دارالحرب کسےکہتے ہیں۔

الجواب حامداومصلیا

کسی جگہ کے دارالحرب ہونے کےلیےفقہائے کرام نے بنیادی طور پر تین شرطیں ذکر فرمائی ہیں۔1۔ وہاں صرف کفارومشرکین کے احکام جاری ہوتے ہوں۔2۔ اس میں رہنے والے مسلمانوں یا ذمیوں کو پہلے جو امان حاصل تھی ،اب وہ امان باقی نہ رہے۔3۔ وہ ملک دار الکفر کے ساتھ متصل ہوجائے۔

یہ آخری شرط بظاہر انتظامی معلوم ہوتی ہےاوراس زمانے کے اعتبار سے تھی اب اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے،جیساکہ مولانا سیف اللہ رحمانی صاحب نے ذکر فرمایا کہ
رہ گیا دار الاسلام سے متصل ہونا جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ یہ ایسی شرط ہے جو اس زمانہ کے خاص تناظروحالات میں رکھی گئی تھی موجودہ حالات میں جب کہ عالم اسلام کو فوجی اور عسکری بالادستی حاصل نہیں،یہ شرظ قابل عمل نہیں رہی ہے۔
جدید مسائل :(4/46)

لما فی البدائع:(6/112،رشیدیہ)
قال ابو حنیفۃ:انھا لا تصیر دارالکفر الا بثلاث شرائط :أحدھا :ظھور احکام الکفر فیھا۔ولثانی :ان تکون متاخمۃ لدارالکفر۔والثالث:ان لا یبقی فیھا مسلم ولا ذمی ا ٰمنابالامان الاول،وھوامان المسلمین۔
وکذا فی الھندیہ:(2/232،رشیدیہ)
انماتصیر دارالاسلام دارالحرب عند أبی حنیفۃبشروط ثلاثۃ أحدھا:أجراءاحکام الکفارعلی سبیل الاشتہار وأن لا یحکم فیھا بحکم الاسلام ۔والثانی: أن تکون متصلۃ بدار الحرب لا یتخلل بینھما بلد من بلاد الاسلام۔ والثالث: أن لا یبقی فیھامومن ولا ذمی اٰمنا بامانہ الاول الذی کان ثابتا قبل استیلاء الکفار للمسلم باسلامہ وللذمی بعقد الذمۃ
وکذا فی الشامیة:(6/276،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(3/70،الطارق)
وکذا فی المحیط البرہانی:(7/242،دار احیا)
وکذا فی التاتارخانیة:(7/132،فاروقیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(20/202،علوم اسلامیہ)
وکذا فی المبسوط:(10/114،دارالمعرفہ)
وکذا فی القول الراجح:(1/488،حقانیہ)
وکذا فی الدر المنتقی:(2/455،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
23-4-1443/21-11-29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:146

ایک واقعہ ہے کہ جب حضرت عزرائیل علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی روح قبض کرنے لگے،تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تھپڑمارکرحضرت عزرائیل علیہ السلام کی آنکھ پھوڑدی،وہ اللہ پاک کے پاس گئے،تواللہ نے فرمایاوہ میرے جلیل نبی تھےتم کواجازت طلب کرنی چاہیےتھی،وہ دوبارہ گئےاوراجازت طلب کی،پھر موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے بات کی اور کہا میرا چھوٹا سا بچہ ہے اس کاکیا بنے گاتواللہ نے فرمایاسامنے والےپتھر پر عصا ماروانہوں نےمارا تو پتھر سے پتھر نکلا ،فرمایا پھر مارو،پھر مارا توایک کیڑانکلا،جس کے منہ میں دانہ تھا،یہ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام نے عزرائیل علیہ السلام کو اجازت دے دی،کیا اس واقعے کاکوئی حقیقت سے کوئی تعلق ہے؟یا من گھڑت ہے؟

