ہم سناروں کےپاس کسٹمرسونےکازیورفروخت کرنے کیلئےلاتے ہیں۔ اس میں کھوٹ ہوتا ہےہم اندازہ لگا کروہ خریدتےہیں بسااوقات کھوٹ اندازےسے کم نکلتا ہے،بسااوقات اندازے کےبقدراور بسااوقات اندازےسےزائدبھی نکلتا ہے۔نتیجےمیں کبھی بچت زیادہ ہوتی ہے،کبھی معاملہ برابرہوجاتاہےاورکبھی نقصان بھی ہوجاتا ہے۔یہ جائزہےیا نہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

جائز ہے۔

لمافی المبسوط:(14/25،بیروت)
وان اشتری خاتم فضۃاوخاتم ذھب فیہ فص او لیس فیہ فص بکذافلوسا،ولیست الفلوس عندہ فھوجائزان تقابضاقبل التفرق اولم یتقابضالان ھذابیع ولیس بصرف
وفی الھندیة:(3/224،رشیدیة)
وان اشتری خاتم فضۃاوخاتم ذھب فیہ فص او لیس فیہ فص بکذافلوسا،ولیست الفلوس عندہ فھو جائز ان تقابضا قبل التفرق اولم یتقابضالان ھذابیع ولیس بصرف
وکذافی عمدۃالرعایةعلی ھامش شرح الوقایة:(88،رحمانیة)
وکذافی فقہ البیوع:(2/762،مکتبةمعارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
26-07-1443/2022-02-28
جلدنمبر:27 فتوی نمبر:15

بچی کانام” اُمَیْمَہ نور“رکھناکیساہے؟

الجواب حامداومصلیا

جائزہے۔

لمافی سنن النسائی:(1/25،رحمانیة)
حکیمۃبنت امیمۃعن امھااُمَیْمَۃبنت رقیقۃقالت کان للنبی صلی اللہ علیہ وسلم قدح من عیدان یبول فیہ ویضعہ تحت السریر۔
وفی اسدالغابةفی معرفةالصحابة:(3/1479،الوحیدیة)
اُمَیْمَۃبنت بشیراخت النعمان بن بشیربن سعدالانصاریۃ۔
وکذافی صحیح البخاری:(2/298،رحمانیة)
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/334،رحمانیة)
وکذافی مشکوۃالمصابیح:(1/44،رحمانیة)
وکذافی المعجم الوسیط:(27،دارالدعوۃ)
وکذافی الاصابةفی التمییزالصحابة:(2/2429،الوحیدیة)
وکذافی المحیط فی اللغة:(10/458،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
1443-05-16/2021-12-21
جلدنمبر:26 فتوی نمبر:61

امام نےرکوع میں جاتےوقت سجدہ تلاوت کی نیت بھی کرلی تو یہ نیت مقتدیوں کی طرف سےبھی کافی ہوجائےگی یاان کوعلیحدہ نیت کرناضروری ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔ایک قول کے مطابق امام نےرکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت کرلی تویہ نیت مقتدیوں کی طرف سےبھی کافی ہوجائےگی اورایک قول کےمطابق مقتدیوں کوخوداپنی نیت کرناہوگی ورنہ ان کاسجدہ تلاوت ادانہیں ہوگا،اس لیےبہتریہ ہےکہ امام رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت نہ کرے۔

