سنار زیورات کی فروختگی کے وقت گاہک کو زیورات کے حقیقی وزن سے زائد کی رسید بناکر دیتے ہیں اور زائد وزن کی قیمت گاہک سے وصول کرتے ہیں ،حالانکہ زائد وزن زیورات میں بالکل نہیں ہوتا اب گاہک کے پوچھنے پر سنار کہتے ہیں کہ زیورات کی تیاری میں اتنا وزن کم ہوا ہےلہذا اس کی قیمت بھی آپ کے ذمہ ہے،اس کو خسارہ پالش کہتے ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ اس زائد وزن کی قیمت گاہک سے وصول کرناجائز ہے یا نہیں ؟ درحقیقت زیورات کی تیاری میں کچھ نہ کچھ سونا کم بھی ہوجاتا ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

سونے کے زیور بنانے میں جس قدر وزن میں کمی واقع ہوئی ہے ،گاہک پر اس کی وضاحت کئے بغیر اس کی قیمت وصول کرنا درست نہیں ہے ،لیکن اگر اس کی وضاحت کردی تو پھر زائد قیمت وصول کرنا جائز ہے ۔اگر گاہک سونے کے وزن سے زائد قیمت ادا نہیں کرتا تو سنار اپنی کاریگری کی قیمت بڑھا کر گاہک سے زائد وصول کرسکتا ہے۔

لما فی:القرآن الکریم(سورة النساء،29)
” یاایھا الذین اٰمنو لاتاکلو اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارة عن تراض منکم. “
وفی صحیح البخاری:(1/377،رحمانیہ)
عن حکیم بن حزام ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم البیعان بالخیار مالم یتفرقا فان صدقا وبینا بورک لھما وان کذبا وکتما محقت برکة بیعھما
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/13،معارف القرآن)
وللبائع ان یبیع بضاعة بماشاء من ثمن،ولا یجب علیہ ان یبیعہ بسعر السوق دائما،وللتجار ملاحظ مختلفة فی تعین الاثمان وتقدیرھا فربما تختلف اثمان البضاعة باختلاف الاحوال ولا یمنع الشرع من ان یبع المرء سلعة بثمن فی حالة وبثمن آخر فی حالة الاخریٰ
وکذافی ردالمحتار علی الدر المختار:(5/47،ایچ ایم سعید)
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/134،رحمانیہ)
وکذافی جامع الترمذی:(1/367،رحمانیہ)
وکذافی در الحکام شرح مجلة الاحکام:(3/201،العربیة)
وکذافی الصحیح لمسلم:(2/6،الحسن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/7/1444/2022/2/12
جلد نمبر :26 فتوی نمبر:160

ٹٹیری” پرندے کا کیا حکم ہے؟نیز یہ پرندہ اپنی چونچ سے خوراک کھاتا ہے

الجواب حامداً ومصلیاً

ٹٹیری پرندہ حلال ہے۔

لما فی تنویر البصار:(9/507،رشیدیہ)
” ولایحل ذوناب یصیدبنانہ اومخلب یصید بمخلبہ من سبع اوطیر. “
وفی الفتاوی العالمکیریہ:(5/290،رشیدیہ)
” عن ابراھیم قال کانوا یکرھون کل ذی مخلب من الطیر وما اکل الجیف وبہ ناخذ . “
وفیالمحیط البرھانی :(8/415،دار احیا تراث)
واما صیدالبر:فالذی لایوکل، منہ کل ذی ناب من السباع،وکل ذی مخلب من الطیروالمراد من ذی ناب والمخلب ،الناب الذی ھو سلاح،والمخلب الذی ھو سلاح
وکذافی الصحیح المسلم :(2/156،رحمانیہ)
وکذا فی سنن ابی داؤد :(2/176،رحمانیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ :(18/447،فاروقیہ)
وکذا فی مختصر القدوری :(472،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الجوھرۃ النیرۃ :(2/443،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی کنز الدقائق :(2/419،حقانیہ)
وکذافی الھدایۃ شرح بدایة المبتدی :(4/73،البشریٰ)
وکذا فی شرح فتح القدیر :(9/510،رشیدیہ)
وکذافی البنایہ فی شرح الھدایہ :(10/692،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غُفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/4/1443/2021/11/22
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:131

