اگرکسی ایسی چیز کے ساتھ ٹیک لگا کر سویا ہو کہ اس چیز کو ہٹا دیا جائے،تو وہ گر جائےتواس صورت میں وضو ٹوٹ جاتاہے۔کیاواقعتااس چیزکوہٹادیا جائےاوروہ گر جائے تووضوٹوٹے گا یا ہم فرض کر لیں،کہ وہ ایسی چیز کے ساتھ ٹیک لگا کر سویا ہے جس کوہٹانے سے وہ گرجائے تووضو ٹوٹتا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

یہ بطور مثال غلبہ نیند کی حد سمجھانےکےلئےہے کہ آدمی اتنی گہری نیند سوجائے کہ اپنےاعضاء،وجوارح پر مکمل کنٹرول ختم ہو کرآدمی کا سہاراکسی دوسری چیز پر ہوجائے توایسی نیند ناقض وضو ہوگی ورنہ نہیں۔

لمافی الفقہ الحنفی:(1/88،الطارق)
لونام جالساومقعدتہ متمکنۃعلی الارض،لاینتض وضوءہ سواءکان مستنداعلی شئی ام لا،فعن انس رضی اللہ عنہ قال:کان اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینامون،ثم یصلون ولایتوضاون وھذا محمول علی حال القعود
وفی کتاب الفقہ:(1/74،حقانیہ)
وفی الخانیة:(1/41،رشیدیہ)
وفی شامیة:(1/296،رشیدیہ)
وفی مجمع الانھر:(1/35،المنار)
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/425،رشیدیہ)
وفی تبیین الحقائق:(1/10،امدادیہ)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(1/254،فاروقیہ)
وفی بدائع الصنائع:(1/135،رشیدیہ)
وفی المحیطالبرھانی:(1/206،ادارةالقران)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیرغفرلہ
دارالافتاءجامعةالحسن ساہیوال
21،3،1443/2021،10،28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:95

مرد کے لئے چاندی کا چھلا پہننا جائز ہے کہ نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

ساڑھے چار ماشہ کے بقدریا اس سےکم پہننا جائز ہے۔

لمافی بدائع الصنائع:(4/316،رشیدیہ)
ومنھا الفضۃ،لأن النص الوارد بتحریم الذھب علی الرجال یکون واردا بتحریم الفضۃ دلالۃ فیکرہ للرجال استعمالھا فی جمیع مایکرہ استعمال الذھب فیہ إلا التختم بہ إذا ضرب علی صیغۃ مایلبسہ الرجال ولایزید علی المثقال
وکذافی والفقہ السلامی وادلتہ:(4/2636،رشیدیہ)
واستثنی أئمۃ المذاھب الخاتم الفضی للرجل ،فأباحوا لہ لبسہ والتختم بہ اذا کان قلیلا ومقدارہ عند الحنفیۃ:بقدر مثقال(975․2غم)فمادونہ
وکذافی الھندیة:(5/335،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/124،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/48،ادارة القراٰن)
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/227،رحمانیہ)
وکذافی الھدایة:(4/455،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(9/593،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
12،7،1443/2022،2،14
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:165

غصہ کی حالت میں نذرمنعقدہوگی یا نہیں؟کیونکہ حدیث میں یہ الفاظ ہیں ”لانَذرَ فِی الغَضَبِ“۔

الجواب حامدا ومصلیا

غصے کی حالت میں بھی نذر منعقد ہو جائے گی اور”لَانَذرَ فِی الغَضَبِ“کا مطلب یہ ہے کہ ایسی نذر جو غصہ کی حالت میں کسی گناہ کی مان لی گئی ہواس کو پورا نہیں کرنا چاہیے،بلکہ کفارہ دے دینا چاہیے۔

لمافی بذل المجھود:(14/168،قدیمی کتب خانہ)
عن عائشۃ رضی اللّٰہ عنھا ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:لانذرفی معصیۃ)ولیس معناہ أنہ لاینعقد بل معناہ أنہ لیس فیہ وفاءویدل علی ذلک قولہ(کفارتہ کفارۃیمین)قال فی فتح الودود لیس معناہ أنہ لاینعقد اصلاإذلایناسب ذلک قولہ:وکفارتہ إلخ بل معناہ لیس فیہ وفاء
وکذافی المصنف:(8/434،المکتب الاسلامی)
عن یحیی بن أبی کثیر عن رجل من بنی حنیفۃ قال:إن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:لانذر فی غضب ولافی معصیۃ اللہ،وکفارتہ کفارۃ یمین
وکذافی المحیط البرھانی:(6/352،ادارةالقراٰن)
وکذافی الصحیح البخاری:(2/991،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی سنن ابوداؤد:(2/112،رحمانیہ)
وکذافی سنن النسائی:(7/21،دار الکتب العلمیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2567،رشیدیہ)
وکذافی تحفةالاحوذی:(5/106،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(6/605،المکتبہ التجاریہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
3،5،1443/2021،12،8
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:11

