زید نے ایک عورت سے زنا کیا تو کیا زید اس عورت کی بہن سے نکاح کرسکتا ہے۔

الجواب حامداومصلیا

زانیہ کی عدت(ایک حیض)گزرنے کے بعدزانیہ کی بہن سے نکاح کر سکتاہے۔

لمافی الفقہ السلامی وادلتہ:(9/6666،رشیدیہ)
وإن زنی الرجل بامرأۃ،فلیس لہ أن یتزوج بأختھا حتی تنقضی عدتھا وحکم العدۃ من الزنا والعدۃ من وطیٔ الشبھۃ ،کحکم العدۃ من النکاح
وکذافی الخانیة:(1/364،رشیدیہ)
اذاوطیٔ الرجل أخت امرأتہ بشبھۃ تجب العدۃ علی الموطوأۃ ولم تنقض عدتھا لایحل لہ ان یطأ المنکوحۃ
وکذافی الھندیة:(1/274،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(2/189،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی:(4/106،ادارة القراٰن)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی :(280،البشریٰ)
وکذافی فتح القدیر:(3/205،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(3/170،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
11،7،1443/2022،2،13
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:163

ایک آدمی کو رات کے وقت میں احتلام ہوا،اس نے صبح روزہ رکھنا ہے اس آدمی نے سحری کی اور طلوع فجر کے بعد غسل کیا،اس کے جان بوجھ کر طلوع فجر کے بعد غسل کرنے کی وجہ سے روزہ درست ہے یا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

روزہ درست ہے،البتہ جان بوجھ کر غسل میں تاخیر کرنا درست نہیں ہے۔

لمافی المختصر فی الفقہ الحنفی :(257،البشری)
“من احتلم لیلا ولم یغتسل حتی بقی جنبا طول النھارلم یفسد صومہ ولکن یأثم بتاخیر الغسل․”
وکذافی بدائع الصنائع:(2/241،رشیدیہ)
“أحل اللّٰہ عزوجل الجماع فی لیالی رمضان إلی طلوع الفجر وإذا کان الجماع فی آخر اللیل یبقی الرجل جنبا بعد طلوع الفجر لا محالۃ فدّل أن الجنابۃ لاتضرّالصوم․”
وکذافی الفقہ الحنفی ثوبہ الجدید:(1/387،الطارق)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/260،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/480،حقانیة)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(661،قدیمی)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1712،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
15،7،1443/2022،2،17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:190

اگر کسی آدمی نے رمضان کے دوروزے فاسد کردے تواس پر دو کفارےہونگے یا ایک ہی کفارہ کافی ہوگا؟

الجواب حامداومصلیا

اس مسئلے کی دو صورتیں ہیں(1)اگر کھانے پینے سے متعددروزے فاسد کردئے اور ابھی تک کوئی کفارہ ادا نہیں کیا توبالاتفاق ایک ہی کفارہ کافی ہو گااور اگر ایک کفارہ ادا کرنے کے بعد دوبارہ روزہ فاسد کردیا تو دوبارہ کفارہ لازم ہوگا(2)اگر جماع کی وجہ سے متعدد روزے فاسد کردئے تواس بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے بعض کے نزدیک ایک کفارہ کافی ہوگا،یہ بات زیادہ سہولت والی ہے بعض کے نزدیک دو کفارے ہونگے اور احتیاط اسی میں ہے۔

لمافی الھندیة:(1/215،رشیدیہ)
ولوجامع مرارافی ایام من رمضان واحد ولم یکفر کان علیہ کفارۃ واحدۃولو جامع وکفر ثم جامع وکفر ثم جامع علیہ کفارۃ اخری
وکذافی فی الدر:(3/448،رشیدیہ)
واختار بعضھم للفتوی ان الفطر بغیرالجماع تداخل والالاوفی الرد المحتار:(والالا)ای:وان کان الفطرالمتکررفی یومین بجماع لاتداخل الکفارۃوان لم یکفر للاول لعظم الجنایۃ
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/421،الطارق)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(259،البشریٰ)
وکذافی االسراجیة:(168،زمزم)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1729،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(3/394،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17،9،1443/2022،4،19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:191

زیدکی ایک رضاعی ماں ہے،جس کے شوہر نے دوسری شادی کی ہے،اس دوسری شادی سے ایک بیٹی ہے،کیا اس بیٹی سے زید کی شادی ہوسکتی ہے؟