شریعت میں عورت کی حکمرانی کی کیا حیثیت ہے ؟اگر عورت زبردستی یا عوام کی رضامندی سے حکمران بن جائے تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دلائل شرعیہ قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ اور فقہ کی عبارات اس پر دلالت کرتی کہ عورت کا حکمران بننا درست نہیں۔قرآن مجید میں ہے”الرجال قوامون علی النساء…الخ(النساء،34)” ترجمہ:مرد عورتوں پر نگران ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت فضیلت دی ہے ۔آیت کے اطلاق سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی عورت مرد پر نگران نہیں ہے۔جب ایک عورت ایک مرد پر نگران نہیں بن سکتی تو وہ عام انسانوں کے لئے کیسےنگران بن سکتی ہے؟
کافی احادیث مبارکہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ جس قوم پر عورت حکمران بن جائے وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی۔ترمذی شریف کی روایت میں ہے “اذاکان امراءکم شرارکم واغنیاءکم بخلاءکم وامورکم الی نساء فبطن الارض خیر من ظھرھا”(ترمذی:2/500،رحمانیہ)۔یعنی جب تمہارے امرء تمہارے بدترین لوگ ہوں اور جب تمہارے دولتمند بخیل ہوں اور جب تمہارے معاملات تمہاری عورتوں کے ہاتھ میں ہوں تو زمین کا پیٹ تمہارے لئے اس کی پیٹھ سے بہتر ہے،یعنی اس وقت تمہارے لئے زندگی موت سے بہتر ہے ۔اس طرح بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ فارس والوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا بادشاہ بنا لیا ہے ،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جس نے اپنے معاملات کا سربراہ عورت کوبنایا ہے۔اس طرح بعض احادیث میں عورتوں کے بارے میں ہے “ما رایت من ناقصات العقل والدین اذھب للب الرجل الحازم من احداکن” جن کا مفہوم یہ ہے کہ عورتیں عقل اور دین میں ناقص ہوتی ہیں۔ جب یہ ناقصات العقل والدین ہیں تو دینی اور دنیاوی معاملات کو احسن طریقے سے کیسے سرانجام دے سکتی ہیں؟ لہذا عورت کوحکمران بنانا درست نہیں ہے۔
سربراہ بننے کے بعد جن فرائض منصبی کی احسن طریقےسےادائیگی کے لئےجن امور کی ضرورت ہوتی ہے،اللہ تعالیٰ نے وہ مردوں میں پیدا کئے ہیں،البتہ گھریلو اور خاندانی امور کے کفالت کی ذمہ داری عورت کے کندھوں پر ڈال دی گئی ہے،اس لئے عورت کو اس میدان کی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے جن امور کی ضرورت تھی وہ اسے مکمل طور پر دئے گئے ہیں ،جبکہ مرد میں وہ صلاحیتیں مفقود ہیں۔عورت کے لئے پردہ کی رعایت،اجانب سے بے جا اختلاط سے ممانعت اور دامن عصمت کا تحفط ایسے امور ہیں جو میدان قیادت میں جانے سے منع کرتے ہیں۔
لہذا ان وجوہ اور دیگر اسباب کی بنیاد پرتمام امت اور ائمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت عمومی طور پر اسلامی ملک اور سلطنت کی امارت کی اہل نہیں۔

