ایسے اوراق کا کیا حکم ہے جن پر احادیث،صحابہ کرام کے نام و واقعات ،فنی تعلیم کے بارے میں ،تفسیر قرآن اردو میں لکھی ہو آیا ان کو جلایا جا سکتا ہے یا نہیں ؟

الجواب حامداومصلیا

ایسے اوراق مقدسہ کو جلانا مناسب نہیں ،البتہ بہتر یہ ہے کہ ان کو”تحفظ اوراق مقدسہ “کے لیے لگائے گئے بکس وغیرہ میں رکھ دیا جائے ،اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر ان کو کسی صاف کپڑے میں لپیٹ کر کسی محفوظ جگہ مثلا قبرستان وغیرہ میں لحد کھود کر دفن کر دیا جائے ،اور اگر ان میں سے کوئی بھی صورت ممکن نہ ہو تو ان سے اسماء مقدسہ کو مٹاکر جلا سکتے ہیں، لیکن یہ حکم انتہائی مجبوری کے وقت کا ہے۔

لما فی الدر المختار:(9/696،رشیدیہ)
الکتب التی لا ینتفع بھا یمحیٰ عنھا اسم اللہ وملائکتہ ورسلہ ویحرق الباقی ولا بأس بأن تلقی فی ماء جار کما ھی أو تدفن وھو أحسن کما فی الأنبیاء
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(4/210،رشیدیہ)
الکتب التی لا ینتفع بھا یمحیٰ عنھا اسم اللہ وملائکتہ ورسلہ ویحرق الباقی ولا بأس بأن تلقی فی ماء جار کما ھی أ و تدفن وھو أحسن کما ھی فی الأنبیاء
قولہ (وھو أحسن) لأنہ یفعل بالأنبیاءوالأولیاء إذا ماتوا فکذا جمیع الکتب اذا بلیت وخرجت عن الإنتفاع بھا
وکذا فی التاتارخانیة:(18/68،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(8/10،ادارة القرآن)
وکذا فی السراجیة:(313،زمزم پبلشرز)
وکذا فی الھندیة:(5/323،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(9/696،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
17،8،1443/22،3،21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:69

جاز کیش کمپنی کی طرف سے یہ پیغام آتا ہے کہ آپ فلاں تاریخ تک اپنے موبائل اکاؤنٹ میں بینک اکاونٹ یاجاز کیش اکاؤنٹ سے 50 روپے سے زائد رقم جمع کروائیں اور فوری 50روپے حاصل کریں۔اسی طرح یہ میسج آتا ہے کہ آپ اپنے اکاونٹ سے 1000 سے زائد رقم نکلوائیں اور اگلے دن 500منٹ SMSاورMB پائیں ۔ اب کوئی آدمی اپنی ضرورت کےلیےرقم جمع کراتا ہے یا نکلواتا ہے اور اسے پیسے منٹ SMSیا MB دے دیے جاتے ہیں، تو ان کے استعمال کا شرعا کیا حکم ہے؟اوراگر کوئی آدمی پیسے اور منٹ وغیرہ حاصل کرنے کےلیے رقم جمع کراتا یا نکلواتا ہے ،تو اس صورت میں پیسے اور منٹ وغیرہ استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

 

اکاؤنٹ میں محض پیسے رکھنے پر جو پیسے ،منٹ،ایس ایم ایس یا ایم بی وغیرہ ملتے ہیں ،ان کا استعمال ناجائز اور حرام ہے ۔کیونکہ یہ قرض پر سود لینے کی طرح ہے ،البتہ جو پیسے ،منٹ ،ایس ایم ایس یا ایم بی رقم کی ٹرانزیکشن یا لوڈ خریدنے پر ملتے ہیں ،ان کا استعمال جائز ہے۔

 

لما فی الشامیة:(7/413 ،رشیدیہ)
قولہ:( کل قرض جر نفعا حرام) أی :اذا کان مشروطا کما علم مما نقلہ عن البحر وعن الخلاصۃ وفی الذخیرۃ وإن لم یکن النفع مشروطا فی القرض فعلی قول الکرخی لا بأس بہ
وکذا فی المحیط البرھانی:(10/351،دار إحیا )
قال محمد فی کتاب الصرف أن ابا حنیفۃ کان یکرہ کل قرض جر منفعۃ،قال الکرخی ھذا إذا کانت المنفعۃ مشروطۃ فی العقد ۔۔۔۔۔۔فإن لم تکن المنفعۃ مشروطۃ فأعطاہ المستقرض أجود مما علیہ ،فلا بأس بہ۔
وکذا فی سورةآل عمران:(آیت،275)
وکذا فی اعلاء السنن:(14/512،ادارة القرآن )
وکذا فی الھدایة:(3/82،رحمانیہ)
وکذا فی التاتارخانیة:(9/390،فاروقیہ)
وکذا فی الھندیة:(3/202،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط:(ا4/30،دارالمعرفہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی :(3/102،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(6/204،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
15،8،1443/22،3،19
جلدنمبر:27 فتوی نمبر:30

