امام نےمغرب کی نمازمیں آیت سجدہ پڑھی اورسجدہ کیا ایک آدمی وضوکررہاتھا اس نے وہ آیت سنی، اب وہ آدمی آخری قعدہ میں شریک ہوا، وہ سجدہ کیسےکرےگا؟

الجواب حامداًومصلیاً

نمازمکمل کرکےسجدہ تلاوت کرلے۔

لمافی التنویروالدروالرد:(2 /704 ،رشیدیہ)
ومن سمعھامن امام)ولوباقتدائہ بہ( فائتم بہ قبل ان یسجد)الامام لھا(سجدمعہ،و)لوائتم (بعدہ لا) یسجد اصلاً ، کذا اطلق فی الکنز تبعا للاصل (وان لم یقتد بہ) اصلا (سجدھا) وکذا لو اقتدیٰ بہ فی رکعۃ اخریٰ علیٰ ما اختارہ البزدوی وغیرہ وھو ظاھرالھدایۃ
قولہ (وکذا۔ ۔ ۔الخ)ای یسجدھاولکن بعدالفراغ من الصلوۃ۔

 

وکذافی الھندیة:(1/133،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/375،داراحیاءالتراث)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/325،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(2/17،رشیدیہ)
وکذافی ھامش الھدایة:(1/147،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(2/476،فاروقیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/215،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/233،المنار)
وکذافی شرح العینی:(1/92،ادارةالقرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/4/1443/2021/12/4
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:152

خاتون کاشوہرغیرمحرم عورتوں سےناجائزتعلقات رکھتاہےیہاں تک کہ گھرمیں بھی ان عورتوں کوبلالیتا ہے۔اپنی بیوی کوخرچ نہیں دیتا،بچوں کومعمولی خرچ کبھی کبھی دیتا ہے۔اس کی بیوی گھریلو اخراجات اپنی سلائی مشین سےچلاتی ہے،یہ عورت طلاق کامطالبہ کرتی ہےتوطلاق بھی نہیں دیتا،کیا اس کی بیوی عدالت سےطلاق لےسکتی ہے؟یاکہ وہ اس ظلم کی چکی میں پستی رہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

سوال میں ذکرکردہ صورت حقیقت کےمطابق ہےتوعورت عدالت سےطلاق لےسکتی ہےبشرطیکہ عدالت شرعی طریقہ کےمطابق طلاق دے۔

لمافی المحیط البرھانی:(4/242،داراحیاءالتراث العربی)
“وقال محمد:وللمراۃ الخیارفی الجنون والجذام وکل عیب لایمکنہ القیام معہ الابضرر،اَلا تری انہ ثبت لھاالخیار فی الجب والعنۃوانمایثبت دفعاللضررعنھا۔”
وفی بحوث فی قضایافقھیةمعاصرة:(2/253،دارالعلوم)
فلایجوزللمراۃان تطلق نفسھا،اوتفسخ نکاحھامن زوجھافی الاحوال العادیۃ،ولکن ھناک احوالاً یجوزلھافیھاان ترفع امرھاالی قاض شرعی،فیفسخ ھونکاحھامن زوجھابولایۃالعامۃ،وذلک لاسباب معروفۃ،علی اختلاف الفقہاء فیھا،مثل ان یکون الزوج مفقوداً،اوعنینا،اومتعنتاًلاینفق علی زوجتہ اویلحق بھاضرراً لایتحمل
وکذافی مجمع الانھر(فی الدرالمنتقی ):(2/141،المنار) وکذافی التاتارخانیة:(4/325،فاروقیہ)
وکذافی کتاب المبسوط:(5/97،دارالمعرفہ) وکذافی الھندیة:(1/526،الرشیدیہ)
وکذافی الخانیةعلی ھامش الھندیة:(1/413،الرشیدیة) وکذافی الموسوعةالفقھیة:(29/6،علوم اسلامیہ)
وکذافیالموسوعةالفقھیة :(29/69،علوم اسلامیہ) وکذافی بدائع الصنائع:(2/632،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(4/213،رشیدیہ) وکذافی البحرالرائق:(3/414،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(3/25،امدادیہ ملتان)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/3/1443/2021/10/30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:93

