سونےکےلین دین میں ٪100فیصدخالص سونامشکل ہوتا ہے،کچھ نہ کچھ مثلا٪0.50،٪0.75،٪1.00،٪1.50،٪2.00، فیصدملاوٹ ضرورہوتی ہے۔عرف زرگراں میں انہی صورتوں میں لین دین وخریدفروخت کوہلکاخالص سوناشمارکیاجاتاہے۔مذکورہ کیٹگری کےمطابق سوال یہ ہےکیاایسےسونےکوخالص سوناکہہ کرگاہک اور دکانداروں کےدرمیان خریدوفروخت کرناجائزہےیانہیں؟مذکورہ کیٹگریزکاجب بڑےصرافوں سےمعاملہ ہوتاہےتوان کےنزدیک بھی یہ خالص ہوتاہےمگرلین دین میں ریٹ میں کمی بیشی ہوتی ہےوضاحت یامتبادل فرمادیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں عرف زرگراں کودیکھا جائے گاکہ وہ آپس میں معاملہ کرتے وقت ایسے سونے کو کیا شمار کرتے ہیں؟اگر معروف مقدار کےمطابق کھوٹ ہواور دکاندار اور گاہک اس کو”خالص سونا “شمار کرتے ہوں تو اس کو ”خالص سونا “کہہ کرفروخت کرنا درست ہےاور اگر معروف مقدارسے زائد کھوٹ ہو یا گاہک ناواقف ہو تو پھر اس کو خالص سونا کہہ کرفروخت کرنا جائز نہیں۔بلکہ کھوٹ کی مقدارکی وضاحت کرنا ضروری ہے۔

لما فی الھندیہ: ( 3/ 67 ، رشیدیة)
“قال القدوری فی کتابہ کل ما یوجب نقصانافی الثمن فی عادۃ التجارفھو عیب.”
وفی رد المحتارعلی الدرالمختار:(5/3،ایچ ایم سعید)
قولہ مایخلو عنہ اصل الفطرۃالسلیمۃ)زاد فی الفتح مما یجد بہ ناقصا ای لان ما لا ینقصہ لا یعد عیبا(علی الصفحۃ الاتیۃ)کذالا یرد اناءفضۃبرداءتہ بلا غش۔”
وکذا فی فتح القدیر:(6/329،رشیدیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/544،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(10/81،بیروت)
وکذا فی شرح العینی:(2/21،ادارۃ القرآن)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3558،رشیدیة)
وکذا فی الھدایہ:(3/42،رحمانیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(9/117،فاروقیة)
وکذا فی شرح الوقایة:(29،رحمانیة)
وکذافی جامع الترمذی:(1/364،رحمانیة)
وکذافی الصحیح المسلم:(2/13،رحمانیة)
وکذافی جامع الترمذی:(1/36،رحمانیة)
وکذافی تکملۃ فتح الملھم:(1/376،دارالعلوم کراتشی)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
24-03-1443/2021-10-31
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:104

 

ایک آدمی عیدکی نماز میں رکوع میں آکرشامل ہوالیکن تکبیرات نہیں کہی اس کی نماز کاکیا حکم ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

نمازہوگئی۔

لمافی الھندیة:(1/128،رشیدیة)
“سھوالامام یوجب علیہ وعلی من خلفہ السجود……سھوالمؤتم لایوجب السجدۃ.”
وکذافی التنویرمع الدر:(2/658،رشیدیة)
“(ومقتدبسھو امامہ ان سجدامامہ)لوجوب المتابعۃ(لابسھوہ)اصلا․”
وکذافی مجمع الانھر:(1/222،المنار)
وکذافی النھرالفائق:(1/326،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/316،ادارۃالقرآن)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/404،فاروقیة)
وکذافی البحرالرائق:(2/175،رشیدیة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/213،الطارق)
وکذافی الجوھرۃالنیرۃ:(1/200،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
12-08-1443/2022-03-16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:18

عید کی نماز میں امام نے سات تکبیرات کہہ دیں تو نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

