تدفین کےبعدقبرپرپانی چھڑکناکیساہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

مستحب ہے۔

لمافی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح:(1/611،قدیمی)
قولہ:( ولابأس برش الماءعلیہ) بل ینبغی ان یکون مندوبالان النبیﷺ فعلہ بقبرسعید،وقبرولدہابراھیم، وامربہ فی قبر عثمان بن مظعون
وفی حاشیةابن عابدین:(3/169،رشیدیہ)
“قولہ:( ولابأس برش الماء علیہ)بل ینبغی ان یندب،لانہﷺ فعلہ بقبرسعید ۔ “
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/381،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/93،داراحیاءالتراث)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1559،رشیدیہ)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(1/223،البشری)
وکذافی الھندیة:(1/166،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/65،رشیدیہ)
وکذافی خلاصةالفتاویٰ:(1/226،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(3/70،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/9/1443/2022/4/10
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:119

ایک آدمی فوت ہوااورقضا نمازوں کےفدیہ کی وصیت کی تھی اب ورثاءنےغربت کی وجہ سےایک فقیر متعین کیاجسےوہ ہرنمازکافدیہ دیتےہیں اور وہ فقیرانہیں وہ فدیہ بطورصدقہ واپس دیتاہےاس طرح مسلسل فدیہ چلتارہتاہےکیااس طرح فدیہ اداہوجائےگا؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگروراثت کےتہائی مال سےنمازوں کافدیہ مکمل کیاجاسکتاہےتوفقیرکوبلاشرط دیاجائےاوراگرتہائی مال سےیہ فدیہ پوراکرنا ممکن نہ ہوتوپھریہ وصیت پوراکرنالازم ہی نہیں ہے۔
باقی افضل یہی ہےکہ اس طرح کی حیلہ سازی سےبچاجائےلیکن اگرکوئی یہ حیلہ اختیارکرےتونتیجےمیں امیدہےکہ میت کی نمازوں کافدیہ قبول ہوجائے۔

لمافی الھندیة:(1/125،رشیدیہ)
وان لم یترک مالایستقرض ورثتہ نصف صاع ویدفع الی مسکین ثم یتصدق المسکین علی بعض ورثتہ ثم یتصدق ثم وثم حتی یتم لکل صلاۃماذکرناکذا فی الخلاصۃ ۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1152،رشیدیہ)
وتوخذالکفارۃوفدیۃالصوم: من ثلث مال المتوفی فان لم یکن لہ مال یستقرض وارثہ نصف صاع مثلا،ویھبہ للفقیر،ثم یھبہ الفقیرلولی المیت ویقبضہ،ثم یدفعہ الولی للفقیر،فیسقط من الصلاۃوالصوم بقدرہ،وھکذاحتی یتم اسقاط ماکان علیہ من صلاۃوصوم
وکذافی التاتارخانیة:(2/458،فاروقیہ)
وکذافی متن الشامیہ:(2/644،رشیدیہ)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(1/192،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/308،رشیدیہ)
وکذافی مراقی الفلاح (متن حاشیةالطحطاوی) :(1/439،قدیمی)
وکذافی البحرالرائق:(2/160،رشیدیہ)
وکذافی غنیةالمتملی:(1/535،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/9/1443/2022/4/10
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:119

کتابوں میں ہم پڑھتے ہیں کہ غزوات میں عورتیں مرہم پٹی کا کام سر انجام دیتی تھیں،جبکہ اسلام میں پردہ کا بھی حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

غزوات میں شریک ہونےوالی عورتیں باپردہ ہوتی تھیں،اپنےخیموں میں ہوتی تھیں اورکھانابنانےاورپانی لانےکاکام کرتی تھیں اورمرہم پٹی عمررسیدہ(بوڑھی)عورتیں کرتی تھیں اوراپنےمحرم(جن سے پردہ ضروری نہیں)مَردوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں، جہاں غیر محرم کی مر ہم پٹی کی ضرورت پیش آتی بغیر چھوئےپردہ کاخیال رکھتےہوئےکرتی تھیں جبکہ زخمی حالت میں چھونافتنہ سےبھی خالی ہےاورکچھ واقعات پردہ کاحکم نازل ہونےسےبھی پہلےکےہیں جبکہ وہ زمانہ بھی پاکیزہ لوگوں کاتھا،خلاصہ یہ کہ جہاں شرکت ثابت ہے وہاں پردہ کی پوری پوری رعائت بھی ہمیشہ رکھی گئی ہے۔

