قبرستان میں ساری رات لائیٹ جلانا اور روشنی کرنا شرعا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کوئی جائز مقصد ہو مثلا قبرستان کی حفاظت یا آنے جانے والوں کی سہولت وغیرہ ہو تو بقدر ضرورت روشنی کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔

لما فی سنن ابی داؤد:(2/107،رحمانیہ)
عن ابی بریدہ عن ابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھیتکم عن زائرات القبور والمتخذین علیھا المساجدوالسراج
وفی جامع الترمذی:(1/330،رحمانیہ)
” عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ انّ النّبی صلی اللہ علیہ وسلم دخل قبرا لیلا فاسرج لہ سراج فاخذہ من قبل القبلۃ . “
وکذافی سنن النسائی:(1/314،رحمانیہ)
وکذافی السنن الکبریٰ للبیھقی:(4/130،دارالکتب العلمیة)
وکذافی غنیة المتملی:(596،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/554،رشیدیہ)
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/98،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/5/1443/2021/12/26
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:93

عورتوں کو جنازہ میں شرکت کرنے کی اجازت ہےیانہیں؟نیز شرکت کرکے نماز جنازہ پڑھ لی تو اس نماز جنازہ کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اجازت تو نہیں ہے،اگر نماز جنازہ پڑھ لی تو ادا ہوجائیگی۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/163،رشیدیہ)
” ولا حق للنساء فی الصلاۃ علی المیت . “
وفی المحیط البرھانی:(3/73،داراحیاءتراث)
والامۃ اجتمعت علیھا،ومن صفتھا انھا فرض کفایۃ،اذا قام بھا البعض سقط عن الباقین۔۔واما کونہافرض کفایۃ،لانھا تقام حقا للمیت:فاذا قام بھا بعض صار حقہ مؤدی فسقط عن الباقین
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(1/162،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(3/40،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/9/1442/2022/4/4
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:101

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو کہا کہ میں نے تمہیں فارغ کردیا ہے تواس کی بیوی کے بھائی نے کہا کیا میں اسے لے جاؤ ں؟ تو اس کے خاوند نے دو ،تین دفعہ کہا کہ لے جاؤ میں نے اس فارغ کردیاتو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں خاوند نے اپنے نسبتی بھائی کے جواب میں یہ جو کہا کہ”اسے لے جاؤمیں نے اسے فارغ کردیا ہے” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خاوند نے یہ جملہ”میں نے تجھے فارغ کردیا”طلاق کی نیت سے بولا ہے،لہذا اس کی بیوی کوایک طلاق بائنہ واقع ہوگئی ہے۔اب باہمی رضامندی سے نئے سرے سے دوبارہ نکاح ہوسکتاہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(5/427،داراحیاءتراث)
 اذا قال لھا انت خلیۃ او قال بریۃ اوقال بتۃ اوقال بائنۃ،وقال:لم انو بہ الطلاق،فالاصل فی جمیع الفاظ الکنایات ان لایقع الطلاق بھا الا بالنیۃ
وفی رد المحتار علی الدر المختار:(4/516،رشیدیہ)
 الکنایات(لاتطلق بھا)قضاء(الابالنیۃاودلالۃ الحال)…(فنحو اخرجی واذھبی وقومی)…(یحتمل رداونحوخلیۃ بریۃحرام بائن)وامرادفھاکبتہ بتلۃ
وکذافی کتاب البسوط:(6/72،دارالمعرفة)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(4/457،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/170،الطارق)
وکذافی الجوھرةالنیرة:(2/167،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6900،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة مع الدرایة:(2/101،البشریٰ)
وکذافی شرح ملتقی الابحر:(2/25،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1443/2022/1/31
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:137

زکوٰۃ سال مکمل ہوتے ہی صاحب نصاب پر فرض ہوجاتی ہے؟اور اگر وہ ادا کرنے میں تاخیر کرتا ہے تو گنہگار ہوگا یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں فرض ہوجاتی ہےاور بعض فقہا کے نزدیک بغیر عذر اتنی تاخیر کردے کہ نیا سال شروع ہوجائے تو گنہگارہوگا۔جبکہ بعض فقہا کے نزدیک مطلقا بلا عذر تاخیر کرنے سے گنہگار ہوگا۔