نماز ہوگئ۔

لمافی الھندیة:(1/128،رشیدیة)
ومنھاتکبیرات العیدین)قاال فی البدائع اذا ترکھا او نقص منھا اوزادعلیھا اواتی بھا فی غیر موضعھا فانہ یجب علیہ السجودکذا فی البحرالرائق بعداسطر السھو فی الجمعۃ والعیدین والمکتوبۃ والعیدین والتطوع واحدالا ان مشائخنا قالوا لا یسجد للسھو فی العیدین و الجمعۃ لئلا یقع الناس فی الفتنۃ کذا فی المضمرات ناقلا عن المحیط
وفی التنویر مع الدر:(2/675،رشیدیة)
والسھو فی صلاۃ العیدوالجمعۃوالمکتوبۃ والتطوع سواء)والمختار عند المتاخرین عدمہ فی الاولیین لدفع الفتنۃ کما فی جمعۃالبحر،واقرہ المصنف،وبہ جزم فی الدرر
وفی ردالمحتار:(2/675،رشیدیة)
“قولہ:(وبہ جزم فی الدرر)لکنہ قیدہ محشیھاالوانی بما اذاحضر جمع کثیر،والافلا داعی الی الترک.”
وکذا فی البحرالرائق:(2/170،رشیدیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/402،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:2/313،بیروت)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/399،فاروقیة)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(455،قدیمی)
وکذافی مجمع الانھر:(1/220،المنار)
وکذافی النھرالفائق:(1/324،قدیمی)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/1104)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
30-10-2021/1443-03-24
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:86

عشرکن زمینوں میں ہوتاہے؟اورنصف عشرکن زمینوں میں ہوتا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اگرزمین بارش کےپانی سےسیراب ہوتی ہےتواس میں عشر(دسواں حصہ)واجب ہےاوراگرنہریاٹیوب ویل وغیرہ سے سیراب ہوتی ہےتواس میں نصف عشر(بیسواں حصہ)واجب ہےاوراگرسال کاکچھ حصہ بارش کےپانی سےسیراب ہوتی ہےاورکچھ حصہ نہروغیرہ سےتواس میں اکثرکااعتبارہوگا۔

لمافی سنن ابی داؤد:(1/236،رحمانیة)
عن سالم بن عبداللہ عن ابیہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیماسقت السماءوالانھاروالعیون اوکان بعلاالعشروفیماسقی بالسوانی اوالنضح نصف العشر
وفی المحیط البرھانی:(3/273،ادارۃالقرآن)
وماالسقتہ السماءاوسقی سیحاففیہ العشر،وماسقی بغرب اودالیۃ،اوسانیۃففیہ نصف العشر،وبہ وردالاثرعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والمعنی فی التفاوت قدرالمؤنۃوکربھاواذاسقی فی بعض السنۃسیحا،وفی بعضھا بآلۃ فالمعتبر ھو الغالب الاغلب
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/277،فاروقیة)
وکذافی المبسوط:(3/4،بیروت)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/365،الطارق)
وکذافی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعة:(1/521،حقانیة)
وکذافی ردالمحتار:(2/325،ایچ،ایم،سعید)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(148،زمزم)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر النختار:(1/418،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
30-01-2022/1443-6-26
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:98

احادیث مبارکہ میں صریح طور پر آیا ہے”کل مسکر حرام“جبکہ سگریٹ نوشی میں عام مسلمان مبتلا ہیں توکیا یہ حرام کے مرتکب ہیں کیونکہ اس میں کسی درجہ میں نشہ موجود ہے۔اسی طرح نسواراور پان کہ ان میں تواکثرعلماء کو بھی مبتلابہ پایا ہے جبکہ یہ بات عام مشاہد ہے کہ پہلی مرتبہ جب کوئ شخص نسوار اور پان استعمال کرتا ہے تو اس کا سر چکرا جاتا ہےاور بعض مرتبہ تو قے بھی آجاتی ہے۔کیا یہ لوگ بھی گنہگار ہیں؟

الجواب حامداومصلیا

سگریٹ،پان اور نسوار میں نشہ کی وہ مقدارتو نہیں پائ جاتی جس پر حرمت کا حکم لگایا جائے اس لیے عام حالات میں ان کا استعمال حرام نہیں،لیکن بلاضرورت ان چیزوں کااس درجہ استعمال کہ جس سے انسانی صحت کو نقصان پہنچنے کااندیشہ ہو،وہ بہرحال کراھت سے خالی نہیں۔

