میرے والد صاحب نے مجھے اپنی بہن سے (لے کر پالا تھا)کیا تھا ۔اب میرے شناختی کارڈاور ڈاکومنٹس پر ان کا نام ہے، جنہوں نے مجھے (لے کر پالاگیا) تھا ۔کیا میں اسی ولدیت کے ساتھ نکاح کرسکتاہوں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں اگر شناختی کارڈ والا نام نکاح نامے پر لکھوادیں گے تو نکاح تو اگرچہ درست ہوجائے گا مگر اپنے والد کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب ہونے کا گناہ اپنی جگہ پر رہے گا۔

لما فی سنن ابی داؤد:(2/356،رحمانیہ)
عن انس بن مالک قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول من ادعی الی غیر ابیہ او انتمی الی غیر موالیہ فعلیہ لعنۃ اللہ المتتابعۃ الی یوم القیامۃ
وفی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(4/32،فاروقیہ)
“اذاذکروا فی النکاح اسم رجل وکنیۃ ابیہ ولم یذکرو اسم ابیہ ان کان الرجل حاضرا اشار الیہ جاز . “
وکذافی تفسیر القرطبی :(14/121،داراحیاء تراث)
وکذا فی صحیح البخاری :(1/623،رحمانیہ)
وکذافی الصحیح المسلم :(1/83،رحمانیہ)
وکذا فی سنن ابن ماجہ :(310،رحمانیہ)
وکذافی سنن الکبریٰ للبیھقی :(7/262،دار الکتب العلمیہ)
وکذا فی احکام القرآن للجصاص:(3/521،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الفقہ السلامی و ادلتہ:(10/7348،رشیدیہ)
وکذا فی احکام القرآن للعلامة محمد شفیع :(3/292،ادارۃ القرآن)
وکذافی البحر الرائق:(3/150،رشیدیہ)
وکذافی النتف فی الفتاوی:(187،ایچ ایم سعید)
وکذافی المحیط البرھانی:(4/24،داراحیاء تراث)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6568،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غُفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/4/1443/2021/11/22
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:132

تین محرم(دو بھائی ایک بہن ) گھر میں جماعت کے ساتھ نمازپڑھتے ہیں،تو ایک بھائی امام ہو اور ایک بھائی اور ایک بہن مقتدی ،تو اس صورت میں ان کے کھڑے ہونے کی طریقہ کیا ہوگا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایک بھائی امام کی دائیں جانب کھڑا ہو اور بہن ان دونوں کے پیچھےکھڑی ہو۔

لما فی صحیح المسلم:(1/281،رحمانیہ)
” عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی بہ بامّہ اوخالتہ قال فاقامنی عن یمینہ واقام المراۃخلفنا . “
وفی السنن الکبریٰ للبیھقی:(3 151/دارالکتب العلمیہ)
اخبرہ انہ سمع ابا بکرۃ مولی ابن عباس رضی اللہ عنہ یقول:قال ابن عباس رضی اللہ عنہ صلیت الی جنب النبی صلی اللہ علیہ وسلم وعائشۃرضی اللہ عنھا خلفنا تصلی معنا وانا الی جنب النبی صلی اللہ علیہ وسلم اصلی معہ
وفی المحیط البرھانی:(2/252،داراحیاءتراث)
” وان کان معہ رجل ایضا یقیمہ عن یمینہ والمراۃ خلفھما. “
وکذافی سنن ابی داؤد:(1/99،رحمانیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/247،فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(1/88،رشیدیہ)
وکذافی رد المحتارعلی الدرالمختار:(2/368،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی النوازل:(80،الحقانیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/616،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبد اللہ غفرلہ ولولدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1443/2021/12/18
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:27

ایک شخص ایک عرصے تک مغرب کی نمازمیں تیسری رکعت میں فاتحہ کےساتھ سورۃ ملاتا رہا ،یہ سمجھ کرکہ تیسری رکعت میں بھی سورۃ ملائی جاتی ہے اور کئی بار اس نے جماعت بھی کرائی ہے توان نمازوں کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس کی نمازیں تو ہوگئیں ہیں ،لیکن مسنون یہ ہے کہ صرف فاتحہ پڑھے۔