لما فی صحیح البخاری:(2/118،رحمانیہ)
عن ابی بکرۃ قال لقد نفعنی اللہ تعالیٰ بکلمۃ سمعتھا من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایام الجمل فاقاتل معھم قال ما بلغ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اھل الفارس قد ملکوا علیھم بنت کسریٰ قال لن یفلح القوم ولوا امرھم امرءۃ
وکذافی الترمذی:(2/499،رحمانیہ) وکذا فی سنن النسائی:(2/304،رحمانیہ)
وکذا فی تلخیص الحبیر:(4/427،دار الکتب العلمیہ) وکذا فی سنن الکبریٰ للبیھقی:(19/201،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی المقاصد الحسنہ:(500،النوریہ الرضویہ) وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(ۛ8/937،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(8/28،رشیدیہ) وکذا فی بدائع والصنائع:(1/589،رشیدیہ)
وکذا فی ھامش علی مجمع الانھر:(1/246،المنار) وکذا فی البحر الرائق:(2/246،)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/5937،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ کوٹ ادو غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/4/1443/2021/11/21
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:129

قے سے وضوٹوت جاتا ہےیانہیں؟نیز اگر قے کپڑوں پر لگ جائے توکپڑے ناپاک ہوتے ہیں یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

قے اگر “منہ بھر کر” ہویاتھوڑی تھوڑی کئی بار آئے اور اندازے سے “منہ بھر ” کے برابر ہوجائےتو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہےاور کپڑوں پر لگنے سے کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں ۔مذکورہ مقدار سے کم ہو تو اس سے وضونہیں ٹوٹتااور کپڑے بھی ناپاک نہیں ہوتے۔

لما فی الھدایة مع الدرایة: (1/37،البشریٰ)
ولو قاء متفرقا بحیث لو جمع الفم فعند ابی یوسف یعتبر اتحاد المجلس وعند محمد یعتبر اتحاد السبب وھو الغثیان ثم مالا یکون نجسا
وفی مجمع الانھر:(1/ 31،المنار)
والقی ملاء الفم ولو طعاما او ماء او مرۃ او علقما لا بلغما مطلقا خلافا لابی یوسف فی الصاعد من الجوف ویشترط فی الدم المائع مساواۃ البزاق لا الملاء خلافا لمحمد وھو یعتبر اتحاد السبب لجمع ما قاء قلیلا وابو یوسف اتحاد المجلس وما لیس حدثا لیس بنجس
وکذافی رد المحتار علی الدر المختار:( 1/ 293،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلته : ( 1/ 423،رشیدیة)
وکذافی البحر الرائق شرح کنزالدقائق:( 1/ 67،رشیدیة)
وکذا فی اللباب فی شرح الکتاب:( 1/ 37،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/9،حقانیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:( 1/ 122،رشیدیة )
وکذافی الفتاوی العالکیریة للشیخ نظام والجماعة:( 1/ 11،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:( 1/198،دار احیاء تراث)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:( 1/247،فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/2/1443/2021/10/2
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:50

جس شخص کے والدین کافر ہوں تو وہ نماز میں “ربنا اغفرلی ولوالدی” پڑھ سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!یہ شخص”ربنا اغفرلی ولوالدی”پڑھ سکتا ہےاور اس سے مراد حضرت آدم وحواءعلیہما السلام ہونگے۔یہ شخص،موجودہ کافر یا فوت شدہ والدین مراد نہیں لے سکتا،کیونکہ قرآن کریم میں کافروں کے لئے مغفرت کی دعاکرنے سے منع کیاگیاہے۔