لما فی المحیط البرھانی:(3/154،داراحیاءتراث)
” المنتقیٰ”انھا علی الفور عند ابی یوسف ومحمد وفی موضع آخر فی”المنتقیٰ”انہ اذا ترک حتی حال علیھا الحولان فقد اساء واثم. “
وفی الفتاوی العالکیریہ:(1/170،رشیدیہ)
” وتجب علی الفور عند تمام الحول حتی یاثم بتاخیرہ من غیر عذر وفی روایۃ الرازی علی التراخی حتی یاثم عند الموت والاول اصح . “
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(3/134،فاروقیہ)
وکذافی خلاصة الفتاویٰ:(1/234،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1813،رشیدیہ)
وکذا فی الدر المختار:(3/227،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیة:(1/194،الحرمین شریفین)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/359،الطارق)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(230،البشریٰ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/8/1443/2022/3/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:42

اگر کوئی بندہ کسی سے ایک ملین(دس)لاکھ اس شرط پر لے کہ میں آپکو ایک سال کے بعد آپ کے پیسے واپس کردونگا اور اس کو ٪5 نفع دے حالانکہ اس کو ٪10 نفع ہورہا ہو اور وہ اس بندے کو بتائے بھی نہیں تو اس صورت کاشرعی حکم کیا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سائل سے تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ قر ض دینے والا صرف نفع میں تو شریک ہونا چاہتا ہے، مگر نقصان میں شریک نہیں ہونا چاہتا۔لہذا یہ خالصتا سود ی معاملہ ہےجوکہ شرعا ناجائز اور حرام ہے۔

لما فی بدائع الصنائع للکاسانی:(6/518،رشیدیہ)
 لما روی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ نھی عن قرض جر نفعاولان الزیاةالمشروطۃ تشبہ الربا لا یقابلہ عوض والتحرز عن حقیقۃ الربا وعن شبھۃ الربا واجب
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3793،رشیدیہ)
” القرض الذی جر منفعه: قال الحنفیۃ فی الراجح عندھم کل قرض جر نفعا حرام اذا کان مشروطا. “

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7/7/1444/2022/2/9
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:159

کہ1:نماز میں اگر تکبیرتحریمہ میں تاخیر ہوجائے(جبکہ پہلی رکعت میں آدمی رکوع سے پہلے پہلے جماعت میں شریک ہوجائے)تو یہ ثنا کب پڑھے گا2:بعض لوگ سلام ان الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں”السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ومغفرتہ وطیب صلوٰتہ”کیا یہ الفاظ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہیں؟اور ان الفاظ کے ساتھ سلام کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

1

صورت مسؤلہ میں مقتدی کوچاہیئے کہ وہ ثناء نہ پڑھے ،بلکہ خاموش رہے ۔
2

احادیث مبارکہ سےسلام کے الفاظ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ”ثابت ہیں اس پر اضافہ کرنا مناسب نہیں۔