لمافی الدر:(2/707،رشیدیة)
“ولونواھافی رکوعہ ولم ینوھاالمؤتم لم تجزہ.”
وفی الردالمحتار:
لم تجزہ)ای:لم تجزنیۃالامام المؤتم ولاتندرج فی سجودہ وان نواھاالمؤتم فیہ،لانہ لمانواھاالامام فی رکوعہ تعین لھا(علی الصفحۃالاتیۃ)وفی القھستانی:واختلفوافی ان نیۃالامام کافیۃ کمافی الکافی،فلولم ینوالمقتدی لاینوب علی رای (بعد اسطر ) والمتبادرمن کلام القھستانی السابق انہ خلاف الاصح حیث قال:علی رای فتامل
وفی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح:(486،قدیمی)
وینبغی ذلک للامام)ان یجعلھا فی رکوع الصلاۃان کانت سریۃاوفی سجودھاان کانت جہریۃای ولایجعل لھا رکوعا اوسجودا مستقلاخوف الفسادمن غیرہ ولواخرذلک بعدقولہ وسجودھاان لم ینوہ لکان اولی،وفی الدرولونواھافی رکوعہ ولم ینوھاالمؤتم لم یجزہ ویسجداذاسلم مع الامام ویعیدالقعدۃولوترکھافسدت صلاتہ کذافی القنیۃ،وینبغی حملہ علی الجھریۃ
وکذافی الھندیة:(1/134،رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(2/218، رشیدیة)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/478،فاروقیة)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(24/221،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
19-05-1443/2021-12-24
جلدنمبر :26 فتوی نمبر:49

اقامت کہنےکیلئےایک آدمی امام کےمصلےپرآنےسےپہلےجلدی جلدی اقامت کہتاہےاس خوف سے کےکوئی دوسرانہ کہہ لےشرعا ایساکرنادرست ہےیانہیں؟

الجواب حامداومصلیا

واضح رہےکہ اقامت کہنےکازیادہ حقدارمؤذن یامؤذن سےاجازت لینےوالاہے۔اجازت کےبعدامام کے مصلے پر آنے سےپہلےاقامت کہناجائزہے۔

لمافی جامع الترمذی:(1/148،رحمانیة)
“عن زیادبن الحارث الصدائی قال امرنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اؤذن فی صلاۃالفجرفاذنت فارادبلال ان یقیم فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اخاصداءقداذن ومن اذن فھویقیم.”
وفی الفتاوی الھندیة:(1/54،رشیدیة)
“وان اذن رجل واقام آخران غاب الاول جازمن غیرکراھۃ،وان کان حاضراویلحقہ الوحشۃباقامۃغیرہ یکرہ وان رضی بہ لایکرہ عندناکذافی المحیط.”
وفی المختصرفی الفقہ الحنفی:(99،بشری)
“من اذن :فھواحق بان یقیم،فان اقام غیرہ:یکرہ،الاان یغیب المؤذن اویرضی لغیرہ:فیجوزبلاکراھۃ.”
وکذافی سنن الکبری:(1/586،بیروت) وکذافی شرح معانی الاثار:(1/97،رحمانیة)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/159،فاروقیة) وکذافی مجمع الانھر:(1/118،المنار)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/719،رشیدیة) وکذافی الھندیة:(1/57،رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(1/447،رشیدیة) وکذافی الدر:(2/87،رشیدیة)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/278،الحقانیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
2022-01-29/1443-06-25
جلدنمبر:26 فتوی نمبر:97

کسان اپنی اجناس مثلاکپاس وغیرہ بیچنےکیلئےجاتےہیں توآڑھتی سےریٹ طےہوجانےکےبعدان میں سے ایک من سےایک کلواضافی لیتے ہیں توکیاآڑھتیوں کا ایک کلوزائدلیناجائزہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

خریدوفروخت کی یہ صورت منڈیوں میں رائج اورمعروف ہےاوربیچنےوالا اور خریداردونوں اس طرح معاملہ کرنےپرمتفق اورراضی ہوتےہیں لہذایہ معاملہ جائزہے۔

لمافی دررالحکام شرح مجلةالحکام:(1/46،المکتبةالعربیة)
“والحاصل ان استعمال الناس غیرمخالف للشرع وللنص الفقھاءیعدحجۃ.”
وکذافی شرح المجلة:(1/101،رشیدیة)
“المعروف بین التجارکالمشروط بینھم…فمایقع بین التجارمن المعاملات التجاریةاوبین غیرھم من العقودوالمعاملات التی ھی من نوع التجاریةینصرف عندالاطلاق الی العرف والعادة…..ولایتوھم من ھذہ المادۃقصرالعمل بالعرف فی الامور التجاریةعلی مایجری بین التجارفقط،بل المرادان کل عمل ھو من نوع التجارۃاذاسکت فیہ عن قید،فالمرجع فی ذلک العرف الجاری بین التجار․”
وکذافی اصول الافتاءوآدابہ:(262،مکتبةمعارف القرآن)
وکذافی رسائل ابن عابدین:(2/116،محمودیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
2022-02-14/12-07-1443
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:13