ایک آدمی نے نذر مانی کہ میرا فلاں کام ہو جائے تو میں 3دن مسجد میں اعتکاف کروں گا ۔اب وہ کس وقت مسجد میں جائے؟

الجواب حامداومصلیا

جس دن اس نے اعتکاف کرنا ہے اس سے پہلے والے دن سورج غروب ہونے سے پہلے مسجد میں چلا جائے۔

لما فی الھندیة:(1/214،رشیدیہ)
فلو قال للہ علیّ أن اعتکف یومین یدخل المسجد قبل غروب الشمس ویمکث تلک اللیلۃ ویومھا واللیلۃ الثانیۃ ویومھا ویخرج بعد غروب الشمس وکذا فی الأیام الکثیرۃ یدخل قبل غروب الشمس ھکذا فی فتاویٰ قاضیخان
وکذا فی السراجیة:(173،زمزم پبلشرز)
إذا نذر اعتکاف لیلتین دخلت فیہ الأیام واللیالی فیدخل المسجد قبل غروب الشمس ویخرج بعد الغروب من الیوم الثانی
وکذا فی التاتارخانیة:(3/450،فاروقیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاویٰ:(1/270،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(3/511،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(267،البشریٰ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1759،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع :(2/277،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی :(3/383،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
16-8-1443/22-3-20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:33

ہمارے علاقہ میں ایک مرد کے کسی عورت سے ناجائز تعلقات تھے،اس کے نتیجہ میں عورت جو کنواری تھی حاملہ ہوگئی۔تب ان دونوں نے جھوٹ بولا کہ ہم نے خفیہ طور پہ نکاح کرلیا تھا ۔بچہ پیدا ہونے کے کچھ عرصہ بعد پنچایت کے ذریعہ دونوں گھرون میں صلح ہوگئی اور ناراضگی ختم ہو گئی۔لڑکا باقاعدہ بارات لے کر آیا نکاح ہوااور عورت کی رخصتی ہو گئی۔اب یہ دونوں میاں بیوی کئی ب کے والدین ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ پہلا بچہ جو ولدالزنا ہےاس کودوسرے بچوں کی طرح رکھیں۔اس راز سے نہ وہ بچے کو مطلع کرنا چاہتے ہیں نہ اور لوگوں کو۔اس بچے کوو راثت سے حصہ بھی دینا چاہتے ہیں اور باپ اس کو اپنی ہی طرف منسوب کرنا چاہتا ہے ۔بچے کا باپ کہتا ہے کہ یہ میریے ہی نطفے سے ہے اگرچہ ولد الزنا ہے۔اس صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟قرآن وسنت سے واضح فرمایئں۔

الجواب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں اس بچے کا باپ سے نسب ثابت نہیں ہوگا اور باپ کی طرف سے وراثت کا حقدار بھی نہیں ہوگا،البتہ ماں کی میراث سے اس کو حصہ ملے گا۔باپ اپنی زندگی میں اس کو کچھ دے سکتاہے یا اس کے لئے وصیت کر سکتا ہے۔

لما فی الھندیة:(1/540،رشیدیہ)
ولوزنی بامراۃ فحملت ثم تزوجھافولدت ان جاءت بہ لستۃ اشھر فصاعدا ثبت نسبہ وان جاءت بہ لاقل من ستۃ اشھر لم یثبت نسبہ الا ان یدعیہ ولم یقل انہ من الزنا اما ان قال انہ منی من الزنا فلا یثبت نسبہ ولا یرث منہ
وکذافی سنن ابی داود:(1/329،رحمانیہ)
عن عمرو ابط شعیب عن ابیہ عن جدہ قال قام رجل فقال یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان فلانا ابنی عاھرت بامہ فی الجاھلیۃ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا دعوۃ فہ الاسلام ذھب امرالجاھلیۃ الولدللفراش وللعاھر الحجر
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(5/265،فاروقیہ)                       وکذافی المحیط البرھانی:(4/172،ادارۃ القرآن)
وکذافی الفقہ الاسلانی ادلتہ:(10/7248،رشیدیہ)        وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/360،حرمین شریفین)
وکذافی الخانیة:(1/371،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعةالحسن ساہیوال
2021-11-20
جلدنمبر:25 فتوی نمبر:113