ایک شخص برفانی علاقے میں جاتاہےاور باریک برف سے وضو کرتا ہےاسی کو ہاتھ پر ملتا ہے اسی کو منہ میں ڈال کر کلی کرتا ہے اوراپنے منہ پر ملتا ہےتوکیا اس شخص کا وضو ہو گیااور اس وضو سے نماز پڑھنا جائز ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اس شخص کا وضو نہیں ہو گاکیونکہ وضو کے لئے اعضاء پر پانی کا بہنا ضروری ہے،جوکہ صورت میں نہیں پایا جارہا۔

لمافی بدائع الصنائع:(1/65،رشیدیہ)
وعلی ھذا قالوا: لو توضأ بالثلج ولم یقطر منہ شیٔ لایجوز ولو قطرقطرتان أوثلاث جاز لوجود الإسالۃو سٔل الفقیہ أبوجعفر الھندوانی عن التوضؤ بالثلج؟فقال:ذلک مسح ولیس بغسل،فإن عالجہ حتی یسیل یجوز وعن خلف بن أیوب انہ قال ینبغی لمتوضی فی الشتاء أن یبل أعضاء ہ بالماء شبہ الدھن،ثم یسیل الماء علیھا لأن الماء یتجافی عن الأعضاء فی الشتاء
وکذافی الشامیة:(1/217،رشیدیہ)
أی إسالۃ الماء)قال فی البحرواختلف فی معناہ الشرعی فقال أبو حنیفۃ ومحمد:وھو الإسالۃ مع التقاطر ولو قطرۃ حتی لو لم یسل الماء بان استعملہ استعمال الدھن لم یجز فی ظاھر الروایۃ وکذا لو توضأ بالثلج ولم یقطر منہ شیٔ لم یجز
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/70،الطارق)
وکذافی مجمع الانھر:(1/20،المنار)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(25،البشری)
وکذافی الھدایة:(1/30،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17،7،1443/2022،2،19
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:186

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی اور لوگوں کو گواہ بنایا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی پھر کچھ عرصہ بعد اپنی بیو ی کو واپس گھر لے آیااوراب خاوند انکار کرے کہ میں نے طلاق نہیں دی۔اب اگر کوئی میاں بیوی کو حرام سے بچانے کےلئے علیٰحدہ علیٰحدہ ان کو ذہنی طور پر تیا رکرے اور حلالہ کرواے تو یہ حلالہ ہو جائے گا یانہیں،نیز یہ آدمی عنداللہ ماجور ہوگا یا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

حلالہ ہو جائے گااور یہ آدمی میاں بیوی کے درمیان اصلاح کی نیت کی وجہ سے عند اللہ مأجور ہوگا۔

لمافی الھندیة:(1/474،رشیدیہ)
رجل تزوج امرأۃ ومن نیتہ التحلیل ولم یشترطاذلک تحل للاول بھذا ولایکرہ ولیست النیۃ بشیٔ ولو شرطا یکرہ وتحل
وکذافی بدائع الصنائع:(3/296،رشیدیہ)
فإن تزوجت بزوج آخر ومن نیتھا التحلیل،فإن لم یشترطا ذلک بالقول وإنما نویا ودخل بھا علی ھذہ النیۃ حلت للأول فی قولہم جمیعا،لأن مجرد النیۃ فی المعاملات غیر معتبر فوقع النکاح صحیحا لاستجماع شرائط الصحۃ فتحل للأول
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(5/153،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق:(4/97،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(2/100،حرمین شریفین)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(2/121،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(2/91،المنار)
وکذافی فتح القدیر:(4/161،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
12،7،1443/2022،2،14
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:164