کیا قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر نماز پڑھنا جائز ہے؟

الجواب حامداومصلیا

مسلسل ہاتھ میں قرآن اٹھائے ہوئے نماز پڑھنا جائز نہیں ،لیکن اگر کسی فوری ضرورت کی وجہ سے قرآن پاک کو اٹھایامثلاقرآن پاک گرنے لگا تونمازی ہاتھ میں اٹھالےتواس میں حرج نہیں ۔

لما فی فتح الملھم:(3/388،دار العلوم کراچی)
وأما حمل الصبی بدون الأرضاع فلا یوجب الفساد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ومثل ھذا أیضا فی زماننا لا یکرہ لواحد منا لو فعل ذلک عند الحاجۃ أما بدون الحاجۃ فمکروہ
وکذا فی فتح الباری :(1/779،قدیمی)
واستدل بہ علی ترجیح العمل بالأصل علی الغالب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وعلی صحۃ صلاۃ من حمل آدمیا ،وکذا من حمل حیوانا طاہرا
وکذا فی عمدة القاری:(4/304،دار احیا)
وکذا فی الصحیح البخاری :(1/140،رحمانیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/102،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/248،الطارق)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(2/1031،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/553،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(2/19،رشیدیہ)
وکذا فی النھر الفائق:(1/273،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
26،6،1443/22،1،30
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:115

ایک آدمی نے نماز میں “وما کید فرعون الا فی تباب”کی جگہ “الا فی تباد”پڑھ دیا تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے۔

الجواب حامداومصلیا

اس کی نماز نہیں ہوئی،کیونکہ عربی لغات میں لفظ “تباد”نہیں ملا۔لہذا یہ بے معنی لفظ ہے اور بے معنی لفظ پڑھنے سےنماز فاسد ہوجاتی ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی:(2/1037،رشیدیہ)
تبطل الصلاۃ بکل ما غیر المعنی تغیرایکون اعتقادہ کفرا،وبکل مالم یکن مثلہ فی القرآن،والمعنی بعیدمتغیراتغیرا فاحشا،کھذاالغبار مکان ھذا الغراب(المائدۃ5/31)ولکل مالم یکن لہ مثل فی القرآن ،ولا معنی لہ کالسرائل مکان السرائر(الطارق86/9 )وتبطل أیضا عند أبی حنیفۃ ومحمد بمالہ مثل فی القرآن ،والمعنی بعید ، ولم یکن متغیراتغیرا فاحشاولا تبطل عند أبی یوسف لعموم البلوی،فان لم یکن لہ مثل فی القرآن ،ولم یتغیر بہ المعنی کقیامین مکان قوامین (النساء4/135)فعکس الخلاف السابق: لا تبطل عند الطرفین ،وتبطل عند أبی یوسف
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/257،الطارق)
فلو کانت الکلمۃ لا مثل لھا فی القرآن ومعناہ بعید عن المعنی الاصلیۃلکلمۃ القرآن ،فسدت الصلاۃ بالاتفاق
وکذا فی الشامیة:(2/473،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/79،رشیدیہ)
وکذا فی الخانیة:(1/141،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(33/51،علوم اسلامیہ)
وکذا فی غنیة المتملی:(477،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
9،7،1443/22،2،11
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:171

ایک شخص نے مہر معجل کی مد میں پلاٹ یا زیور دینا ہو تو اس کی ادائیگی سے پہلے صاحب نصاب بن سکتا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اس پلاٹ یا زیور یا ان کی قیمت منفی کرنےکےبعد اگر باقی مال ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کےبرابر ہو تو صاحب نصاب ہوگا ورنہ نہیں ۔