الجواب حامداًومصلیا

نہیں ہو سکتی۔

لما فی الفتاوی الھندیہ:(1/343،رشیدیہ)
یحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع واصولھماوفروعھمامن النسب والرضاع جمیعا
وفی الصحیح المسلم:(1 /537 ،رحمانیہ)
عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یحرم من الرضاع مایحرم من الولادۃ
وفی الفتاوی التاتار خانیہ:(4/ 362،فاروقیہ)
ویحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع و اصولھماوفروعھمامن النسب والرضاع جمیعا
وکذافی الخانیہ:(1/416،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیہ:(1/365،حرمین شریفیں)
وکذافی مجمع الانھر:(1/554،المنار)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/538،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(5/132،دارالمعرفہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(4/93،ادارۃالقران)
وکذافی البحرالرائق:(3/343،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن
19،2،1443/2021،9،72
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:31

محمد اکبر فوت ہو گیا،اس کے تین بیٹے اصغر،محمد عمران،فہیم،دو بیٹیاں سلمہ اور جمیلہ اور بیوی رقیہ ہے پھر تقسیم میراث سے پہلے محمد اکبر کا بیٹا محمد عمران فوت ہوگیااور محمد عمران کے دو بیٹے محمد اقبال اور محمد شریف اور ایک بیٹی صباء ہے۔اب ان میں میراث کیسے تقسیم ہوگی اور ہر وارث کو کتنا حصہ ملےگا؟

الجواب حامداومصلیا

مرحوم نے بوقت انتقال جو بھی مال و جائیداد منقولہ (جیسے سونا،چاندی، نقدی،زیورات،برتن اور کپڑے)و غیر منقولہ (جیسےدوکان ، مکان ،پلاٹ وغیرہ )غرض جو بھی چھوٹا بڑا سامان چھوڑا ہو، نیز مرحوم کا اگر کسی کے ذمہ قرضہ ہے یا مرحوم کےواجبات اگر کسی فرد یا ادارے کی ذمہ ہوں تو وہ سب بھی مرحوم کا تر کہ شمار ہو گا۔
اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنہیں ترتیب وار ادا کرنا ضروری ہے:(1)میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جاتے ہیں،اگر کوئی بالغ وارث یا کوئی اپنی طرف سے احساناًادا کر دے تو پھر نہیں نکالے جاتے۔ (2)اگر میت کےذمہ کسی کاقرض ہو تو باقی مال سےاس کو ادا کیا جاتا ہے،اگرچہ سارا مال خرچ ہو جائے ،نیز اگر مرنے والے نے اپنی بیوی کامہر ادا نہیں کیا تھا اور بیوی نے خوش دلی سے معاف نہیں کیا تھا تو وہ بھی قرض شمار ہوتا ہے۔ (3)اگر میت نے کسی غیر وارث کے لئے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک اس وصیت کو پورا کیا جاتا ہے۔ (4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا فصل وغیرہ ہواس کو درج ذیل طریقے سے تقسیم کیا جائے گا۔
مرحوم کے کل ترکہ کے 192برابر حصے کئے جائیں گے،ان میں سے 42 حصے(٪21.875)اصغر کو،42 حصے (٪21.875)فہیم کو،21حصے(٪10.937)سلمہ کو،21حصے(٪10.937)جمیلہ کو،31حصے(٪16.145)رقیہ کو،14حصے (٪7.291)اقبال کو ،14حصے(٪7.291)محمدشریف کو،7حصے(٪3.645)صباءکو دیے جائیں گے۔

مزید تفصیل کے لئے نقشہ ملاحظہ فرمائیں۔
نمبر شمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ
1 رقیہ 31 ٪16.15
2 اصغر 42 ٪21.88
3 فہیم 42 ٪21.88
4 سلمہ 21 ٪10.94
5 جمیلہ 21 ٪10.94
6 اقبال 14 ٪7.30
7 محمد شریف 14 ٪7.30
8 صباء 7 ٪3.65
میزان 8 192 ٪100

 

 

لمافی الھندیة:(6/448،رشیدیہ)
واما النساء فالاولی البنت ولھا النصف اذاانفردت وللبنتین فصاعدا الثلثان…………واذا اختلط البنون والبنات عصب البنون والبنات فیکون للابن مثل حظ الانثیین
وکذافی البحر الرائق:(9/374،رشیدیہ)
وللزوجۃ الربع ای للزوجۃ نصف ما للزوج فیکون لھا الربع حیث لا ولد ومع الولد الابن وان سفل الثمن