ایک کمپنی ایک لاکھ روپے کے بدلے8000سے لیکر13،000تک اپنے انوسٹرز کو منافع دیتی ہے اور بندۂ ناچیز کی منشاء یہ ہے کہ یہ پرافٹ جائز نہیں،بلکہ ہمیں ایک لاکھ کے پیچھے جتنا نفع ہوا ہے،اس حساب سے پرافٹ دیں،تواس مسئلہ کے بارہ میں شریعت کاکیا حکم ہے ؟مہربانی فرما کر رہنمائی فرمادیں۔

الجواب حامداومصلیا

کمپنی کااس طرح متعین رقم کی صورت میں نفع دینا جائز نہیں ہے،بلکہ درست طریقہ یہ ہے کہ کل نفع میں سے متعین فیصد کے اعتبار سے نفع دیا جائے ۔مثلاکل نفع کا چالیس فیصد دیا جائے گا۔

لمافی البحرالرائق:(5/296،رشیدیہ)
وتفسدأن شرط لأحدھما دراھم مسماۃ من الربح لانہ شرط یوجب انقطاع حق الشرکۃ فعساہ لایخرج إلاالقدر المسمی لأحدھما
وکذافی بدائع الصنائع:(5/77،رشیدیہ)
ومنھا:أن یکون الربح جزء شائعا فی الجملۃ لامعینا،فإن عینا عشرۃأو مائۃأونحو ذلک کانت الشرکۃ فاسدۃ،لأن العقد یقتضی تحقق الشرکۃ فی الربح والتعین یقطع الشرکۃ لجوازان لایحصل من الربح الاالقدرالمعین لاحدھما فلا یتحقق الشرکۃ فی الربح
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(385،البشری)
وکذافی مجمع الانھر:(2/544،المنار)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3940،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة:(3/161،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(4/287،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(15/395،فاروقیہ)
وکذافی الدر:(8/501،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
13،5،1443/2021،12،18
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:168

حرام کھانے سے پہلے یاکسی حرام فعل کے ارتکاب کے وقت ”بسم اللہ “پڑھنے کاکیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

کسی یقینی حرام کھانے سے پہلے یاکسی یقینی حرام فعل کوکرتے وقت،اگراس کام کو حلال سمجھتےہوئے یااللہ تعالیٰ کے نام کی تحقیرکے لئے،بسم اللہ پڑھنا تو کفر ہے،ورنہ بے ساختہ اور غیر اختیاری طور پر بسم اللہ پڑھنے سے کافر تو نہیں ہو گا،لیکن گناہ گار ضرور ہوگا۔

لمافی الفتاوی التاتارخانیة:(16/499،فاروقیہ)
وفی الصیرفیة:سئل ایضا عمن غصب طعاما فقال عند أکلہ:بسم اللہ لایکفر ولو ذکر عند شرب الخمر؟ قال :إن کان علی وجہ الاستخاف یکفر وکذا عند الزنا
وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/380،رشیدیہ)
وقال العلامة عالم بن العلاء ومن أکل طعاما حراما وقال عند الأکل :بسم اللہ فقد حکی الإمام المعروف بالمستملی عن مشایخہ أنہ یکفر لاستخفافہ اسم اللہ ولو قال عند الفراغ عن الأکل:الحمد للہ فقد قال بعض المشایخ :إنہ لایکفر
وکذافی الخانیة:(6/330،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/318،الطارق)
وکذافی الھندیة:(9/337،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(9/561،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(1/38،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
26،7،1443/2022،2،28
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:181

اگر کوئی حادثہ گاڑی چلانے والے کی غلطی سے ہوا اس میں کچھ لوگ جان سے چلے جائیں تو ہم کہتے ہیں یہ حادثہ ڈرائیور کی غلطی سے ہواہے،لیکن اللہ تعالیٰ نے مرنے والوں کی موت اس طرح لکھی تھی پھر وہ ڈرائیور کیسے قصوروارہوا؟