الجواب حامداومصلیا

دو مختلف واقعات کو سوال میں ایک بنادیاگیا ہےاور ان میں کچھ اضافی باتیں داخل کر دیں ہیں۔اصلا واقعہ یہ ہے کہ حضرت عزرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس (روح قبض کرنے کے لئے)آئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو تھپڑمارا اور ان کی آنکھ پھوڑدی،حضرت عزرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے جو مرنا نہیں چاہتا،اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ آپ ان کے پاس دوبارہ جائیں اور کہیں کہ کسی بیل کی کمر پر ہاتھ رکھیں ،جتنے بال ہاتھ کے نیچے آئیں،ہر بال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ کر دیا جائے گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا :یا اللہ !پھرکیا ہوگا؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر موت ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نےعرض کیا یا اللہ !پھر ابھی مجھے موت دے دیجئے،پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک سانس لیا اور حضرت عزرائیل نے ان کی روح قبض کرلی۔
دوسراواقعہ امام رازی رحمۃ اللہ نے لکھا مگر اسرائیلی روایات میں سے معلوم ہوتا ہے اور سندی حیثیت بھی غیر واضح ہے وہ یہ ہے کہ نزول وحی کے وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں اہل وعیال کاخیال آیاتو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے پتھر پر عصا مارااس ایک دوسرا پتھر نکلااس پر عصا مارا توایک تیسرا پتھر نکلااس پر عصامارا تواس سے ذرہ کے برابر ایک کیڑانکلا اور وہ کچھ کھا رہا تھا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کانوں سے تمام پردوں کوہٹادیا،تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کیڑے کو یہ کہتے ہوئے سنا:پاک ہے وہ ذات جو مجھے دیکھ رہی ہے اور میری بات کو سن رہی ہے اور میرے ٹھکانے کو جانتی ہے،وہ مجھے یاد رکھتی ہے،بھولتی نہیں ہے۔

لمافی التفسیر الکبیر:(6/318،علوم اسلامیہ)
روی أنّ موسی علیہ السلام عند نزول الوحی إلیہ تعلق قلبہ بأحوال أھلہ فأمرہ اللہ تعالیٰ أن یضرب بعصاہ علی صخرۃ فانشقت وخرجت صخرۃ ثانیۃ،ثم ضرب بعصاہ علیھا فانشقت وخرجت صخرۃ ثالثۃ۔ثم ضربھا بعصاہ فانشقت فخرجت منھا دودۃ کالذرۃ وفی فمہا شیٔ،یجری مجراء الغذاءلھا،ورفع الحجاب عن سمع موسیٰ علیہ السلام فسمع الدودۃ تقول:سبحان من یرانی ویسمع کلامی ویعرف مکانی ویذکرنی ولاینسانی
وکذافی مجع الزوائد:(8/268،دارالکتب)
عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنھ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم :کان ملک الموت یأتی الناس عیاناقال فأتی موسیٰ فقأ عینہ ، فأتی ربہ عزوجل،فقال :یارب عبدک موسیٰ فقأ عینی ولولا کرامتہ علیک لعتبت بہ قال یونس:لشققت علیہ قال لہ: اذھب إلی عبدی فقل لہ لیضع یدہ علی جلد أومسک ثور فلہ لکل شعرۃ وارت یدہ سنۃ،فأتاہ فقال: مابعد ھذا؟ قال: الموت قال فالآن قال:فشمہ شمۃ فقبض روحہ قال یونس:فرد اللہ إلیہ عینہ،فکان یأتی الناس خفیۃ
وکذافی الصحیح المسلم:(2/272،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ:قال ارسل ملک الموت الی موسی علیہ السلام فلما جاءہ صکہ ففقأ عینہ فرجع الی ربہ فقال ارسلتنی الی عبد لایرید الموت قال فرد اللہ الیہ عینہ وقال ارجع الیہ فقل لہ یضع یدہ علی متن ثور فلہ بما غطت یدہ لکل شعر سنتہ قال ای رب ثم مہ قال ثم الموت قال فالآن فسأل اللہ أن یدنیہ من الارض المقدسۃ رمیۃ بحجر
وکذافی المصنف لعبدالرزاق:(11/274،دارالکتب)
وکذافی الصحیح البخاری:(1/605،رحمانیہ)
وکذافی فتح الباری:(6/546،قدیمی)
وکذافی الجامع لأحکام القراٰن:(6/132،دار إحیا)
وکذافی تکملہ فتح الملھم:(5/19،دارالعلوم کراچی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:محمدانیس غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
15،8،1443/19،3،2022
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:49

