ایک قبرستان جسکی چار دیواری ہے،اس میں کچھ خالی جگہ ہے،کیااس خالی جگہ میں نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے؟جبکہ جنازہ پڑھتے وقت سامنے قبریں بھی ہیں۔

الجواب حامداومصلیا

قبروں کے درمیان نماز جنازہ مکروہ ہے۔

لمافی مجمع الزوائدومنبع الفوائد:(3/111،دارالکتب العلمیة)
عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ،ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھی ان یصلی علی الجنائز بین القبور
وکذافی کتاب الفقہ:(1/241،حقانیہ)
وکذافی معارف السنن:(3/297،ایچ،ایم،سعید)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/233،الطارق)
وکذا فی الصحیح المسلم:(1/368،رحمانیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/107،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1534)
وکذافی سنن ابن ماجہ:(1/156)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نزیر غفرلہ
دارالافتاءجامعةالحسن ساہیوال
26،3،1443/2021،11،2
جلد نمبر 25 فتوی نمبر:127

میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر اذان دینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

قبر پراذان دینا شرعا ناجائز ہے

لمافی الشامیة:(2/235،رشیدیہ)
تنبیہ)فی الاقتصار علی ماذکرمن الوارد اشارۃإلی انہ لایسن الأذان عند ادخال المیت فی قبرہ کما ھو المعتاد الآن،وقد صرح ابن حجر فی فتاویہ بأنہ بدعۃ وقال:ومن ظن أنہ سنۃ قیاسا علی ندبھما للمولود إلحاقالخاتمۃ الأمر بابتدائہ فلم یصب
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(224،البشری)
الأذان عند إدخال المیّت فی القبر:بدعۃ
وکذافی منحةالخالق علی البحرالرائق:(1/445،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقہیة:(8/23،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/190،الطارق)
وکذافی مشکٰوةالمصابیح:(1/27،رحمانیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/720،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
22،5،1443/2021،12،27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:85

فجر کی نماز میں ہی سورج طلوع ہو جائے،تونماز ادا ہو جائے گی یا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں نمازفاسد ہوجائے گی۔

لمافی المبسوط:(1/152،دارالمعرفة)
“ولوطلعت الشمس وھو فی خلال الفجرفسدت صلاتہ عندنا.”
وفی بدائع الصنائع:(1/329،رشیدیہ)
وکذالایتصوراداءالفجر مع طلوع الشمس عندنا حتی لو طلعت الشمس وھوفی خلال الصلاۃتفسد صلاتہ عندنا
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(2/19،فاروقیہ)
وفی المحیط البرھانی:(2/5،ادارةالقرآن)
وفی اعلاءالسنن:(5/8،ادارةالقران والعلوم الاسلامیہ)
وفی منحة الخالق:(1/436،رشیدیہ)
وفی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعة:(1/165،حقانیہ)
وفی الفقہ الحنفی فی ثوب الجدید:(1/187،الطارق)
وفی الرد المحتار:(2/41،رشیدیہ)
وفی شرح الوقایة:(1/149،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
24،2،1443/2021،10،2
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:59

اہلحدیث جو غیرمقلد ہیں ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

نماز تو ہو جائے گی،البتہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے میں احتیاط کرنی چاہیے،کیونکہ یہ ایسی باریک جرابوں پر مسح کرنے کا قائل ہیں جن پر ائمہ فقہاء کے نزدیک مسح کرنا جائز نہیں ہے،جس کے نتیجے میں ان کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔

لمافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/249،فاروقیہ)
الاقتداء بشافعی المذھب قالوا:لاباس بہ اذا لم یکن متعصبا ولا شاکا فی إیمانہ ولامنحرفاانحرافافاحشاعن القبلۃ بأن جاوزالمغارب ولایتوضأبالماءالقلیل الذی وقعت فیہ النجاسۃ
وکذافی الھندیة:(1/84،رشیدیہ)
والاقتداء بشافعی المذھب انما یصح اذا کان الامام یتحامی مواضع الخلاف بان یتوضا من الخارج النجس من غیر السبیلین کالفصد وان لاینحرف عن القبلۃ انحرافا فاحشا……………ولاشک انہ اذا جاوز المغارب کان فاحشا ولایکون متعصبا ولاشاکا فی ایمانہ وان لایتوضأ فی الماء الراکد القلیل وأن یغسل ثوبہ من المنی ویفرک الیابس منہ وأن لایقطع الوتر وان الترتیب فی الفوائت وان یمسح ربع راسہ
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/98،الطارق)
وقد اتفق الأئمۃ علی عدم جواز المسح علی الجوربین الرقیقین اللذین یشفان
وکذافی البحرالرائق:(1/613،رشیدیہ)
وکذافی اعلاء السنن:(4/321،ادارةالقراٰن والعلوم الاسلامی)
وکذافی الھدایة:(1/198،البشری)
وکذافی مجمع الانھر:(1/163،المنار)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/387،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
21،5،1443/2021،12،26
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:84

