نمازمیں سجدہ تلاوت میں تاخیرکرنےسےسجدہ سہوواجب ہوگایانہیں؟اورتاخیرکی صورت میں سجدہ تلاوت نمازمیں کس وقت اداکیاجائےگا۔

الجواب حامداومصلیا

اگردوآیت یااس سےزیادہ تک سجدہ تلاوت کوجان بوجھ کرمؤخرکیاتونمازدوبارہ پڑھناواجب ہے،اگربھول کر مؤخر کیا تو جس رکن میں یادآئےسجدہ تلاوت کرےاورپھراس رکن کااعادہ مستحب ہے،اگرقعدہ اخیرہ میں سجدہ کیاتودوبارہ قعدہ کرنافرض ہے اورتشّھدکااعادہ واجب ہے،ان دونوں صورتوں میں سجدہ سہوکرنابھی واجب ہوگا۔

لما فی الہندیة:(1/126،رشیدیہ)
المصلی اذاتلاآیۃالسجدۃونسی ان یسجدلھاثم ذکرھاوسجدھاوجب علیہ سجودالسہو،لانہ تارک للوصل وھو واجب، وقیل لاسہوعلیہ،والاول اصح}وفی صفحۃ134{المصلی اذانسی سجدۃ التلاوۃفی موضعھاثم ذکرھافی الرکوع، اوالسجود، اوفی القعودفانہ یخرلھاساجداثم یعودالی ماکان فیہ
وفی المحیط البرہانی:(2/335،ادارةالقرآن)
المصلی اذانسی سجدۃ التلاوۃفی موضعھاثم ذکرھافی الرکوع، اوالسجود، اوفی القعودفانہ یخرلھاساجداثم یعودالی ماکان۔۔۔۔۔۔۔۔۔وان اخرھاالی آخرصلاتہ اجزأہ،لان الصلاۃواحدۃ
وکذافی الخانیةعلی ہامش الہندیة:(1/123،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(2 /655،رشیدیہ)
وکذافی منحةالخالق علی ہامش البحر:(2/167،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(90،زمزم)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(1/179،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(2 /394،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(2/1110،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
20/5/1443/2021/12/25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:111

امام صاحب نےفجرکی نمازمیں “خَلَقَ الإِنْسَانَ”کےبجائے”خلق الإنسانُ”پڑھ دیا،اس سے نمازکا کیاحکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

صورت مسؤلہ میں راجح قول کےمطابق نمازہوگئی ۔

لمافی ردالمحتار:(2/473،رشیدیہ)
والقاعدۃ عندالمتقدمین:ان ماغیرالمعنیٰ تغیرایکون اعتقادہ کفراًیفسد فی جمیع ذالک}وبعداسطر{واما المتأ خر ین۔۔۔۔۔۔۔فاتفقواعلی ان الخطأفی الاعراب لایفسدمطلقا}وبعداسطر{فالأولی الاخذفیہ بقول المتقدمین لانضباط قواعد ہم وکون قولہم احوط۔
وفی الخانیة علی ہامش الہندیة:(1/150،رشیدیہ)
ان کان الخطأفی الاعراب فقدذکرناانہ ان لم یفحش لاتفسدصلاتہ عندالکل۔۔۔۔۔۔۔۔۔وان فحش بأن قرأمالوتعمدبہ یکفر فکذالک عندالمتأخرین،والاعادۃ احوط
وکذافی الفقہ الاسلامی:(2/1037،رشیدیہ)
وکذافی الہندیة:(1/81،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(122،زمزم)
وکذافی المحیط البرہانی؛2/76،ادارةالقرآن)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1 /256،الطارق)
وکذافی التاتارخانیة:(2 /109،فاروقیہ)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(1/113،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
16/5/1443/2021/12/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:66

زکاۃیاعشرکےپیسےسڑک بنانےمیں یارفاہی کاموں میں خرچ کرسکتےہیں یانہیں ؟

الجواب حامداومصلیا

زکاۃیاعشرکاپیسہ رفاہی کاموں میں خرچ نہیں کرسکتےبلکہ کسی مستحق زکاۃکومالک بناکردیناضروری ہے۔

لمافی الہندیة:(1/188،رشیدیہ)
ولایجوزان یبنی بالزکاۃالمسجدوکذالقناطر،والسقایات،واصلاح الطرقات وکری الانہار،والحج،والجہاد،وکل ما لا تملیک فیہ،ولایجوزان یکفن بھامیت ولایقضی بھادین المیت
وفی التاتارخانیة:(3/208،فاروقیة)
ولاتصرف فی بناء مسجدوقنطرۃ،وفی شرح الطحاوی: ورباط،وفی شرح المتفق :ولایبنی بھاقبر،ولایقضی بھادین میت،ولایعتق عبد،ولایکفن میتاً
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(239،البشری)
کذافی النھرالفائق:(1/462،قدیمی)
وکذافی الباب:(1/149،قدیمی)
وکذافی مجمع الانھر:(1/328،المنار)
وکذافی السراجیة:(156،زمزم)
وکذافی الدروالرد:(3/341،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
14/8/1443/2022/3/18
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:21