تعزیت کیلئےآنےوالوں کیلئےلوگ چوراہے،ڈیرے،مساجدومدارس وغیرہ میں بیٹھتےہیں،پوچھنایہ ہے کہ آنےوالےدعاکاکہتےہیں یاہاتھ اٹھاکردعاکرواتےہیں،اس طرح دعاکی شرعی حیثیت کیاہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں تعزیت کےلئےہرآنےوالےکادعاکیلئےہاتھ اٹھانااورباقی سب لوگوں کااس کےساتھ مل کردعاکرنااور پھراس کاالتزام کرنابدعت ہے،تعزیت کا بہترین طریقہ وہ ہےجورسول اللہﷺسےثابت ہے”اِنَّ لِلہِ مَااَخَذَوَلَہُ مَااَعۡطیٰ وَکُلُّ شَئیٍ عِندَہُ بِاَجَلٍ مُسَمّٰی”یاپھران الفاظ کےساتھ”اَعۡظَمَ اللہُ اَجۡرَکَ وَاَحۡسَنَ عَزَاءَکَ وَغَفَرَلِمَیِّتِکَ”یاان کےہم معنی الفاظ کےساتھ اہل میت کوتسلی دے۔

لمافی مشکوٰةالمصابیح:(1/150،حقانیةملتان)
عن اسامۃ بن زیدقال ارسلت ابنۃالنبی صلی اللہ علیہ وسلم الیہ ان ابنالی قبض فاتنافارسل یقرئ السلام ویقول ان للہ مااخذولہ مااعطی وکل عندہ باجل مسمی فلتصبرولتحتسب فارسلت الیہ تقسم علیہ لیاتینَّھافقام ومعہ سعدبن عبادۃومعاذبن جبل وابیّ بن کعب وزیدبن ثابت ورجال فرُفع الیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الصبی ونفسہ تتقعقع ففاضت عیناہ فقال سعدیارسول اللہ ماھذافقال ھذہ رحمۃجعلھااللہ فی قلوب عبادہ فانمایرحم اللہ من عبادہ الرحماء متفق علیہ
وفی الشامیة:(3/174،رشیدیہ)
“والتعزیۃان یقول: اعظم اللہ اجرک،واحسن عزاءک وغفرلمیتک ۔ “
وکذافی الھندیة:(1/167،رشیدیہ)
وکذافی صحیح البخاری:(1/171،قدیمی)
وکذافی الصحیح لمسلم:(1/301،قدیمی)
وکذافیہ ایضا :(1/300،قدیمی)
وکذافیہ ایضا :(1/300،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/9/1443/2022/4/10
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:120

ایک آدمی نےبھول کرسورۃِفاتحہ سےقبل سورت پڑھ لی تواسکی نماز کاکیاحکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

سجدہ سھو لازم ہوگا۔

لمافی الشامیة:(2/188،رشیدیہ)
“قولہ:( علی کل السورۃ) حتی قالوا: لوقرأحرفامن السورۃساھیاثم تذکریقرأالفاتحۃثم السورۃ،ویلزمہ سجودالسھو ۔ “
وفی مراقی الفلاح متن حاشیةالطحطاوی:(1/249،قدیمی)
و) یجب ( تقدیم الفاتحۃعلی) قراءۃ( السورۃ) للمواظبۃحتی لوقرأمن السورۃابتداءفتذکریقرأالفاتحۃ،ثم یقرأ السورۃویسجدللسھو ۔ “
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/208،رشیدیہ)
وکذافی النھرالفائق:(1/197،قدیمی)
وکذافی البحرالرائق:(1/516،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/311،داراحیاء)
وکذافیہ ایضا :(2/309،داراحیاء)
وکذافی التاتارخانیة:(2/391،فاروقیہ)
وکذافی الھندیة:(1/126،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/193،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/9/1443/2022/4/11
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:116

کسی آدمی کے پاس ایک تولہ سوناہےاورکچھ سامان بھی ہےجس کی قیمت ایک تولہ سونا سے بھی کم ہے،اس آدمی پرقربانی واجب ہے یا نہیں؟نوٹ:سامان،زائدازضرورتِ اصلیہ ہے۔

