گردن کےاوپرسےجانورکوذبح کیاجائےتوجانورحلال ہوگایاحرام؟اس کاکیاحکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

جانورکےمرنےسےپہلےچاررگوں (سانس کی،خوراک اوردوخون کی)میں سےتین کٹ جائیں توجانورحلال ہوگا،ورنہ نہیں اورجانورکواس ظالمانہ طریقےپرذبح کرناسخت ناجائزاورگناہ ہے۔

لمافی الہندیة:(5/287،رشیدیہ)
والعروق التی تقطع فی الزکاۃاربعۃ:الحلقوم وھومجرالنفس ،والمری وھومجرالطعام،والودجان(وبعداسطر)واذاذبح الشاۃ من قبل القفافان قطع الاکثرمن ھذہ الاشیاءقبل ان تموت حلت،وان ماتت قبل قطع الاکثرمن ھذہ الاشیاءلاتحل، ویکرہ ھذاالفعل لانہ خلاف السنۃ،وفیہ زیادۃایلام
وفی الفقہ الحنفی:(5/177،الطارق)
“وذبحھامن قفاہاان بقیت حیۃحتی تقطع العروق،والالم تحل لموتھابلاذکاۃ،وکرہ کل تعذیب بلافائدۃ ۔”
وکذافی الفقہ الاسلامی:(4/2767،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(380،زمزم)
وکذافی البدائع:(4/158،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرہانی:(8/449،ادارةالقرآن)
وکذافی البحرالرائق:(8/311،رشیدیہ)
وکذافی المجمع الانہر:(4/159،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
11/7/1443/2022/2/13
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:169

ایک آدمی کاپیٹ بڑاہےآگےکونکلاہواہےاسی طرح ایک ضعیف آدمی ہےجس کی نظرکمزورہےیاصحت خراب ہےان کوزیرناف بال صاف کرنےمیں دشواری ہےکیایہ لوگ پاؤڈروغیرہ استعمال کرسکتےہیں اسی طرح بغل کےبالوں کے بارےمیں بھی بتادیجیئے!

الجواب حامداومصلیا

جی!استعمال کرسکتےہیں۔

لمافی الہندیة:(5 /358، رشیدیہ)
“ویبتدئ فی حلق العانۃمن تحت السرۃ،ولوعالج بالنورۃفی العانۃیجوز ۔”
وفی الفقہ الحنفی:( 5/390،الطارق)
والاستحداد:ھوحلق العانۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ویبتدئ من تحت السرۃولوعالج بالنورۃ،مادۃ مصنوعۃ لازالۃ الشعرجاز،ونتف الابط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویتأدی اصل السنۃ بالحلق ولاسیمامن یؤلمہ النتف
وکذافی ردالمحتار:(6 /406،ایچ،ایم،سعید)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:( 423،البشریٰ)
وکذافی الفتح الملہم:(2 /332،دارالعلوم کراچی)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:( 3/216،علوم اسلامیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:( 4/203،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
15/5/1443/2021/12/20
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:39

اگرپانی کی ٹینکی میں بچھومرجائےتوپانی ناپاک ہوجائےگا؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں بچھوکےمرنےسےپانی ناپاک نہیں ہوگا۔

لمافی المبسوط:(1/51،دارالمعرفت)
“وان مات فی الاناءذباب اوعقرب اوغیرذالک ممالیس لہ دم سائل لم یفسدہ عندنا۔”
وفی البدائع:(1/230،رشیدیہ)
ثم الحیوان اذامات فی المائع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فان لم یکن لہ دم سائل ،کالذباب ،والزنبور،والعقرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لاینجس بالموت
وکذافی الہندیہ:(1/24،رشیدیہ)
وکذافی التنویروالدر:(1/364،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرہانی:(1/270،احیاءالتراث)
وکذافی اللباب:(1/46،قدیمی)
وکذافی الفقہ الاسالامی:(1/288،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(1/26،حقانیہ)
وکذافی الہدایة:(1/42،رشیدیہ)
وکذافی الخانیةعلی ہامش الہندیة:(1/12،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(1/334)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
19/3/1443/2021/10/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:73