مرحومہ کے سامان کے بارے میں شوہر کہتا ہے کہ یہ میرا ہے ،والدین کہتے ہیں کہ یہ ہماراجہیز کا دیا ہواسامان ہے یا ہماری بیٹی کا ذاتی ہے ،تواب فیصلہ کیسے کریں گے؟

الجوب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں مرحومہ کےوالدین اور شوہر میں سےجواپنےدعوی کو ثابت کر دے،اس کے حق میں فیصلہ ہوگا،اگر کسی کے پاس ثبوت نہ ہوتو جہیز اور جو عورتوں کے مناسب سامان ہو وہ مرحومہ کا ہوگا اور جو صرف مردوں کے مناسب سامان ہویا پھردونوں کے مناسب سامان ہو تووہ قسم کے ساتھ شوہرکا ہوگاَ۔

لما فی الخانیة:(1/401،رشیدیة)
اذا اختلف الزوجان فی متاع موضوع فی البیت۔۔۔۔۔۔فما یکون للنساء عادۃ۔۔۔۔۔فھو للمرأۃ الا ان یقیم الزوج البینۃ علی ذلک وما یکون للرجال ۔۔۔۔۔ فھو للرجل الا ان تقیم المرأۃ البینۃ علی ذلک وما یکون للرجال والنساء۔۔۔۔۔۔فھو للرجل الا ان تقیم المرأۃ البینۃ علی ذلک۔۔۔۔۔۔وان ماتت المرأۃ وبقی الرجل فما یکون للنساء فا لقول فی ذلک قول وارث المرأۃ والباقی وھو المشکل للحی منھما وھو الرجل قال ابو یوسف الحکم بعد موت احدھما ھو الحکم فی حیاتھما
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6826،رشیدیہ)
اذا اختلف الزوجان فی متاع البیت فا دعی کل واحد منھما انہ لہ ولا بینۃ لھما ولا لاحدھما فما کان من متاع النساء۔۔۔۔۔۔حکم بہ للمرأۃ مع یمینھا وما کان من متاع الرجال ۔۔۔۔۔حکم بہ للرجل مع یمینہ وما کان یصلح لھما جمیعا ۔۔۔۔۔۔ فھو للرجل مع یمینہ (وعلی الصفحۃ الآتیۃ)وان مات احد الزوجین واختلف الآخر الحی وورثۃ المیت فا الحکم لا یختلف فی رأی ابی یوسف ومحمد ومالک ففی رأی ابی یوسف القول للزوجۃ ان کانت موجودۃ ولورثتھا ان کانت میتۃ بقدر جھاز مثلھا والزائد عنہ یکون القول فیہ للزوج أو لورثتہ وفی رأی مالک ومحمد یکون القول للزوج بیمینہ ان کان موجودا ولورثتہ بعد موتہ واما رأی ابی حنیفۃ فھو ان القول یکون للحی من الزوجین مع یمینہ فان کان الزوج کان القول قولہ مع یمینہ
وکذا فی الفتاوی الھندیة:(1/329،رشیدیہ)           وکذا فی المحیط البرھانی:4/227،دار احیا )
وکذا فی المبسوط:(5/213،دار المعرفہ)              وکذا فی بدائع الصنائع:(2/611،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیہ:(1/373،حرمین شریفین)          وکذا حاشیة الطحطاوی:(2/68،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(36/64،علوم اسلامیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن سا ہیوال
2021،11،29/1443،4،23
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:162

جمعہ کی اذان اول کے بعد کھانا کھانا کیسا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اگر کھانے کی رغبت زیادہ ہو اور جمعہ کے فوت ہوجانے کا اندیشہ نہ ہو ،تو کھا سکتے ہیں ،ورنہیں۔

