تو درست ہےاور عام لوگوں کے لئے اس وقت اجازت ہو گی جب ادارے کی انتظامیہ یا متولی نے صراحۃ اس کی اجازت دے رکھی ہو۔

لمافی البحر الرائق :(5 /419 ،رشیدیہ)
بعث شمعا فی شھر رمضان الی مسجد فاحتترق و بقی منہ ثلثہ او دونہ لیس للامام ولا للمؤذن ان یاخذ بغیراذن الدافع ولو کان العرف فی ذلک الموضع ان المام والمؤذن یاخذہ من غیر صریح الاذن فی ذلک فلہ ذلک.
وفی الخانیة علی ھامش الھندیة:(3/297،رشیدیہ)
وقف لہ متول و مشرف لا یکون للمشرف ان یتصرف فی مال الواقف لان ذلک مفوض الی المتولی و المشرف مامور مالحفظ لا غیر
وکذافی شرح مجلة الاحکام:(2/254،العربیہ)
وکذافی الشامیة:(6/664،دارالمعرفہ)
وکذافی الھندیہ :(2/463،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/137،ادارةالقران)
وکذافی فتح القدیر :(6/219،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1443-2021/12/8
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:2