لما فی المحیط البرھانی:(2/310،دار احیاء تراث)
” وا قرا فی الاخیرین من الظہر والعصر الفاتحہ والسورۃ ساھیا… فلا سھو علیہ،ھو المختار. “
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(179،البشریٰ)
” لو قرا سورۃ بعد الفاتحۃ فی احدی الرکعتین الاخیرتین للفرض او فی کلتیھما :لا یلزمہ سجود السھو. “
وکذافی الفتاویٰ العالمکیریہ:(1/126،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ:(2/392،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/127،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(101،الحقانیہ)
وکذافی غنیة المتملی:(460،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(88،دارالعلوم زکریا)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/406،رشیدیہ)
وکذافی الجوھرۃ النیرۃ:(1/200،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1443/2021/12/12
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:189

کہ بعض عورتین دوران حمل یا ویسے ایک خاص قسم کی مٹی کھاتی ہیں(جو مٹی تختی لیپ کرنے کے کام آتی ہے) ایسی مٹی کھانا شرعا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اتنی مقدار کھانے کی گنجائش ہے جو صحت کے لئے مضر نہ ہو،اس سے زائد کھانا منع ہے

لما فی الفتاویٰ العالمکیریہ:(5/341،رشیدیہ)
” وسئل عن بعض الفقھاءعن اکل طین البخاریٰ ونحوہ قال: لاباس بذلک مالم یضرہ وکراھۃ اکلہ لا للحرمۃ بل لتھیج الداء. “
وفی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(18/144،فاروقیہ)
” سئل بعض الفقھاءعن اکل طین البخاریٰ ونحوہ قال: لاباس بذلک مالم یسرف وکراھۃ اکلہ لا للحرمۃ بل لتھیج الداء
وفی البحرالرائق:(8/338،رشیدیہ)
” واکل طین البخاریٰ لاباس بہ مالم یسرف وکراھۃ اکلہ لالحرمۃ لانہ یھیج الدم . “

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1443/2021/12/12
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:186

خروج بصنع المصلی فرض ہے یا واجب ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

راجح قول کے مطابق خروج بصنع المصلی فرض ہے۔

لما فی غنیة المتملی:(291،رشیدیہ)
والسابعۃ)من الفرئض ..(وھی الخروج من الصلوۃبفعل المصلی) فانہ فرض(عند ابی حنیفۃ خلافا لھما
وفی کتاب المبسوط:(1/125،دار احیاء تراث)
ان الخروج من الصلوۃ بصنع المصلی فرض عند ابی حنیفۃ وعندھمالیس بفرض
وکذافی مجمع الانھر:(1/135،المنار)
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ:(2/130،فاروقیہ)
وکذافی رد المختار علی الدر المختار:(2/170،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/85،دار احیاء تراث)
وکذافی کنزالدقائق:(22،حقانیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/196،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/4/1443/2021/11/29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:149

ٹی وی پر میچ دیکھنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ٹی وی پر میچ کئی مفاسد کی وجہ سے جائز نہیں۔جن میں چند مفاسد درج ذیل ہیں(1)وقت کاضیاع(2)عبادات میں سستی(3)بد نظری(4)بے فائدہ کام میں مشغولیت۔

لما فی ابن ماجہ:(422،رحمانیہ)
” من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ. “
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2662،رشیدیہ)
” لا یخلو کل لھو غیر نافع من الکراھۃ لما فیہ تضیع الوقت والانشغال عن ذکر اللہ وعن الصلاۃ. “
وکذافی تکملہ فتح الملھم:(4/164،دارالعلوم)
اما التلفزیون والفدیو،فلاشک فی حرمۃ استعمالھا بالنظر الی ما یشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ ، من الخلاعۃ والمجون عن النساء المتبرجات اؤالعاریات،وما الی ذلک من اسباب الفسوق ولکن ھل یتاتی فیھا حکم التصویر بحیث اذا کان التلزیفون اوالفدیو خالیا من ھذہ المنکرات باسرھا، ھل یحرم بالنظر الی کونہ تصویرا ؟فانّ لھذاالعبد الضعیف عفااللہ عنہ فیہ وقفۃ.وذلک لانّ الصورۃ المحرمۃ ماکانت منقوشۃ او منحوتۃ بحیث یصبح لھا صفۃ الاستقرار علی شیئ وھی الصورۃ التی کان الکفار یستعملونھا للعبادۃ
وکذافی المعجم الاوسط:(1/262،المعارف)
وکذافی مجمع الزوائد:(8/294،رحمانیہ)
وکذافی الترمذی:(2/506،رحمانیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(5/353،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/78،دار احیاءتراث)
وکذافی رد المحتار:(9/651،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(18/196،فاروقیہ)
وکذافی السنن الکبریٰ للبیھقی:(7/159،دارالکتب العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/5/1443/2021/12/7
جلد نمبر :25 فتوی نمبر:185