الجواب حامداومصلیا

تقدیر میں لکھے ہوئے کی وجہ سے انسان کامجبور اور بے اختیار ہونا لازم نہیں آتا،بلکہ ہرانسان اپنے ارادے اور اختیار سے کام کرتا ہے،اسی لئے کسی انسان کو اچھےکام پر انعام دیاجاتاہےاوربرے کام کی سزادی جاتی ہے۔اگر تقدیر کی وجہ سے انسان کو معاف کردیا جائے تو دنیا سے امن اور انصاف ختم ہوجائےگا۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/543،الطارق)
فقد أثبت لھم ایمانا وعملا صالحا جزاھم بھما الجنۃ،فاللّٰہ تعالیٰ ھو الموجد والخالق للفعل ولیس للعبدإلّا کسبہ وتحصیلہ وبہ یثاب أویعاقب……………وعلی الصفحۃ الآتیۃ وقد تحمل علی علم اللّٰہ أزلا للذی سیکون من العبد خیرا کان أو شرّا،کقولہ علیہ وآلہ الصلاۃ والسلام:(السعید من سعد فی بطن أمہ)والعلم لیس فیہ معنی الإجبار
وکذافی حجة اللّٰہ البالغة:(1/57،قدیمی)
وقول الشرع شرط المؤاخذۃ علی الأفعال أن یفعلھا بالاختیار بمنزلۃ قول الطبیب شرط الضرربالسم والانتفاع بالتریاق أن یدخلافی البلغوم وینزل فی الجوف
وکذافی تفسیرالمظہری:(6/260،رشیدیہ)
وکذافی شرح العقیدةالطحاویة:(437،المکتب الاسلامی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
11،8،1443/2022،3،15
جلد نمبر :26 فتوی نمبر:189

ایک علاقے میں کئ جگہ جمعہ ہوتا ہے،تو دوکان دار کس جامع مسجد کی پہلی اذان کے وقت دوکان بند کرے گا؟

الجواب حامداومصلیا

قریبی جامع مسجد کی پہلی اذان کا اعتبار ہوگا۔

لمافی رد المحتار:(2/87،رشیدیہ)
والذی ینبغی اجابۃ الأول سواء کان موذن مسجدہ اوغیرہ فان سمعھم معااجاب معتبراکون اجابتہ لموذن مسجدہ
وکذافی فتح القدیر:(1/254،رشیدیہ)
والذی ینبغی اجابۃ الأول سواء کان مؤذن مسجدہ اوغیرہ لأنہ حیث یسمع الاذان ندب لہ الإجابۃ او وجبت…………فإن سمعھم معااجاب معتبرا کون جوابہ لموذن مسجدہ
وکذافی البحر الرائق:(1/452،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1283،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/253،المنار)
وکذافی الھدایة:(1/154،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/435،ادارة القراٰن)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
12،9،1443/2022،،14
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:129

صدقہ کا مال یا قربانی کی کھال کی قیمت کسی تنظیمی کام میں استعمال ہوسکتی ہے؟مثلا جمیعت کاجلسہ،اشتہار اور وال چاکنگ وغیرہ میں۔

الجواب حامداومصلیا

صدقات واجبہ اورقربانی کی کھال کی قیمت کسی تنظیمی کام میں استعمال نہیں ہو سکتی،البتہ صدقات نافلہ استعمال ہو سکتے ہیں۔

لمافی القراٰن الکریم:(التوبة:60)
إِنّمَاالصَدَقَاتُ لِلفُقَرَآءِوالمَسٰکین والعٰمِلِین عَلِیہاوالمؤلَّفۃِ قُلُوبُھُم وفی الرّقابِ والغٰرِمِینَ وَفِی سبِیلِ اللّٰہ وابنِ السّبیلِ فریضۃً منَ اللّٰہِ واللّٰہُ عَلِیمٌ حکِیمٌ
وکذافی البحر الرائق:(3/427،رشیدیہ)
وأما بقیۃ الصدقات المفروضۃ والواجبۃ کالعشر والکفارات والنذوروصدقۃ الفطر فلایجوزصرفہا للغنی لعموم قولہ علیہ الصلاۃ والسلام (لَاتَحِلُ صَدَقۃ لغنی)خرج النفل منھا لأنّ الصدقۃ علی الغنی ھبۃ
وکذافی بدائع الصنائع:(2/157،رشیدیہ)
کما لایجوزصرف الزکاۃإلی الغنی لایجوزصرف جمیع الصدقات المفروضۃ والواجبۃ الیہ ……واما صدقۃ التطوع : فیجوز صرفھا الی الغنی لانھا تجری مجری الھبۃ
وکذافی التنویرمع الدر:(9/543،رشیدیہ)
وکذافی صحیح المسلم:(1/391،رحمانیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/2055،رشیدیہ)
وکذافی صحیح البخاری:(1/286،رحمانیہ)
وکذافی اعلاءالسنن:(17/254،ادارةالقراٰن والعلوم الاسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
10،5،1443/2021،12،15
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:13