لما فی المحیط البرھانی :(2/474،ادارة القرآن )
وفی فتاویٰ الشیخ الإمام الفقیہ أبی اللیث رحمہ اللہ تعالیٰ :رجل جالس علی الغداء یوم الجمعۃ یسمع النداء إن خاف أن تفوتہ الجمعۃفلیحضرھا بخلاف سائر الصلوات لأن الجمعۃ تفوت عن الوقت أصلا وسائر الصلوات لا وقران مسألتنا من سائر الصلوات إذا خاف ذھاب الوقت فی سائر الصلوات فھناک یترک الطعام ویصلی فی وقتھا کذا ھھنا
وکذا فی السراجیة:(105،زمزم پبلشرز)
اذاکان جالسا علی الطعام فسمع نداء الجمعۃ فإن خاف فوت الجمعۃ ترک الاکل وفی سائر الصلوات لا یدع الأکل مالم یخف خروج الوقت
وکذا فی تقریرات الرافعی:(3/45،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع :(1/605،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(2/1282،رشیدیہ)
وکذا فی الدر المنتقیٰ:(1/253،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(27/205،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الدر المختار والشامیة:(3/45،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیة:(2/593،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
17،8،1443/22،3،21
جلدنمبر:27 فتوی نمبر:68

ایک آدمی نے گھریلولڑائی میں غصے کی حالت میں اپنی بیوی کواکٹھی تین طلاقیں دےدیں ،عورت اپنے والدین کے گھر چلی گئی کچھ عرصہ گزرنے پر آپس میں صلح صفائی کی بات ہوئی ،اس دوران عورت کی عدت پوری ہو چکی تھی،عورت کی رضا مندی کے ساتھ دوسرا نکاح کرایا گیا اس شرط پر کہ دوسرا شوہرتین دن بعد طلاق دےدےگا،پھر تین دن بعد دوسرے شوہر نے طلاق دےدی مگر حق زوجیت ادا نہ ہوایعنی ان تین دنوں میں میاں بیوی نے مباشرت نہیں کی،عدت مکمل ہونے پر پہلے شوہر کے ساتھ نکاح کردیا گیا وہ عرصہ تین سال سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں ،لیکن اس دوران ان کی کوئی اولاد نہیں ہے،اب عورت نے بتلایا ہے کہ دوسرے شوہر نےمباشرت کے بغیر ہی طلاق دی تھی،میاں بیوی چاہتے ہیں کہ کسی طرح یہ رشتہ قائم رہے،اب شریعت کے مطابق بتائیں کہ ان پر کیا حکم لاگو ہوگا؟

الجواب حامداومصلیا

اگر عورت کی بات سچ ہے کہ دوسرے شوہر نےعورت کے ساتھ مباشرت نہیں کی تو اس عورت کا پہلےشوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح درست نہیں ہوا،اب یہ دونوں فورا جدا ہو جائیں ،اگر دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ یہ عورت عدت گزار کر کسی دوسرے کے ساتھ نکاح کرے،جب وہ مباشرت کے بعد اپنی مرضی سے طلاق دے دےتو عدت گزار کر پھر پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتی ہے ورنہ نہیں۔

لما فی الصحیح المسلم:(1/534،رحمانیہ)
عن عائشۃ رضی اللہ تعالی عنھاان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سئل عن المرأۃ یتزوجھا الرجل فیطلقھا فتزوج رجلا فیطلقھا قبل ان یدخل بھا اتحل لزوجھا الاول قال لا حتی یذوق عسیلتھا
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/204،الطارق)
ولا یتزوج مطلقتہ بثلاث حتی یطأھا غیرہ بزواج صحیح بعد مضی العدۃ الاول واشتراط الدخول بھا ثابت بالاجماع ، فلا یکفی مجرد العقد
وکذا فی الھدایة:(2/132،البشری)
وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ أو ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا، ویدخل بھا ثم یطلقھاأو یموت عنھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وشرط الدخول ثبت باشارۃ النص ،وھو أن یحمل النکاح علی الوطء
وکذا فی التنویر والدر:(5/42،رشیدیہ) وکذا فی الھندیة:(1/473،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(4/94،رشیدیہ) وکذا فی الشامیة:(5/44،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
19،7،1443/22،2،21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:192

فجر کی نماز میں تکبیر اولیٰ کوپانے کے لئے فجر کی سنتوں کو چھوڑ نا کیسا ہے؟جبکہ یقین ہو کہ سنتیں پڑھ کر جماعت کے ساتھ فرائض میں شریک ہو جاؤں گا۔

الجواب حامداومصلیا

صرف تکبیر اولیٰ کو پانے کے لئے فجر کی سنتوں کو چھوڑ نا مناسب نہیں اور جان بوجھ کر ایسا کرنے سے سنت چھوڑنے کا گناہ ہوگا،البتہ اگر جماعت سے رہ جانے کا خوف ہو تو پھر جماعت کے ساتھ ملنا بہتر ہے۔