دھوکہ سےکسی کی رقم ہتھیاکرآگےصدقہ کرسکتےہیں؟جبکہ مالک موجودہو۔

الجواب حامداومصلیا

رقم مالک کوواپس کرناضروری ہے،صدقہ نہیں کرسکتے۔

لمافی سنن ابی داؤد:(2/341،رحمانیة)
عن عبداللہ بن السائب بن یزیدعن ابیہ عن جدہ :انہ سمع النبی ﷺیقول لایأخذن احدکم متاع اخیہ لاعباجادا،وقال سلیمان: لعباولاجدا،ومن اخذ عصااخیہ فلیردہا
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(3/209،الطارق)
“وحکم الغصب الاثم لمن علم انہ مال الغیر،وردالمغصوب ان کان قائما،وضمان قیمتہ ان کان ھالکاً ۔”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(6/4800،رشیدیة)
“اتفق الفقہاءعلی انہ یجب رد العین المغصوبۃالی صاحبھاحال قیامہاووجودہابذاتھا۔”
وکذافی الجامع الترمذی:(1/90،رحمانیة)
وکذافی المحیط البرہانی:(8/205،ادارةالقرآن)
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/146،رحمانیة)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(26/334،علوم اسلامیة)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(402،البشریٰ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
16/9/1443/2022/4/18
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:127

ہماری والدہ محترمہ بشیراں بی بی کاانتقال ہواجن کی ملکیت میں(32,000روپے)تھے،ان کےورثہ میں تین بیٹےاجمل،صفدر،اختراورایک بیٹی کلثوم ہیں اورہمارےبھائی افضل کاانتقال والدہ سےپہلےہوچکاہے،اس وقت ہمارےوالدمحمدشفیع زندہ تھے،ابھی والدہ کی وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ والدصاحب محمدشفیع کابھی انتقال ہوگیا۔والدصاحب کےورثہ میں ہم تین بھائی اورہمشیرہ تھی۔ ہمارےبھائی افضل کی بیوی بھی زندہ ہےآیااس وراثت میں ہماری بھابھی کوکوئی حصہ ملےگایانہیں،براہ مہربانی ہماری یہ وراثت شرعی ورثہ میں تقسیم فرمادیں؟

الجواب حامداومصلیا

مرحومہ نےبوقت انتقال جائیدادمنقولہ(جیسےسونا،چاندی،زیورات،نقدی،برتن اورکپڑےوغیرہ)یا غیرمنقولہ(جیسے مکان،دکان،فصل اورپلاٹ وغیرہ)غرض چھوٹابڑاجوبھی سامان چھوڑاہو،نیزمرحومہ کاقرضہ یاایسےواجبات جوکسی فردیاادارےکے ذمہ ہوں، یہ سب میت کاترکہ شمارہوگا،اس کےبعدمیت کےترکہ کےساتھ چندحقوق متعلق ہوتےہیں جنہیں بالترتیب اداکرناضروری ہے:1< میت کےدفن تک تمام ضروری مراحل پرہونےوالےجائزاورمتوسط اخرجات نکالےجائیں گے،اگرکسی بالغ وارث نےخودیاکسی اورنےبطوراحسان اداکردیےتونکالنےکی ضرورت نہیں۔2< اس کےبعداگرمیت کےذمہ کسی کاقرض ہوتوباقی بچےہوئےمال میں سےوہ قرض اداکیاجائےگا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے،واضح رہےکہ اگرشوہرنےبیوی کامہرادانہیں کیاتھاتووہ بھی قرض شمارہوگااورترکہ سےاداکیاجائےگا۔3 <اس کےبعداگرمیت نےکسی غیروارث کےلیےجائزوصیت کی ہوتوبقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت کوپوراکیاجائےگا،ان حقوق کی ادائیگی کےبعدجوبھی ترکہ بچے،خواہ زمین ہویازیور یانقدی ہو یافصل وغیرہ ہو،اُس کودرج ذیل تفصیل کےمطابق تقسیم کیاجائےگا:
مرحومہ بشیراں بی بی کےترکہ کےکُل 28برابرحصےکرکےہربیٹےکو8حصے(٪57(28.اوربیٹی کوچارحصے(٪29.14)دیےجائیں اوررقم سےہربیٹےکو.869142روپےاوربیٹی کو.424571روپےملیں گے۔مرحومہ کےترکہ سےآپ کی بھابھی کوکچھ نہیں ملےگا۔