الجواب حامداًومصلیاً

ان دونوں چیزوں کی مالیت یقیناًساڑھےباون تولہ چاندی سے زیادہ ہے،لہٰذاصورتِ مسئولہ میں قربانی واجب ہوگی۔

لمافی الشامیة:(9/520 ،رشیدیہ)
“قولہ :(والیسارالخ)بان ملک مائتی درھم اوعرضاًیساویھاغیرمسکنہ وثیاب اللبس ومتاع یحتاجہ الیٰ ان یذبح الاضحیۃ۔”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2708،رشیدیہ)
والمقصودبالقدرۃ عندالحنفیۃ،ھوالیسارای یسارالفطرۃ،وھوان یکون مالکاًمئتی درھم الذی ھونصاب الزکاۃ،اومتاعایساوی ھذاالمقدارزائداًعن مسکنہ ولباسہ،اوحاجتہ وکفایتہ ھوومن تجب علیہ نفقتہم۔
وکذافی البحرالرائق:(8/318،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/196،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(5/292،الرشیدیہ)
وکذافی کتاب المبسوط:(12/8،دارالمعرفہ)
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(17/405،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/455،داراحیاءالتراث العربی)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(5/80،علوم اسلامیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی:(4/160،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/3/1443/2021/10/30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:92

آج کل بعض مقاما ت پراہل میت کی طرف سےتعزیت کرنےوالوں کودعوت کی جاتی ہےکھاناوغیرہ کھلایا جاتاہے،ایساکرناشرعاکیساہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگرلازم سمجھ کراورشرعی حکم سمجھ کریابطوررسم کی جائےتومکروہ اوربدعت ہے،اگرمہمانوں کےکھانےکی ضرورت سےکی جائےتوگنجائش ہے۔

لمافی البحرالرائق:(2/337،رشیدیہ)
ولابأس بالجلوس الیھاثلاثامن غیرارتکاب محظورمن فرش البسط والاطعمۃمن اہل البیت لانھاتتخذعند السرور
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/346،الطارق)
ومن بدع التعزیۃ القبیحۃ المنتشرۃفی بعض المجتمعات الاسلامیۃ المخالفۃ لمامر معنامن السنۃ،تقدیم اہل المیت الطعام للمعزین
وکذافی التاتارخانیة:(3/95،فاروقیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/167،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(3/175،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1578،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(12/290،علوم اسلامیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/383،رشیدیہ)
وکذافی مراقی الفلاح متن حاشیةالطحطاوی:(1/617،قدیمی)
وکذافی البزازیة علی ھامش الھندیة:(4/81،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن  عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/8/1443/2022/3/26
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:125

نمازی کی جیب میں اگر خون کی تھیلی ہو تو اس صورت میں اس کی نماز ادا ہوجائے گی یا نہیں؟یا نماز سے پہلے خون کی تھیلی کو جیب سے باہر نکال کر رکھنا ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نماز نہیں ہوگی،تھیلی کو باہر رکھنا ضروری ہے۔

لما فی الفتاویٰ العالکیریہ:(1/62،رشیدیہ)
رجل صلیٰ وفی کمہ قارورۃ فیھا بول لاتجوز الصلاۃ سواء کانت ممتلئۃ او لم تکن ،لان ھذا لیس فی مظانہ ومعدنہ
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/735،رشیدیہ)
بخلاف مالو حمل قارورۃ فیھا بول فلاتجوز صلاتہ،لانہ فی غیر معدنہ
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ:(2/354،فاروقیہ)
وکذافی البحرالرائق:(1/465،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(2/92،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار:(1/190،رشیدیہ)
وکذافی الحیط البرھانی:(2/280،داراحیاءتراث)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/8/1443/2022/3/15
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:45