کسی شخص کو سجدہ سہو کے وجوب میں شک ہے اوروہ شک کی وجہ سے سجدہ سہو کرلیتا ہے،تو اس کی نماز کا کیاحکم ہے؟یعنی جس میں بغیر ضرورت کے محض شک کی وجہ سے سجدہ سہو کیا جو کہ واجب نہ تھا۔

الجواب حامداً ومصلیاً

محض شک کی وجہ سے سجدہ سہو نہیں کرنا چاہیے،لیکن اگر کبھی غلطی سے کرلیا تو نماز ہوجائے گی۔ائندہ خیال رکھنا چاہیئے۔

لما فی المحیط البرھانی:(3/113،داراحیاء تراث)
واذا ظن الامام ان علیہ سھوا فسجد للسھو وتابعہ المسبوق فی ذلک ثم علم أنہ لم یکن علی الامام سھو،ففیہ روایتان :فی إحدی الروایتین:تفسدصلاۃ المسبوق،وبہ اخذ عامۃ المشایخ،وفی اإحدی الروایتین لا تفسد،وبھذاالروایۃ کان یفتی الشیخ الاسلام ابو حفص فإن لم یعلم أنہ لم یکن علی الامام سھو لم تفسد صلا ۃ المسبوق بلا خلاف
وفی:البحر الرائق (2/176،رشیدیہ)
المسبوق إذا تابع المسبوق فی سجود السھوثم تبین أنہ لم یکن علی الامام سھو حیث تفسد صلاۃ المسبوق لکونہ اقتدی فی موضع الانفراد لا لزیادۃ السجدتین
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/163،دار احیاء تراث)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/427،فاروقیہ)
وکذافی الدر المختار:(1/599،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع للکاسانی:(1/421،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی النوازل:(103،الحقانیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(89،زمزم)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/5/1443/2021/12/19
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:50

ایک آدمی قیام پر قادر ہے اور رکوع وسجود پر قادر نہیں ہے تو وہ کھڑے ہوکر نماز ادا کرے یا بیٹھ کر؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسے شخص کو ضرور قیام کرناچاہیئے اور رکوع کا اشارہ کھڑے ہوکر بھی کر سکتا ہے ،بیٹھ کر بھی ،جبکہ سجدہ کا اشارہ بیٹھ کرکرے۔ اگر کسی مشقت کے بغیر وہ دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہوسکتا ہے تو دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح پڑھے اور اگر بیٹھ کر اٹھنے میں زیادہ مشقت ہو تو باقی نماز بیٹھ کر اشارہ ہی سے پوری کرلے۔
البتہ اگر کسی نے حنفیہ کے مشہور مسلک پر عمل کرتے ہوئے پوری نماز بیٹھ کر پڑھ لی تو اسکی نماز بھی ہوجائے گی۔

لما فی فتح القدیر:(2/7،رشیدیہ)
وان قدر) ای المریض علی القیام دون الرکوع والسجود بان کان مرضہ یقضی ذلک (لم یلزمہ)المنفی اللزوم فافادانہ لو اوما قائما جاز،الا ان الایماء قاعدا افضل لانہ اقرب الی السجود وقال خوہرزادہ یؤمی للرکوع قائما وللسجود قاعدا ،ثم ھذامبنی علی صحۃ المقدمۃ القائلۃ الرکنیۃ القیام لیس الا للتوسل الی السجودوقد اثبتھابقولہ لمافیھامن زیادۃ التعظیم:ای السجدۃ علی وجہ الانحطاط من القیام فیھا نھایۃ من التعظیم وھو الطلوب،فکان طلب القیام لتحقیقہ،فاذاسقط سقط ماوجب لہ وقد یمنع ان الشرعیۃ لھذا علی وجہ الحصر بل لہ ولما فیہ نفسہ من التعظیم کما یشاھد فی الشاھد من اعتبارہ کذلک حتی یحبہ اھل التجبر لذلک فاذا فات احد التعظیمی صار مطلوبا بما فیہ نفسہ۔ویدل علی نفی ھذہ الدعوی ان من قدر علی القعود والرکوع والسجود لاالقیام وجب القعود مع انہ لیس فی السجود عقبیہ تلک النھایۃ لعدم مسبوقیۃ بالقیام
وفی اعلا السنن:(7/202،ادارۃ القرآن)
ان الرکنیۃ القیام قد ثبتت بالنص وھو قولہ تعالٰی:(وقومواللہ قانتین)وقولہ صلی اللہ علیہ وسلم لعمران: (صل قائما فان لم تستطع فقاعدا) وبالاجماع ،فلایسقط وجوبہ عن القادر علیہ بالقیاس الذی ذکرتموہ ، فان القیاس اضعف الدلائل لایجوز معاوضۃ القطی لہ
وکذافی حاشیہ الطحطاویہ علی مراقی الفلاح :(434،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی :(3/47،دار احیاءتراث)
وکذافی المبسوط للسرخسی :(1/213،دار المعرفة)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(1/136،رشیدیہ)
” لوعجز عن الرکوع والسجود و قرر علی القیام فالمستحب ان یصلی قاعدا بایماء وان صلی قائما بایماء جاز عندنا. “