لمافی التاتارخانیة:(20/224،فاروقیہ)
بنات الصلب لھنّ حالان:سہم وتعصیب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وان کان للمیت ابن فانہاتصیرعصبۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویقسم المال بینہم للذکرمثل حظ الانثیین
وفیہ ایضاً:(20/262،فاروقیہ)
“الزوج صاحب فرض علی کل حال،وفریضتہٗ النصف۔۔۔۔۔۔۔۔۔والربع اذاکان للمیت ولداوولدابن۔”

واللہ اعلم بالصواب
کتبہٗ:محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/4/1443/2021/11/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:159

محمدحنین”نام رکھناکیساہے؟

الجواب حامداومصلیا

حُنین(ح کےپیش کےساتھ)ایک صحابی کانام ہےجوآپﷺکےخادم تھےاس لیےیہ نام رکھنابالکل جائزہے۔

اورحَنِین(“ح “کےزبراور”ن”کےزیر کےساتھ )اس کامعنی ہےبےحدشوق رکھنےوالا،تڑپ رکھنےوالا۔

لمافی اسدالغابہ:(1 /310،الوحیدیہ)
حُنَین،مولی العباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ،کان عبداًوخادماللنبیﷺفوھبہ لعمہ العباس رضی اللہ عنہ فاعتقہ ،وھوجدابراہیم بن عبداللہ بن حنین
وفی لسان العرب:(3 /367،احیاءالتراث)
الحَنین،الشوق وتوقان النفس،والمعنیان متقاربان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حنین الناقۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حنینہاصوتھااذااشتاقت الی ولدھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکذالک”حنت”الی ولدھا،قال الشاعر:؎ یعارضن ملواحاکأن حنینھا، قبیل انفتاق الصبح ترجیع زامری
وکذافی القاموس الوحید:(385،ادارہ اسلامیات)
وکذافی المنجد:( 157،دارالمشرق بیروت)
وکذافی معجم الوسیط:(1/203،دارالدعوۃ)
وکذافی المحیط فی اللغة:(2/317،عالم الکتب)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
2/7/1443/2022/2/4
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:122

میں نےگاڑی لی چودہ لاکھ روپےکی ایک سال کےادھارپر،کیامیں وہ گاڑی دس لاکھ کی بیچ سکتاہوں؟

الجواب حامداومصلیا

جی بیچ سکتےہیں۔

لمافی فتح القدیر:(7/199،رشیدیہ)
ان یبیع مایساوی عشرۃبخمسۃعشرالی اجل فیشتریہ المدیون ویبیعہ فی السوق بعشرۃحالۃ،ولابأس فی ھذا
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/225،الطارق)
وللبائع ان یبیع بضاعتہ بماشاءمن ثمن ولایجب علیہ ان یبیعہ بسعرالسوق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولایمنع الشرع من ان یبیع المرأسلعتہ بثمن فی حالۃ،وبثمن آخرفی حالۃاخری
وکذافی التفسیرالمنیر:(3/38،امیرحمزہ)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن:(5/152،احیاءالتراث)
وکذافی الفقہ البیوع:(1/556،معارف القرآن)
وکذافی ردالمحتار:(7/655،رشیدیہ)
وکذافی بحوث قضایافقہیةمعاصرة:(1/13،معارف القرآن)
وکذافی البحرالرائق:(5/429،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
5/7/1443/2022/2/7
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:121

ایک آدمی فوت ہواجس کی میراث بیس ایکڑزمین ہےاورورثہ میں چاربیٹے اور ایک بیٹی ہےتوبیٹی کوکتناحصہ ملےگا؟

الجواب حامداومصلیا

مرحوم نےبوقت وفات اپنی ملکیت میں جائیدادمنقولہ(جیسےسونا،چاندی،نقدی وغیرہ)یاغیرمنقولہ (جیسےمکان،دکان، زمین وغیرہ)غرض چھوٹابڑاجوسامان چھوڑاہو،نیزمیت کےقرضےیاایسےواجبات جوکسی فردیاادارےکےذمہ ہوں یہ سب میت کاترکہ شمارہوتےہیں۔
اس کے بعدمیت کےترکہ کےساتھ چندحقوق متعلق ہوتےہیں جنہیں ترتیب واراداکرناضروری ہے:
<1

میت کےدفن تک تمام ضروری مراحل پرہونےوالےجائزاورمتوسط اخراجات نکالےجاتےہیں ،اگرکوئی بالغ وارث یاکوئی اوراپنی طرف سےاحساناًاداکردےتوپھرنہیں نکالےجاتے۔
2>