لمافی السنن ابوداؤد:(1/187،رحمانیہ)
عن أبی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلیٰ اللّٰہ علیہ وسلم :لاتدعو ھما وان طردتکم الخیل
وکذافی المحیط البرھانی:(2/238،ادارة القراٰن)
رجل انتھی الی الامام والناس فی صلاۃ الفجر،ان خشی أن تفوتہ رکعۃ من الفجر بالجماعۃ ویدرک رکعۃ،صلی سنۃ الفجر رکعتین عند باب المسجد،ثم یدخل المسجد فیصلی مع القوم وان خاف أن تفوتہ الرکعتان جمیعا لواشتغل بالسنۃدخل مع القوم فی صلاتھم،الاصل فی ھذا أن تکبیرۃالافتتاح لھا فضیلۃ عظیمۃ ……………وکذلک سنۃ الفجر لھا فضیلۃ عظیمۃ …………ومھما امکن الجمع بین الفضیلتین لاترک أحدھما فإذا کان یدرک رکعۃ من الفجر مع الامام امکنہ احراز الفضیلتین،فإنہ اذاصلٰی رکعتی الفجر فقداحرز فضیلتھما واذا أدرک مع الامام رکعۃواحدۃ فقدادرک رکعۃ واحدۃ مع الامام حقیقۃوأدرک الرکعۃ الاخریٰ معنی……………فدل أنہ امکن الجمع بین الفضیلتین ولایترک احدھما أو نقول لوترک رکعتی الفجر فانہ لایصلیھا أصلاولواشتغل بھما،ثم دخل مع الامام ینال ثواب أصل الصلاۃ بالجماعۃ،أنما یفوتہ کما لہ وکان ھذا أولٰی․
وکذافی بدائع الصنائع:(1/640،رشیدیہ)
انہ لواشتغل باحرازفضیلۃ تکبیرۃالافتتاح لفاتتہ فضیلۃ رکعتی الفجر أصلا ولواشتغل برکعتی الفجر لمافاتتہ فضیلۃ تکبیرۃالافتتاح من جمیع الوجوہ،لانہ باقیۃمن کل وجہ ما دامت الصلاۃباقیۃ،لأنہ تکبیرۃ الافتتاح ھی التحریمۃ وھی تبقی مادامت الأرکان باقیۃ فکانت تکبیرۃ الافتتاح باقیۃ ببقاء التحریمۃ من وجہ فصار مدرکا من وجہ وصار مدرکا ایضا فضیلۃ الجماعۃ……………ولانہ ادرک اکثر الصلاۃ،لأن الفائت رکعۃ لاغیرہ والمستدرک رکعۃ وقعدۃ وللأکثر حکم الکل فکان الأشتغال برکعتی الفجر أولی،بخلاف مااذا کان یخاف فوت الرکعتین جمیعا

 

وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/297،الطارق)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1057،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/309،فاروقیہ)
وکذافی التنویروالدر:(2/549،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/86،رشیدیہ)
وکذافی التجنیس والمزید:(2/100،ادارة القران)
وکذافی فتح القدیر:(1/455،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:محمدانیس غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
6،7،1443/2022،2،8
جلدنمبر:26 فتوی نمبر:139

اگر گھر میں بلی پالی جائےتو کیا اس کاپیشاب اور پاخانہ پاک ہے؟

الجواب حامداومصلیا

ناپاک ہے۔

لما فی التاتارخانیة:(1/430،فاروقیہ)
وبول الھرۃ نجس(وعلی الصفحۃ،442)وفی الفتاوی العتابیۃ:خرءالھرۃ نجس
وکذا فی المختصرفی الفقہ الحنفی:(72،البشرٰی)
وبول الھرۃ والکلب ونحوھما من الحیوانات التی لا یؤکل لحمھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وأرواث جمیع الحیوانات سواءٌ کانت مما یؤکل لحمھا أو لا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وبول الحیوانات التی لایؤکل لحمھا جمیع ھذہ نجاسات غلیظۃ
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(40/91،علوم اسلامیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/196،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(1/575،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/46،رشیدیہ)
وکذا فی الخانیة:(1/19،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/54،الطارق)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/321،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
22،5،1443/21،12،27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:63