ایک عورت کو ولادت کے بعد بتیس دن خون آیاپھر سفید پانی آنا شروع ہو گیاتواس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامدا مصلیا

صورت مسئولہ میں بتیس دن تک نفاس ہے اس کے بعد طہر شروع ہو جائے گا۔

لما فی جامع الترمذی:(1/131،رحمانیہ)
وقد اجمع اھل العلم من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ والتابعین ومن بعد ھم علی ان النفساء تدع الصلاۃاربعین یوماالّا ان تری الطھر قبل ذلک فإنّھا تغتسل وتصلی
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/157،رشیدیہ)
وأماالکلام فی مقدارہ فأقلہ غیر مقدار بلاخلاف(بعد اسطر)وأمااکثرالنفاس فأربعون یوما عند اصحابنا
وکذا فی مجمع الانھر:(1/82،المنار)
وکذافی المختصر القدوری:(17،الخلیل)
وکذافی الھدایۃ:(1/67،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(1/546،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/622،رشیدیہ)
کذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/146،الطارق)
وکذافی الھندیۃ:(1/37،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28،4،1443/2021،12،4
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:158

نیند کن کن صورتوں میں ناقض وضو ہےاورکن کن صورتوں میں نہیں؟ آسان تعبیر میں سمجھا دیں۔

الجواب حامدا ومصلیا

ہرایسی نیند جس کا مدارانسانی بدن کے سواکوئی اورسہارےوٹیک پرہو،اگروہ ٹیک ہٹائی جائے توانسان گر جائے ایسی نیندناقض وضو ہے ورنہ نہیں۔

لمافی الھندیة:(1/12،رشیدیہ)
ینقضہ النوم مضطجعا فی الصلاۃوفی غیرھابلاخلاف بین الفقھاءوکذاالنوم متورکا بان نام علی احد ورکیہ وکذاالنوم مستلقیا علی قفاہ ولونام قاعداواضعاالیتیہ علی عقیبیہ شبہ المنکب لا وضوء علیہ وھوالاصح ولو نام مستنداالی مالو ازیل عنہ لسقط ان کانت غیرزائلۃ عن الارض نقض بالاجماع وان کانت غیرزائلۃ فالصحیح ان لاینقض ولاینقض نوم القائم والقاعد ولو فی السرج او المحمل ولاالراکع ولاالساجد مطلقاان کان فی الصلاۃ وان کان خارجھافکذلک الا فی السجود فانہ یشترط ان یکون علی الھیئۃ انتقض وضوءہ
وفی الھدایة:(1/53،رشیدیہ)
والنوم مضطجعا او متکیااومستنداالی شئی لو ازیل لسقط لان الاضطجاع سبب الاسترخاءالمفاصل فلایعریٰ عن خروج شئی عادۃ والثابت کالمتیقن وبہ الاتکاء یزیل مسکۃ الیقظۃ لزوال المقعد عن الارض ویبلغ الاسترخاء فی النوم غایتہ بھذا النوع من الاستناد غیر ان السند یمنعہ من السقوط بخلاف حالۃالقیام والقعودوالرکوع والسجود فی الصلاۃ وغیرھا ھو الصحیح
وفی بدائع الصنائع:(1/133،رشیدیہ)          وفی المحیط البرھانی:(1/204،ادارةالقران)
وفی جامع الترمذی:(1/114،رحمانیہ)                وفی المختصر القدوری:(4،الخلیل)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(1/251،فاروقیہ)           وفی سنن ابی داود:(1/39،رحمانیہ)
وفی تبیین الحقائق:(1/9،امدایہ)                     وفی کتاب الفقہ:(1/73،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعةالحسن ساہیوال
18،3،1443/2021،10،27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:94

اگر نماز میں سجدےکےدوران کسی کےدونوں پاؤں زمین سےاٹھ جائیں تو نماز کا کیا حکم ہے؟اس میں جان کر اٹھانےاوربھول کر اُٹھ جانے کی صورت میں کوئی فرق ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اگرسجدے میں پاؤںزمین پررکھنے کےبعداُٹھ جائیں تواس صورت میں نمازتوہوجائے گی،لیکن بغیر عذرایساکرنامکروہ ہے اور بھول جانے کی صورت میں کوئی حرج نہیں۔

لمافی الھندیة:(1/70،رشیدیہ)
ولوسجد ولم یضع قدمیہ علی الارض لایجوز ولو وضع احداھما جاز مع الکراھۃ ان کان بغیر عذر
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/207،رشیدیہ)
ویکرہ تحریما رفع القدمین عن الأرض أثناءالسجود
وکذافی البحرالرائق:(1/555،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(2/167،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/83،ادارةالقراٰن)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/125،فاروقیہ)
وکذافی العنایة:(1/311،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(283،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/203،حقانیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
14،5،1443/2021،12،19
جلدنمبر:26 فتوی نمبر 55