ایک شخص فوت ہوااوراس کی بیوی بھی فوت ہوچکی ہے،اس کی اولادمیں سےایک بیٹی بھی فوت ہوگئی ہے،جبکہ اس کی پانچ بیٹیاں اوردوبیٹےحیات ہیں جب اس کی جائیدادتقسیم ہوگی توکیااس کی جوبیٹی فوت ہوگئی ہےاس کی اولادکوحصہ ملےگایانہیں اورجوبیٹی فوت ہوگئی ہےاس کی اولادمیں ایک بیٹافوت ہوگیاہےکیااس بیٹےکی اولادکوحصہ ملےگا؟

الجواب حامداومصلیا

اگربیٹی والدسےپہلےفوت ہوگئی ہےتواس کواپنےوالدکی جائیدادسےاوراس کی اولادکواپنےناناکی جائیدادسےحصہ نہیں ملے گا،اگربعدمیں فوت ہوئی ہےتووالدکی جائیدادمیں سےبیٹی کوحصہ ملےگااورپھربیٹی کی جائیدادسےاس کی اولادکوحصہ ملےگا۔

لمافی الفقہ السلامی :(10/7707،رشیدیہ)
یشترط لثبوت الحق فی المیراث ثلاثۃ شروط:وھی موت المورث،وحیاۃالوارث،ومعرفۃجہۃالقرابۃ}وفی صفحۃ الآتیۃ {حیاۃ الوارث:لابدایضامن تحقق حیاۃ الوارث بعدموت المورث،اماحیاۃ حقیقیۃمستقرۃ اوالحاقہ بالاحیاءتقدیراً
وکذافی ردالمحتار:(10/525،رشیدیہ)
وکذافی السراجی:(8،شرکت علمیة)
وکذافی الہندیة:(6/458،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(9/375،رشیدیہ)
وکذافی الہندیة:(6/448 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرہانی؛23/288،ادارةالقرآن)
وکذافی التاتارخانیة:( 20/317،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
21/5/1443/2021/12/26
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:112

سمارٹ فون یاکمپیوٹروغیرہ پرانٹرنیٹ استعمال کرنےکےدوران عورتوں کی جوتصویریں باربارسامنےآتی رہتی ہیں اوربغیر ارادےکےان پرنگاہ پڑتی رہتی ہے،شہوت کی نگاہ سےبھی دیکھنےکاامکان پیداہوجاتاہے،اس دیکھنےکاکیاحکم ہے؟شہوت کی قیدہےیانہیں؟یاایک آدھ مرتبہ دیکھناتومستثنیٰ ہوباقی پرعقاب ہو،اس قسم کاکوئی معاملہ تونہیں؟

الجواب حامداومصلیا

سوشل میڈیاکےاستعمال میں غیرمحارم پر نظرکامعاملہ ایسےہی ہےجیسےروڈپرچلتےہوئےغیرمحارم کاہے،ارادہ وقصد کے ساتھ دیکھناناجائزاوربلاارادہ نظرمعاف ہوتی ہے۔

لمافی مشکوٰةالمصابیح:(2/277،رحمانیہ)
“عن بریدۃقال: قال رسول اللہﷺلعلی،یاعلی!لاتتبع النظرۃ النظرۃفان لک الاولی ولیست لک الآخرۃ۔”
وفی الفقہ الاسلامی :(4/2651،رشیدیہ)
وان وقع البصر علی محرم من غیرقصد،وجب ان یصرف عنہ،ولیس علی المرءاثم فی المرۃ الاولی غیرالمقصودۃ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وان کان لایأمن الشہوۃلاینظرالی وجہہاالالحاجۃضروریۃ،وبہ یظہرانّ حل النظرمقیدبعدم الشہوۃ والافحرام
وفی الہندیة:(5/329،رشیدیہ)
واماالنظرالی الاجنبیات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وان غلب علی ظنہ انہ یشتہی فہوحرام”کذافی الینابیع
وکذافی المبسوط:(10/153،دارالمعرفت)
وکذافی الدرالمختار:(9/610،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(18/95،فاروقیہ)
وکذافی البدائع:(4/294،رشیدیہ)
وکذافی الصحیح لمسلم:(2/212،قدیمی)
وکذافی البزازیہ علی ہامش الہندیة:(6/373،رشیدیہ)
وکذافی التفسیرالمنیر:(9/548،امیرحمزہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/5/1443/2021/12/07
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:180