لما فی تفسیر الکبیرللامام فخرالدین الرازی:( 7/107،علوم اسلامیہ )
ربنااغفرلی ولوالدی وللمؤمنین یوم یقوم الحساب) … المسالۃ الثانیہ:ان قال قائل کیف جاز ان یستغفرولابویہ وکانا کافرین؟فالجواب عنہ من وجوہ:ان المنع منہ لایعلم الابالتوقیف فلعلہ لم یجدمنہ منعافظن کونہ جائزا،الثانی:ارادبوالدیہ آدم وحواء، الثالث:کان ذلک بشرط الاسلام
وکذا وفی الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل:( 2/ 562 ،من منشورات البلاغہ)
فان قلت کیف لہ ان یستغفر ابویہ وکاناکافرین؟قلت:ھو من محوزات العقل لایعلم امتناع جوازہ الا بالتوقیف۔وقیل اراد بوالدیہ آدم وحواء .”
وکذا وفی تفسیر روح المعانی للعلامة آلوسی: (13/243،داراحیا تراث)
ولوالدی ) ….وقیل اراد بوالدہ نوحا علیہ السلام،وقیل اراد بوالدہ آدم وبوالدتہ حواءعلیھما السلام والیہ ذھب بعض من قال بکفر امہ والوجہ ماتقدم
وکذا فی الجامع لاحکام القرآن لابی عبداللہ محمدبن جعفر:(9/ 375،داراحیا تراث)
رب اغفرلی ولوالدی)یعنی اباہ وقیل استغفرلھما طمعافی ایمانھا۔وقیل استغفرلھما بشرط ان یسلما ۔وقیل آدم وحواء
وکذا فی الاکلیل علی مدارک التنزیل: ( 4/ 448، دار الکتب العلمیہ)
ربنا اغفرلی ولوالدی) ای آدم وحواء۔او قالہ قبل النھی والیاس عن ایمان ابویہ
وکذا فی تفسیر ابی السعود لابی السعود محمد بن محمد:(3/537،الوحدیة)
ولوالدی) …وقیل اراد بوالدیہ آدم وحواء
وکذا فی تفسیر الخازن للعلامة علاؤالدین : (3/89،رشیدیة)
ولوالدی) …وقیل اراد بوالدیہ آدم وحواء

واللہ اعلم بالصواب
احقرمحمدعبداللہ غفرلہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1443/2/19/2021/9/28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:36

 

اگر کسی آدمی کانقصان ہوجائے اور کوئی اقرار بھی نہ کرے اور قرائن سے یہ بات معلوم ہورہی ہو کہ فلاں شخص نے نقصان کیا ہے،لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ شخص اس نقصان کا بھی منکر ہوتو کیا اس شخص پر نقصان کا ضمان ہوگا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

محض قرائن کی بنا ءپر کسی شخص پر نقصان کا ضمان لازم کرنا صحیح نہیں ہے ۔بلکہ مدعی اپنے دعوی کو ثابت کرنے کے لئے گواہ پیش کرے گا،اگر وہ گواہ پیش نہ کرسکاتو جس کے خلاف دعوی ٰکیا گیا ہے،اسے کہا جائیگا کہ قسم اٹھا ،اگر وہ قسم اٹھا لے کہ میں نے نقصان نہیں کیا تو وہ بری ہوجائیگا ،ورنہ اسے نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا جائیگا۔

لما فی سنن ابن ماجہ:(127،قدیمی کتب خانہ )
“عن ابن عباس قال لو یعطی الناس بدعواھم لادعی الناس دماء رجال واموالھم ولکن الیمین علی المدعی علیہ. “
وفی کتاب المبسوط للشمس الدین:(17/35،دار المعرفة)
الدعوی الصحیحۃ لا توجب الاستحقاق المدعی للمدعی بنفسھا(فان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لو اعطی الناس بدعواھم لادعی قوم دماء قوم واموالھم لکن البینۃ المدعی والیمین علی المدعی علیہ
وکذافی مشکوۃ المصابیح:(2/337،رحمانیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(3/147،الطارق)
وکذافی الفتاوی التتار خانیہ:(3/5،فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(4/13،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(3/210،رحمانیہ)
وکذافی شرح الوقایہ:(3/206،رحمانیہ)
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب:(3/122،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی البحر الرائق:(7/345، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2021/10/28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:101