لما فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (1/ 281،رشیدیة)
“ثم اعلم ان الثناءیاتی بہ کل مصل فالمقتدی یاتی بہ مالم یشرع الامام فی القراۃ مطلقا سوا ءکان مسبوقا اومدرکا فی حالۃ الجھر او السر . “
وفی الفتاوی العالمکیریة للشیخ نظام والجماعة: (1/90، رشیدیة)
“انہ اذا ادرک الامام فی القراۃ فی الرکعة التی یجھر فیھا لا یاتی بالثناء کذا فی الخلاصۃ. “
وکذافی تفسیر القرآن العظیم المسمی بتاویلات اھل السنة: ( 2/ 326،الحقانیة)
وکذا فی الاکلیل علی مدارک التنزیل: ( 3/ 516،دار الکتب العلمیة)
وکذافی الموسوعة الفھیة: ( 4/ 53،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الجوھرة النیرة علی المختصر القدوری: ( 1/ 60، حقانیة)
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ: ( 2/ 195، فاروقیہ)
وکذا فی الشامیة للعلامة ابن عابدین: (2 / 232،رشیدیة )
وکذافی فتاوی قاضیخان : ( 1/ 104، رشیدیة)
وکذافی شرح ملتقی الابحر للامام ابراھیم: ( 1/ 142،المنار)
وکذافی غنیة المتملی فی شرح منیة المصلی: ( 304، رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی للامام برھان الدین المعالی: ( 2/ 133،دار احیا تراث)
لمافی مجمع الزوائدومنبع الفوائد : (8 / 32، دارالکتب العلمیة)
عن ابن عباس قال جاءثلاثۃ نفر الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال احدھم السلام علیکم، فرد النبی صلی اللہ علیہ وسلم( وعلیک ورحمۃ اللہ) ، فجاء الثانی فقال السلام علیکم ورحمۃ اللہ ،فرد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، وجاء الثالث فقال السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ فرد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مثل ما قال، وابو الفتیٰ جالس مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ زدت فلانا و فلانا ولم تزد ابنی شیافقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما وجدنا لہ من زیادۃ ، فرد علیہ مثل ما قال
و فی المحیط البرھانی: ( 7/ 18، دار احیا تراث )
والافضل للمسلم ان یقول السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، والمجیب کذلک یرد ،ولا ینبغی ان یزاد علی البرکات شیئ ، فقال ابن عباس لکل شیئ منتھی ومنتھی” السلام “البرکات
وکذا فی الادب المفرد: ( 71، دار احیا تراث )
وکذا فی اوجز المسالک الی موطا مالک: ( 15/ 137، دار الکتب العلمیة)
وکذا فی تفسیر القرطبی للاما ابی عبداللہ: (9 / 71، دار احیاء تراث )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (17 /771، فاروقیة)
وفی الفتاوی العالمکیریہ للشیخ نظام والجماعة: ( 5/325، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/2/1443/2021/9/29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:51

اگر کسی شخص نے اذان کے وقت مسجد کے سپیکر پر موبائل میں ریکارڈنگ کی ہوئی اذاان چلادی اور دوبارہ خود اذان نہ دی ،تو اس کو اذان سمجھا جائیگایا دوبارہ اذان دینا ہوگی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دوبارہ اذان دینی ہوگی۔

لما فی البحرالرائق:(1/459،رشیدیہ)
ویعاد اذان المراة….والصبی الذی لایعقل لعدم الاعتماد علی اذان ھؤلافلایلتفت الیھم فربما ینتظر الناس الاذا ن المعتبر والحال انہ معتبرفیودی الی تفویت الصلاۃ اؤ الشک فی صحۃ المؤدی اؤایقاعھا فی وقت مکروہ
وفی المحیط البرھانی:(1/95،داراحیاءتراث)
 اذا اذن صبی لایعقل اؤمجنون یعاد ذلک ،لان ماھو المقصود ھو الاعلام،لایحصل باذانھما ، لان اللناس لا یعتبرون کلام غیر العاقل فھو صوت الطیر سواء
وکذافی کتاب التجنیس والمزید:(1/390،ادارة القرآن)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/145،فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(1/54،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الخانیہ علی ھامش الھندیة:(1/77،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/699،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/193،الطارق)
وکذافی الدرالمختار:(2/75،دارالمعرفة)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/48،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/9/1443/2022/4/4
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:106

حکومت کسی شخص کو ایک سال تک کسی شہر کے ٹول پلازہ کا ٹھیکہ دیتی ہے مثلا ایک سال کا دو کڑوڑ ٹھیکہ طے ہوا وہ شخص حکومت کو پہلے دو کڑوڑ ادا کردیتا ہے اور بعد میں ایک سال تک ٹول پلازہ کا ٹیکس وصول کرتا رہتا ہے،کیا حکومت سے یہ معاملہ کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے۔