اگرمیت کےذمہ کسی کاقرض ہوتوباقی مال سےاس کواداکیاجاتاہے،نیزاگرمرنےوالےاپنی بیوی کامہرادانہیں کیاتھااوربیوی نےخوش دلی سےمعاف نہیں کیاتھاتووہ بھی قرض شمارہوتاہے۔
3<

اگرمیت نےکسی غیروارث کےلیےجائزوصیت کی ہوتوبقیہ ترکہ کی تہائی تک اس وصیت کوپوراکیاجاتاہے۔
4>

ان تمام حقوق کی ادائیگی کےبعدجوبچےوہ تقسیم کیاجاتاہے۔
صورت مسئولہ میں تقسیم اس طرح ہوگی:مرحوم کےترکہ کےنو برابرحصےکرکےہرایک بیتےکودوحصے(٪22.22)اوربیٹی کوایک حصہ(٪11.11)دیےجائیں گے۔
بیس ایکڑزمین میں سےہربیٹےکو(5.5535)کنال اوربیٹی کو(.77717)کنال ملیں گی۔

البحرالرائق:(9/375،رشیدیہ)
وعصبھماالابن ولہ مثل حظہما)معناہ اذااختلط البنون والبنات عصب البنات فیکون للابن مثل حظہما۔
وفی السراجی:(8،شرکت علمیہ )
“ومع الابن للذکرمثل حظ الانثیین وھویعصبہن۔”

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/4/1443/2021/11/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:160

بعض لوگ جوتاپہن کرنمازجنازہ پڑھتے ہیں اوربعض اتارکر،بعض جوتااتارکراُس کےاوپرکھڑے ہوجاتےہیں اس میں کونساطریقہ درست ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگرزمین کےپاک ہونےکایقین ہےتوجوتےاتارکرپڑھنابہترہے،اگرزمین کےناپاک ہونےکا شک ہواورجوتےکے نیچےوالا حصہ بھی ناپاک ہویااس کی پاکی میں شک ہواوراوپروالاحصہ پاک ہوتوجوتےاتارکراُن کےاوپرکھڑےہوکرپڑھیں، اگرزمین اورجوتےمکمل پاک ہوں توپہن کریااتارکران کےاوپرکھڑےہوکرپڑھ سکتےہیں۔

لمافی التاتارخانیة:(2/31،فاروقیہ)
واذاصلی علی موضع نجس وفرش نعلیہ وقام علیہماجاز،وفی الخانیۃ:امااذاکان النعل ظاہرہ وباطنہ طاہرافطاہر،وان کان مایلی الارض منہ نجسافکذالک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولوکان لابسالہمالایجوز
وفی خلاصةالفتاوی:(176/،رشیدیہ)
“رجل فقام علی ا لنجاسۃوفی رجلیہ نعلان۔۔۔۔۔۔۔۔لایجوز،ولوافترش نعلیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وقام علیہماجازت صلاتہ۔”
وفی البحرالرائق:(2/315،رشیدیہ)
انہ لوقام علی النجاسۃوفی رجلیہ نعلان لم یجز،ولوافترش نعلیہ وقام علیہماجازت،وبھذایعلم مایفعل فی زماننامن القیام علی النعلین فی صلاۃ الجنازۃلٰکن لابدمن طہارۃالنعلین کمالایخفی۔
وکذافی المحیط البرہانی:(2/20،احیاءالتراث)
و کذافی الخانیةعلی ہامش الہندیة:(1 /30،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق: (1466/،رشیدیہ)
وکذافی الہندیة:62/1)، رشیدیہ)
وکذافی البزازیہ علی ہامش الہندیة(4/35،رشیدیہ)
وکذافی فقہ الحنفی:(1/175،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
20/3/1443/2021/10/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:72

جنازے میں کونسادرودشریف پڑھناافضل ہے؟

الجواب حامداومصلیا

نمازوالادرودشریف یعنی “درودابراہیمی”پڑھناافضل ہے۔

لمافی الدروالرد:(3 /128، رشیدیہ)
ویصلی علی النبیﷺ)کمافی التشھد(بعدالثانیۃ)لان تقدیمھاسنۃالدعا(قولہ کمافی التشھد)ای:المرادالصلاۃ الابر ا ہیمیۃالتی یأتی بھاالمصلی فی قعدۃالتشھد
وفی الفقہ الحنفی :(1/340،الطارق)
“والصلاۃ علی النبی ﷺبعدالتکبیرۃ الثانیۃکمافی تشھدالصلاۃ ۔”
وکذافی البحرالرائق:(2/320،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(584،قدیمی)
وکذافی مجمع الانھر:(270،المنار)
وکذافی البدائع:(2/51،رشیدیہ)
وکذافی اللباب:(1/131،قدیمی)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(16 /21،علوم اسلامیہ)
وکذافی البنایة:(3/252،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
15/5/1443/2021/12/20
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:40