اذان کےدرمیان اگرلوگ گفتگوکررہےہوں توان کوروکناکیساہے؟

الجواب حامداومصلیا

اذان کےدرمیان بلاضرورت باتیں کرنانامناسب ہے،اس لیےمناسب اندازسےروکنےمیں کوئی حرج نہیں۔

لمافی الہندیة:(1/57،رشیدیہ)
“ولاینبغی ان یتکلم السامع فی خلال الاذان والاقامۃ ۔”
وفی البدائع:(1/383،رشیدیہ)
“ولاینبغی ان یتکلم السامع فی حال الاذان والاقامۃ،ولایشتغل بقراءۃالقرآن،ولابشیئ من الاعمال سوی الاجابۃ ۔”
وکذافی التاتارخانیة:(2/154،فاروقیہ)
وکذافی البحر:(1/450،رشیدیہ)
وکذافی الہندیة:(5/321،رشیدیہ)
وکذافی مشکوٰةالمصابیح:(1/72،رحمانیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/713،رشیدیہ)
وکذافی الدر:(2/86،رشیدیہ)
وکذافی البحر:(1/450،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
15/8/1443/2022/3/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر: 20

ہمارےپیارےنبی ﷺحضرت حفصہ رضی اللہ عنہاکوکیوں طلاق دینےلگےتھے؟

الجواب حامداومصلیا

آپﷺنےحضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہاکواپنےاوپرحرام کرلیاتھااوراس بات کی خبرصرف حضرت حفصہ رضی اللہ عنہاکوتھی،حضورﷺنےحضرت حفصہ رضی اللہ عنہاکومنع کیاتھاکہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکویہ بات نہ بتائےمگرحضرت حفصہ رضی اللہ عنہانےیہ رازحضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکوبتادیاتھااس وجہ سےآپ ﷺنےحضرت حفصہ کوطلاق دی تھی اور پھر اللہ کےحکم سےرجوع فرمالیا تھا۔

لمافی الجامع لاحکام القرآن:(18/187،احیاءالتراث)
واذاسرالنبی الی بعض ازواجہ حدیثا)قال :اطلعت حفصۃ علی النبی ﷺ مع ام ابراہیم فقال :لاتخبری عائشۃوقال لھاان اباک واباھاسیملکان اوسیلیان بعدی فلاتخبری عائشۃقال فانطلقت حفصۃ فاخبرت عائشۃ،فاظہرہ اللہ علیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وجازاھاالنبیﷺ بان طلقھاطلقۃواحدۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فامرہ جبریل بمراجعتھاوشفع فیھا ۔
وفی سنن الدارقطنی:(4/28،دارالکتب)
عن عمررضی اللہ عنہ قال: دخل رسول اللہ ﷺبام ولدہ ماریۃفی بیت حفصۃرضی اللہ عنہا،فوجدتہ حفصۃمعھافقالت لہ تدخلھابیتی،ماصنعت بی ھذامن بین نسائک الامن ہوانی علیک،فقال لاتذکری ھذالعائشۃ،فھی علی حرام ان قربتھا،قالت حفصۃ:کیف تحرم علیک وھی جاریتک،فحلف لھالایقربھا،فقال النبی ﷺلاتذکریہ لاحد،فذکرتہ لعائشۃرضی اللہ عنہا
وکذافی التفسیرالکبیر:(10/569،علوم اسلامیہ)
وکذافی بذل المجھود:(11/16،قدیمی)
وکذافی تفسیرابی السعود:(6/286،الوحیدیة)
وکذافی التفسیرالاکلیل:7/339،دارالکتب)
وکذافی التفسیرالخازن:(4/305،رشیدیہ)
وکذافی التفسیرالمظہری:(7/172،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
10/7/1443/2022/2/12
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:180

میں اپنی سرکاری ملازمت سےریٹائرڈہوجانےکےبعدوصول ہونےوالی پنشن(جوتاحیات ملتی رہتی ہے)میں سےکچھ فی صدکےحساب سےپیشگی وصول کرناچاہتاہوں ایسی رقم کو(پنشن )کہتےہیں ۔میری ماہانہ پنشن بعدازریٹائرمنٹ تقریباً/93،000بنتی ہے،پنشن کی رقم مبلغ/2125000لینےکی صورت میں ماہانہ پنشن تقریباً/60،000روپےملےگی۔ حکومتی سالانہ اضافہ جوہرسال تقریباً٪10ملتاہے،ماہانہ پنشن کم ہونےکی صورت میں کم اورزیادہ ہونےکی صورت میں زیادہ ملے گا۔ سوال یہ ہےکہ اضافہ پنشن لیناجائزہے؟اورپنشن پوری کیےبغیرماہانہ پوری پنشن لینابہترہےیاکم پنشن /60،000اورایک بار/21،25000وصول کرنابہترہے؟