ایک گاؤں میں بہت عرصہ پہلے کچھ لوگوں نے بغیر تحقیق کے جمعہ نماز شروع کردی تھی اس گاؤں میں ایک دوسری مسجد والوں نے علماء کرام سے مسئلہ پوچھا تو علماء کرام نے کہا اس گاؤں میں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی، تواس دوسری مسجد والوں نے پھر بھی اپنی مسجد میں میں جمعہ نماز شروع کردی ہے ۔تو کیا اس دوسری مسجد والوں کی نماز جمعہ ٹھیک ہوگی ؟اور وہ پہلی جامع مسجد جس میں بہت عرصہ پہلے سے جمعہ شروع ہے اسکا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جمعہ وعیدین کی ادائیگی کے لیے فقہاء کرام نے شہر یا بڑی بستی ہونا لازم قرار دیا ہے کہ جس میں اکثر ضروریات زندگی میسر ہوں مثلا:بازار ہو ،کوئی بااثر شخص ہو جو لوگوں کےآپس کے معاملات حل کرواسکے۔مفتی ہو جو لوگوں کو مسائل بتائے۔الغرض انسان کی دینی ودنیاوی ضروریات کا حل موجود ہو چونکہ مذکور ہ بستی میں بظاہر یہ شرائط موجود نہیں، لہذاجمہور کے نزدیک یہاں جمعہ وعیدین ادا کرنا بھی جائز نہیں۔البتہ اب تک جو جمعہ نمازیں ادا کی گئی ہیں انکو لوٹانا ضروری نہیں ۔کیونکہ حر ج شدیدلازم آئیگا ،اس لئے دانش مندی اور محبت سے یہ جمعہ بند کروانے کی کوشش کی جائے،لیکن اس میں فتنہ وفساد اور شرانگیزی کا ڈر ہو تو بعض فقہاء کرام جن میں مفتی کفایت اللہ دہلوی ﷫صاحب بھی ہیں ان کے نزدیک جہاں جمعہ شروع ہوچکا ہے وہاں جمعہ جاری رکھنے کی بھی اجازت ہے(کفایت المفتی :5/161،م:ادارۃ الفاروق کراچی)علماء کرام کے عدم جوازکے فتویٰ کے باوجود ،بستی کی دوسری مسجد میں جمعہ شروع نہیں کرنا چاہیئے۔

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفریہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/10/1443/2021/10/31
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:102

چالیس گھروں پر مشتمل بستی جس میں ضروریات زندگی کا تقریبا سامان ملتا ہے، لیکن وہاں ڈاکخانہ ،سرکاری دفاتر وہسپتال میسر نہیں۔اس بستی میں جمعہ اداکرنا کیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جمعہ کے لئےایسا بڑا شہر یا قصبہ ہونا ضروری ہے کہ جس میں انسان کی عمومی ضروریات زندگی کی تمام چیزیں میسر ہوں، اسکی کچھ علامات بھی فقہاء کرام نے لکھی ہیں مثلا:اس میں بازار ہوں،پختہ سڑکیں ہوں،ڈاکٹر اور حکیم موجود ہو،ڈاکخانہ ہو اور آٹا چکی موجودہو۔ضروری کاریگرمثلا:لوہار،ترکھان وغیرہ موجود ہوں، غرض جہاں عام ضروریات زندگی انسان کو حاصل ہوجاتی ہوں وہ شہر ہے۔ اس میں جمعہ نماز پڑھنا جائز ہے۔چونکہ آپ کی بستی میں مذکورہ بالا سہولیات میسر نہیں لہذا اس میں جمعہ پڑھنا درست نہیں۔

لما فی الفتاویٰ العالمگیریہ:( 1/145،رشیدیہ)
” والمصر فی ظاہر الروایۃ الوضع الذی یکون فیہ مفت وقاض یقیم الحدود وینفد الاحکام و بلغت ابنیتہ ابنیۃ منی . “
وفی بدائع الصنائع:(1/585،رشیدیہ)
روی عن ابی حنیفۃ انہ بلدۃکبیرۃ فیھا سکک واسواق ولھا رساتیق وفیھا وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحکمہ وعلمہ اوعلم غیرہ والناس یرجعون الیہ فی الحوادث وھو الاصح
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ:( 2/ 549،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:( 2/ 439،دار احیا تراث)
وکذا فی رد المحتار علی الدر المختار:( 3/6، دارالمعرفة)
وکذافی البحر الرائق :(2/245، رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ فی شرح الھدایہ:( 3/49، رشیدیہ)
وکذافی وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1694،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/246،المنار)
وکذا فی غنیة المتملی:(551 ، رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2021/10/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:103