ایک شخص نے گھر میں بغیر خطبے کے عید کی نماز پڑھائی جبکہ اس کے پیچھے مقتدی ایک مرد اور دو عورتیں تھیں آیااب نماز ہوگئی یا نہیں اور ایسا کرنے سے امام گناہ گار ہوگا یا نہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

عید کی نماز صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ امام کے علاوہ تین مرد مقتدی ہوں اور ایک شرط یہ ہے کہ وہاں لوگوں کو نماز کی عام اجازت ہو،ان دونوں شرائط کے نہ ہونے کی وجہ سے صورت مسئولہ میں عید کی نماز نہیں ہوئی۔

لمافی تنویرالابصارمع الدر:(2/151،ایچ،ایم ،سعید)
شرائط صحة الجمعۃ منھا)(الجماعة)واقلھا ثلاثة رجال (قال فی الشامیۃ تتہ)اطلق فیھم فشمل العبید والمسافرین والمرضی والامیین والخرسی لصلاحیتھم للامامةفی الجمعة
وکذافی کتاب الفقہ:(1/327،حقانیہ)
“الاذان العام من الامام الحاکم فلاتصح الجمعة فی مکان یمنع منہ بعض المصلین∙”
وکذافی شرح الوقایة:(246،امدادیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/254،المنار)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1389،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/483،ادارةالقران)
وکذافی الھندیة:(1/85،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الخانیہ:(1/182،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(2/68،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیرغفرلہ
دارالافتاءجامعةالحسن ساہیوال
24،2،1443/2021،10،31
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:96

چند مرد و عورتیں اکھٹے بیٹھے ہوئے تھے، ایک شخص نے آیت سجدہ پڑھ لی تو انہوں نے ایک عورت سے کہا آپ سجدہ تلاوت کی امامت کرو،ہم آپ اقتداء میں سجدہ تلاوت کر لیتے ہیں ،پھر ان سب نے ایسا کر لیا تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

سجدہ تلاوت ادا ہو گیا،مگر یہ طریقہ مناسب نہ تھا۔

لمافی الشامیة:(2/711،رشیدیہ)
والمتابعۃ ھنا وان کانت لیست اقتداء حقیقۃ ولذا صح متابعۃ المرأۃ فیھا وتقدم السامع علی التالی
وکذافی البحر الرائق:(2/224،رشیدیہ)
لایؤمر التالی بالتقدیم ولا بالصف ولکنہ یسجد ویسجدون معہ حیث کانوا وکیف کانواوذکر ابوبکر ان المرأۃ تصلح اماما للرجل فیھا
وکذافی النھر الفائق:(1/343،قدیمی)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(183،البشری)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1134،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/237،المنار)
وکذافی الھندیة:(1/134،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(2/25،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17،8،1443/2022،3،21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:59

ایک شخص نے عشر کی رقم سے مسجد تعمیر کرلی ہے اس مسجد کا کیا حکم ہے؟اورعشر کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

عشر کی رقم سے مسجد تعمیرکرنا جائز نہیں ہے،لہذااس شخص کا عشرادا نہیں ہوادوبارہ ادا کرے۔

لمافی الھندیة:(1/188،رشیدیہ)
ولایجوز ان یبنی بالزکاۃ المسجد وکذا القناطروالسقایات واصلاح الطرقات وکری الانھاروالحج والجھادوکل مالا تملیک فیہ
وفی المبسوط 2/202،دارالمعرفة
ولا یجزی فی الزکاۃ عتق رقبةوالحج ولاقضاءدین میت ولاتکفینہ ولا بناء مسجد والاصل فیہ ان الواجب فیہ فعل الایتاء فی جزء من المال ولایحصل الایتاء الا بالتملیک،فکل قربۃ خلت عن التملیک لاتجزی عن الزکاۃ (وبعداسطر)وکذلک بناء المسجد لیس فیہ التملیک من احد
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:)3/1958،رشیدیہ)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(3/208،فاروقیہ)
وفی البحرالرائق:(2/424،رشیدیہ)
وفی مجمع الانھر:(1/328،المنار)
وفی الفتاوی الولوالجیة:(1/18،حرمین شریفین)
وفی فتح القدیر:(2/272،رشیدیہ)
وفی تنویر مع الدر:(3/341،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
24،3،1443/2021،10،30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:97