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/5/1443/2021/12/7
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:187

ایک آدمی نےغسل کیااور ناک میں پانی ڈالنا بھول گیا، نماز پڑھنے کے کافی دیر بعداسے یاد آیا کہ ا س نے ناک میں پانی نہیں ڈالا تھا۔تو اس صورت میں وہ کیا کرے؟نماز اور غسل کا اعادہ کرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں غسل کا اعادہ نہیں کریگا ،صرف ناک میں پانی ڈالنا کافی ہےاور نماز کا اعادہ کیا جائے گا کیونکہ غسل میں ناک میں پانی ڈالنا فرض ہےاور ناک میں پانی نہ ڈالنے کی وجہ سے غسل مکمل نہ ہوا تھا۔

لما فی کتاب الاصل المعروف بالمبسوط:(1/59،عالم الکتب)
قلت:ارایت.رجلا جنبا فنسی المضمضۃ والاستنشاق ثم دخل فی الصلاۃ فصلی رکعۃ ورکعتین ثم ضحک کیف یصنع؟ قال:علیہ ان یتمضمض ویستنشق ویعید الصلاۃ ولا یعید الوضوء
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/106،الطارق)
“وعن ابن عباس رضی اللہ عنہ فی جنب نسی المضمضۃ والاستشاق قال:یمضمض ویستنشق ویعید الصلاۃ. “
وکذافی کتاب المبسوط للشمس الدین السرخسی:(1/61،دارالمعرفة)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/14،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:(1/381،دار الکتب العلمیہ)
وکذافی سنن الدار القطنی:(1/122،دار الکتب العلمیہ)
وکذافی السنن الکبریٰ للبیھقی:(1/277،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/225،داراحیاءتراث)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(1/13،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/276،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/5/1443/2021/12/14
جلد نمبر 25 فتوی نمبر:188

ایک سنار نے دوسرے سنار سے سونا یا چاندی مدت معینہ کے لئے بطور قرض لیا ،بعد میں دوسرا سنار کہتا ہےکہ آپ نے جو مجھ سے سونا یا چاندی بطور قرض لیا تھا ،مجھے اب فی الوقت(مدۃ معینہ)پر موجودہ مارکیٹ ریٹ پراسکی قیمت دیں۔میں اب سونانہیں لیتا کیا اس کے لئے ایسا کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

باہمی رضامندی سےقرض دار کے لیے قرض خواہ کو سونے یا چاندی کی قیمت دینا بھی جائز ہےاور سونایاچاندی ادائیگی کے دن کی قیمت کا اعتبار ہوگا

لما فی جامع الترمذی:(1/366،رحمانیہ)
عن ابن عمر قال کنت ابیع الابل بالبقیع فابیع بالدنانیر فاٰخذ مکانھا الورق وابیع بالورق فاٰخذمکانھا الدنانیر فاتیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوجدتہ خارجا من بیت حفضۃ فسالتہ عن ذلک فقال لاباس بہ بالقیمۃ
وفی المحیط البرھانی:(10/360،داراحیاءتراث)
” رجل اقرض رجلا مائۃ درھم علی انھا جیاد فقبضھا ثم اشتراھا المستقرض من القرض بعشرۃ دنانیر صح. “
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/121،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابن ماجہ:(272،رحمانیہ)
وکذافی سنن النسائی:(1/673،رحمانیہ)
وکذافی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:(4/145،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی الکتاب المصنف ابن ابی شیبہ:(4/385،دار الکتب العلمیہ)
وکذافی السنن الکبریٰ للبیھقی:(5/466،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(9/397،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1443/2021/12/12
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:184