لما فی بدائع الصنائع:(2/83،رشیدیہ)
ومنھا أن لا یکون علیہ دین مطالب بہ من جھۃ العباد عندنا فإن کان فإنہ یمنع وجوب الزکوۃ بقدرہ حالا کان أو معجلا (وعلی الصفحۃ الاٰتیۃ )وعلی ھذا یخرج مھر المرأۃ فإنہ یمنع وجوب الزکوۃ عندنا معجلا کان أو مؤجلا لأنھا اذا طالبتہ یؤاخذ بہ
وکذا فی الھندیة:(1/173،رشیدیہ)
وکذلک المھر یمنع مؤجلا کان أو معجلا لأنہ مطالب بہ کذا فی محیط السرخسی
وکذا فی الخانیة علیٰ ھامش الھندیة:(1/254،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر :(2/173،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیة:(3/235،فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(3/1807،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/286،المنار)
وکذا فی البحرالرائق:(2/355،رشیدیہ)
وکذا فی التنویروالدر:(3/210،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
15،9،1443/22،4،17
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:138

امام مسافراور مقتدی مقیم ہو تو امام کا سلام پھیرنے کے بعد مقتدی جو بقیہ نماز پڑھنےکےلیےکھڑا ہوگا، توکیا وہ قراءت و تسبیحات وتکبیرات انتقال کہے گا یا خاموش رہے گا؟

الجواب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں مقیم مقتدی اپنی بقیہ نماز میں تسبیحات و تکبیرات انتقال تو کہے گا لیکن قراءت نہیں کرے گا۔

لما فی بدائع الصنائع:(2/277،رشیدیہ)
ثم اذا سلم علیٰ رأس الرکعتین لا یسلم المقیم لانہ قد بقی علیہ شطر الصلاۃ فلو سلم کفسدت صلوتہ ولکنہ یقوم ویتمھا أربعا لقولہ علیہ السلام “أتمو یا اھل مکہ فانا قوم سفر”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولا قراءۃ علی المقتدی فی بقیۃ صلاتہ أذا کان مدرکا أی لا یجب علیہ لانہ شفع اخیر فی حقہ
وکذا فی الھندیة:(1/142،رشیدیہ)
وان صلی المسافر با المقیمین رکعتین سلم وأتم المقیمون صلاتھم کذا فی الھدایہ وصاروا منفردین کالمسبوق الا انھم لا یقرأون فی الاصح ھکذا فی التبیین
وکذا فی التنویر الرد:(2/735،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرہانی:(2/407،دار احیا)
وکذا فی التاتارخنیہ:(2/516،فاروقیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(2/38،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایہ:(1/175،المیزان)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/201،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق :(1/213،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
1،5،1443/21،12،6
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:171

میں ایک یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ ہوں،ہم نے اس یونیورسٹی میں ایک جگہ کو نماز کے لئے مختص کر رکھا ہے،جو نہی وقت نماز آتا ہے ہم جماعت سے نماز ادا کر لیتے ہیں،سوال یہ دریافت کرنا ہے کہ کیا اس جگہ نماز پڑھنے سے ہمیں مسجد جیسا ثواب ملے گا یا نہیں اور تحیۃ المسجد کاکیا حکم ہےپڑھنی چاہیے یا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں جماعت کا توثواب ملے گا ۔لیکن مسجد کا ثواب نہیں ملے گااور اس جگہ تحیۃ المسجد بھی نہیں پڑھی جائے گی کیونکہ وہ مسجد کے ساتھ خاص ہے۔

لمافی الفتاوی النوازل:(63،حقانیہ)
“والصلاۃ فی البیت بالجماعۃ لاینال فضل الجماعۃ بالمسجد․”
وکذافی الصحیح المسلم:(1/282،رحمانیہ)
عن أبی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال:قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم صلوۃ الرجل فی جماعۃ تزید علی صلوتہ فی بیتہ وصلوتہ فی سوقہ بضعا وعشرین درجۃ
وکذافی فتح الملھم:(4/11،دار العلوم کراچی)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/259،الطارق)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(162،البشری)
وکذافی کتاب الفقہ:(2/286،حقانیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/280،فاروقیہ)
وکذافی التنویروالردوالشامیة:(2/340،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(37/201،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1170،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدانیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
3،7،1443/2022،2،5
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:132