ایک آدمی کا مرض الموت میں نمازوں کا فدیہ ادا کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز نہیں ،مگر فدیہ کی وصیت کرسکتا ہے۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/125،رشیدیہ)
سئل الحسن بن علی عن الفدیۃ عن الصلوات فی مرض الموت ھل یجوز؟فقال :لا، وسئل حمیر الوبری ویوسف بن محمد عن الشیخ الفانی ھل تجب علیہ الفدیۃ عن الصلوات ؟کما تجب علیہ من الصوم وھو حیّ؟فقال:لا
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1153،رشیدیہ)
ولایصح للمرء فی حال حیاتہ ان یفدی عن صلاتہ فی مرضہ،فلا فدیۃ فی الصلاۃ حال الحیاۃ بخلاف الصوم فانہ یجوزبل تجب الفدیۃ عنہ
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/459،فاروقیہ)
وکذافی ردالمحتار علی الدر المختار:(2/646،دارالمعرفة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1443/2022/4/9
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:102

موبائل پر ریکاڈنگ شدہ آیت سجدہ سنیں تو اس سے سجدہ تلاوت کا کیا حکم ہے؟ سجدۃ تلاوت واجب ہوتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نہیں۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/132،رشیدیہ)
” ولاتجب اذا سمعھا من الطیر . “
وفی المحیط البرھانی:(2/362،داراحیاءتراث)
” واذا سمعھا من الطیر لایجب علیہ السجدۃ. “
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ:(2/462،فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(92،زمزم)
وکذافی البحرالرائق:(2/213،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(485،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/184،رشیدیہ)
وکذافی رد المحتار:(701/2،دارالمعرفة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/287،الطارق)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار:(1/324،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24/8/1443/2022/3/28
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:109

آج کل دھان کا موسم ہے اور کچھ لوگ دھان مکس کر کے بیچتے ہیں۔مثلاایک آدمی دھان کی ایک قسم “سپری “خریدتا ہے جسکی قیمت تقریبا۔/ 1450 روپے ہے اور دوسری طرف دھان کی دوسری قسم “1509”خرید لیتاہے،جس کی قیمت تقریبا ۔/2800روپے ہے۔اب وہ شخص دھان کی دونوں قسموں کوملا کررکھ لیتا ہے جس سے بالکل پتہ نہیں چلتا کہ دھان مکس ہے یا نہیں ۔ پھر وہ غلہ منڈی میں لاکر ڈھیری کردیتا ہے اور بولی ہوتی ہے اور بولی میں چونکہ بڑے بڑے خریدار ہوتے ہیں ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ دھان میں خریدوں اور وہ دھان پھر۔/2800 روپے کے حساب سے سیل ہوجاتا ہے۔ جبکہ خریدار دھان کی سمجھ بوجھ ربھی کھتا ہے اور بعض اوقات پتہ نہیں چلتا اور نقصان خریداروں کا بھی نہیں ہوتا کیونکہ ملاوٹ کا بالکل پتہ نہیں چلتا۔اس طرح دھان جب فیکٹریوں میں جاتا ہے وہ بھی دھان کا چاول بنا کر ایک دو قسم ملا کر بیچتے ہیں تاکہ زیادہ نفع ہو۔اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ طریقہ ملاوٹ اور دھوکہ دہی کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔لیکن اگر خریدار کو ملاوٹ کا صاف صاف بتادیا جائےاور کسی طرح بھی جھوٹ،دھوکہ دہی اور غلط بیانی نہ کی جائے تو یہ معاملہ جائز ہوگا۔

لما فی سنن ابی داؤد:(2/133،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرّبرجل یبیع طعاما فسألہ کیف تبیع ،فاخبرہ فاوحی ٰ الیہ ان ادخل یدک فادخل یدہ فیہ ،فاذا ھو مبلول، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسل لیس منّا من غش
وفی الصحیح لمسلم:(3/13،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع الحصاۃ وعن بیع الغرر
وکذافی جامع الترمذی:(1/378،رحمانیہ) وکذافی سنن ابن ماجہ:(287،رحمانیہ)
وکذافی سنن النسائی:(2/665،رحمانیہ) وکذافی رد المحتار:(4/47،ایچ ایم سعید)
وکذافی الکتاب المصنف لابن ابی شیبة:(4/317،رار الکتب العلمیہ)
وکذافی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:(4/96،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی معجم الاوسط للطبرانی:(3/239،مکتبة المعارف)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/5/1440/2021/212/25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:58