کہ کیا کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات ملتی ہے کہ انہوں نے ساری زندگی ایک وتر ادا کیا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں! حضرت ابن عمر کے بارے میں متعدد روایات ملتی ہیں کہ انہوں نے ساری زندگی ایک وتر ادا کیا ہے۔

لما فی صحیح البخاری للامام محمد بن اسماعیل البخاری: ( 2/208 ،رحمانیہ )
“عن نافع عن عبداللہ بن عمر کان یسلم بین الرکعۃ والرکعتین فی الوتر حتی یامر ببعض حاجتہ.”
وکذافی موطا مالک: (109 ،قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی مشکٰوۃ المصابیح : ( 1/ 115)
وکذا فی مختصر المختصر من المسند الصحیح: ( 2/ 260،شان اسلام )
وکذا فی الاستذکارلابن عبدالبر: ( 2/113 ،دار الشروق )
وکذا فی المستدرک للحاکم علی الصحیحین: ( 1/410 قدیمی کتب خانہ ، )
وکذا فی الکتاب المصنف لابن ابی شیبة فی الآحادیث والآثار: ( 2/89 ،دارالکتب العلمیہ )
وکذا فی مسندالامام الطحاوی: ( 3/ 374 ،الحرمین )
وکذا فی نیل الاوطار: ( 3/ 53 ،دارالباز )

جبکہ تین وتر کا ثبوت بھی متعدد روایات سے ملتا ہے،پہلی روایت “سنن نسائی شریف “کی ہے جس میں حضرت ابی بن کعب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل نقل کرتےہیں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وتر تین رکعت ادا کیا کرتے تھےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کی ہر رکعت کی خاص سورت کا بھی ذکر فرمایا، روایت ملاحظہ ہو

لما فی سنن النسائی للامام ابی عبدالرحمٰن: (1/269،رحمانیہ)
“عن ابی بن کعب قال کان رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم یقرافی الوتر بسبح اسم ربک الاعلی وفی الرکعۃ الثانیۃ بقل یا ایھا الکافرون وفی الثالثۃ بقل ھواللہ احدولا یسلم الا فی آخرھن ویقول یعنی بعد التسلیم سبحان الملک القدوس ثلٰثا

حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں سورۃ الاعلی اور دوسری رکعت میں سورۃ الکافرون اور تیسری رکعت میں سورت اخلاص پڑھتے تھےاور تیسری رکعت کے بعدسلام پھیرتے تھےاورسلام پھیرنے کے بعد “سبحان الملک القدوس “تین مرتبہ پڑھتے تھے۔

دوسری روایت مستدرک حاکم ہے اس میں بھی واضح طور پر معمول مذکور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین وتر ایک سلام کے ساتھ پڑھتے تھے،چنانچہ روایت درج ذیل ہے

وفی المستدرک للحاکم علی الصحیحن (1/ 414، قدیمی کتب خانہ)
“عن عائشۃ قالت کان رسول اللہ علیہ وسلم یوتر بثلاث لا یسلم الا فی آخرھن . “

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین وتر ایک سلام کے ساتھ ادا کرتے تھے۔

وکذا فی مشکوٰة المصابیح :(1/ 115،رحمانیہ)
وکذا فی الکتاب المصنف لابن ابی شیبة: (2/81، دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی السنن الکبریٰ للامام ابی بکراحمد بن حسین:(3/45، دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی المصنف للحافظ الکبیرابی بکر عبدالرزاق:(3/20،المکتب الاسلامی)
وکذا فی: شرح معانی الآثار للامام ابی جعفراحمد بن محمد:(1/186،رحمانیہ)

جن روایات میں حضرت ابن عمر کے ایک وتر والا عمل موجود ہے اس کے مندرجہ ذیل جوابات دیئےجاسکتے ہیں۔