الجواب حامداومصلیا

اپنی ضرورت وسہولت کےمطابق دونوں میں سےکوئی بھی صورت اختیارکی جاسکتی ہے۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3982،رشیدیہ)
واتفق الأئمۃعلی ان الھبۃتصح بالایجاب والقبول والقبض واجمعواعلی ان الوفابالوعدفی الخیرمطلوب
وفی الموسوعةالفقہیة:(15/77،علوم اسلامیہ)
الاصل اباحۃ الجائزۃعلی عمل مشروع،سواءأکان دینیااودنیویا،لانہ من باب الحث علی فعل الخیروالاعانۃ علیہ بالمال وھومن قبیل الھبۃ
وکذافیہ ایضاً:(15/78،علوم اسلامیہ)
وکذافی الہندیة:(4/396،رشیدیہ)
وکذافی بحوث قضایافقہیةمعاصرۃ:(2/155،معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
16/8/1443/2022/3/20
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:182

وضوکرتےوقت مسواک کرنےسےخون نکلناشروع ہوجائےاوروہ خون آخروضویادرمیان وضو تک جاری رہےتواس وضوکاکیاحکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ایساوضودرست نہیں ہوا،جب خون رُکےتودوبارہ وضو کیاجائے۔

لمافی کتاب المبسوط:(1 /77 ،دارالمعرفة)
” ثم حاصل المذہب ان الدم اذاسال بقوۃ نفسہ حتیٰ انحدرانتقض بہ الوضوء . “
وفی التاتارخانیة:(1/233،فاروقیہ)
” وفی الفتاوی وینبغی لمن رعف اوسال عن جرحہ دم ان ینتظر الیٰ آخرالوقت فان لم ینقطع الدم یتوضا . “
وکذا فی التنویروالدر: (1 /138،ایچ ایم سعید )
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /122،رشیدیہ )
وکذافی الشامیة: (1 /113،ایچ ایم سعید)
وکذا فی البحرالرائق: (1 /62،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (1 /421،رشیدیہ )
وکذا فی الموسوعة الفقہیة: (43 /387، علوم اسلامی)
وکذافی الہندیة: (1 /11،الرشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (1 /196،داراحیاءالتراث )
وکذافی المحیط البرھانی : (1 /193، داراحیاءالتراث)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
19/2/1443/2021/9/26
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:40

جنازہ کی ایک تکبیر فوت ہوجائےتواس کی ادائیگی کاکیاطریقہ ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جب امام دوسری تکبیرکہےتواس کےساتھ شریک ہوجائےاورجب امام سلام پھیرےتوفوت شدہ تکبیراداکرلے۔

لمافی بدائع الصنائع:(2/53،رشیدیہ)
ولوکبرالامام تکبیرۃاوتکبیرتین اوثلث تکبیرات،ثم جاءرجل لایکبرولکنہ ینتظرحتی یکبرالامام فیکبر معہ،ثم اذاسلم الامام قضی ماعلیہ قبل ان ترفع الجنازۃ،وہذاقول ابی حنیفۃومحمدرحمھمااللہ تعالی ۔
وفی الموسوعةالفقھیة:(16/29،علوم اسلامیہ)
اذاجاءرجل وقدکبرالامام التکبیرۃ الاولیٰ ولم یکن حاضراانتظرہ حتی اذاکبرالثانیۃکبرمعہ،فاذافرغ الامام کبرالمسبوق التکبیرۃالتی فاتتہ قبل ان ترفع الجنازۃ،وھذاقول ابی حنیفۃومحمدرحمھمااللہ تعالی
وکذافی الشامیة:(3/135،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/78،داراحیاءالتراث)
وکذافی متن حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح:(1/594،قدیمی)
وکذافی مجمع الانھر:(1/272،المنار)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/375،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/164،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(1/133،زمزم)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(1/219،البشریٰ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/9/1443/2022/4/10
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:115