لمافی صحیح البخاری:(2/69،رحمانیہ)
عن عائشۃزوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم حین قال لھاالافک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بعداسطر۔ ۔ ۔ ۔ قالت عائشۃ فاقرع بیننافی غزوۃ غزاھافخرج فیھاسھمی فخرجت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد ما انزل الحجاب فکنت احمل فی ھودج وانزل فیہ فسرنا
وفی اعلاءالسنن:(12/29،ادارةالقرآن)
والذی فی بعض الروایات من خروج عائشۃرضی اللہ عنھاونحوھامن الشواب یوم احد،فان النساءکن یحضرن الجماعات فی زمنہ المبارک صلی اللہ علیہ وسلم لعدم الفتنۃاذذاک ثم نہی عنہ لاجل المخافۃعلیھن فکذلک حضورھن فی الجھادعلی ان غزوۃاحدکانت موضع النفیرالعام لماقددھم العدودارالاسلام و فی مثل ذلک یصیرالجہاد فرض عین علی کل مسلم ومسلمۃ،ولانزاع فیہ وانماالنزاع فیمااذالم یکن فرض عین فافھم۔ واماالعجائزفلابأس بخروجھن للطبخ والسقی ومداواۃالجرحی۔
قال النووی فی شرح مسلم( 2: 116 ) : “وھذہ المداواۃلمحارمھن وازواجھن وماکان منھالنیرھم لایکون فیہ مس بشرۃ الافی موضع الحاجۃ”اﻫ ۔
قلت: و کل ماوردعن الصحابیات من حضورھن القتال مع الصحابۃفی فتوح الشام غیرھا،فلم یکن الاللطبخ والمداواۃلمحارمھن وسقی الماءونحوہ،ولم یکن مقامھن فی الصفوف بل فی الاخبیۃوالخیام،ولم یباشرن القتال الا عندالضرورۃاذاانھزم الرجال وخفن علی انفسھن من دھم العدوفلاحجۃفی مثل تلک الوقائع لمن انکروجوب الحجاب علی النساءفان الصحابیات رضی اللہ عنھن لم یخرجن فی العساکربغیرالحجاب قط ولم یباشرن القتال الاباللثام اذاخفن علی انفسھن والمسلمین ومن ادعی غیرذلک فلیأت ببرھان ۔”
وفی الھندیة:(2/190،رشیدیہ)
ولاتخرج الشواب لمداواۃالجرحی وسقی الماءوالطبخ والخبزلاجل الغزاۃواماالعجائزاللاتی دخلن فی السن فلابأس ان یخرجن فی الصوائف ونحوھامن الجنودالعظام ویداوین المرضی والجرحی ویسقین الماءویخبزن ویطبخن ولکن لایقاتلن
وکذافی عون المعبود:(7/90،قدیمی)
وکذافی معالم السنن:(2/224،المعارف)
وکذافی تکملةفتح الملھم:(3/249،دارالعلوم)
وکذافی صحیح البخاری:(2/56،رحمانیہ)
وکذافی فیض الباری:(5/41،الرشیدیہ)
وکذافی صحیح البخاری:(1/511،رحمانیہ)
وکذافی عمدةالقاری:(14/168،داراحیاءالتراث العربی)
وکذافی الصحیح لمسلم وھامشہ:(2/125،رحمانیہ)
وکذافی مجمع الزوائد:(5/416،دارالکتب)
وکذافی التاتارخانیة:(7/37،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/7/1443/2022/2/12
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:12

عورت کااپنےشوہرکانام لیکرپکارناکیساہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ناپسندیدہ ہے۔

لمافی الفتاوی السراجیہ:(1/319،زمزم)
“یکرہ ان یدعوالرجل اباہ،اوالمرأۃزوجھاباسمہ ۔ “
وفی التاتارخانیة:(18/230،فاروقیہ)
“وفی السراجیۃ:یکرہ ان یدعوالرجل اباہ،اوالمرأۃزوجھاباسمہ ۔ “
وکذافی الھندیة:(5/362،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقہیة:(11/337،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/472،الطارق)
وکذافی الشامیة:(9/690،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(4/208،رشیدیہ)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(1/419،البشری)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/8/1443/2022/3/26
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:123