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
14،9،1443/2022،4،16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:11

حالت روزہ ایک آدمی سے غلطی سے ناک میں پانی چلا گیا تو اس نے بعد میں کھاناپینا شروع کردیاتواس پر کفارہ ہو گا یا نہیں ؟

الجواب حامداومصلیا

اس پر قضاء ہو گی کفارہ نہیں ہو گا۔

لمافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(255،البشریٰ)
لوتمضمض الصائم فدخل الماء فی حلقہ خطأفھو ذاکر لصومہ فسد صومہ وعلیہ القضاء دون الکفارۃ
وکذافی الھندیة:(1/206،رشیدیہ)
لواکل اوشرب او جامع ناسیا وظن ان ذلک فطرہ فاکل متعمدا لا کفارۃ علیہ وان علم ان صومہ لا یفسدہ بالنسیان عند ابی حنیفۃ رحمہ اللّٰہ تعالی لا تلزمہ ھو الصحیح
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/258،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/199،رشیدیہ)
وکذافی السراجیة(161،زمزم)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1707،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/417،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17،9،1443/2022،4،19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:192

ایک آدمی نے اپنی تین سالہ بھانجی کو گود لیا بعد میں اس کی اپنی اولاد بھی ہوئی تو کیاان کا آپس میں نکاح ہو سکتا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

جی ہو سکتاہے۔

لمافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(280،البشریٰ)
تحل للرجل عمّۃ عمّۃ أمہ وخالۃ خالۃ ابیہ وکذلک تحل لہ بنات العمّات وبنات الأعمام وبنات الأخوال وبنات الخالات
وکذافی شرح الوقایة:(2/12،امدادیہ)
وکذا عمات الاب والام وعمات الجد والجدۃ لکن بنات ھؤلاءان لم یکن صلبیۃ لاتحرم کبنت العمّ والعمّۃ وبنت الخال والخالۃ
وکذافی بدائع الصنائع:(2/531،رشیدیہ)
وکذافی تفسیر المظہری:(2/51،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(3/199،رشیدیہ)
وکذافی در المختار:(4/110،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6626،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
12،7،1443/2022،2،14
جلد نمبر:26 فتوی نمبر: 114

آدمی ادائے قرض کے وقت چوری کے پیسے یاسود کے پیسے یا تراویح کی اجرت سے حاصل ہونے والے پیسے مقرض کو ادا کرتا ہے اورمقرض بھی ان پیسوں کی حقیقت کو جانتا ہے تو مقرض ایسے پیسے لے سکتا ہے ایا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

نہیں لے سکتا۔

لمافی الھندیة:(5/342،رشیدیہ)
أھدی الی رجل شیأاو اضافہ ان کان غالب مالہ من الحلال فلا بأس الا ان یعلم بانہ حرام فان کان الغالب ھو الحرام ینبغی ان لایقبل الھدیۃ ولا یأکل الا أن یخبرہ بانہ حلال ورثتہ او استقرضتہ من رجل
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2678،رشیدیہ)
وکذلک لایجوز استیفاء الدین من کسب حرام کالمرابی والمرتشی والغضب والسارق والمغنیۃ ولایحل للورثۃ أیضا اخذ المیراث من کسب حرام
وکذافی الفقہ البیوع:(2/1006،معارف القراٰن)
وکذافی التنویر مع الدر:(6/385،ایچ،ایم،سعید)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(6/476،فاروقیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(6/44،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(3/291،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
20،5،1443/2021،12،25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:114

موجودہ دور کے مروجہ جہیز کا کیا حکم ہے،جودلہن کی طرف سے لازم سمجھا جاتا ہےیہ جہیز اصل ذمہ داری کس کی ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

لڑکی کے والدین اپنی خوشی سے جو سامان چاہیں دے سکتے ہیں،لیکن اس میں کسی قسم کی ریا نہ ہواور لڑکے والوں کی طرف سے بھی یر قسم کا مطالبہ غیر اخلاقی ہو گااورلڑکی کی ضروریات کاسامان مہیا کرناشوہر کی ذمہ داری ہے۔جہیز کی موجودہ رسم قابل اصلاح ہے۔