1

حضرت ابن عمر ایک وتر ادا کرتے تھے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین وتر کا روایات میں صراحتا ذکر ہے اور جب صحابی کا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مقابلے میں آجائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کو صحابی کے فعل پر ترجیح دی جائے گی، لہذا یہاں بھی تین وتر کو ایک وتر پر ترجیح دی جائے گی۔

2

حضرت عقبہ بن مسلم نے حضرت ابن عمر سے وتر کے متعلق سوال کیا تو حضرت ابن عمر نے پوچھا کہ تم دن کے وتر کے متعلق جانتے ہو؟تو حضرت عقبہ بن مسلم نے فرمایا جی ہاں! وہ تومغرب کی نماز ہے۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ تم نے سچ کہا،تو حضرت عقبہ بن مسلم نے اعلان کیا کہ حضرت ابن عمر بھی تین وتر کے قائل ہیں اور اصول یہ ہے کہ جب قول اور فعل میں تعارض ہوجائے تو قول کو ترجیح دی جاتی ہے،لہذایہاں تین وتر کو ترجیح حاصل ہے۔

(ماخوذ:عمدة القاری:7/5،دارالعلوم کراتشی)

لما فی عمدة القاری:(7/5،داراحیاتراث)
“قال الطحاوی ففی ھذہ الآثارانہ کان یوتر بثلاث ولکن یفصل بین الواحدۃ والاثنتین (فان قلت)ھذا یوید مذھب من قال ان الوتر رکعۃ واحدۃ (قلنا) ان ابن عمر لما سالہ عقبۃ بن مسلم عن الوتر،فقال اتعرف وتر النھار؟قال:نعم صلاۃ المغرب قال صدقت او احسنت فھذا ینادی باعلیٰ صوتہ ان الوتر ابن عمر ثلاث رکعات کصلاۃ المغرب فالذی روی عنہ مما ذکرنا فعلہ وھذاقولہ والاخذ بالقول اولیٰ لانہااقویٰ وقد قلنا ان الحسن البصری حکیٰ عن اجماع المسلمین علی الثلاث بدون الفصل
وفی فتح الملھم(4/160،دار العلوم )
ابن عمر)کان یسلم بین الرکعتین والرکعۃ فی الوتر،حتیٰ انہ کان یامر ببعض حاجتہ، ولایبعد ان یقال:ان مارواہ ابن عمر مرفوعا من الفصل بالتسلیم بین الشفع والوتر:الرکعۃ الرکعتان منہ،بالتسلیم سلام التشھد،ثم لما کان سلام التشھد عندہ کسلام التحلیل کما مر منقولا من الفتح فرع علیہ ماھو مقتضاہ فی رایہ من اباحۃ الکلام وغیرہ والافلم ینقل ھوولاغیرہ فی المرفوع الکلام بین الرکعۃ والرکعتین اصلا

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمدعبداللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-2-144 3/2021 -09-25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:37

مسافر آدمی شہر میں جمعہ کے دن ظہر کی نماز باجماعت اداکرسکتا ہے؟یا نہیں

الجواب حامداً ومصلیاً

مسافر آدمی کا جمعہ کے دن شہر میں نماز ظہر باجماعت ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔

لما فی تنویر الابصار والدر: (2/36،دارالمعرفة)
وکرہ) تحریما(لمعذور ومسجون)ومسافر (اداظہر بجماعۃ فی مصر) قبل الجمعۃ وبعدھا.”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(2/1334،رشیدیہ)
” قال الحنفیۃ یکرہ تحریما ان یصلی المعذورون من مسافر ومسجون ومریض وغیرھم بجماعۃ یوم الجمعۃ. “
وکذافی المحیط البرھانی:(2/473،داراحیا تراث) وکذا فی خلاصة الفتاوی: (1/211،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/590،فاروقیہ) وکذا فی الدرالمنتقے:(1/25،المنار)
وکذا فی کتاب البسوط لشمس الدین السرخسی:(2/35، دارالمعرفة) وکذافی بدائع الصنائع:(1/605،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الاصل المعروف بالمبسوط للامام محمد:(1/335،عالم الکتب)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفریہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/3/2021
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:100