اس مسئلے میں تشویش کو ختم فرمائیں دنیا وآخرت میں اللہ تعالیٰ سےماجورہوں (1)حضورعلیہ السلام سے سفر وحضرمیں کونسا عمامہ ثابت ہےاور اسکی لمبائی کتنی ہے؟(2)نیزیہ بھی احادیث مبارکہ سے واضح کریں کہ حضورعلیہ السلام سےسفید عمامہ ثابت ہے یانہیں؟اگرثابت ہے توکس حدیث میں اس کا ذکر موجود ہے،وہ حدیث بتائیں!(3)نیزیہ بھی واضح کریں کہ ایسے علاقے میں کالی پگڑی باندھنا کیساہے جہاں اہل تشیع رہتے ہوں؟

الجواب حامداًومصلیاً

(1)

حضورعلیہ الصلوٰۃوالسلام سے سفر وحضر میں سیاہ،زرداورزعفران کےرنگےہوئےعمامہ کاذکرملتا ہے،البتہ سیاہ کاذکر زیادہ ملتا ہے۔ عمامہ کی لمبائی کےمتعلق مشایخ کرام نےمختلف اقوال نقل فرمائے ہیں کسی خاص مقدارکو متعین نہیں فرمایا،آپ علیہ الصلوٰۃوالسلام عام حالات میں تین ہاتھ،پانچوں نمازوں میں سات ہاتھ اورجمعہ وعیدین میں 12ہاتھ لمبی پگڑی باندھتےتھے،3ہاتھ پگڑی تقریباً1.37 میٹر، 7ہاتھ تقریباً3.20میٹر،اور12ہاتھ پگڑی تقریباً5.48میٹربنتی ہے۔(2)سفیدعمامہ حضور علیہ السلام سے ثابت تو نہیں البتہ سفیدکپڑاآپ علیہ السلام کوپسندتھا۔(3)جائزہے،لیکن انکےمخصوص ایام میں تشبہ ہوتو بچا جائے۔

لمافی جامع الترمذی:(1 /436 ،رحمانیہ)
“عن جابرقال دخل النبی صلی اللہ علیہ وسلم مکۃ یوم الفتح وعلیہ عمامۃ سوداء۔ “
وفی سبل الھدیٰ والرشاد:(7/273،نعمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال خرج علینارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم وعلیہ قمیص اصفر،ورداءاصفر، وعمامۃصفراء
وفی سنن النسائی :(2/761،رحمانیہ)
“عن جعفر بن عمروبن حریث عن ابیہ قال رایت علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عمامۃ حرقانیۃ۔
عن جابران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دخل فتح مکۃ وعلیہ عمامۃ سوداءبغیراحرام۔ “
وفی المواھب اللدنیہ:(1/99،تالیفات اشرفیہ)
“لکن نقل عن النووی انہ کان لہ صلی اللہ علیہ وسلم عمامۃقصیرۃ وکانت ستۃاذرع وعمامۃ طویلۃ وکانت اثنی عشر ذراعاً۔ “
وفی العرف الشذی علی ھامش الترمذی:(1/436،رحمانیہ)
“کانت عمامۃ علیہ السلام فی اکثرالاحیان ثلثۃاذرع شرعیۃ وفی الصلوات الخمس سبعۃ اذرع وفی الجمع اثناعشرذراعاً “
وفی المسوعة الفقھیة:(30/302،علوم اسلامیہ)
“وعن اسماعیل بن عبداللہ بن جعفرعن ابیہ،قال ر ایت علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ثوبین مصبوغین بزعفران رداءوعمامۃ۔”
وفی التعلیق الصبیح:(4/512،رشیدیہ)
“قولہ:من تشبہ بقوم ای شبہ بالکفار مثلاً فی اللباس وغیرہ۔ “
وفی سنن ابی داؤد:(2/207،رحمانیہ)
“عبن عباس قال قال رسول اللہ علیہ وسلم البسوا من ثیابکم البیض فانھامن خیر ثیابکم الخ۔ “
وکذافی شمائل ترمذی:(2/729،رحمانیہ)
وکذافی سبل الھدی والرشاد:(7/273،نعمانیہ)
وکذافی سبل الھدی والرشاد:(7/276،نعمانیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(30/303،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/5/1443/2021/12/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:36