لما فی مجمع الزوائدومنبع الفوائد:(9/242،دار الکتب العلمیة)
وعن انس رضی اللہ عنہ،انّ عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ،اتی ابابکررضی اللہ عنہ فقال:یاابابکرمایمنعک ان تزوج فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:لایزوجنی(بعداسطر)فانطلق عمررضی اللہ عنہ الی علِی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ،قال:مایمنعک من فاطمۃ؟فقال:اخشی ان لایزوجنی،قال:فان لم یزوجک فمن یزوج؟وانت اقرب خلق اللہ الیہ،فانطلق علی رضی اللہ عنہ الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولم یکن لہ مثل عائشۃولامثل حفصۃ،قال:فلقی رسول اللہ صلی اللہ وسلم،فقال:انی اریدان اتزوج فاطمۃقال:فافعل قال ما عندی الادرعی الحطمیۃ قال:فاجمع ماقدرت علیہ وائتنی بہ قال:فاتنی باثنتی عشرۃاوقیۃاربعمائۃوثمانین،فاتی بھا رسول اللہ صلی اللہ وسلم،فزوجہ فاطمۃ رضی اللہ عنھا،فقبض ثلاث قبضات،فدفعھاالی ام ایمن،فقال اجعلنی منھا قبضۃ فی الطیب احسبہ قال:والباقی فیما یصلح المراۃ من المتاع،فلما فرغت من الجھازوادخلتھم بیتا
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6825،رشیدیہ)
فراواان الجھاز واجب علی الزوج،کما یجب علیہ النفقۃوکسوۃ المراۃوالمھرالمدفوع لیس فی مقابلۃ الجھاز وانماھو عطاءونحلۃ کما سماہ اللہ فی کتابہ اوھو فی مقابلۃ حل التمتع بھا،فھوحق علی الزوج لزوجتہ
وفی البحر الرائق:(3/325،رشیدیہ)
لوجھز بنتہ ثم ادعی ان مادفعہ لھا ؑعاریۃوقالت تملیکااوقال الزوج ذلک بعد موتھا لیرث منہ وقال الاب عاریۃ،ففی فتح القدیر والتجنیس الذخیرۃالمختارللفتوی ان القول للزوج ولھااذاکان العرف مستمراان الاب یدفع مثلہ جھازالاعاریۃ کمافی دیارناوان کان مشترکا فالقول قول الاب
وفی تنویر الابصار:(4/307،رشیدیہ)
ولو دفعت فی تجھیزھا لابنتھااشیاءمن امتعۃالاب بحضرتہ وعلمہ وکان ساکتاوزفت الی الزوج فلیس للاب ان یستردذلک من ابنتۃ لجریان العرف بہ وکذا لوانفقت الام فی جھازھاماھومعتادوالاب ساکت لاتضمن الام
وفی المبسوط:(5/214،دارالمعرفة)
وفی المحیط البرھانی:(4/227،ادارۃالقران)
وفی الخانیة:(1/401،رشیدیہ)
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(4/301،فاروقیہ)
وفی خلاصةالفتاوی:(2/45،رشیدیہ)
وفی الھندیہ:(1/328،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
22،2،1443/2021،9،30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:58

جنبی آدمی کامسجد میں جانا یا تشبہ بالمصلی اختیار کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

جنبی آدمی کا مسجد میں داخل ہوناجائز نہیں ہے اور تشبہ بالمصلی کا حکم فاقدالطہورین کے لئے ہے۔

لمافی الھندیة:(1/38،رشیدیہ)
انہ یحرم علیھا وعلی الجنب الدخول فی المسجد سواء کان للجلوس أوللعبور
وکذافی سنن ابی داؤد:(1/42،رحمانیہ)
عن جسرۃ بنت دجاجۃ قالت سمعت عائشۃ تقول جاء رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ووجوہ بیوت اصحابہ شارعۃ فی المسجدفقال وجّھوا ھذہ البیوت عن المسجد ثم دخل النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولم یضع للقوم شیئا رجاء ان تنزل فیھم رخصۃ فخرج الیھم فقال وجّھو ھذہ البیوت عن المسجد فانی لااحل المسجد لحائض ولا جنب
وکذافی الھدایة:(1/63،رشیدیہ)
ولاتدخل المسجد وکذا الجنب لقولہ علیہ وسلم فانی لااُحل المسجد لحائض ولاجنب
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(47،البشری)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/53،حرمین شریفین)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/607،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/175،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/235،ادارةالقراٰن)
وکذافی التنویر مع الدر:(1/473،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
1،5،1443/2021،12،6
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:12