ایک آدمی نے امام کے ساتھ پوری چار رکعت پڑھیں،لیکن جب امام نے سلام پھیرا تووہ بھول کر کھڑا ہو گیا اورپانچویں رکعت کے درمیان اسے یاد آگیا کہ وہ بھولے سے کھڑا ہوا ہے،لیکن پھر بھی اس نے پانچویں رکعت پوری کر کے پھر سلام پھیراتو کیا اس کی نماز ہو گئی؟

الجواب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں یہ شخص پانچویں رکعت کےلیےبھول کر کھڑا ہواتھا،مگرپھر جب اسے یاد آگیا کہ یہ میری پانچویں رکعت ہے،تو اس شخص نے نسیان کو طول دیا ہے جس کی وجہ سے فرض میں تأخیر ہوگئی،لہذا اس آدمی پر سجدہ سہو واجب ہے ،سجدہ سہو ادا نہ کرنے کی صورت میں نماز کا دوبارہ پڑھنا ضروری ہوگا۔

لما فی الھندیة:(1/126،رشیدیہ)
ولا یجب السجود الا بترک واجب أوتأخیرہ أو تأخیر رکن أو تقدیمہ أوتکرارہ
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/426،رشیدیہ)
رجل صلّٰی الظھر خمساثم تذکر۔۔۔۔۔۔۔۔فان قعد فی الرابعۃ قدر التشھد وقام الی الخامسۃفإن لم یقیدھا بالسجدۃ حتی تذکر یعود إلی القعدۃویتمھا ویسلم لما مر وإن قیدھا بالسجدۃ لا یعود عندنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فالأولی ان یضیف إلیھا رکعۃ أخریٰ لیصیرالہ نفلا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولولم یضف إلیھا رکعۃ أخریٰ فی الظھر بل قطعھا لا قضاء علیہ عندنا
وکذا فی الھندیة:(1/129،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط :(1/228،دارالمعرفہ)
وکذا فی الشامیة:(2/268،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاویٰ:(1/178،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1111،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/317،دارإحیا)
وکذا فی البحر الرائق:(2/184،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیة:(2/404،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
15،8،1443/22،3،19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:31

احساس کفالت پروگرام کے تحت بیوہ خواتین کے لیے حکومت کی طرف سے 12000 روپے منظور ہوئے ہیں ،لیکن مقامی سینٹرز پر جو لوگ ہیں وہ ان پیسوں میں سے 500،1000 کی کٹوتی کرتے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے اس کی اجازت نہیں ہے، تو ان ملازمین کے لیے یہ کٹوتی کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اگر واقعتا حکومت کی طرف سے اجازت نہیں ہے،تو یہ کٹوتی جائز نہیں ہے۔

لما فی سورة النساء:(آیت:29)
“یایھاالذین اٰمنوا لا تأکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃعن تراض منکم۔”
وکذا فی السنن الکبرٰی:(6/166،دارالکتب العلمیہ)
عن عبداللہ بن السائب بن یزید عن ابیہ ن جدہ عن النبیﷺقال:لا یأخذ احدکم متاع اخیہ لاعبا ولا جادّا فاذا أخذ أحدکم عصا أخیہ فلیردھا ألیہ
وکذا فی مشکوٰة المصابیح:(1/261،رحمانیہ)
“قال رسول اللہﷺ :الا لاتظلموا الا لایحل مال امریٔ الا بطیب نفس منہ۔”
وکذا فی التفسیر المظہری:(2/79،رشیدیہ)
وکذا فی فقہ البیوع:(2/1005،معارف القرآن)
وکذا فی التفسیر الکبیر:(4/56،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(3/351،الطارق)
وکذا فی التفسیرالمنیر:(3/32،کتب خانہ امیر حمزہ)
وکذا فی الکشاف :(1/502،من منشورات البلاغہ)
وکذا فی الشرح المجلہ:(1/143،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(3/207،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
29،4،1443/21،12،5
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:147

ایک آدمی مذاکرہ طلاق کے وقت اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ “میں نے تجھے ایک مہینے کیلئے چھوڑا” کیااس سے طلاق واقع ہو جائے گی۔

الجواب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔

واللہ اعلم بالصواب
محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
15،9،1443/22،4،17
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:137