ہم سنیاروں کے پاس سونےوچاندی کےتیارشدہ زیورات ہوتےہیں اوران میں کھوٹ بھی ہوتا ہے،اس کے بغیرزیورات تیار کرنابہت مشکل وتقریبا ناممکن ہے،فروخت کرتے وقت ہم گاہک کوشرح کھوٹ نہیں بتلاتےاورگاہک بھی ایک حدتک جانتاہےکہ اس میں کچھ نہ کچھ کھوٹ ہوتا ہے، نیزسنیارےکی رسید پرواپس لینےسے متعلق یہ بات درج ہوتی ہےکہ ہم واپس خریدنے کی صورت میں اتنی شرح کھوٹ نکال کربقیہ خالص سونے کی قیمت دینے کے پابند ہوں گے،البتہ سنیارےاس زیورکی قیمت خالص سونے کے بھاؤ وصول کرتے ہیں اورزبان سے کسٹمر کے سامنے شرح کھوٹ بالکل نہیں بتلاتے البتہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس میں کھوٹ ہے،اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

گاہک پر شرح کھوٹ کی وضاحت کرناضروری ہےخواہ زبانی ہویارسیدپرلکھ کر،جسےوہ سمجھتا ہو۔
خریدارکےلیےشرح کھوٹ کی وضاحت کیےبغیرفروخت کرنا ناجائزہے۔

لمافی الموسوعةالفقھیة:(10 /152 ،علوم اسلامیہ)
“یحرم فی التجارۃ جمیع انواع الغش والخداع،وترویج السلعۃبالیمین الکاذبۃ۔”
وفی سنن ابی داؤد:(2/124،رحمانیہ)
“عن ابی ھریرۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیٰ عن بیع الغرر۔ “
وکذافیہ ایضاً:(2/133، رحمانیہ)
وکذافی الترمذی:(1/378،رحمانیہ)
وکذافی فتح الباری:(4/423،قدیمی)
وکذافی عون المعبود:(9/125،قدیمی)
وکذافی اعلاءالسنن:(14/58،ادارةالقرآن)
وکذافی عمدةالقاری:(11/233،داراحیاءالتراث)
وکذافی بذل المجھودفی حل ابی داؤد:(15/70،قدیمی)
وکذافی معالم السنن:(3/88،المعارف للنشروالتوزیع)
وکذافی معالم السنن:(3/49،المعارف للنشروالتوزیع)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
117/5/1443/2021/12/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:73

شراب پینے کی وجہ سے کسی کی موت واقع ہوجائے تواس کے جنازے کا کیاحکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ایسے آدمی کاجنازہ پڑھا جائے گا۔

لمافی الھندیة:(1/163،رشیدیہ)
ویصلی علی کل مسلم مات بعدالولادۃ صغیراً کان او کبیراً ذکرا کان او انثی حراً کان اوعبداً الاالبغاۃ وقطاع الطریق ومن بمثل حالھم ۔ ۔ ۔ وبعداسطر۔ ۔ ۔ ومن قتل نفسہ عمداً یصلی علیہ عندابی حنیفۃ ومحمد رحمھمااللہ وھو الاصح کذا فی التبیین
وفی بدائع الصنائع:(2/47،رشیدیہ)
واما بیان من یصلی علیہ: فکل مسلم مات بعد الولادۃ یصلی علیہ صغیراً کان او کبیراً ذکرا کان او انثی حراً کان اوعبداً الاالبغاۃ وقطاع الطریق ومن بمثل حالھم لقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم (صلوا علی کل بر فاجر)
وکذافی التاتارخانیة:(3/53،فاروقیہ)
وکذافی خلاصة الفتاویٰ:(1/221،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/82،داراحیاءالتراث)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(16/18،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1508،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/186،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی(ترجمہ بہشتی زیور):(1/216،البشریٰ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/5/1443/2021/12/27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:74

ایک سنیارے نےدوسرےسنیارےسےہفتہ مدت کیلئےسوناقرض لیا،ادائیگی کےوقت پہلاسنیارکہتاہے سونامیرےپاس نہیں ہے،لہٰذا آپ مجھ سے قرض لینےکےدن کےمارکیٹ ریٹ کےحساب سےاس کی قیمت لےلیں دوسرا کہتاہےمیں آج کےدن کےمارکیٹ ریٹ کےحساب سےقیمت لوں گا،اس میں فیصلہ فرمادیں۔