کوئی آدمی ایسے جوتے سمیت کپڑے پر قدم رکھتاہے جس کے ناپاک ہونے کایقین ہے اور جوتا گیلا ہے،کپڑے پر اسکے نشان نہیں پڑےایسے کپڑے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

ناپاک نہیں ہوگا۔

لمافی الھندیة:(1/47،رشیدیہ)
وکذا لوبسط الثوب الطاھر علی الثوب النجس اوعلی ارض نجسۃ مبتلۃ واثرت تلک النجاسۃ فی الثوب،لکن لم یصر رطبابحال لو عصر یسیل منہ شئی ولکن یعرف موضع الندوۃ فالاصح انہ لایصیر نجسا
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(76،البشری)
رجل نام علی فراش نجس وعرق حتی ابتل الفراش بعرقۃواصاب البلل النجس ثوبہ ینجس ثوبہ وإن لم یصب البلل ثوبہ لاینجس
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(1/435،فاروقیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/46،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/95،المنار)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/40،حرمین شریفین)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(158،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی التجنیس والمزید:(1/245،ادارة القراٰن العلوم الاسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
10،5،1443/2021،12،15
جلدنمبر:26 فتوی نمبر:15

میت کو غسل دیتے وقت مکمل غسل تک ہاتھ پرلفافہ پہننا ضروری ہے یاصرف ستر کو ہاتھ لگاتے وقت لفافہ پہننا ضروری ہے؟

الجواب حامداومصلیا

صرف ستر کو ہاتھ لگاتے وقت ہاتھ پر دستانہ وغیرہ پہننا ضروری ہےنہ کے پورے غسل میں ،لیکن اگر پورے غسل میں لفافہ پہن لے توبھی کوئی حرج نہیں ہے۔

لمافی المحیط البرھانی:(3/45،ادارة القراٰن)
ویلف الغاسل علی یدیہ خرقۃویغسل السوأۃ،لأن مس العورۃ حرام کالنظر،فیجعل علی یدیہ خرقۃ لیصیر حائلا بینہ وبین العورۃ
وکذافی الھندیة:(1/158،رشیدیہ)
وصورۃ استنجائہ أن یلف الغاسل علی یدیہ خرقۃ ویغسل السوأۃ لان مس العورۃ حرام کالنظر الیھا …………و لا ینظر الرجل الی فخذ الرجل عند الغسل وکذا المرأۃ لاتنظر الی فخذ المرأۃ
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(214،البشری)
وکذافی الفقہ الاسلام،ی وادلتہ:(2/1493،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/25،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/301،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/5،فاروقیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(3/101،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/264،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
3،7،1443/2022،2،5
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:124

میاں بیوی کی نکاح کے بعد باہم کیا حیثیت ہے؟محرم ہیں نا محرم ہیں یا کوئی تیسری صورت؟

الجواب حامداومصلیا

میاں بیوی نکاح سے پہلے نامحرم تھے،لیکن نکاح کے بعد نامحرمیت ختم ہوگئی اور دونوں ایک دوسرے کے لئے حلال ہوگئے۔

لمافی القراٰن الکریم:(النساء:23)
حرِّمت علیکم اُمّھٰتُکُم وبَنٰتُکُم واخوٰتُکُم وعَمّٰتُکُم وخٰلٰتُکُم وبَنٰتُ الاَخ وبنٰت الاُختِ واُمُھٰتُکُم الٰتی اَرضَعنَکُم واخوٰتُکُم من الرّضاعۃِوامّھٰتُ نسائکُم ورَبَائِبکُم الّٰتی فی حُجُورِکُم من نِسَائِکُم الٰتی دَخلتُم بِھنَّ فإن لَم تکُونُوا دخلتُم بِھنَّ فلا جُناحَ علیکُم وحلاٰئِلُ ابنائِکُم الَّذینَ مِن اصلابِکُم واَن تجمَعُوابین الاختین الّا ماقَد سلف اِنَّ اللّٰہ کان غفُوراًرحِیما
وکذافی شرح الوقایة:(2/11،امدادیہ)
وکذافی الھدایة:(2/8،البشری)
وکذافی تنویرمع الدر:(4/67،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6513،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(2/9،الطارق)
وکذافی القراٰن الکریم:(البقرة:223)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/3،فاروقیہ)
وکذافی المبسوط:(4/192،دارالمعرفة)
وکذافی الھندیة:(1/267،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
1،5،1443/2021،12،6
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:10