ایک آدمی اپنی بیوی کو کہتا ہےاگرتم مجھ سے پوچھے بغیر گھر سے باہر گئی تو فارغ ہے،پھرخوداس کو اجازت دےدیتا ہے کہ تم اب میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر جاسکتی ہوتواب اس کے بغیراجازت باہر جانے سے طلاق واقع ہوگئی یانہیں؟

الجواب حامداومصلیا

نہیں واقع ہوگی۔

لمافی الھندیة:(1/440،رشیدیہ)
ولو قالت أنت طالق ان خرجت من ھذہ الدار حتی اذن لک أوآمرأوأرضی أوأعلم فجوبھاأنّ ذلک علی الاذن مرۃ واحدۃ حتی لو أذن لھا مرۃ فخرجت ثم عادت ثم خرجت بغیر اذن لایحنث
وکذافی المحیط البرھانی:(5/104،ادارة القراٰن)
إذاقال لإمرأتہ:إن خرجت إلاباذنی فأنت طالق،فاستأذنتہ فی الخروج إلی أبیھافأذن لھا،فخرجت إلی منزل أختھالاتطلّق من قبل أنہ قدأذن لھابالخروج،فلاأبالی ذھبت إلی الذی أمرھابہ أوإلی غیرہ،من قبل أنّ الیمین متعلق بالإذن فی الخروج
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/184،الطارق)
وکذافی شرح المجلة:(1/61،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(5/61،فاروقیہ)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(307،البشری)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
15،5،1443/2021،12،20
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:83

شیعہ فجر کی نماز کے بعد سورج نکلنے سے پہلے ہی قربانی کر دیتے ہیں،کیاان کی قربانی کاگوشت کھاناجائز ہے؟جبکہ قصاب مسلمان ہیں۔

الجواب حامداومصلیا

مسلمان کا ذبیحہ حلال ہےلہذا یہ گوشت کھانا جائز ہے۔

لمافی البحرالرائق:(8/306،رشیدیہ)
وحل ذبیحۃ مسلم وکتابی لقولہ تعالی(وطعام الذین أوتواالکتاب حل لکم)والمراد ذبائھم لأن مطلق الطعام غیر المذکی یحل من أی کافر ولایشترط أن یکون فیہ غیر اللّٰہ تعالی حتی لوذکرالکتابی المسیح أو عزیرالایحل
وکذافی الھندیة:(5/285،رشیدیہ)
وأماشرائط الذکاۃ فأنواع…………ومنھاأن یکون مسلماأوکتابیافلا تؤکل ذبیحۃ أھل الشرک والمرتدلانہ لایقرعلی الدین الذی انتقل الیہ
وکذافی مجمع الانھر:(4/153،المنار)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(17/389،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/3714،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(409،البشری)
وکذافی تبیین الحقائق:(5/287،امدادیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/448،ادارة القراٰن)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17،5،1443/2021،12،22
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:53

سجدہ تلاوت کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

سجدہ تلاوت کرنے کاافضل طریقہ یہ ہے کہ کھڑے ہو کربغیر ہاتھ اٹھائےتکبیر کہتے ہوئے سجدے میں جائیں اور کم ازکم تین مرتبہ سبحان ربی الأعلیپڑھیں،پھر تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہوجائیں،البتہ اگر بیٹھ کر تکبیر کہتے ہوئے سجدہ کیا تو یہ بھی جائز ہے۔

لمافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(180،البشری)
کیفیۃ سجودالتلاوۃ أن ینحط للسجود مکبّرا من غیر أن یرفع یدیہ ویسبح فی السجود ثلاث تسبیحات،ثم یرفع رأسہ من السجود مکبرا والأفضل لمن أرادان یسجد للتلاوۃ أن یقوم ثم یخر للسجود مکبرا،ثم یرفع رأسہ من السجود ویقوم بعد السجود أیضا ولکن ان لم یقم قبل السجود ولابعدہ :جازایضا
وکذافی الھندیة:(1/135،رشیدیہ)
فاذا اراد السجود کبر ولایرفع یدیہ وسجد ثم کبر ورفع راسہ ولا تشھد علیہ ولاسلام……………ویقول فی سجودہ سبحان ربی الاعلی ثلاثا ولا ینقص عن الثلاث کما فی المکتوبۃ………المستحب انہ اذا اراد ان یسجد للتلاوۃ یقوم ثم یسجد واذارفع رأسہ من السجود یقوم ثم یقعد
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/287،الطارق)
وکذافی التنویر مع الرد:(2/699،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/363،ادارة القراٰن)
وکذافی البحر الرائق:(2/223،رشیدیہ)
وکذافی السراجیة:(90،زمزم)

 

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
23،8،1443/2022،3،27
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:97