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں سونا ہی اداکرناضروری ہے۔

لمافی الدرالمختار:(7 /408 ،دارالمعرفة)
“وکذاکل مایکال ویوزن،لمامرانہ مضمون بمثلہ فلاعبرۃبغلائہ ورخصہ”
وفی تنقیح الفتاویٰ الحامدیة:(1/502،قدیمی)
ویفہم منہ ان الدراہم الخالصۃ اوالمغلوبۃ الغش لیس حکمہاکذلک والذی یظہرانہااذاغلت اورخصت لایفسدالبیع قطعاولایجب الاردالمثل الذی وقع علیہ العقد
وکذافیہ ایضا :(1/504،قدیمی)
وکذافی بدائع الصنائع:(6/517،رشیدیہ)
وکذافی الفتایٰ الہندیة:(3/202،الرشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(5/3793،رشیدیہ)
وکذافی تنقیح الفتاویٰ الحامدیة:(1/500،قدیمی)
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(9/394،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(33/119،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/219،الطارق)
وکذافی المحیط البرھانی:(10/354،داراحیاءالتراث)
وکذافی کتاب المبسوط للسرخسی:(14/37،دارالمعرفة)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی(ترجمہ بہشتی زیور):(1/379،البشریٰ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1443/2021/12/13
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:191

اگرکوئی شخص اس گمان کےساتھ کہ ابھی سحری کاوقت باقی ہے کھاتاپیتارہا،بعد میں معلوم ہواکہ سحری کاوقت ختم ہوچکاتھاتواس کاروزہ ہوا یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

اس کا روزہ نہیں ہوا۔

لمافی الھندیة:(1/194،رشیدیہ)
“ولوظھرانہ اکل والفجرطالع یجب علیہ القضاءولاکفارۃعلیہ ۔ “
وفی المختصرفی الفقہ الحنفی:(1/251،البشریٰ)
“ولوظن ان الفجرلم یطلع فاکل اوشرب،والفجرقدطلع : لم یصح صومہ،ویجب علیہ القضاء ۔ “
وکذافی الھدایة:(1/356،رحمانیہ)
وکذافی اللباب:(1/161،قدیمی)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1707،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/415،الطارق)
وکذافی السراجیة:(1/166،زمزم)
وکذافی کنزالدقائق:(1/70،حقانیہ ملتان)
وکذافی البحرالرائق:(2/508،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(3/436،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
18/9/1443/2022/4/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:172

خارج صلاۃ کسی آدمی پرسجدہ تلاوت واجب ہواتووہ دوران تلاوت اپنی جگہ پربیٹھےبیٹھےسجدہ اداکرسکتا ہےیاکھڑےہوکرقیام سےسجدہ کی طرف آناضروری ہے؟2:اسی طرح اگرمتعددسجدےایک وقت کررہاہوتوہرسجدےکیلئےقیام سےسجدہ کی طرف آناضروری ہےیا بیٹھےبیٹھےمتعددسجدے کرسکتاہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

1،2

:ایک سجدہ کرناہویامتعدد،بیٹھےبیٹھےبھی کرسکتاہے،لیکن بہتریہ ہےکہ ہرسجدےکیلئےقیام سےسجدہ کی طرف آئےاور سجدہ کےبعدکھڑاہوجائے۔

لمافی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح:(1/497،قدیمی)
قولہ:( وندب القیام) کماندب النزول لمن تلاھاراکبالیسجدھاعلی الارض۔ قولہ:( روی ذلک عن عائشۃ) لان الخرورالذی مدح بہ اولئک فیہ اکمل،وفی السید،ویندب ان یقوم،ویخرساجدا،ولوکان علیہ سجدات کثیرۃ، ویستحب اذافرغ منھاان یقوم اﻫ ملخصاَ
وفی البحرالرائق:(2/223،رشیدیہ)
وفی المضمرات: یستحب ان یقوم ویسجدویقوم بعدرفع الرأس من السجدۃولایقعد اﻫ ۔ والثانی غریب۔ وافادفی القنیۃ انہ یقوم لھاوان کانت کثیرۃوارادان یسجدھامترادفۃ
وکذافی مجمع الانھر:(1/236،المنار)
وکذافی الشامیة:(2/700،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/363،داراحیاءالتراث)
وکذافی التاتارخانیة:(2/464،فاروقیہ)
وکذافی الھندیة:(1/135،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1141،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/286،الطارق)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/323،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/9/1443/2022/4/10
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:118