وفی ردالمحتار:(10/49،رشیدیة)
والتتن الخ)اقول قداضطربت آراءالعلماءفیہ،فبعضھم قال:بکراھتہ(وبعداسطر)قلت:والف فی حلہ ایضاسیدناالعارف عبدالغنی النابلسی رسالۃ سماھا:((الصلح بین الاخوان فی اباحۃ شرب الدخان))وتعرض لہ فی کثیر من تالیفہ الحسان،واقام الطامۃالکبری علی القائل بالحرمۃ او بالکراھۃ،فانھما حکمان شرعیان لابد لھما من دلیل ولا دلیل علی ذلک،فانہ لم یثبت اسکارہ ولاتفتیرہ ولا اضرارہ بل ثبت لہ منافع، فھو داخل تحت قاعدۃ الاصل فی الاشیاہ الاباحۃ،وان فرض اضرارہ للبعض لا یلزم منہ تحریمہ علی کل احد،فان العسل یضر باصحاب الصفراءالغالبۃ،وربماامرضھم مع انہ شفاءبالنص القطعی،ولیس الاحتیاط فی الافتراء علی اللہ تعالی باثبات الحرمۃ اوالکراہۃاللذین لابد لھما من دلیل،بل فی القول بالاباحۃالتی ھی الاصل۔
وفہ الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/277،الطارق)
التدخین فی بلاد المسلمین فی مطلع الالف الھجرئیۃ الثانیۃ……وبعد فالذی ینبغی ان یعتمد للافتااناطۃالامر بالضرر و عدمہ،فمتی ثبت ضررہ حرم تناولہ،وان اضر ببعض دون بعض حرم علی المتضررین لا علی غیرھم وان غلب علی الظن التضرربہ حمل علی الکراھۃ
وفی عون المعبود:(10/73،قدیمی) وفی الاشباہ والنظائر:(69،قدیمی)
وفی شرح الحموی:(1/209،ادارۃالقرآن) وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(7/5506،رشیدیة)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(18/432،فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
24-03-1443/2021-10-30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:84

ایک آدمی نےاپنی بیوی کی بہن سےزناکیاتوآیاان دونوں میاں بیوی کانکاح باقی رہاکہ نہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

نکاح توباقی ہےلیکن اس شخص پرتوبہ واستغفارلازم ہے۔

لمافی خلاصةالفتاوی:(2/7،رشیدیة)
“وفی الفتاوی النسفی رجل وطئ اخت امراتہ لاتحرم علیہ امراتہ.”
وفی حاشیةالطحطاوی علی الدرالمختار:(2/16،رشیدیة)
“وفی الخلاصۃوطئ اخت امراتہ لاتحرم علیہ امراتہ․”
وکذافی الدرالمختار:(4/116،رشیدیة)
وکذافی الھندیة:(1/274،رشیدیة)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(28،بشری)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/49،فاروقیة)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(36/214،علوم اسلامیة)
وکذافی الجوھرةالنیرة:(2/112،قدیمی)
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب:(2/142،قدیمی)
وکذافی فتاوی النوازل:(169،الحقانیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
10-07-1443/2022-02-12
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:8

اگرروزہ داربھول کرکھارہاہویاپی رہاہوتواسےروکناچاہیےیانہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

ایسےصحت مندیانوجوان کوبتاناضروری ہےجوبآسانی روزہ مکمل کرسکتاہےاورضعیف یا بوڑھےشخص کونہ بتانےمیں کوئی گناہ نہیں۔

لمافی الھندیة:(1/202،رشیدیة)
رجل نظرالی صائم یاکل ناسیاان رای فیہ قوۃیمکنہ ان یتم الصوم الی اللیل فالمختارانہ یکرہ ان لایذکرہ وان کان یضعف فی الصوم بان کان شیخاکبیرایسعہ ان لایخبرہ
وکذافی الفتاوی البزازیةعلی ھامش الھندیة:(4/98،رشیدیة)
“وھل یخبرہ اذارآہ یاکل ناسیاان ضعیفالاوان قویااخبرہ․”
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/405،فاروقیة)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(255،بشری)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/406،الطارق)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/227،الحرمین)
وکذافی الشامیة:(2/395،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(2/473،رشیدیة)
وکذافی مجمع الانھر:(1/360،المنار)
وکذافی فتح القدیر:(2/332،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی الخانیةعلی ھامش الھندیة:(1/202،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17-8-1443/2022-03-21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:58

غلام حسین کی بیٹی کشورناز1981میں فوت ہوئی اور2003میں غلام حسین کی وفات ہوئی تواب مرحوم غلام حسین کی میراث میں سےاس کی مرحومہ بیٹی کشورنازکی اولادکوحصہ ملےگایانہیں؟جبکہ غلام حسین کی اولاداوربہن بھائی بھی موجودہیں۔

الجواب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں چونکہ غلام حسین مرحوم کی اولاداوربہن بھائی موجودہیں۔لہذامرحومہ کشورنازکی اولادکومرحوم غلام حسین کی میراث سےحصہ نہیں ملےگا۔