لما فی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/145،معارف القران)
” ان یکون العقد اجارۃ للشارع من قبل الحکومۃ التی تملکہ،فالجھۃ صاحبۃ الامتیاز تملک منفعۃ للشارع الی مدۃ معلومۃ ثم انھا تتقاضیٰ الرسوم من العربات ا لتی تنتفع بالمرور علیہ وتقاضی الرسوم فی ھذہ الحالۃیشبہ الاجارۃ من الباطن ،وھی جائزۃ عند المالکیۃ والشافعیۃ سواء کانت الاجرۃ فی الباطن زائدۃ علی الاجرۃ التی یدفعھا المستاجر الاول الی المالک،وھو المختار عند الحنابلۃ ،اما الحنفیۃ فذھبو الی ان الزیادۃ تطیب فی حالتین
الاولیٰ: ان ان تکون الاجرۃ التی یتقاضاھا المستاجر الاول بغیر جنس الاجرۃ التی یدفعھا الی المالک۔
والثانیۃ: ان یحدث فی العین الاجرۃ زیادۃ۔
وان اصحاب الامتیاز یحدثون فی الشارع زیادات کثیرۃ من اجل تشغیلہ فلو فعلو ذلک تطیب الزیادۃ لھم عند الحنفیۃ ایضا

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7/7/1444/2022/2/9
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:133

دوران ولادت نماز کا وقت داخل ہوجائے تو عورت پر اس وقت کی نماز فرض ہوگی یا نہیں؟نیز اگر دوران ولادت خون بھی جاری ہو تو نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں اس خاتون پر نماز فرض نہ ہوگی۔

لما فی الصحیح البخاری:(1/108،رحمانیہ)
عن ابی سعید الخدری قال خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی اضحیٰ وافطر الی المصلی فمرعلی النساء…الیس اذا حاضت لم تصل ولم تصم قلن بلیٰ قال فذلک من نقصان دینھا
وفی الفتاوی العالمکیریہ:(1/38،رشیدیہ)
” ان یسقط عن الحائض والنفساء الصلاۃ فلا تقضی . “
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/118،الطارق)
“یحرم علی المراۃ اثناء الحیض والنفاس الصلاۃ فرضا کانت اؤواجبۃ اؤ سنۃاؤ نفلا”
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/624،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(141،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/479،فاروقیہ)
وکذافی رد المحتار:(1/532،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(41/7،علوم اسلامیہ)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(1/233،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/401،داراحیاءتراث)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24/8/1443/2022/3/28
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:110

ایک عورت نے گھر میں دس دن کا اعتکاف کیا اب اس کو حیض آگیا ہےتو وہ کیا کرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس عورت کا اعتکاف ٹوٹ جائیگا اور یہ پاک ہونے پر اعتکاف کی قضاء کرے گی۔اگر دن میں حیض آیا تو صرف دن کی قضاء ہوگی،یعنی صبح صادق سے قبل شروع کرکے غروب آفتاب تک اعتکاف کرنا ہوگا،اگر رات میں حیض آیا تو دن رات دونوں کی قضاء واجب ہوگی،یعنی غروب آفتاب سے شروع کرکے دوسرے دن غروب افتاب تک اعتکاف کرے۔

(کما فی احسن الفتاویٰ)

لما فی بدائع الصنائع:(2/287،رشیدیہ)
 ولو حاضت المراۃ فی حال الاعتکاف فسد اعتکافھا لان الحیض ینافی اھلیۃ الاعتکاف لمنافاتھا الصوم لھذا منعت من انعقاد الاعتکاف فتمنع من البقاء
وفی رد المحتار:(2/445،ایچ ایم سعید)
” اما علی قول غیرہ فیقتضی الیوم الذی افسدہ لاستقلال کل یوم . “
وکذافی کتاب الفقہ علی مذاھب الاربعة:(1/498،حقانیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(267،البشریٰ)
وکذافی الدر المختار:(3/496،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی العالکیریہ:(1/211،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1763،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاویٰ:(1/268،رشیدیہ)
وکذافی الفتح القدیر:(2/406،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/527،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(3/388،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/8/1443/2022/3/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:40