لمافی الھندیة:(6/459،رشیدیة)
وذووالارحام اربعۃاصناف)صنف ینتمی الی المیت وھم اولادالبنات واولادبنات الابن(بعداسطر)وانمایرث ذووالارحام اذالم یکن احدمن اصحاب الفرائض ممن یردعلیہ ولم یکن عصبۃ
وفی المحیط البرھانی:(23/343،ادارۃالقرآن)
قال عامۃاصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:ذووالارحام یرث بعضھم من البعض،وانھم مؤخرون عن اصحاب الفرائض والعصبات لایرثون مع احدمنھم الامع الزوج والزوجۃ.
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(20/317،فاروقیة)
وکذا فی التنویرمع الدر:(10/576،بیروت)
مجمع الانھر:(4/496،المنار)
وکذا فی تبیین الحقائق:(6/241،242،امدادیة)
وکذافی البحرالرائق:(9/397،رشیدیة)
وکذافی شرح العینی:(2/521،ادارۃالقرآن)
وکذافی حاشیةالطحطاوی:(4/396،رشیدیة)
وکذافی الجوھرۃالنیرۃ:(2/665،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
2021-12-04/1443-04-28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:120

ایک شخص نےایک طرف سلام پھیرنےکےبعدبھول کربات کرلی تواس کی نمازکا کیاحکم ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

دونوں سلام واجب ہیں لہذاواجب چھوڑنےکی وجہ سے نمازلوٹاناضروری ہے۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/209،الطارق)
الواجب ماکان دون الفرض وفوق السنۃ،ولاتفسدالصلاۃبترکہ ویجب اعادۃالصلاۃبترک واجب من واجباتھا عمدا واذا ترکہ سھوایجب اعادتھاان لم یسجدلہ سجودالسھوویجب علیہ الاعادۃفی وقت الصلاۃاوخارجہ واذالم یعدالصلاۃواصرعلی ذلک یکون فاسقاآثما۔وواجبات الصلاۃثمانیۃعشر،وھی(وعلی الصفحۃ:214)الثامن عشر:لفظ السلام مرتین
وفی حاشیةاالطحطاوی علی الدرالمختار:(1/210،رشیدیة)
قولہ ولفظ السلام)وجوبہ اخذمن المواظبۃ
وکذافی التنویرمع الدر:(2/199،رشیدیة)
وکذافی الھندیة:(1/72،رشیدیة)
وکذافی نورالایضاح مع مراقی الفلاح:(251،قدیمی)
وکذافی الھدایة:(1/187،بشری)
وکذافی فتح القدیر:(1/328،رشیدیة)
وکذافی التجرید:(2/611،محمودیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
2022-02-06/04-07-1443
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:120

نمازکےاندراگرکھانسی کی وجہ سےیاویسےہی بلغم آجائے تو کیاکرنا چاہیے؟

الجواب حامداومصلیا

نمازکےدوران اگربلغم آجائےتواس کوکپڑےمیں تھوک لیاجائےیااگرنمازی مسجدکےعلاوہ کسی جگہ ہوتوبائیں طرف یا قدموں کےنیچےبھی تھوک سکتاہے۔

لمافی صحیح البخاری:(1/125،رحمانیة)
باب دفن النخامۃفی المسجد……عن ھمام سمع اباھریرۃعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال اذاقام احدکم الی الصلاۃفلایبصق امامہ فانمایناجی اللہ مادام فی مصلاہ ولاعن یمینہ فان عن یمینہ ملکاولیبصق عن یسارہ اوتحت قدمہ فیدفنھا.”
وفی بدائع الصنائع:(1/507،رشیدیة)
ویکرہ ان یبزق علی حیطان المسجد،اوبین یدیہ علی الحصی اویمتخط،لقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم:ان المسجد لینزوی من النخامۃکماتنزوی الجلدۃفی النار۔ولان ذلک سبب لتنفیرالناس عن الصلاۃفی المسجد،ولان الخامۃ، والمخط مما یستقذر طبعا۔ واذاعرض لہ ذلک ینبغی ان یاخذہ بطرف ثوبہ،وان القاہ فی المسجدفعلیہ ان یرفعہ ولودفنہ فی المسجدتضت الحصیریرخص لہ ذلک والافضل ان لایفعل،لماروی ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم”رخص فی دفن النخامۃفی المسجد”ولانہ طاھرفی نفسہ الاانہ مستقذرطبعا،فاذادفن لایستقذرولایؤدی الی التنفیروالرفع اولی
وکذافی فتح الباری:(1/676،قدیمی)
وکذافی مرقاۃالمفاتیح:(2/453،المکتبةالتجاریة)
وکذافی عمدۃالقاری:(4/154،بیروت)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/967،رشیدیة)
وکذافی فتح الملھم:(3/396،مکتبہ دارالعلوم)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
20-05-1443/2021-12-25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:60